وقال: {حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا} [الكهف: 96] هذا على معنى فعل، فهذا جعل المخلوقين، ثم جعل من أمر الله على معنى غير خلق، لا يكون إلا خلق، ولا يقوم إلا مقام خلق خلقًا لا يزول عنه المعنى، وإذا قال الله: جعل، على غير معنى خلق لا يكون خلق، ولا يقوم مقام الخلق، ولا يزول عنه المعنى. فمما قال الله: جعل، على معنى: خلق، قوله: {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ} [الأنعام: 1] ، يعني وخلق الظلمات والنور.وقال: {وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالأَبْصَارَ} [النحل: 78] .يقول: وخلق لكم السمع والأبصار.وقال: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ} [الإسراء: 12] .ويقول: وخلقنا الليل والنهار آيتين2.وقال: {وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا} [نوح: 16] .وقال: {هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا} [الأعراف: 189] .يقول: خلق منها زوجها. يقول: وخلق من آدم حواء.وقال: {وَجَعَلَ لَهَا رَوَاسِيَ} [النمل: 61] .يقول: وخلق لها رواسي، ومثله في القرآن كثير، فهذا وما كان مثله لا يكون إلا على معنى خلق.

 اور فر مایا: “ تو حکم دیا آگ تیز جلاؤ۔تو یہ معنی بھی (فَعَلَ) کا ہے۔ تو یہ مخلوق کا جَعَلَہے (مخلوق کا کسی کام کو کرنا ہے)پھر جَعَلَکو اللہ نے خَلَقَ (پیدا کر نا) کے معنی میں استعمال کیا اور خَلَقَکے معنی میں نہیں استعمال کیا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے جَعَلَکو خلق کے معنی میں بیان کیا ہے وہاں خَلَقَہی مراد ہو تا ہے اور لفظ خَلَقَ کا ہی قائم مقام ہو تا ہے۔ اور اس سے خَلَقَکا معنی زائل نہیں ہو تا۔ اور جب اللہ (عزوجل) نے جَعَلَکو خَلَقَکا معنی میں نہیں ذکر کیا وہاں یہ خَلَقَکے قائم مقام نہ ہے، اور نہ اس سے غیر خَلَقَ کا معنی زائل ہو تا ہے۔جہاں فَعَلَ خَلَقَ کے معنی میں ہے، اللہ نے بتلایا ہے وہ یہ آیت ہے کہ:تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا”یہاں معنی ہے خَلَقَ الظلمت والنور اور فر مایا: اسی نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزاری کرو”یعنی اللہ فر ماتا ہے آپ کیلئے آنکھ اور کان پیدا کئے۔ اور فر مایا : ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں پیدا کیا” اور پھر فر مایا: اور سورج کو روشن چراغ پایا۔ فر مایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑ ابنایا۔یعنی وہ فر ماتا ہے کہ: آدم سے حواء کو پیدا کیا۔ اور فر مایا: اور اس کے لئے پہاڑ بنائے۔ یعنی وہ فر ماتا ہے کہ اور اس کے لئے پہاڑ پیدا کئے۔اور اس کی مثالیں قرآن میں بہت ہیں پس قرآن میں جہاں بھی اس طرح کا جَعَلَآئے گا تو اس کا معنی خَلَقَپیدا کرنا ہو گا۔

ثم ذكر: جعل، على غير معنى: خلق، قوله: {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلا سَائِبَةٍ} [المائدة: 103] لا يعني: ما خلق الله من بحيرة ولا سائبة. وقال الله لإبراهيم: {إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا} [البقرة: 124] .لا يعني إني خالق للناس إمامًا؛ لأن خلق إبراهيم كان متقدمًا.وقال إبراهيم: {رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ آمِنًا} [إبراهيم: 35] .وقال إبراهيم: {رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ} [إبراهيم: 40] .لا يعني: اخلقني مقيم الصلاة.وقال: {يُرِيدُ اللَّهُ أَلَاّ يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الآخِرَةِ} [آل عمران: 176] .وقال لأم موسى: {إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ} [القصص: 7] .لا يعني: وخالقوه من المرسلين؛ لأن الله وعد أم موسى أن يرده إليها، ثم يجعله بعد ذلك رسولاً.وقال: {وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ} [الأنفال: 37] وقال: {وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ} [القصص: 5] .وقال: {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا} [الأعراف: 143] . لا يعني: وخلقه دكًّا. ومثله في القرآن كثير. فهذا وما كان على مثاله لا يكون على معنى: خلق،

 اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو بنایا نہ سائبہ کو”یہاں یہ معنی نہ ہو گا کہ معنی میں نہ بحیرہ اور سائبہ کو پیدا نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے ابراہیم سے کہا: “میں تمھیں لوگوں میں امام بنا دوں گا” اس کا یہ معنی نہیں کہ میں تمھیں لوگوں کا امام پیدا کر دوں گا۔ کیونکہ ابراہیم پہلے پیدا ہو ئے تھے۔ اور ابراہیم نے فر مایا: اے پر ور دگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے۔اور ابراہیم نے فر مایا: اے میرے پر ور دگار مجھے نماز کا پابند رکھے اور میری اولاد سے بھی۔ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ مجھے نماز قائم کر نے والا پیدا کر۔ اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے” یہاں پر معنی نہیں ہے کہ: اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ پیدا نہ کرے، بلکہ یہاں معنی مقرر کر نا اور عطا کر نا ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مو سیٰ علیہ السلام کی ماں سے کہا: ہم یقیناً اے تیری طرف لوٹا نے والے اور اسے رسولوں میں بنا نے والے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اس کو پیغمبروں میں سے پیدا کر تے ہیں۔ کیو نکہ موسیٰ کی ماں سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا کہ وہ موسیٰ کو واپس ان کو لوٹائے گا۔پھر اس کے بعد اس کو رسول بنائے گا۔ اور فر مایا: “ اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکھٹا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے” یہاں یہ معنی نہیں ہے کہ اس کو جہنم میں پیدا کر دے۔ بلکہ یہاں معنی ڈالنا ہو گا ۔ اور فر مایا: پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فر مائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کر دیا گیا تھا اور ہم انہی کو (زمین) کا وارث بنائیں۔ “ یہاں یہ معنی ہیں کہ ہم ان کو امام اور وارث پیدا کرتے ہیں بلکہ یہاں پیدا کر نے کی بجائے بنانا ہو گا۔اور فر مایا: پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فر مائی تو تجلی نے اس کے پر خچے اڑا دیئے۔تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ پر خچے پیدا کئے، بلکہ معنی ہے کہ پر خچے بنا دیئے ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں۔ پس یہ اور جیسے دوسری مثالوں کا معنی (خَلَقَ) نہیں ہوگا۔

فإذا قال الله: جعل، على معنى خلق، وقال: جعل، على غير معنى خلق، فبأي حجة قال الجهمي: جعل على معنى خلق؟ فإن رد الجهمي الجعل إلى المعنى الذي وصفه الله فيه، وإلا كان من الذين يسمعون كلام الله، ثم يحرفونه من بعد ما عقلوه، وهم يعلمون.فلما قال الله: {إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ} [الزخرف: 3] .وقال: {لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ} [الشعراء: 194، 195] .وقال: {فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ} [مريم: 97] .فلما جعل الله القرآن عربيًّا ويسره بلسان نبيه -صلى الله عليه وسلم- كان ذلك فعلاً من أفعال الله -تبارك وتعالى- جعل القرآن به عربيًّا يعني: هذا بيان لمن أراد هداه الله مبينًا، وليس كما زعموا معناه: أنزلناه بلسان العرب. وقيل: بيناه،

سو اللہ تعالیٰ نے جب جَعَلَ زیادہ معنوں میں استعمال کیا ہے۔یعنی خلق کے معنی بھی استعمال کیا اور غیر خلق میں بھی استعمال کیا ہے تو جہمی نے کس دلیل کی بنیاد پر جعل کا معنی صرف (خَلَقَ ) پیدا کر نے کے معنی میں استعمال کیا؟اگر جہمی جعل کا وہ معنی پیدا کرے جو اللہ نے بیان کیا ہے (تو درست) اور اگر اللہ تعالیٰ نے بیان کر دہ معنی بیان نہ کرے تو ان کی مثال ان لوگوں کی ہے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے ہیں اور سمجھنے کے بعد تحریف کر تے ہیں اور وہ جانتے ہیں (یعنی اهل کتاب کی طرح)جب اللہ تعالیٰ نے یہ فر مایا : “ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے ” وو فر ماتا ہے کہ اس کو عربی بنایا۔ یہاں جَعَلَ بمعنی فَعَلَ کے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فر مایا : “ ہم نے اس کو عربی زبان کا قر آن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو” اور فر مایا: کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہو جائیں” صاف عربی زبان میں ” اور فر مایا “ ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا”پس جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کو عربی کا قرآن بنایا اور اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان پر آسان کر دیا تو یہ اللہ تعالیٰ کے افعال میں سے ایک فعل ہے۔جس کے ذریعے سے قرآن کو عربی میں کر دیا۔تو یہ بیان ہے اس کے لئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کا ارادہ کرے۔اوراس طرح معنی نہیں ہے جس طرح انہوں نے گمان کیا۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا اور کہا گیا ہم نے اس کی وضاحت کی۔

ثم إن الجهم ادعى أمرًا آخر، وهو من المحال.فقال: «أخبرونا عن القرآن أهو الله أو غير الله؟ فادعى في القرآن أمرًا يوهم الناس. فإذا سئل الجاهل عن القرآن: هو الله أو غير الله؟ فلابد له من أن يقول بأحد القولين.فإن قال: هو الله. قال له الجهمي: كفرت. وإن قال: هو غير الله. قال: صدقت، فلم لا يكون غير الله مخلوقًا؟ فيقع في نفس الجاهل من ذلك ما يميل به إلى قول الجهمي.وهذه المسألة من الجهمي من المغاليط،

پھر جہمی نے دوسرا دعویٰ کیا، وہ بھی نہ ممکنات میں سے ہے۔ پس کہا ہمیں بتلاؤ کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ ہے یا اللہ تعالیٰ کا غیر ہے؟پس قرآن کے متعلق ایک بات نکالی جس سے لوگوں کو وہم میں ڈال دیا۔ پس جب جاہل سے پو چھا جائے قرآن کے متعلق کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے ؟ یا اللہ تعالی کا غیر ؟ تو ضرور وہ ان دو با توں میں سے ایک کہے گا۔اگر کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے، تو جہمی اسے کہے گا تو نے کفر کیا۔ اور اگرکہا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا غیر ہے ، تو جہمی کہے گا: آپ نے سچ کہا،تو پھر کیوں اللہ تعالیٰ کا غیر مخلوق نہیں ہے؟ پس جاہل کے ذہن میں اس طرح وسوسہ ڈالتا ہے جس سے جہمی کے قول کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔اوریہ مسئلہ جہمی کے دھوکوں میں سے ایک دھوکہ ہے۔

(جاری ہے)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *