یہ سورت مکی ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں لفظــ الملک آیا ہے۔اسی لئے اس کا نام’’الملک‘‘ رکھ دیاگیا ۔تفسیر کی کتابوںمیںاس کے کئی نام موجود ہیں، جن میں تبارک، الواقعۃ ،المنجیۃ اور المانعہ بھی آیاہے ۔
مکی اور مدنی سورتوں کے خصائص
قرآن کا مکی حصہ عموما ان عقائد سے بحث کرتا ہے ، ۱۔توحید ، ۲۔وحی الہی یعنی رسالت ونبوت ،۳۔ آخرت کا عقیدہ، اس عقیدے سے کائنات ، اور خالق کائنات کے بارے میںجو تصور پیدا ہوتا ہے ، کہ انسان کا اس وجود کائنات سے ،اور اس کے خالق سے کیا تعلق ہے،مکی سورتوں نے اس سے بحث کی ہے ۔
اور قرآن کا مدنی حصہ زیادہ تر اس بات سے بحث کرتا ہے کہ اسلامی تصور وعقیدہ کو اس سے پیدا ہونے والی میزان اور قدر قیمت کو انسان کی واقعاتی وعملی زندگی پر کیو ںکر منطبق کیاجائے ؟تقدس انسانی کو عقیدے کی تصیح سے بھر پور ہوکر اور شَرَعَ کے احکام کو لیکر معرکہ حیات میںکسی طرح اترا جائے اور اپنے آپ پر دوسروں پراسے کیو نکر نافذ کیا جائے ، اپنے ضمیر کے عالم میںاور اس پھیلے ہوئے ظاہری جہاں میں اس عقیدے کی تکالیف کو برداشت کرنے کا حوصلہ کس طرح پیدا کیا جائے ؟ اس کی مثالیں ہمیں قرآن کے مدنی حصے میں ملتی ہیں۔
خلاصہ سورۃ الملک اور اجمالی مضامین
یہ سورت وجود کائنات کیلئے اور خالق کائنات کے ساتھ اس وجود کے تعلق کیلئے ایک جدید وسیع اورکامل تصورپیش کرتی ہے،یہ تصورمحدوداورتنگ ارض جہاں کے وجود سے اور محدود دنیوی رقبے سے تجاوز کرکے ہمیں آسمانوں کے جہاں تک پہنچاتاہے،وہ اس زمینی کائنات میں انسانوںکے علاوہ دوسری مخلوق کی طرف بھی رہنمائی کرتا ہے ، مثلاً جن اور پرندے عالم آخرت کی بعض چیزیں بتاتے ہیں، مثلاً جہنم اور اس کے کارندے پھر اس ظاہری جہاںکے علاوہ ہماری رہنمائی غیبی جہانوں کی طرف بھی کرتے ہیں۔مثلاً عالم قلوب جس کے ساتھ انسانو ں کے دل اور انکی منشاء کا تعلق ہوتاہے، یہ سب اسلئے بتایا جارہاہے، کہ انسان صرف دنیاوی زندگی میں ہی نہ رہ جائے بلکہ اپنے گرد وپیش نظریں دوڑائے اور ان پہ غور و فکر کرے، پھر انسان کے موت وحیات دو ایسے عمل ہیں جوہروقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں ،مگر انسان اس کی حقیقت سے بیگانہ نظر آتا ہے، مگریہ سورت ہم میںیہ تامل رواں کرتی ہے کہ موت سے پرے بھی دیکھو اورزندگی سے آگے بھی نظریں دوڑاؤ تمھیںاللہ تعالی کی حکمت و آزمائش کا ایک وسیع تر میدان نظر آئے گا ، تم ہر چیزمیں اسکی تدبیرِ حکمت دیکھو گے، اس طرح آسمان ایک ثابت شدہ اور ہر دم نظر آنے والی مخلوق ہے لیکن اندھی آنکھیں اس سے آگے بڑھ کر اس دست قدرت کو نہیں دیکھتیں ، جس نے ان کو ایجاد کیا وہ ان چیزوں کا حقیقی تامل نہیں کر تے مگر یہ سورت اس محال وکمال میں گہرا تامل کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔
قارئین کرام: دنیوی زندگی کو جاہلیت میں وجود کی غرض وغایت سمجھا جاتا ہے ، حیات کو اس پر ختم سمجھا جاتاہے ، مگر یہ سورت ایک دوسرے جہان کی پردہ کشائی کرتی ہے، جو کفار و مشرکین کیلئے موجود ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
اور ہم نے ان کے لئے بھڑکتی ہو ئی آگ کی سزا تیار کی ہے ،اور جنہوںنے اپنے رب کا انکار کیا ان کیلئے جہنم کی سزا ہے، اور وہ برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘وہ مخلوق جہنم ہے ، جس میں گنہگاروں کو ڈالا جائے گا اس سورت میں انسان کو رزق کے بارے میں بھی بتا یا جارہا ہے، کہ وہ رزق جو تمھارے ہاتھ میں ہے یہی رزق ان کے درمیان مقابلہ کا باعث بنتاہے، یہ سورت اس طرف توجہ مبذول کرواتی ہے کہ رزق کے خزانے بہت دورہیں اللہ رب العالمین احکم الحاکمین ہی اسے جاری کرتا ہے ، جس کا تم انکار کرتے ہو ، سورت کے آخر میں انسان کو پانی کی قدر وقیمت کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ دیکھو ! اگر تمھارا پانی زمین کے اندر نیچے تک دھنس جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے آب رواں کر دے؟
سورت ملک کے فضائل میں چند احادیث نبوی ﷺ
۱۔ مفسر قرآن ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی صحابی نے ایک قبرپرخیمہ لگایا انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ قبر ہے ، اچانک پتا چلا کہ یہ قبر ہے اور اس میں سورئہ ملک پڑھی جارہی ہے یہاں تک کہ پڑھنے والے نے اسے ختم کرلیا ، وہ صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں نے ناداستہ ایک قبر پر خیمہ لگایا ، اچانک کیا دیکھا ایک آدمی اس میں سورئہ ملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے اسے مکمل پڑھا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یہ (سورت) عذاب قبر کو روکنے والی اور اس سے نجات دلانے والی ہے۔ (رواہ الترمذی فی باب ما حکم الحدیث فضائل القرآن ، باب ماجاء فی سورۃ الملک)
۲۔فقیہُ امت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن میں ایک ایسی سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں اس نے ایک پڑھنے والے آدمی کی سفارش کی اور وہ بخش دیا گیا ، وہ سورت {تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ} یعنی سورت الملک ہے ۔ (رواہ الترمذی فی باب فضائل القرآن )
۳۔سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ آرام فرما نے سے پہلے سورت ’’الم التنزیل‘‘ اور سورت ’’ الملک‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ (رواہ الترمذی فی باب فضائل القرآن)
۴۔ علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ نے اپنی صحیح الجامع میں ایک روایت نقل کی ہے کہ سورئہ ملک عذاب قبر کو روکنے والی ہے، یعنی اس کا پڑھنے والے کے لیے امید ہے کہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔ بشرطیکہ وہ احکام وفرائض کا پابند ہو۔ (صحیح الجامع ، رقم ۱۱۲۰ ، ج/۳، ص/۱۳۱)
۵۔ ترجمان قرآن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ میری دلی منشا ہے کہ یہ سورت میری امت میں سے ہر ایک کے دل میں رہے۔ (رواہ الترمذی فی باب فضائل القرآن ، وأیضاً أحمد ، وابن ماجہ)
قارئین کرام! یہ قرآن مجید وہ عظیم ترین بے مثال، لازوال کتاب ہے جسے خالق کائنات نے دنیا میں بسنے والے لوگوں کی رشد وہدایت کیلئے جناب محمد رسول اللہ ﷺ پرتقریباً 23سال میں نازل فرمایا ، لیکن آج ہماری پستی کا سبب قرآن مجید کا ترک کردینا ہے۔ سورۃ الفرقان آیت نمبر(۳۰) میں اللہ کے رسول ﷺ کا شکوہ بتایا گیاہے کہ قیامت کے دن اللہ کے رسول ﷺ فرمائیں گے کہ :
{وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُورًا}(الفرقان)
’’اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔‘‘
امام ابن القیم رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’ہجر قرآن‘‘ یعنی قرآن کا چھوڑنا اسے کہتے ہیں مثلاً : کوئی شخص اسے غور سے نہ سنے اسے نہ پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے ، اپنے تمام معاملات میں اسے فیصل نہ مانے ، اس پہ غور وفکر نہ کرے ، امام السیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کیلئے دھمکی ہے جو قرآن کی روزانہ تلاوت نہیں کرتے۔ کل قیامت کے دن نبی کریم ﷺ ان کے خلاف شکوہ کریں گے۔ پیارے رسول ﷺ کی حدیث ہے کہ
’’خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘
’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن کو سیکھتا اور سکھاتاہے۔‘‘
لیکن آج ہم اسے پڑھنے اور سمجھنے سے محروم ہیں جس کی وجہ سے زوال اور پستی کا شکار ہیں ، اس موقع پر مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے جومیں آپ کے سامنے رکھتاہوں:
وہ معزز تھے زمانے میں عامل قرآن ہوکر
ہم ذلیل وخوار ہوئے تارک قرآن ہوکر
قارئین کرام ! ہمیں چاہیے کہ ہم اس نور جو قرآن کریم کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اپنے دلوں کو اس سے منور کریں ، تاکہ ہم ان لوگوں میں سے نہ ہو جن پر اللہ کے رسول ﷺ شکوہ کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔( آمین )
