كتاب كا نام : سلف وصالحین کے سنہرے اقوال

مؤلف : محمد سلیمان جمالی

صفحات : 88

ناشر : مکتبہ بیت السلام ریاض ، لاہور

سلف صالحین سے مراد وہ پیش رو طبقہ ہے جو اچھے اور شرعی منہج و کردار کے ساتھ رخصت ہو چکا ہے ۔ ان کے حق میں دعائے خیر قرآنی حکم ہے :

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

ان كے منہجی طریق کو سینے سے لگانا حکم الٰہی ہے فرمایا گیا :

وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ

اور یہ وہ محمود نسبت ہے کہ جس کا اظہار سیدنا یوسف علیہ السلام نے بھی کیا ، فرمایا :

وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ

ياد رہے کہ لفظ سلف رسول رحمت ﷺکی کوثر و تسنیم میں بھیگی ہوئی زبان مبارک سے ثابت ہے ، اور یہ وہ نطق ہے جو سند وحی الٰہی سے معمور ہے ۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى

آپ ﷺنے اپنی لخت جگر سیدة نساء اھل الجنة سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا :

“نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ” (صحیح مسلم )

جبکہ نبی مکرم ﷺنے اپنی تعلیم و تزکیہ کی 23 سالہ نبوی زندگی میں متعدد بار بعد میں آنے والوں کو اپنے سلف سے جڑے رہنے کا درس ارشاد فرمایا ، کبھی فرمایا :

فأرجعوا إلي الأمر الأول .

اور کبھی کہا :

علیکم بالامر العتیق

اور پھر مجسم سلف کا شرف پانے والوں نے بھی یہی سکھایا کہ :

اتبعوا ولا تبتدعوا

اور یہ بھی فرمایا کہ :

من كان مستنا فليستن بمن قد مات

ان ساری باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ نسبت سلف ہی ضروری ہے ، جو کہ فلاح اور کامیابی کی ضامن ہے ۔

یہی پیغام تھا ام الکتاب کا کہ :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ

اور اسی کی آبیاری کی شاعر مشرق نے کہ :

پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

یقینا تعبیر و تفہیم دین میں اقوال و اعمال سلف مشعل راہ اور زاد راہ کی مثل ہیں ۔ حتی کہ سلف و خلف کے مابین کسی نظریہ میں یا عقیدے اور عمل من “انقطاع” پیدا ہو جائے تو وہ عقیدہ اور نظریہ قابل حجت نہیں رہتا جب تک کہ خلف اپنے سلف سے سندا اسے ثابت نہ کردیں اور یہی سلفی منہج کا میزہ ہے ۔ وللہ الحمد والمنة

شیخ محمد سلیمان جمالی حفظہ اللہ معروف قلمکار اور عالم دین ہیں تحریری ذوق و جمال آپ کو من جانب اللہ حاصل ہے ۔ متعدد کتب لکھ چکے ہیں ، اللہ تعالی مزید ہمت و طاقت دے کہ وہ یہ علمی اور اصلاحی کام جاری رکھیں ۔ زیر تبصرہ کتاب “سلف وصالحین کے سنہرے اقوال” تقریبا : 210 سلف و صالحین کے اقوال و کردار کی ترجمانی ہے ، شاید کچھ نام تکرار بھی رکھتے ہوں جس میں حرج نہیں ۔ ماشاء اللہ

یہ سنہرے اقوال و افعال ہمارے لیے نشان ہدایت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ایک ہی جگہ پر اتنے اقوال کو جمع کر دینا مولانا جمالی کے وسیع مطالعے کی دلیل ہے اگرچہ انہیں کتب کے حوالے سے تنگی و تشنگی محسوس ہوتی رہتی ہے ۔ پھر بھی ان کی یہ محنت شاہد ہے کہ وه وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔ یہ کتاب سلفی احباب کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے لیے بالعموم نور ہدایت ہے ۔ لہذا ہر طالب علم ، علماء کرام اور دیگر علم دوست اسے ضرور حاصل کریں ، اپنے مطالعہ میں رکھیں احباب کو ہدیہ کریں ۔ کتاب کا سر ورق جاذب نظر ہے ، کمپیوٹرائزد کمپوزنگ و کتابت مکتبہ بیت السلام کا تمیز ہے ۔ اللہ تعالی اس کتاب کو مؤلف محترم اور ناشر حضرات کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے اور قارئین کے لیے باعث منفعت بنائے ۔ آمین .

أحب الصالحين ولست منهم
لعل الله يرزقني صلاحا

اللہ ہمیں اپنے سلف سے وابستہ رہنے کی توفیق دے ۔

۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے