حمدو ثنا رب ذوالجلال کے لیے جس نے رشد وہدایت کے لیے امام کائنات جناب رسول اللہ ﷺ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا درود سلام داعی الی اللہ محمد ﷺ پر جنہوں نے پتھر کھا کر لہو لہان ہونا گوارہ کرلیا دانت مبارک شہید کرا لیے لیکن آپ ﷺ کی زبان اقدس سے اللہ کی وحدانیت کا درس جاری رہا اللہ رحمت کا مینہ برسائے صحابہ کرام پر جو آپ کی خدمت میں رہ کر فیض حاصل کرتے رہے اور حکم ملنے پر لبیک کہتے ہوئے جان وما ل نچھاور کرتےرہے اور سلف صالحین کی قبروںپر جنہوںنے وحی الی اللہ کا علم سینہ بہ سینہ نئی نسل تک پہنچایا
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تمام اذکار سے افضل ذکر لاالہ الا اللہ ہے ‘‘
الٰہ کون ہے ؟خوف اور طمع یا محبت کی وجہ سے جس کی عبادت کی جائے وہ الٰہ ہے ۔
عبادت کیا ہے ؟زبان ،جان یا مال سے سر انجام دینے والا عاجزی کا ہر وہ عمل عبادت ہے ۔
جب اس کے دل میں یقین ہو کہ وہ جس کے سامنے عاجزی کا اظہا ر کر رہا ہے وہ اسے دیکھ رہا ہے اس کی پکار سن رہا ہے وہ نفع و نقصان دینے پر قادر ہے۔
فرمان نبوی ﷺ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوںپر ہے اگر کوئی شخص قولی ومالی اور بدنی بندگی کا اظہارکرتے ہوئے دل میں یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ،اس کی پکار سن رہا ہے وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے تو اس کا ذکر وفکر ،قیام و رکوع سجدہ و تشہد طواف اور خیرات عقیدہ توحید کے عین مطابق ہے۔
خدانخواستہ اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی نبی ،ولی امام اور شجر و حجر ،قبرو صنم تبوت و ذوالجناح کے سامنے تعظیما قیام و رکوع ، سجدہ و طواف نذر و نیاز اور خیرات وگیرہ عاجزی وانکساری کا عمل اس نیت سے کررہا ہو کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے جو کہہ رہا ہوں وہ سن رہا ہے جو حاجت پیش کر رہا ہوں وہ اس کو حل کرنے پر قادر ہے تو یہ صریحاً شرک ہے ۔
اطلاع ملنے پر زندہ انسانوں کا مصیبت و پریشانی کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرنا اخوت و محبت خدمت انسانیت ہے لیکن لیکن فوت شدہ بزرگوں کو مدد کے لیے پکارنا عقیدہ توحید کے منافی عمل ہے ۔
اللہ تعالی نے مصطفی ﷺ کو فرمایا کہ اعلان کردو

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ لَا شَرِيْكَ لَهٗ (الانعام162۔163)

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہےجوسارےجہان کا مالک ہےاس کا کوئی شریک نہیں۔
سید الکونین ﷺ نے معراج کے موقع پر رب کے دربار میں عاجزی کا تحفہ پیش کیا

التَّحِيَّاتُ لِلهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ

اے اللہ قولی و بدنی اور مالی عبادتیں صرف تیرے لیے ہیں
کائنات کے امام محمد ﷺ نے رب کے دربار میں قولی ومالی وبدنی عبادت کا تحفہ پیش کیا ہمارے لیے بہترین
نمونہ کونسا ہے یہ قرآن کریم وضاحت کرتا ہے ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

’’یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ ہے۔‘‘
(الاحزاب 21)
خاتم النبیین ﷺ کے پیرو کا روں کو قطعاً زیب نہیں دیتا کہ رب کے ساتھ قولی و مالی اور بدنی عبادت میں کسی اور کو شریک ٹھہرائیں۔
اگر آپ روز محشر شفاعت کے مستحق بننا چاہتے ہیں تو تمام معبدوں کی نجاست کو دور کرکے ایک اللہ کے معبود برحق ہونے کا عقیدہ دل میں بسا لیں کیو نکہ روز محشر شفاعت نبوی ﷺ تو حید و رسالت کی گواہی سے مشروط ہے ۔
اعتراض:اہل قبر کو پکارنے سے زائرین کی مشکلیں حل نہ ہوتی تو مزاروں پر لوگوں کا ھجوم ہر گز نہ ہوتا ۔
ازالہ:الہ کون ہے؟ روئے کائنات میں اس بارے اختلاف ہے۔ نصاری عقیدۂ تثلیث کے قائل ہیں یہودی سیدنا عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں ،بد ھ مت اپنے مہماتما کو اور ہندو اپنے لا تعداد دیوتاؤں کو الہ جان کر پوجتے ہیں وہ تنگی اور مشکل کے دوران ان سے مدد طلب کرتے ہیں بے اولاد میٹھا میوہ مانگتے ہیں بیمار صحت کی بھیک مانگتے ہیں ،تاجر کاروبار میں نفع طلب کرتے ہیں مرادیں پوری ہونے پر معبودوںکے قدموںمیں نذرانہ کا ڈھیڑ لگا دیتے ہیں اگر تنگی مصیبت اور مشکل کے وقت غیر اللہ کو پکارنے سے مرا د وں کا پورا ہوجانا حقانیت کی دلیل ہے تو کیا غیر مسلموں کا الہوں کے بارے میں عقیدہ درست ہے ؟
سورہ فاتحہ نماز کا اہم رکن ہے ہم بار بار اقرار کرتے ہیں  جب ہم سجدے میں جاکر اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو مدد طلب کرنے کے لیے اہل قبر کو پکارنااقرار باللسان کے منافی عمل کیوں نہیں ؟
نماز قائم کرنا عبادت ہے تو دعا مانگنا عبادت کا مغز ہے جب قبرستان میں نماز نہیں ہوتی تو مشکل وقت میں قبر یا مزار پر جاکر اپنے لیے مدد طلب کرنا اور دعا مانگنا شرک کیوں نہیں ؟
اعتراض: مرشد کامل محمدﷺکے تبرکات سے صحابہ کرام شفاء پاتےرہے تو پھر اولیا ء کے تبرکات سے شفا حاصل کرنا شرک کیوں ؟
ازالہ:ساقئ کو ثرمحمد ﷺ کی مبارک ہستی جن کا ہاتھ آٹا کو لگے تو اسے آگ نہ چھوئے رومال سے ہاتھ مس ہوجائے تو آگ میل کو جلادے مگر کپڑا نہ جلائے ،آپ بکری پر ہاتھ پھیریں تو وہ دودھ دینے لگے ۔آپ ﷺ دودھ کے پیالہ سے منہ مبارک لگائیں تو اس دودھ کو 71اصحاب صفہ کے طالب علم پی کر بھوک مٹالیں لیکن دودھ ختم نہ ہو آپ ﷺ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر سالن میں لعاب دہن ملائیں غزوہ خندق میں بھوک سے نڈھال 1400صحابہ کرام اللہ کے فضل وکرم سے کھانا تناول فرمائیں لیکن کھانا ختم نہ ہو ، آپ ﷺ دست مبارک سے کھجوروں پر چادر پھیلادیں ۔
سبحان اللہ !بے پناہ قرضہ کی ادائیگی ختم ہوگئی مگر کھجور کے ڈھیر میں کمی نہ ہوئی۔صحابہ کرام اس مبارک ہستی محمد ﷺ کے موئے مبارک اور جبہ مبارک کو پانی میں بھگوا کر مریض کو پلاتے تو وہ شفا ء حاصل کر لیتے یقینا ً درست ہے اللہ جو چاہے یقیناً ہو جاتا ہے نہ چاہے تو ہر گز نہیں ہو سکتا مرشد کامل محمد ﷺ کے جسم اطہر سے مس کرنے والے تبرکات کی افادیت کا انکار نہیں لیکن پند رھویں صدی ھجری کے علما ء و پیروں کے زندہ اجسام اور قبروں سے مس ہونے والی اشیا ء کے تبرکات کا جواز تلاش کرنا قطعاً درست نہیں
چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک نسبت
مزار پر چادر یا بڑے پتھر کو بھگو کر شفاکے لیے پانی پینا بہتر ہے یا اسما ء الحسنی کے نبی کریم ﷺ پر اول آخر درود پڑھ کر مقصد کے حصول یا شفا کے لیے رب ذوالجلال سے دعا طلب کرنا بہتر ہے ؟
آپ ذرا انصاف سے فیصلہ کریں ۔
اعتراض :سیدناموسی علیہ السلام نے اپنی وفات کے ڈھائی ہزار برس بعد بھی امت محمد ﷺ کی یہ مدد فرمائی کہ شب معراج میں پچاس نمازوں کے بجائے پانچ کرادیں تو ثابت ہو فوت شدگان سے مدد مانگنا شرک نہیں ۔
ازالہ :معراج کی رات نبی کریم ﷺ کی سیدنا موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی انکے پوچھنے پر فرمایا کہ پچاس نمازوں کا تحفہ ملا یہ سن کر سیدنا موسی علیہ السلام نے مشورہ دیا کہ آپ ﷺ کی امت یہ بوجھ نہیں اٹھا سکے گی تو نبی کریم ﷺ نے یکے بعد دیگرے رب سے التجا کی حتی کے پانچ مقرر ہوئیں ۔
سیدنا موسی علیہ السلام نے تو مشورہ دیا ۔رعایت لی تو کائنات کے امام محمد ﷺ نے جنہوں نے بار بار درخواست کر کے پچاس کے بجائے پانچ کرالیں ۔
معراج نبی کریم ﷺ کا معجزہ ہے جہاں دیگر انبیاء کے علاوہ سیدنا موسی علیہ السلام سے ملاقات ہوئی جناب والا ! آپ ذہن میں رکھیں یہ گفتگو سیدنا موسی علیہ السلام کی قبر پر نہیں ہوئی ۔
اعتراض : سلام زندوں کو کیا جاتا ہے مردوں کو نہیں اگر فوت شدگان نہیں سنتے تو نبی کریم ﷺ نے اہل قبر کو سلام کرنے کا حکم کیوں دیا؟
ازالہ : قرآن کرم میں اللہ کا رشاد ہے :

وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَــيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا (النساء86)

اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو ۔
مشا ہدہ کی بات ہے کہ زندہ کو سلام کیا جاتا ہے تو وہ اس کا معقول جواب دیتے ہیں جو ہم سن لیتے ہیں آپ کے بقول مردے سن سکتے ہیں تو سلام کاجواب کیوں نہیں دیتے ؟کیا یہ قرآنی حکم کے خلاف ورزی نہیں ؟ دراصل زندوں پر سلام کا جواب دینا ضروری ہے کہ وہ اپنے بھائی کی سلامتی کے لیے دعا کریں کیونکہ مردے نہیں سن سکتے اس لیےاان پر سلام کا جواب دینا فرض نہیں ۔
نبی کرم ﷺ نے نیا چاند دیکھنے کی دعا پڑھنے کا حکم دیا ہے :

اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ (مشکاۃ المصابیح باب الدعوات)

’’اے اللہ !یہ چاند نکال ہم پر ساتھ امن اور سلامتی کے (اے چاند )میرااور تیرا رب اللہ ہی ہے ۔‘‘
اس دعا کے پہلے حصے میں اللہ کے حضور دعا کی درخواست ہے جبکہ دوسرا حصہ ربی و ربک اللہ کس کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے یقینا چاند کو ۔اگر کسی کو مخاطب کرکے بات کرنے کا یہ ہو کہ وہ سن سکتا ہے تو چاند نے اثبات میں کیوں جواب نہیں دیا ؟اگرہے تو نشاندہی کرو ؟سیدنا عمر ر ضی اللہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور مخاطب کر کے کہا ۔

وَعَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: رَأَيْت عمر يقبل الْحجر وَيَقُول: وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقبل مَا قبلتك

سیدنا انس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو چومتے اور(مخاطب کرکے) کہتے مجھے معلوم ہے کہ تو پتھر ہے تو نفع ونقصان نہیں پہنچا سکتا اگر میں نے رسول اللہ ﷺ  کو دیکھانہ ہوتا کہ آپ ﷺتیرا بوسہ لیا کرتے تھے تو میں تیرا بوسہ نہ لیتا۔(مشکوۃ : 2589)
چنانچہ سیدنا عمر فاروق ؄نے حجر اسود کو نفع ونقصان کا مالک سمجھ کر بوسہ نہیں لیا بلکہ مرشید کامل محمد ﷺ کی سنت سمجھ کر بوسہ لیا جس حجر اسود کو نبی کریم ﷺ نے بوسہ دیا وہ نفع ونقصان ، صحت وبیماری کی صلاحیت سے محروم ہے تو تم قبر پر پڑے پتھروں کو اٹھا کر بوسہ کیوں لیتے ہو پھر ان کو جسم کے درد والے حصوں پر پھیر کر صحت کی امید کیوں رکھتے ہو ؟ یہ کس کی سنت ہے؟ کسی کو مخاطب کرکے چند جملے کہنے سے مراد وہ سن سکتا ہے تو پتھر ، چاند نے سن کر کونسا جواب دیا ، حدیث سے دکھاؤ ۔
غور طلب پہلو ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم اُٹھائے کہ میں فلاں شخص سے کلام نہیں کروں گا پھر وہ شخص مرجائے اور وہ اس کی میت کو مخاطب کرکے کوئی بات کہے تو فقہ حنفی کی رو سے اس پر کفارہ قسم ہوگا یا نہیں ۔ چنانچہ آپ کو مفتی صاحب سے یہ جواب ملے

اِنَّ المَیِّتَ لَا یَسمَعُ

’’بے شک مردہ نہیں سن سکتا۔‘‘
تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ قانون الٰہی ہے کہ مردے نہیں سن سکتے البتہ معجزہ وکرامات کا ظہور الگ معاملہ ہے۔
قبرستان کی مسنون دعا سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ مردے سن سکتے ہیں ۔
جناب! آپ اس دعا کے معنی پر غور کرو کہ اس دعا کو پڑھنے والا مردوں کی سلامتی وعافیت کی دعا کرتا ہے لیکن اپنے لیے نہیں ۔
اگر آپ اہل قبر سے مشکل کشائی کا عقیدہ اخذ کرنے پر بضد ہیں تو نبی کریم ﷺ نے روز مرہ زندگی کے ہر موقع کی دعا سکھائی ہے اسی طرح میت پر جنازہ اور قبر پر پڑھنے کے لیے کئی مسنون دعائیں احادیث میں موجود ہیں۔
آپ کسی ایک مسنون دعا سے ثابت کریں کہ فوت شدہ کی قبر پر اس کے وسیلہ سے اپنے لیے اولاد،رزق اور صحت کی دعا مانگنا جائز ہو ؟ ۔
شبہ : اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورت نور میں فرمایا :

وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا ۙ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (النور:21)

’’ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے اور اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
اس آیت سے ثابت ہوا کہ تزکیہ کرنا اللہ عزوجل کا کام ہے اب دوسری جانب چلتے ہیں ۔

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہِ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ

’’بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے ۔‘‘ (آل عمران:164)
اللہ نے یزکی کو اپنی جانب منسوب کیا دوسری جانب نبی کریم ﷺ کے لیے بھی یزکی فرمایا ، وضاحت کریں۔
ازالہ : اللہ نے انسان کو سننے اور دیکھنے کی صلاحیت عطا کی ہے لیکن اللہ کا صفاتی نام سمیع وبصیر بھی ہے جس کی سماعت وبصارت کی کوئی حد نہیں وہ سمندر کی تہہ میں اور آسمان کی بلندی پر حرکات وسکنات کو دیکھ سکتاہے اور ان کی پکارکو سن سکتاہے لیکن انسان کی سماعت وبصارت محدود ہے۔ جب پردہ حائل ہوجائے یا نیند غالب ہوجائے تو اس کے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے۔
وَلی کے معنی مددگار اور دوست کے ہیں ، مفسرین نے سیاق وسباق کی روشنی میں کہیں مددگار اور کسی موقع پر دوست کے معنی کیے ہیں۔
تزکیہ کے معنی بڑھنا ،پاک صاف کرنا ،اصلاح کرنا اور نیک بنانا کے ہیں جب اللہ کے ساتھ کا لفظ استعمال ہو تا ہے تو اس کے معنی پاک صاف کرنا ہونگے ۔
رہبر انسانیت محمد ﷺ امت کے خیرخواہ اور ہمدرد ہیں جنہوں نے کوہ صفا پر چڑھ کر کبھی مکہ کی گلیوں میں گھو م پھر کر قریش مکہ کو دعوت دی آپ ﷺ نے عکاظ کے ہجوم میں جا کر حق کا پیغام پہنچایا تو کبھی پیدل چل کر طائف تشریف لے گئے پتھروں کی فائرنگ سے لہولہان ہوگئے قربان جائیں رحمت کی برکھا پر آپ ﷺ ان کے رشد وہدایت کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے رہے۔ محسن انسانیت ﷺ کی دلی تمنا تھی کہ روئے کائنات کے تمام انسان شرک کی غلاظت سے پاک صاف ہوجائیں ۔ چند قریش مکہ کے علاوہ بلال حبشی،صہیب رومی اور سلمان فارسی تزکیہ کی نعمت سے سرفراز ہوئے چونکہ تزکیہ کرنے(پاک صاف ہونے) کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ رحمت کائنات ﷺ کی پر خلوص دعوت کے باوجود ابو جہل،عتبہ،ابو لہب وغیرہ تزکیہ کی نعمت سے محروم رہے کیونکہ

وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ

’’لیکن اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔‘‘
داعی الی اللہ (محمد ﷺ) کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے جن شرفاء نے لبیک کہی مزکی کامل ﷺ نے ان کا اس طرح تزکیۂ نفس کیا کہ بلال حبشی رضی اللہ عنہ تپتے کوئلوں پر احد احد پکارتے رہے، کم سن معاذ جہاد میں شرکت کا اہل ثابت کرنے کے لیے ایڑیوں کے بل کھڑے ہوگئے۔ سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ نے سہاگ رات کی صبح زبان اقدس سے جہاد کی پکار سن کر لبیک کہا اور لڑتے ہوئے شہید ہوگئے جن کو فرشتوں نے غسل جنابت دیا ، سیدنا عثمان نے نہایت مہنگے داموں پانی کا کنواں خرید کرفی سبیل اللہ وقف کر دیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گھر میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت چھوڑ کر سب کچھ آپ ﷺ کے قدموں میں پیش کر دیا۔ سیدنا حیدرکرار رضی اللہ عنہ نے مسلسل تین دن پانی سے روزہ افطار کیا لیکن سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کا نام سن کر قیصر وکسریٰ کے رنگ فق ہوجاتے تھے وہ جس وقت بیت المقدس پہنچے ان کے لباس پر سترہ پیوند تھے، غلام اونٹ پر سوار تھا ۔ مراد رسول نے جہاد ہاتھ میں تھام کر مزکی کامل ﷺ کی انکساری اور مساوات کا عملی مظاہرہ کیا۔ مرشد کامل ﷺ  نے حلقہ اسلام میں داخل ہونے والوں کے نفس کا اس طرح تزکیہ کیا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ( ان پر انگلی اٹھانے والے بد نصیب بالواسطہ مرشد کامل ﷺ کے تزکیہ پر الزام تراشی کرتے ہیں) البتہ کفر سے اسلام میں تزکیہ(پاک صاف) کی نعمت سرفراز کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔

وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَاۗءُ (النور:21)

’’اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے