اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے، جس کی بنیاد خیرخواہی، ہمدردی اور انسانی فلاح پر رکھی گئی ہے۔ خیرخواہی اسلام کا وہ بنیادی اصول ہے جو اللہ تعالیٰ سے تعلق کی اصلاح سے شروع ہو کر بندوں کے حقوق کی حفاظت تک پھیل جاتا ہے۔ دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر وہ عمل جو اللہ کی رضا اور مخلوق کی بھلائی کے لیے ہو، خیرخواہی ہے، جبکہ حسد، بغض، خوشامد،فریب اور خود غرضی اس کی ضد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیرخواہی کو دین کا خلاصہ قرار دیا اور تمام انبیاء علیہم السلام انسانیت کے خیر خواہ بن کر مبعوث کیے گئے۔
اسلامی تعلیمات میں عبادات کا مقصد بھی انسان کو خیرخواہی کے عملی سانچے میں ڈھالنا ہے۔ کلمۂ توحید انسان کو ہر باطل سہارے سے آزاد کرتا ہے، نماز مساوات اور نظم و ضبط کا درس دیتی ہے، روزہ غریبوں کے درد کا احساس بیدار کرتا ہے، زکوٰۃ معاشی عدم توازن کو کم کرتی ہے، حج امت کو وحدت کا شعور دیتا ہے اور جہاد ظلم کے خاتمے اور مظلوم کی حمایت کا پیغام ہے۔ الغرض اسلام کا ہر حکم فرد کو خود غرضی سے نکال کر اجتماعی بھلائی کی طرف لے جاتا ہے۔
اسی خیرخواہی کے تصور میں حکمرانوں اور عوام دونوں کی اصلاح شامل ہے۔ حکمرانوں کی خیرخواہی یہ ہے کہ حق میں ان کی اعانت کی جائے، معروف میں ان کی اطاعت ہو اور اگر وہ راہِ حق سے ہٹیں تو حکمت اور خیر کے ساتھ انہیں متنبہ کیا جائے، جبکہ فتنہ و فساد اور بغاوت سے اجتناب کیا جائے، اِلَّایہ کہ صریح کفر کا ارتکاب ہو۔ عام مسلمانوں کی خیرخواہی یہ ہے کہ ان کی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے رہنمائی کی جائے اور برائی سے روکا جائے۔
بدقسمتی سے آج امتِ مسلمہ کی اجتماعی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ خیرخواہی کے اس جذبے کا مفقود ہونا ہے۔ ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے، نہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکام کے ساتھ مخلص ہیں، نہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے، اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات رکھتے ہیں۔ یہی اخلاقی خلاء معاشرتی بگاڑ اور سنگین جرائم کو جنم دے رہا ہے۔
ایسے ماحول میں سپریم کورٹ کے بعض حالیہ فیصلے محض قانونی نظائر نہیں بلکہ ایک واضح اخلاقی، سماجی اور فکری رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ نور مقدم قتل کیس میں جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ انہوں نے اس سانحہ کو محض ایک فرد کے سنگین جرم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے پیچھے کارفرما اس فکری و اخلاقی انحراف کی نشاندہی کی جو ہمارے معاشرے کے بعض مراعات یافتہ طبقوں میں ’’لیونگ ریلیشن شپ‘‘ جیسے تصورات کے فروغ کے ذریعے جڑ پکڑ چکا ہے۔
انہوں نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ جب تعلقات کو شریعت، قانون اور خاندانی نظام کی حدود سے آزاد کر دیا جائے، اور انسانی خواہشات کو کسی اخلاقی پابندی کے بغیر جائز سمجھ لیا جائے، تو اس کا انجام محض اخلاقی زوال نہیں بلکہ عملی تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
جسٹس صاحب کا یہ مؤقف کہ ایسے تعلقات نہ صرف شریعتِ اسلامی بلکہ ملکی قانون اور مشرقی سماجی اقدار سے بھی متصادم ہیں، دراصل معاشرے کے لیے ایک فکری انتباہ ہے۔ انہوں نے عدالتی جرأت کے ساتھ یہ واضح کیا کہ جرم کے مقابلے میں ہمدردی کا غیر ضروری مظاہرہ دراصل مظلوم کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ نوٹ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عدل، اگر اخلاقی بصیرت سے خالی ہو، تو محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتا ہے،جبکہ اسلام کا عدل خیرخواہی اور ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔
اسی طرح حلالہ کے غلط استعمال سے متعلق سپریم کورٹ میں جسٹس عائشہ کا فیصلہ بھی شریعتِ مطہرہ کی روح، فقہی اصولوں اور اسلامی اخلاقیات کا نہایت واضح اور جرأت مندانہ اظہار ہے۔ انہوں نے اس رائج تصور کی صراحت کے ساتھ تردید کی کہ حلالہ کو ایک منصوبہ بند حیلے کے طور پر استعمال کر کے طلاقِ مغلظہ کے نتائج کو وقتی نکاح کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا یہ کہنا کہ نیتِ طلاق کے ساتھ کیا گیا نکاح، شرعاً نکاح ہی نہیں، دراصل حدیثِ نبوی ﷺ کے اس اصول کی عملی تشریح ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔
یہ فیصلہ عورت کے وقار اور انسانی حیثیت کے تحفظ کا ایک مضبوط اعلان ہے، کیونکہ مصنوعی حلالہ کی صورت میں عورت کو ایک وقتی آلہ اور ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، جو اسلام کی دی ہوئی عزت، حرمت اور حقِ انتخاب کی صریح نفی ہے۔ جسٹس عائشہ نے بجا طور پر اس عمل کو اخلاقی طور پر قابلِ نفرت اور فقہی طور پر باطل قرار دیا، اور یوں اس غلط فہمی کا سدِباب کیا کہ شریعت کو حیلہ سازی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں یہ فیصلہ دراصل اسلام کے اس اصولِ خیرخواہی کی عملی مثال ہے جو عورت، خاندان اور معاشرتی نظام تینوں کے تحفظ کو لازم قرار دیتا ہے۔
یہ دونوں فیصلے دراصل اسلام کے اسی بنیادی اصولِ خیرخواہی کی عملی ترجمانی ہیں، جس میں فرد کی اصلاح، معاشرے کا تحفظ اور کمزور طبقے کی حمایت شامل ہے۔ عدلیہ کی یہ جرأت مندانہ اور باوقار رہنمائی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انصاف کو اخلاق اور شریعت کی روح کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے تو وہ معاشرتی اصلاح کا طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، دانشور، تعلیمی ادارے اور معاشرتی رہنما ان فیصلوں کو محض خبروں کی حد تک محدود نہ رہنے دیں بلکہ انہیں عوامی شعور کی بیداری کا ذریعہ بنائیں۔ اسلام خیرخواہی کا دین ہے، اور جب زندگی اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں سے ہٹ کر گزاری جائے تو فساد ناگزیر ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے یہ فیصلے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ معاشرتی اصلاح کا راستہ شریعت، اخلاق اور عدل کے باہمی امتزاج ہی سے نکلتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی اصل روح، یعنی خیرخواہی، کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے معاشرے کو فکری، اخلاقی اور عملی انحطاط سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
