6ـ اچھائی کا سب سے اہم بدلہ تو جنت ہے:

ہَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ(الرحمٰن:60)

’’ کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور بھی ہوسکتا ہے‘‘
وضاحت: پہلے احسان سے مراد اہل جنت کے وہ نیک اعمال ہیں جو وہ دنیا میں سرانجام دیتے رہے۔اور دوسرے احسان سے مراد جنت کی وہ نعمتیں ہیں جن کا ذکر ہو رہاہے۔ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہوسکتا ہے۔
7ـ انسان کی دین داری کا اندازہ اس کے معاملات سے ظاہر ہوتا ہے:
رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ خَیْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاء۔[بخاری]

یقینا بہترین انسان تو وہ ہے جو ادائیگی میں سب سے بہتر ہو۔
8ـ خیر خواہی کی بدولت اللہ تعالی مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے:
جب اللہ کے رسولﷺ پہلی وحی آنے پر خوف زدہ ہوگئے تھے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، سچائی سے کام لیتے ہیں، لوگوں کا سہارا بنتے ہیں، حق کی باتوں پر مدد کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالی آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔(بخاری)
9ـ دوسروں کے ساتھ بہترین خیرخواہی یہ ہے کہ انہیں جہنم سے بچانا اور جنت کا راستہ دکھانا:
نبی کریم ﷺ نےسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:

فَوَاللَّهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رجلاً وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ۔[بخاری]

اللہ کی قسم! اگر آپ کے ذریعہ اللہ تعالی کسی ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ آپ کے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
0ـ خیرخواہی مکمل ایمان کی نشانی ہے:
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہےکہ:

لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ، حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مکمل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی چیز پسند کرے جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔(بخاري (1/ 12)
ـ! مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ ہو:
دین میں اس بات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے کہ کسی کو تکلیف نہ دی جائے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(صحيح البخاري (1/ 11)
وضاحت: جھوٹ بولنا زبان کا غلط استعمال اور ناحق مال کمانے کا ذریعہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے۔
ـ@ سچائی سے کام لینا خیرخواہی کا ثبوت ہے جو جنت تک لے جاتا ہے اور جھوٹ جہنم میں پہنچا دیتا ہے:
اللہ کےپیارے نبی محمد ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ سچ بولیں کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے۔اور جھوٹ سے گریز کریں کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم میں پہچادیتی ہے۔(مسلم)
# تجارت میں سچائی سےکام لینے كکے فوائد اور جھوٹ بولنے كکے نقصانات:
1پہلا نقصان: سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، – أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا – فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا(صحيح البخاري (3/ 59)

’’بیچنے والے اور خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ الگ نہ ہوجائیں۔یا (آپﷺ نے) فرمایاحتی کہ وہ دونوں الگ نہ ہوجائیں۔پس اگر وہ دونوں سچائی سے کام لیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت نازل ہوتی ہے، اگر وہ جھوٹ سے کام لیںاور عیب چھپائیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹ جاتی ہے‘‘
2ـ دوسرا نقصان: آپس میں بات خراب ہوجاتی ہے جس کے نتیجہ میں اعتبار اٹھ جاتا ہے۔
3ـ تیسرا نقصان: یہ ظلم کی ایک صورت ہے جس وجہ سے جس پر ظلم ہوا ہو اس کی بددعا فورا قبول ہوتی ہے۔
$ناجائز کمائی کرنے والے کی دعا قبول نہ ہونے کے اسباب:
پہلا سبب: ناجائز مال کمانا شریعت کی مخالفت ہے۔
دوسرا سبب: ناجائز کمائی کرنے والا عموما دوسرے پر ظلم کر رہا ہوتا ہے، اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اس سے پہلے مظلوم کی بد دعا قبول ہوجاتی ہے، جس وجہ سے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
قصہ: ایک مرتبہ محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ سے بلال بن ابی بردہ نےگزارش کی کہ میرے لئے دعا کیجئے تو انہوں نے فرمایا کہ میری دعا کا کائی فائدہ نہیں ہوگا،کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ نے ان پر ظلم کیا ہے تو میری دعا سے پہلے ان کی بد دعا قبول ہو جائے گی، اس لئے کسی پر ظلم نہ کریں تو میری دعاؤں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ بلال بن ابی بردہ نے محمد بن واسع رحمۃ اللہ علیہ سے دعا کی درخواست کی تو انہوں نے فرمایا کہ میری دعا سے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ آپ کے دروازے پرلوگ کھڑے ہوکر یہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان پر ظلم کیا ہے، ان کی بددعا میری دعا سے پہلے ہی قبول ہوجائے گی،لہٰذا آپ ظلم کرنا چھوڑدیں تو میری دعا کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
% محتاج لوگوں کا حق کھانے سے مال تباہ ہوجاتا ہے:
اللہ تعالی نے سورۃ القلم میں ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے:
’’ہم نے انہیں ایسے ہی آزمایا ہے جیسے باغ والوں کو آزمایا تھا۔جب انہوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ صبح دم ہی باغ کا پھل توڑ لیں گے۔اور وہ کوئی استثنا نہیں کر رہے تھے۔ پھر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک آفت اس باغ پر پھر گئی جبکہ وہ ابھی سوئے ہوئے تھے۔ اور باغ یوں ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی ہو۔وہ صبح دم ہی ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ کہ اگر تمہیں پھل توڑنا ہے تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔پھر وہ چل کھڑے ہوئے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے۔ کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس نہیں آئے گا۔ اور وہ صبح سویرے ہی لپکتے ہوئے وہاں جاپہنچے جیسے وہ (پھل توڑنے کی) پوری قدرت رکھتے ہیں۔ پھر جب انہوں نے باغ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے : یقینا ہم راہ بھول گئے ہیں۔ (پھر غور سے دیکھا تو کہنے لگے) بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹ گئے ہیں۔ ان کے منجھلے نے کہا : میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟وہ کہنے لگے : پاک ہے ہمارا پروردگار، ہم ہی ظالم تھے۔ پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر آپس میں ملامت کرنے لگے۔ بولے : ہائے افسوس! ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ کچھ بعید نہیں۔ہمارا پروردگار ہمیں اس کے بدلے میں اس سے اچھا باغ عطا فرمائے۔ہم اپنے پروردگار کی طرف راغب ہوتے ہیں ‘‘(القلم :17-32)
باغ والوں کا قصہ : کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہاکہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کر لیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ ہمارا باپ تو ساری عمر اس باغ کی فصل کو ادھر ادھر تقسیم کرکے اپنی کمائی یوں ہی لٹاتا رہا اور زندگی بھر مفلس ہی رہا۔اب هیہ معاملہ ختم کردینا چاہیے۔ باغ ہمارا ہے اور اس پر ہمارا ہی حق ہے چنانچہ انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ جب کٹائی کا موقع آئے تو راتوں رات ہی کرلی جائے۔تاکہ نہ غریب مسکین آئیں، نہ ہمیں تنگ کریں اور نہ ہم برے بنیں۔انہوں نے اس بات پر قسمیں کھائیں کہ ایسا ہی کریں گے اور انہیں اپنی تجویز پر اس قدر وثوق تھا کہ انہوں نے ان شاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی۔
جب کٹائی کا وقت آیا تو وہ راتوں رات، خوشی خوشی، اچھلتے کودتے اپنے باغ کی طرف روانہ ہوئے ادھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ اسی رات سخت آندھی کا طوفان آیا۔جس میں آگ تھی۔آندھی کے ذریعہ وہ آگ باغ کے درختوں تک پہنچ گئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہیں جلا کر راکھ کر گئی۔آن کی آن میں سارا باغ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔جب یہ عقل مند بیٹے وہاں پہنچے تو وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔انہیں وہاں باغ نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔سوچنے لگے کہ ہم شاید رات کے اندھیرے میں کسی غلط جگہ پر پہنچ گئے۔پھر جب کچھ حواس درست ہوئے تو حقیقت ان پر آشکار ہوگئی کہ ان کی نیت کا فتور آندھی کا عذاب بن کر ان کے باغ کو بھسم کر گیا ہے۔اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ان کے منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو۔اسے ہر وقت یاد رکھو اور اسی سے خیر مانگو۔مگر ان بھائیوں میں سے کسی نے بھی منجھلے بھائی کی طرف توجہ نہ دی تو ناچار اسے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔اور وہ ملامت بھی اس طرح کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو کہتا کہ تم ہی نے تو یہ ترغیب دی تھی دوسرا کہتا کہ یہ مشورہ تو تمہارا تھا مگر اب پچھتانے سے کچھ بن نہ سکتا تھا۔جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔
باپ کو اس کی سخاوت اور دوسروں سے ہمدردی کا یہ صلہ ملتا رہا کہ اسی کا باغ سب سے زیادہ پھل لاتا تھا اور جتنا کچھ وہ دوسروں پر خرچ کرتا۔اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اسے مہیا فرماتا۔مگر جب بیٹوں پر بخل اور حرص غالب آئی تو اس کا ثمرہ یوں ملا کہ نیت کے فتور نے مجسم طوفان کا روپ دھار کر سارا باغ ملیا میٹ کردیا۔اس وقت نہ زمین کی زرخیزی کام آئی، نہ ان کی کوئی تدبیر، اس واقعہ سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ دوسروں سے ہمدردی اور اچھے سلوک کی بنا پر اگر اللہ تعالیٰ نادیدنی وسائل کے ذریعہ رزق فراہم کرسکتا ہے تو نیت میں فتور آنے پر ایسے ہی نادیدنی وسائل سے دیئے ہوئے رزق کو چھین بھی سکتا ہے۔آخر سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں۔مگر اب بھی ہم اپنے پروردگار سے ناامید نہیں کیا عجیب ہے کہ وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کردے۔
^ معاملات میں خرابی عبادات کو بھی ضائع کردیتی ہے:
اگر معاملات درست نہ ہوں تو نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے فرمایا: مفلس تو وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہو اور نہ ہی کوئی مال، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے اور زکاۃ لے کر تو آئے گا لیکن اس کی حالت یہ ہوگی کہ اس نے کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا مال کھایا تھا، کسی کا خون بھایا تھا اور کسی کو مارا تھا، تو اس (ظالم) کی نیکیاں ان (مظلوموں) کو دے دی جائیں گی، اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں جبکہ اس کے ظلم کا بدلہ باقی ہو تو مظلوموں کے گناہوں کو اٹھاکر اس ظالم پر ڈال دیا جائے گا اور آخر کار جھنم میں دھکیل دیا جائے گا۔ [مسلم]
دعا: اللہ رب العالمین ہم سب کو بھلائی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے محفوظ فرمائے۔آمین۔
(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے