اہل علم کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ چراغ ہیں جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدلتے ہیں۔ ان کی وفات نہ صرف علمی دنیا کا نقصان ہے بلکہ یہ ایک پوری قوم کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جیسا کہ سید نا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «موت العالم مصيبةٌ لا تُجبَرُ، وثُلمَةٌ لا تُسَدُّ، ونجم طمِس، وموت قبيلة أيسر من موت عالم» ’’ عالم کی موت ایک ایسا نقصان ہے جو کبھی پورا نہیں ہو تا، ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پر نہیں ہوتا، اور ایک ایسا ستارہ ہے جو مدھم ہو جاتا ہے، اور ایک پوری قوم کا مرنا ایک عالم کے مرنے سے آسان ہے۔‘‘(شعب الإيمان: ١٦٩٩، حسن)
صبر اور استقامت کا مظاہرہ
اہل علم کی وفات پر غم کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن اس غم میں ہمیں شریعت کی حدود کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہماری پہلی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ [البقرة: ١٥٥-١٥٦]
’’اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے ، جو مصیبت پڑنے پر کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
عِظَمُ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَإِنَّ اللهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ»(سنن ابن ماجه: ٤٠٣١ ، حسن )
’’ بے شک بڑا اجر بڑی آزمائش کے ساتھ ہوتا ہے، اور جب اللہ کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے۔‘‘
ان کے اہل خانہ کا خیال رکھنا
اہل علم کے اہل خانہ اور پسماند گان کی خبر گیری کرنا اور ان کی ضروریات کو پورا کر نا معاشرتی ذمہ داری ہے۔ یہ عمل ان کے احسانات کا بدلہ بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کا حصہ بھی۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لَا يَرْحَمُ اللهُ مَن لَا يَرْحَمُ النَّاسَ(صحیح بخاری: ٧٣٧٦)
’’جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔‘‘
اہل علم کی خدمات کا تذکرہ اور ان کی قدر دانی
جب اہل علم دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، تو ان کے ساتھ علم کا ایک بڑا ذخیرہ بھی دفن ہو جاتا ہے اور یہ نقصان وہ ہے جو صرف تب پورا ہو سکتا ہے جب نئی نسل اس کمی کو پورا کرنے کے لیے تیار ہو۔
اہل علم کی وفات ایک یاد دہانی ہے کہ وقت رکتا نہیں اور ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلیں ، ان کے علم کو محفوظ کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔ ہمیں ان کے علم ، تحقیق اور تجربات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہو گا تا کہ ان کی یاد اور خدمات ہمیشہ زندہ رہیں۔ درج ذیل امور پر غور کیجئے :
اہل علم کے کاموں کو محفوظ کرنا
اہل علم نے جو کچھ لکھا اور سکھایا،اسے محفوظ کرنا اور اسے عام لوگوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ [يوسف: ٣]
’’ ہم آپ کو بہترین قصے سناتے ہیں جو ہم نے اس قرآن کے ذریعے آپ پر وحی کیے ہیں۔‘‘
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے نبی کریم ﷺکو قرآن کے ذریعے بہترین قصص سنائے اور ان قصوں کو محفوظ رکھا تا کہ انسانیت ان سے سبق لے سکے۔ اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم و ہدایت کو محفوظ کرنا اور آگے پہنچانا اللہ کی سنت ہے۔ یہ نہ صرف رسولوں کے فرائض میں شامل تھا بلکہ امت کے اہل علم کے لیے بھی رہنما اصول ہے کہ وہ علم کو محفوظ کریں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں۔
اسی طرح سید نازید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«نضر الله امرءً سمعَ مِنا حديثًا فحفظه حتى يُبَلِّغَه غيره»
’’ اللہ اس شخص کو خو شحال رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی، اسے یاد کیا اور پھر دوسروں تک پہنچایا۔‘‘(جامع الترمذي : ٢٦٥٦، حسن)
معلوم ہوا کہ علوم دینیہ کی حفاظت اور اس کی اشاعت ایک فضیلت والا عمل ہے۔ حدیث میں ’’نضر الله ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے ’’ اللہ اس کو خو شحال اور روشن رکھے ‘‘۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو لوگ علم کو سنتے ہیں، یاد کرتے ہیں اور پھر دوسروں تک پہنچاتے ہیں، وہ اللہ کی خاص رحمت اور خوشنودی کے مستحق ہیں۔
علم کی حفاظت کے مختلف ذرائع
1۔ کتابت: اہل علم کے علمی خزانے کو محفوظ کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ کتابت ہے۔ علم کو تحریری شکل میں منتقل کرنا اس کی بقاء اور پھیلاؤ کے لیے ضروری ہے۔ کتابیں، مقالے، اور تحقیقی کاموں کے ذریعے علم کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے ، اور جدید دور میں ڈیجیٹل وسائل جیسے ایbooks-، ویب سائٹس، اور آن لائن تحقیق کے ذریعے اس علم کو عالمی سطح پر پھیلا یا جا سکتا ہے۔ اس طرح علم کی حفاظت اور ترویج ممکن ہو پاتی ہے، اور نئی نسلیں بھی اس سے استفادہ کرتی ہیں۔
2۔تعلیم و تدریس:علم کی حفاظت اور پھیلاؤ کے لیے تعلیمی ادارے اور مساجد میں دروس کا انعقاد کرنا نہایت اہم ہے۔ مدارس، یونیورسٹیاں اور مساجد جیسے مقامات علم کے گہوارے ہیں جہاں تدریس کے ذریعے نہ صرف علم کا تسلسل جاری رہتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو وہ علم منتقل کیا جاتا ہے جو سابقہ نسلوں سے حاصل کیا گیا۔ اس طرح علم کی بقاء اور اس کا اثر ورسوخ قائم رہتا ہے۔
نئی نسل کی تربیت اور نئے اہل علم
اہل علم کی وفات کے بعد جو خلا پیدا ہوتا ہے، اسے پُر کرنے کے لیے نوجوان نسل کی تربیت اور انہیں دین کی خدمت کے لیے تیار کرناضروری ہے۔ علماء کی زندگی کو بطور نمونہ پیش کر کے انہیں علم دین حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ [آل عمران: ١٠٤]
’’ اور تم میں ایک گر وہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور برائی سے روکے ، یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
اپنی نسلوں کو دینی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کریں اور انہیں اس راستے پر گامزن کریں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ
’’اللہ ایمان والوں کو اور جنہیں علم دیا گیا ہے ، درجات میں بلند فرماتا ہے۔‘‘ [المجادلة: ١١]
اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«إذا مات الإنسانُ انْقَطَعَ عَنْه عَمَلُهُ إِلَّا مِن ثَلاثَةٍ إِلَّا مِن صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو له»
’’ جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے صدقہ جاریہ ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘(صحیح مسلم: ١٦٣١ )
علم کے میدان میں نئے آنے والے اہل علم کی قدر کرنا اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ عمل علمی سلسلے کو زندہ رکھنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ اہل علم کی وفات پر ان تمام ذمہ داریوں کو سمجھنا اور ادا کرنا امت مسلمہ کی اجتماعی کامیابی اور دین کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اہل علم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔
علم کا سفر رکا نہیں کرتا
علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہو تا، نہ وقت کے ساتھ ، نہ ہی افراد کی وفات سے۔ اہل علم کی وفات ایک دکھ کا لمحہ تو ہوتا ہے ، مگر ان کے دیے ہوئے علم کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ جب کوئی عالم اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو اس کی تعلیمات، افکار ، اور خیالات ہم تک پہنچتے رہتے ہیں۔ اس سفر کا تسلسل تب تک جاری رہتا ہے جب تک انسانوں میں علم کی تشنگی باقی ہے۔ ہر نئی نسل کو گزشتہ علم کی وراثت ملتی ہے، اور وہ اس پر اپنے خیالات کی نئی روشنی ڈال کر اس سفر کو مزید آگے بڑھاتی ہے۔
علم کا سفر اس دریا کی مانند ہے جو اپنی سمت کبھی نہیں بدلتا، چاہے اس میں کنکر پڑیں یا طوفان آئیں، اس کی روانی کبھی رکتی نہیں۔ ہمیں صرف اس دریا کے کنارے پر بیٹھ کر اس سے سیکھنا اور اس کے پانی کو صاف رکھنا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
