اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُہُمْ وَھُمْ فِيْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء:1)
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَيْءٌ عَظِيْمٌ(الحج:1)

” لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ پہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ “
لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔
کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا !
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِىْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَلَا يُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا يُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ(البقرہ:48)

” اور اس دن سے ڈرتے رہو جب نہ تو کوئی کسی دوسرے کے کام آ سکے گا، نہ اس کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی، نہ ہی اسے معاوضہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا اور نہ ہی ان (مجرموں) کو کہیں سے مدد پہنچ سکے گی۔ “
قیامت کے دن تجارت اور شفاعت کام نہیں آئی گی !

يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ(آل عمران:254)

”اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اسمیں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کر لوجس دن نہ تو خرید و فروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش، اور ظالم تو وہی لوگ ہیں جو ان باتوں کے منکر ہیں۔ “
ماں دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی !

يَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ كُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَى النَّاسَ سُكٰرٰي وَمَا ہُمْ بِسُكٰرٰي وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللہِ شَدِيْدٌ(الحج:2)

”اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔ “
قیامت کی ہولناکی بچہ کو بوڑھا کردے گی !

فَكَيْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيْبَۨا(المزمل:17)

”اب اگر تم نے (اس رسول کا) انکار کردیا تو اس دن (کی سختی) سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا بنادے گا۔ “
اصل دوستی کا فائدہ متقین ہی کو ہے!

اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍؚ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ(الزخرف:67)

”اس دن پرہیز گاروںکے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔ “
کمزور طاقتورکو اور طاقتورکمزور کو ملامت کریں گے!
ترجمہ:”کاش آپ ان ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرےکی بات کا جواب دیں گے۔جو لوگ (دنیا میں) کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوںسے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔اور جو بڑا بنتے تھے وہ کمزور لوگوں کو جواب دیں گے کہ جب تمہارے پاس ہدایت آگئی تھی تو کیا ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ اور جو کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوں سے کہیں گے بات یوں نہیں بلکہ یہ تمہاری شب و روز کی چالیں تھیں جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا انکار کریں اور اس کے شریک بنائیں پھر جب وہ عذاب دیکھیں گے تو اپنی ندامت کو چھپائیں گے اور ہم ان کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔انھیں ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے وہ کام کیا کرتے تھے۔“(سبا:31-33 )
چھوٹوں کا اپنے بڑوں کو ملامت کرنا !

وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا(الاحزاب:67-68)

”نیز کہیں گےہمارے پروردگار! ہم نے تو اپنے سرداروں اور بڑوں کا حکم مانا تھا تو انہوں نے ہمیں راہ (حق) سے بہکا دیا۔ (لہٰذا) اے پروردگار! ان پر دگنا عذاب کر اور ان پر سخت لعنت کر “
بعد والوں کی بد دعا اپنے پیشروںکے متعلق !

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْہُ لَنَا فَبِئْسَ الْقَرَارُقَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا ھٰذَا فَزِدْہُ عَذَابًا ضِعْفًا فِي النَّارِ(ص:60-61)

”(آنے والے پہلوں کو) کہیں گے۔نہیں بلکہ تمہارے لئے ہی خوش آمدید نہ ہو۔تم ہی ہمارے لیے اس (عذاب) کے پیش رو بنے جو اتنی بری قرار گاہ ہے۔ پھر وہ بد دعا کریں گےاے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے جو اس عذاب کا پیش رو بنا اسے دوزخ میں دگنا عذاب دے۔ “
مریدجھوٹےپیرسے اور جھوٹاپیر مرید سے قیامت کے دن بیزاری کا اعلان !

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الْاَسْـبَابُ وَقَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّۃً فَنَتَبَرَّاَ مِنْہُمْ كَـمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا كَذٰلِكَ يُرِيْہِمُ اللہُ اَعْمَالَہُمْ حَسَرٰتٍ عَلَيْہِمْ وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِ (البقرہ:166-167)

”جب پیشوا قسم کے لوگ جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی۔عذاب کو دیکھیں گے تو اپنے پیروؤں (مریدوں) سے بےزار ہو جائیں گے اور ان کے باہمی تعلقات منقطع ہو جائیں گے۔ اور جو لوگ پیروی کرتے رہے (مرید) وہ بول اٹھیں گے! کاش ہمیں (دنیا میں جانے کا) پھر ایک موقع ملے توہم بھی ان سے ایسے ہی بےزار ہو جائیں جیسے یہ آج ہم سے بیزار ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اعمال اس طرح دکھلائے گا کہ وہ ان پر حسرتوں کا مرقع بن جائیں گے۔اور وہ دوزخ سے (کسی قیمت پر بھی) نکل نہ سکیں گے۔ “
اپنے آپ کو بچانے کے عوض میں سب عزیزواقارب کو جہنم میں ڈالنے کی پکار!

وَلَا يَسْـَٔــلُ حَمِيْمٌ حَمِـيْمًا۝۱۰ۚۖحَمِـيْمًايُّبَصَّرُوْنَہُمْ۝۰ۭ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِيْ مِنْ عَذَابِ يَوْمِىِٕذ ٍؚبِبَنِيْہِ۝۱۱ۙوَصَاحِبَتِہٖ وَاَخِيْہِ۝۱۲ۙ وَ فَصِيْلَتِہِ الَّتِيْ تُـــــْٔـوِيْہِ۝۱۳ۙوَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا۝۰ۙ ثُمَّ يُنْجِيْہِ۝۱۴ۙ

”اس دن کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا۔حالانکہ وہ ایک دوسرےکو دکھائے جائیں گے۔مجرم یہ چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو فدیہ کے طور پر دے دے۔ اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو۔اور اپنے ان کنبہ والوں کو جو اسے پناہ دیا کرتے تھے۔ اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ دے کر اپنے آپ کو بچا لے۔ “
قیامت کے دن والدین اپنی اولاد سے بھاگیں گے!

يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْہِ۝۳۴ۙوَاُمِّہٖ وَاَبِيْہِ۝۳۵ۙ وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِيْہِ۝۳۶ۭلِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْہِ

”تو آدمی اس دن اپنے بھائی سے بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے (بھی بھاگے گا)۔ اس دن ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بےپروا بنادے گی۔ “ (عبس:34-37)
قیامت کے دن بیٹا باپ کے کام نہیں آئے گا!

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّايَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِہٖ وَلَا مَوْلُوْدٌ ہُوَجَازٍ عَنْ وَّالِدِہٖ شَـيْـــــًٔااِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَاوَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللہِ الْغَرُوْرُ (لقمان:33)

”اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو اور اس دن سے ڈر جاؤ جب نہ تو کوئی باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے۔اللہ کا وعدہ یقینا سچا ہے لہٰذا یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے اور نہ کوئی دھوکے بازتمہیں اللہ کے بارے دھوکہ میں ڈالے۔ “
قیامت کےدن انسان کی زبان پرمہر لگا دی جائی گی !

اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاہِہِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (یس:65)

”آج ہم ان کے منہ بند کردیں گے اور ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور پاؤں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ “
قیامت کے دن انسان کے اعضاء کی اس کے خلاف گواہی !

حَتّٰٓي اِذَا مَا جَاۗءُوْہَا شَہِدَ عَلَيْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ

”یہاں تک کہ جب دوزخ کے قریب آپہنچیں گے تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف وہی گواہی دیں گے جو عمل وہ کیا کرتے تھے۔ “(حٰم السجدہ:20)
قیامت کے دن انسان کا اپنے ہاتھوں کو چبانا!

وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْہِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا(الفرقان:27)

”اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا: کاش! میں نے رسول کے ساتھ ہی اپنی روشن اختیار کی ہوتی۔ “
قیامت کے دن اپنی بد بختی پر رونا!

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَاۗلِّيْنَ(المؤمنون:106)

”وہ کہیں گےہمارے پروردگار! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی تھی اور ہم واقعی گمراہ لوگ تھے۔ “
قیامت کے دن اپنے بد اعمال پر مہلت طلب کرنا!

وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِہِمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ(السجدہ:12)

”کاش آپ دیکھیں جب مجرم اپنے پروردگار کے حضور سرجھکائے کھڑے ہوں گے (اور کہیں گے)اے ہمارے رب! ہم نے (سب کچھ) دیکھ لیا اور سن لیالہٰذا ہمیں واپس بھیج دے کہ ہم اچھے عمل کریں اب ہمیں یقین آگیا ہے۔ “
قیامت کے دن اپنے اعمال نامہ کو دیکھا کر افسوس کرنا!

وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْہِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَۃً وَّلَا كَبِيْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰىہَا وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاوَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (الکھف:49)

”اور نامہ اعمال (ہر ایک کے سامنے) رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اعمال نامہ کے مندرجات سے ڈر رہے ہیں اور کہیں گےہائے ہماری بدبختی اس کتاب نے نہ تو کوئی چھوٹی بات چھوڑی ہے اور نہ بڑی، سب کچھ ہی ریکارڈ کر لیا ہے۔اور جو کام وہ کرتے رہے سب اس میں موجود پائیں گے اور آپ کا پروردگار کسی پر (ذرہ بھر بھی) ظلم نہیں کرے گا۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے