پڑوسی کے حقوق احادیث کے آئینہ میں
پڑوسی سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسان کے قرب وجوار میں یعنی ان کے گھروںکے قریب قریب رہائش پذیر ہیں۔ پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے پر شریعت اسلامیہ نے بہت زیادہ زور دیا ہے اور ان کو انسانیت کے بنیادی حقوق میں سے قرار دیا ہے ۔ اس لئے ان حقوق کو کما حقہ ادا نہ کرنے والا گنہگاروں کے زمرے میں آتا ہے ۔
ان کے حقوق کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایما ن رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اپنے ہمسائے کا احترام کرے ‘‘ (بخاری ، مسلم)
’’اللہ کی قسم وہ شخص مومن ہی نہیں ہے جس کا ہمسایہ اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہیں ہے ‘‘ (بخاری)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’جبرائیل علیہ السلام نے مجیت پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی برابر تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ پڑوسی کو پڑوسی کا وارث بنا دیا جائے گا‘‘ (بخاری ومسلم)
’’وہ مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلومیں بھوکا رہے‘‘ (مشکوٰۃ)
’’اے ابو ذر ! جب تو شوربا پکائے تو اس میں پانی زیادہ ڈال دیا کر و اور اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کیا کرو‘‘ (مسلم)
’’ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت کا ذکر کیا گیا کہ وہ بہت زیادہ(نفل) نماز ، روزہ کی پابندی کر تی ہے لیکن وہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دینے سے گریز نہیں کرتی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ـ بے شک وہ عورت جہنم کی آگ میں جائے گی، پھر ذکر کیا گیا کہ ایک عورت (نفل)نما ز اور روزہ کی پابندی نہیں کرتی لیکن اس کے ہمسائے اس کی تکلیفوں سے محفوظ ہیںتو آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک وہ عورت جنت میں ہے ‘‘(……)
’’ اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تم سے محبت کریں تو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو‘‘(مشکوٰۃ)
امام بخاری رحمہ اللہ کا حافظہ
ایک دفعہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ایک جگہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت وہ نو عمر تھے لیکن اپنے علم کی وجہ سے بہت مشہور ہو چکے تھے وہاں کے محدثین نے ان کا امتحان لینے کا ارادہ کیا ، چنانچہ انہوں نے دس دس احادیث اس طرح یاد کیں کہ ہر حدیث کی سند اور متن کو کسی دوسری حدیث کے متن کے ساتھ ، سند ایک کی اور متن کسی اور کا یا ایک ٹکڑا کسی حدیث کا جبکہ دوسرا کسی اور کا خلط ملط کر دیا ، وہ لوگ تعداد میں دس تھے اور ہرایک نے دس دس احادیث پوچھیں ، ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی تحریر پڑھی تو آپ نے فرمایا: (لاادری) ’’میں نہیں جانتا‘‘
اسی طرح وہ لوگ باری باری احادیث پڑھنے لگے ، امام بخاری ان کی ہر حدیث کے جواب میں یہی بات فرماتے رہے ، جب وہ لوگ احادیث پڑھ چکے کہ جن کی تعداد سو تھی اور وہاں اس منظر کو دیکھنے کی خاطر بہت سے لوگ بھی جمع ہو چکے تھے تاکہ دنیا کے ایک بہت عظیم محدث کے حافظے کا مشاہدہ کریں ، اس حالت میں امام بخاری رحمہ اللہ یوں مخاطب ہوئے : ’’سنئے اب میں آپکی احادیث صحیح پڑھتا ہوں ‘‘
آپ نے تمام سو احادیث صحیح سند او رمتن کے ساتھ سنا دیں اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان حضرات کی سنائی ہوئی غلط احادیث بھی اسی ترتیب کے ساتھ سنا کر بعد میں ان کی اصلاح بھی کر دی ۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ امام بخاری بہت غضب کا حافظہ رکھتے تھے۔
