Categories: فروری 2021

زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ آہ!

زندگی جن کے تصور سے  جلا پاتی تھی

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لیکر

جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کے عظیم مبلغ اسلام اور مخلص ساتھی مولانا محمد اسحٰق شاہد دہلوی ہم سے بچھڑ گئے

۔انا لله وإنا إليه راجعون

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص تھا جو دینی گلستاں کو ویراں کر گیا

جگہ جی لگانے کی یہ دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

انسانی زندگی بڑی دلفریب گزر گاہوں سے گزر کر اس عارضی دنیا میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا کرتی ہے مولانا مفتی محدث العصر، مفسّر قرآن مولانا عبد الستار محدث دہلوی رحمتہ اللہ کے داماد ، مولانا حافظ عبد الرحمٰن سلفی امیر جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کے بہنوئی اور مرحوم محمد ابراہیم کے صاحبزادے مولانا محمد اسحٰق شاہد دہلوی بھی اپنے ہم وطنوں، علماء کرام ، اساتذہ کرام ، طلباء کرام ، اپنے فیملی ممبرز اور اپنی سلیقہ شعار باوفا قرآن مجید کی حافظہ بیوی، مولانا عبد الستار محدث دہلوی رحمتہ اللہ کی صاحبزادی کو بڑے دھیمے سے زیر لب تبسم کر کے یہ کہہ گئے کہ میں اب دنیا کی ساری رونقوں کو ، رعنائیوں کو ، گھر بار کو، اپنے دولت کدہ کو، اپنے دینی گلستاں جامعہ ستاریہ الاسلامیہ (جسکی آبیاری مولانا حافظ عبد الغفار سلفی  نے کی تھی )کو خصوصاً ننھے منھے نفوسِ قدسیہ کو اور اپنے لختِ جگر ، جگر گوشوں کو سلام آخری کر کے جارہا ہوں اور اب میں (عالم برزخ میں ) ابدی نیند سو جاؤں گا۔ بس اب مجھے رات کے آخری پہر تہجد کی نماز میں اور پنج وقتہ نمازوں میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاکر بارگاہِ ایذدی میں  میرے حق میں دعائے خیر، دعائے مغفرت کرتے رہنا کیونکہ اب تم پر میرا یہ حق تمہارے قلوب و اذھان پر بآواز بلند ہمیشہ دستک دیتا رہے گا ۔ کیونکہ مالک ِ ارض و سماں کی دنیا اس جہان فانی سے بہت اچھی ہے اس کے دامان رحمت کی رفعتیں ، برکتیں اور وسعتیں بے کنار ہیں جنہیں میں یا میری لکھی گئی تحریر احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال نے فارسی کے اس شعر میں کیا تصویر کھینچی ہے۔

نشان مرد مومن با تو گویم

چوں مرگ آمد تبسم بر لب اوست

میں قارئین کرام کو بندہ مومن کی اک نشانی بتاتا ہوں جب رب تعالیٰ اپنے بندے کو موت سے ہمکنار فرماتے ہیں تو اس کے لبوں پر ہلکی سی تبسم کی روشنی ہوتی ہے یہ بات بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ موت کی آرزو کرنا شرعاً منع ہے لیکن موت کی تیاری کرنا ہر ذی روح کے لئے بہت ہی ضروری ہے کیونکہ موت تو انسان کی و ہ سواری ہے جو عمر بھر کی زندگی کے صحرا میں بھٹکنے والے مسافر کو اپنے مسکن کی جانب  واپس لے جایا کرتی ہے چونکہ اب اس بندہ مومن نے واپس لوٹنا نہیں ہوتابلکہ انسان کو اس کی ملاقات کی طوالت روزِ محشر کے بپا ہونے تک لیجاتی ہے۔

شہر اجڑے تو کیا ہے کشادہ زمین خدا

اک نیا گھر بنائیں گے ہم صبر کر، صبر کر

حال دل ہم بھی سناتے عابد لیکن

جب وہ رخصت ہوا تب بہت یاد آیا

ایڈیٹر

Share
Published by
ایڈیٹر
Tags: salafulma

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago