امام الموحدین سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی پوری زندگی عقیدئہ توحید سے عبارت تھی۔ ان کا ایک ایک قدم اسی عقیدہ سے منسلک تھا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام تقریباً چار ہزارسال پہلے جنوبی عراق میں دریائے فرات کے کنارے پر واقع قصبہ اُر (UR)جو کوفہ سے مشرق کی جانب تقریباً ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ میں پیدا ہوئے ۔ یہ زمانہ کلدانی قوم کے عروج کا زمانہ تھا، جب یہ قوم اپنی صنعت وحرفت ،زراعت وتجارت میںاوج ثریا پر پہنچی ہوئی تھی۔ ان تمام مادی رفعتوں کے باوجود ان کی روح محتاج کفن تھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا سورج ، چاند ، ستاروں ، سیاروں اور بتوں کو اپنا معبود مان رکھا تھا۔ اور ان کے مذہبی حالات کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ قصبہ اُر (UR) میںپانچ ہزار خداؤں کے نام دریافت کئے گئے ہیں۔ دوسرے شہروں اور قصبات کے الگ الگ خدا مقرر تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص خدا ہوتا تھا۔ جس کو رب البلد یعنی شہر کا خدا کہتے تھے۔ ظاہر ہے اس کا احترام دوسرے خداؤں سے زیادہ کرتے تھے ۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پیدائشی شہر کا بڑا خدا ننار تھا(چاند دیوتا) اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے اس شہر کا نام قرینہ بھی لکھا ہے۔ ننار کا بت شہر میں سب سے اونچی جگہ رکھا گیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی اس کی بیوی (نن گل) کا معبد تھا۔ لوگ ان مزاروں کے سامنے مراقبے ، سجدہ اور طواف کرتے تھے۔

ننار کے مزار کی شان شاہی محل سرا کی تھی یہاں ہر وقت نئی عورت آکر ٹھہرتی یہاں بہت سی عورتوں نے اپنے آپ کو وقف کررکھا تھا۔ وہ عورت بڑی محترم سمجھی جاتی تھی جو اپنی چادرعفت کو اس پر قربان کردیتی۔ اس مزار کے نام بہت سے رقبے وقف تھے جنکی آمدنی مجاور ہی استعمال کرسکتے تھے۔

آپ علیہ السلام نے ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک وخرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک و خرافات کا مرکز تھا۔ اس پر اکتفا نہیں بلکہ اس ساری خرافات کو حکومت وقت اور آپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام یہ دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز ان کا گھر بنا ہوا ہے لہذا حق کا تقاضا تھا کہ پیغام حق کی ابتداء اپنے گھر سے کی جائے چنانچہ مؤثر دلائل اور پوری دل سوزی کے ساتھ یہ بات باپ کی خدمت میں پیش فرمائی۔ آج سے ہزاروں برس قبل باپ اور اس کے عظیم بیٹے کے درمیان جو مکالمہ ہوا قرآن مجید کے مبارک الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔

وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهِيْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَ لَا يُبْصِرُ وَ لَا يُغْنِيْ عَنْكَ شَيْـًٔا يٰۤاَبَتِ اِنِّيْ قَدْ جَآءَنِيْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِيْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا يٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيًّا يٰۤاَبَتِ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّيْطٰنِ وَلِيًّا قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِيْ يٰۤاِبْرٰهِيْمُ١ۚ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِيْ مَلِيًّا (مریم :41-46)

’’ اے نبی ! اس کتاب میں ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کریں۔ بیشک وہ راست باز انسان اور نبی تھے جب کہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، جو نہ سنتی ہیں اور نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی آپ کے کام آسکتی ہیں ۔ ابا جان میرے پاس ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ آپ میری بات مانیں(اتباع کریں) میں آپ کو ٹھیک راہ بتاؤں گا اے ابا جان آپ شیطان کی بندگی نہ کریں۔ شیطان تو رب کا نافرمان ہے ۔ اے ابا جان مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی نہ بن جائیں۔ اے ابراہیم علیہ السلام کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیاہے؟ اگر تو ایسی تبلیغ سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر جان سے ماردوںگا۔ پس تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجاؤ۔‘‘ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تحریک قدم بہ قدم آخری مرحلے میں داخل ہورہی تھی آپ نے فرمایا! اے میری قوم ایک اللہ سے ڈرو اسی ایک اللہ کی عبادت واطاعت میں زندگی کھپاؤ، جس ذات اقدس میں یہ اوصاف ہیں ۔

وَ اِبْرٰهِيْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًا١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (العنكبوت:16، 17)

’’اور جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کوخطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا! اللہ سے ڈرو، اور اسی ایک کی عبادت کرو یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم اس حقیقت کو جان جاؤ، تم اللہ کو چھوڑ کر جن کو پوج رہے ہو، وہ تو صرف بت ہیں اور یہ (عقیدہ تمہارا خودساختہ) تم ایک جھوٹ بنائے ہوئے ہو۔ جن کو تم(پکارتے) ہو اللہ کو چھوڑ کر وہ تم کو رزق دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، تو اللہ ہی سے رزق مانگو، اسی کی عبادت کرو اور سی کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جاناہے۔‘‘

طویل عرصہ تک سمجھانے کے باوجود جب قوم سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوئی تو آپ نے سوچا کہ اگر دلائل ان کی سمجھ میں نہیں آرہے اور یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ان مورتیوں پر مر ے جارہے ہیں۔ طبیعت میں غیرت آئی کہ اب ان کے معبودان باطلہ کی عملی طور پر خبر لینی چاہیے تب بلا خوف وخطر ڈنکے کی چوٹ کہا اللہ کی قسم اب یہ مجسمے میرے لئے ناقابل برداشت ہوگئے ہیں۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ

اللہ کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے بتوں کی ضرور خبر لوں گا۔(الأنبیاء:۵۷)

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْۤ اِبْرٰهِيْمَ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ٞ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ (الممتحنة:۴)

’’یقینا تمہارے (امت محمدیہﷺ کے )لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جو انہوں نے اپنی قوم کو صاف کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور تمہارے خود ساختہ معبودوں سے جن کی وجہ سے تم نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ رکھا ہے ۔بالکل بیزار ہیں۔ بلکہ ہم تم سب کا انکار کرتے ہیں ، ہمارے اور تمہارے درمیان اس وقت تک عداوت اور دشمنی رہے گی جب تک تم ان کوچھوڑ کر ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت نہ کرنے لگ جائیں۔‘‘

اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَۚ (الأنعام:79)

’’میں نے اپنا رخ صرف اس اللہ کی طرف کر لیا ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا فرمایا اور میرا مشرکین کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔‘‘

یہی وہ آخری مر حلہ ہے یہاں پہنچ کر ایسے لوگوں سے واشگاف کہنا ہوتاہے۔

قُلْ يٰۤاَيُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَ لِيَ دِيْنِ (سورة الكافرون)

’’ اے نبی ﷺکہہ دیں اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ (اب) تم اس کی عبادت کرنے والے ہو،جس کی میں عبادت کرتاہوں اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں۔ میرے لیے میرا دین اور تمہارے لیے تمہارا دین۔‘‘

واللہ آپ کی غیرت وجلالت کا عجیب منظر ہوگا حالانکہ معلوم تھا بلکہ خود ہی تو اعلان کیا کرتے تھے۔ یہ نہ سنتے ہیں، نہ دیکھتے ہیں ، نہ ہی بول سکتے ہیں۔ لیکن آج خود ہی بلائے جارہے ہیں۔ کبھی مومن پر ایسا وقت بھی آتاہے کہ وہ غیرت توحید سے لبریز ہوکر درس توحید دینے کے لئے ایسا بھی کرتاہے جیسا کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے طواف کعبہ کے وقت حجر اسود کو کہا تھا ’ میں جانتا ہوں تیری حقیقت کو تو ایک پتھر کا ٹکڑا ہے۔ میں تو تجھے اس لئے چوم رہا ہوں کہ میں نے سرورگرامی علیہ الصلاۃ والسلام کو تجھے چومتے ہوئے دیکھا تھا۔ دیکھتے جائیے اب باطل معبودوں کی شامت آنے والی ہے۔

فَرَاغَ عَلَیْھِمْ ضَرْبًا بِالْیَمِیْنِ(الصافات:93)

’’پھر ان کو دائیں ہاتھ سے توڑنا شروع کیا۔‘‘

غیرت کے بے پناہ جذبات کے باوجود ذہانت کا ایسا مظاہرہ فرمایا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

فَجَعَلَھُمْ جُذٰذًا اِلَّا کَبِيْرًا لَّھُمْ لَعَلَّھُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ (الأنبیاء:۵۸)

’’پھر بتوں کو توڑ پھوڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا مگر بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔‘‘

جتنے بھی نبی اپنے اپنے زمانے میں تشریف لائے وہ اپنے دور کے سب سے بڑے ذہین اور فطین تھے۔ دیکھیے ابراہیم علیہ السلام کتنے زیرک اور فطین ہیں کہ سب بتوں کو توڑا مگر بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ جب قوم واپس آکر کے دیکھے گی تو اس حادثے پر غوروفکر کرتے ہوئے یقینا اس کی طرف رجوع کرے گی۔

اگر إِلَیْهِ کی ضمیر (اشارہ) بڑے بت کی طرف ہوتو شاید یہ سوچیں کہ بڑے میاں نے کسی بات پر ناراض ہوکر چھوٹوں کا تیاپانچہ کردیاہے یاکم از کم یہ تو ان کے دلوں میں خیال آئے گا۔ واقعی وہ جوان(ابراہیم) سچ کہتاتھا کہ یہ سب بے کار ہیں یہ انہوں نے اپنے آپ کو بچایا اور نہ یہ بڑے میاں ہی روک سکے ہاں اگر إِلَیْهِکا اشارہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف ہوتو معنی بالکل صاف ہے کہ جب میرے پاس آئیںگے تو بات کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ میں کہوں گا مجھ سے پوچھنے کی بجائے اپنے عقیدے کے مطابق اس سے پوچھو اگر واقعی یہ بولتے ہیں ان کا بڑا تو موجود ہے۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ(الأنبیاء:59۔60)

’’کہنے لگے ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کردیا؟ وہ بڑا ہی ظالم ہے۔ کچھ کہنے لگے ہم نے ان کے خلاف ایک ابراہیم نامی نوجوان کو چیلنج کرتے سنا ہے۔‘‘

ابھی خاص وعام کے ساتھ یہ کشمکش جاری تھی کہ حکومت وقت نے اس بات کا سختی سے نوٹس لیا۔ جب حاکم وقت نمرود کے پاس مکمل رپورٹ پہنچی تو وہ آپے سے باہر ہوگیا چنانچہ یہ فکر لاحق ہوگئی کہ اگر ابراہیم علیہ السلام بتوں کی خدائی کا انکار کرتاہے تو میری خدائی کو کب تسلیم کرتاہوگا چنانچہ فوراً حکم صادر کیا کہ ابراہیم علیہ السلام جہاں کہیں ہو اس کو فی الفور میرے دربار عالیہ میں پیش کیا جائے۔ باپ ، رشتہ دار، پوری قوم یہ چاہتی تھی یہ تحریک دب جائے اور اس کے داعی کو عبرت ناک سزا سے دوچار کیاجائے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام حاکم وقت کے سامنے جاتے ہیں۔ حاکم وقت نے حاکمانہ لب ولہجے میں پوچھا اے ابراہیم! ہمارے ہوتے ہوئے تم کسی اور کو کس طرح رب مانتے ہو؟

ابراہیم علیہ السلام بھر پور اعتماد سے فرمانے لگے! میں زمین وآسمان میں صرف اور صرف ایک ذات کبریاء کورب مانتاہوں اس کے بغیر سب مجبور ومحکوم ہیں۔ خالق ومالک تو اللہ ہے تو بھی اسی طرح ایک انسان ہے جس طرح ہم انسان ہیں۔ فوراً حکم دیا کہ امن عامہ کے تحت اسے گرفتار کرلیا جائے چنانچہ آپ کو دس دن تک جیل میں رکھا گیا اور پھر بادشاہ کی کونسل نے انہیں زندہ جلا دینے کا فیصلہ کیا بالفاظ دیگر عوام بھی اور حکمران بھی سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس کو زندہ نہ چھوڑا جائے بلکہ عبرتناک سزادی جائے۔

شاہی آرڈنینس کے تحت پوری مشینری آگ کو بھڑکانے میں لگی ہوئی ہے۔ علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ لوگوں کے جذبات کا عالم یہ تھا کہ عورتیں نذریں مانتی تھی اگر فلاں مشکل یا بیماری رفع ہوجائے تو میں اتنی لکڑیاں آگ میں پھینکوں گی مؤرخین نے تحریر کیا ہے۔ آج تک آگ کا اتنا بڑا لاؤ ایک نفس کے جلانے کیلئے دیکھنے میں نہیں آیا۔ آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔ جب آگ میں پھینکنے کا وقت آیا تو مسئلہ پیدا ہوا کہ اتنی بڑی آگ میں کس طرح پھینکا جائے۔

شاہی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتاہے ۔زیرِ غور مسئلہ یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں کس طرح پھینکا جائے؟ فیصلہ ہوتاہے کہ ایسی مشین تیار کئی جائے جس میں جھولادے کر آگ کے درمیان میں پھینکا جائے۔

اہلِ ایمان کے لئے اس واقعہ کے اندر بڑے اسباق عبرت ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اس کے باپ اور دوسرے لوگوں نے نیچا دکھانے کی کوشش کی لیکن ابراہیم علیہ السلام کامیاب اور دوسرے ناکام رہے حتیٰ کہ انہوں نے آگ میں جانا قبول کرلیا مگر نظریہ توحید کو نہ چھوڑا۔ اے اہلِ ایماں اگر تم بھی سچی بات پر قائم رہو تو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

قارئین کرام! آج ہم سب مذہی جوش وخروش سے عیدالاضحیٰ کے موقع پر سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے تیاریوں میں مصروف ہیں، اس اہم موقع پر تمام مقدّس روایات کو مدّنظر رکھتے ہوئے اگر اسوئہ ابراہیمی کی اصل روح کو تازہ کریں تو موجودہ حالات میں سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی اطاعت اور ان کی سیرت پر عمل کرکے اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔قربانی کے اس موقع پر ہمیں ضرورت مندوں،غریبوں خاص طورپر جنگ سے متاثرہ اپنے فلسطینی بھائیوں کو بھی ان خوشیوں میں شریک کرنا چاہئے۔سنت خلیل کا اصل مقصد غم گساری اور ہمدردی کا ولولہ پیدا کرناہے قربانی کا مقصد اللہ تعالیٰ کو منانا سنت ِ نبوی ﷺکو اپنانا طریقہ ابراہیمی کو بجا لانا اور شیطانی قوتوں کو خا ئب و خاسر بنانا ہے، قربانی کے متعلق حکم باری تعالیٰ ہے کہ

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ (الحج: 34)

’’ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان جانوروں کو اللہ کا نام لے کر ذبح کریں جو انہیں عنایت ہوئے ہیں۔‘‘

ایک اور جگہ ارشادِ ربانی ہے کہ

لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (الحج: 37)

’’اللہ تعالیٰ کو ان(جانوروں) کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے البتہ تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے ۔‘‘

اس آیتِ مبارکہ میں تقویٰ کا ذکر کرکے ارشاد فرمادیا کہ قربانی کے بارے میں تمہارا خلوص اور تقویٰ دیکھا جائے دل میں خلوص اور عمل میں تقویٰ کا رنگ اور عمل میں تقویٰ کا رنگ جتنا زیادہ ہوگایہی قربانی کا اصل فلسفہ ہے۔

ہم نے اپنی دینی اور ملی اقدار چھوڑ دی ہیں، جس کی آج زیادہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے ہم اگرامت ابراہیمی کے اصولوں،قوانین اور اپنے معاشرتی ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے معاشرے کو سنواریں اور اپنی ذات کو اسوہ ابراہیمی علیہ السلام اور اطاعت اسماعیلی کی روشنی میں ڈھالیں تو یقیناً اس صدی میں بھی ہم ایک مہذب معاشرہ قائم کرنے کی سعادت حاصل کرسکتے ہیں۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنّت انتہائی عقیدت واحترام اور دینی فریضے کے مطابق ادا کی جائے۔ عیدالاضحی کا ملی اجتماع ہمیں ایثار،قربانی اور صبر کا درس دیتاہے ۔اس موقع پر ہمیں عہد کرنا ہے کہ دین محمدی کے اسوئہ حسنہ کے منشور پر عمل کرتے ہوئے ملک اور قوم کی ترقی، خوشحالی اور فلاح وبہبود کیلئے دن رات کام اور اس مملکت پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لاکھڑا کریں گے۔یہی عزم وولولہ ہمارے لئے دین ودنیا کی خیرات کا باعث بنے گا ۔ بقول شاعر:

آج بھی گر ہو ابراہیم کا ایماں پیدا

آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

 معرکہ حق

مئی 2025ء پاکستانی تاریخ میں ہی نہیں‘ دنیا کی عسکری تاریخ میں بھی اب وہ حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے آنے والی نسلیں بھی شاید کبھی بھلا نہ پائیں۔ چھ اور سات مئی کی رات بھارت کی بزدل افواج نے بلااشتعال کوٹلی، بہاولپور،باغ اور مظفرآباد سمیت جن مقامات پر میزائل حملے کئے‘ پاکستان کی غیور اور بہادر افواج کیلئے یہ ایک غیرمعمولی چیلنج تھا چنانچہ جواب میں پاک فضائیہ نے فوری دفاعی کارروائی کرتے ہوئے تین رافیل سمیت 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔ اسی طرح بھارت نے 10 مئی کی علی الصبح پاکستان کے تین ایئربیسز کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا‘ اسکے جواب میں پاکستان فضائیہ نے اپنے (آہنی دیوار) اپریشن سے پٹھان کوٹ‘ ادھم پور‘ آدم پور اور راجوڑی سمیت بھارت کے دفاعی نظام کو تباہ کر دیا جس سے بھارت کا جنگی جنون بکھر کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔ مودی جسے ’’رافیل‘‘ پر ناز تھا‘ پاک فضائیہ کے ایک ہی جوابی حملے نے اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔

“بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ” ایک قرآنی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار یعنی ایسا مضبوط، متحد اور ناقابلِ شکست وجود جو ٹوٹ نہ سکے، بکھر نہ سکے۔

یہ لفظ سورہ الصف (آیت 4) میں آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ

“بیشک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کے راستے میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”

یہ تعبیر اتحاد، قربانی، نظم و ضبط، اور ایمانی طاقت کی علامت ہے۔

جب مسلمان ایک مقصد کے لیے اکٹھے ہو کر، دلوں کو جوڑ کر، ایک جسم اور ایک روح کی مانند کھڑے ہوتے ہیں — تو وہی ہیں “بنیانِ مرصوص”۔

یہ لفظ صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ روحانی قوت، خلوصِ نیت، اور سچے ایمان کی نمائندگی کرتا ہے۔

الحمدللہ پاکستانی افواج نے بنیان المرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے موسوم جوابی کاروائی کا جیسےہی نماز فجر کی ادائیگی کے بعد نعرہ تکبیر کی صدائوں سے آغاز کیا تو اس نام کی نسبت سے جو کہ سورۃ صف کی یہ آیت

«إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ»

ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری افواج پاکستان کے جزبہ ایمانی کو دوام عطا فرمایا، اقبال کے شاہینوں کی پرواز اس عزم کے ساتھ ہوئی ۔

یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے

جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی

دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کشائی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ مسلم افواج نے ہمیشہ اپنی مثال آپ ہونے کا عملی ثبوت کس جرأت و بہادری سے دیا کیوں کہ یہود و نصارٰی اور ہندئووں کا مقابلہ کرنا ان کے لئے کبھی بھی نا ممکن نہیں رہا، ہمارے اسلاف کے بہادرانہ فتوحات سے تاریخ بھری پڑی ہے ،اغیار بخوبی جانتے ہیں کہ فتح تو مسلم امہ کی ہی ہوگی ،مگر جب تک یہ حقیقی معنوں میں یک جاں دو قالب ہو جائیں، لہذا اس کے لئے وہ اقوام عالم کے مسلمانوں کو کبھی یکجا نہیں دیکھنا چاہتے ،تمام اقوام عالم کی نظریں پاکستان پر ہی ہیں کیونکہ غزوہِ ہند اور امام مہدی علیہ السلام سے متعلق تمام پیش رفت بھی اسی ارض پاک سے ہونے کی بشارتیں ہیں، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔  پوری قوم کو اپنی تمام افواج (بری،بحری و ہوائی) پر فخر ہے ، کہ انھوں نے بہترین حکمت عملی سے دشمن کو شکست فاش سے دوچار کرکے بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے ،پاکستان کو مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی فتح اور کامیابی کے پیچھے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں پنہاں ہیں، یہ ایک ایٹمی طاقت بھی بفضل الٰہی بنا ہے اور ڈاکٹر عبد القدیر رحمہ اللہ کی حب الوطنی بھی اس خطے کو عروج بخشے میں ہمیشہ قابل ستائش رہے گی ، ہم اپنی تینوں افواج کے سربراہان اور ان کی جملہ ٹیم کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں تا دیر سلامت رکھے ۔

پاکستان پائندہ باد۔افواج پاکستان زندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *