Categories: مئی 2021

ماہ شوال کے چھ روزے

اللہ رب العزت کي بے شمار نعمتوں ميں سے ايک نعمت رمضان المبارک بھي ہے اسي ليے نبي کريمﷺ اس ماہ رمضان کا شدت سے انتظار فرمايا کرتے تھے اس ليے کہ يہ مہينہ ہميں اللہ کے بہت قريب کر ديتا ہے اس مہينہ کي عبادات جيسے تلاوت قرآن، صدقہ وخيرات، صبر و شکر، بھائي چارگي اور خير خواہي وغيرہ مسلمان بہت اہتمام سے کرتے ہيں اور پھر روزہ سب سے بڑھ کر اس مہينہ کي عبادت ہے جس کے بارے ميں نبي کريمﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ رب العزت فرماتے ہيں:

كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ، وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ، مَرَّتَيْنِ

’’ابن آدم کا ہر عمل اس کے ليے ہے سوائے روزے کے۔ روزہ ميرے ليے ہے اور ميں ہي اس کے ليے جزا دوں گا اور روزہ (آگ سے) ڈھال ہے لہذا جس روز تم ميں سے کسي کا روزہ ہو اس روز وہ فحش گوئي نہ کرے اور نہ ہي بيہودہ کلام کرے اور اگر کوئي دوسرا گالي دے يا لڑائي کرے تو روزہ دار کو (صرف اتنا کہنا چاہيے) کہ ميں روزہ سے ہوں۔‘‘   (مسند أحمد (13/ 126)

نيز ايک اور مقام پر نبي مکرمﷺ کا فرمان ہے :

فِي رَمَضَانَ تُفَتَّحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغَلَّقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَيُصَفَّدُ فِيهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ

’’جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول ديئے جاتے ہيں اور جہنم کے دروازے بند کر ديئے جاتے ہيں اور شياطين قيد کر ديئے جاتے ہيں۔‘‘ (مسند أحمد (31/ 91)

روزہ کے متعلق ايک مقام پر نبي اکرمﷺ کا ارشاد ہے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللهِ، بَعَّدَ اللهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا (صحيح البخاري (4/ 26)

سيدنا ابو سعيد الخدري رضي اللہ عنہ فرماتے ہيںکہ ميں نے نبي کريمﷺ سے سنا وہ فرماتے ہيں کہ جو شخص اللہ کي راہ ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے تو اللہ اس ايک دن کے بدلے ميں اس کے چہرے کو جہنم کي آگ سے ستر (70) سال دور کر ديتا ہے۔

رمضان المبارک کے فرضي روزوں کے علاوہ نفلي روزے بھي ہيں جس ميں سے شوال کے چھ روزے ہيں جن کے بارے ميں نبي کريمﷺ کا فرمان ہے:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ(صحيح مسلم (2/ 822)

يعني جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ (نفلي) روزے رکھے تو يہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کے مانند ہے۔

اس ليے کہ ايک نيکي کا اجر کم از کم دس گنا ہوتا ہے جو شخص پورے رمضان کے مہينے کے روزے ايمان اور احتساب کے ساتھ رکھتا ہے اسے (ان شاء اللہ) دس مہينے کے روزوں جتنا ثواب ملتا ہے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھي رکھ ليے جائيں تو وہ (ان شاء اللہ) دو مہينوں کے روزوں کا اجر پاتا ہے اور يوں گويا پورے سال کے روزوں کے اجر کا مستحق ہو جاتا ہے اور جس شخص کا يہ مستقل معمول ہو جائے تو وہ ايسا ہے جس نے پوري زندگي روزوں کے ساتھ گزاري وہ عند اللہ ہميشہ روزہ رکھنے والا شمارہ ہوگا۔ الغرض ان چھ روزوں کي بڑي اہميت ہے شوال کے چھ روزے متواتر (لگاتار) رکھ ليے جائيں يا ناغہ کر کے دونوں طريقوں سے جائز ہيں۔

اسي طرح اگر کسي کے فرضي روزے بيماري يا سفر يا کسي اور شرعي عذر کي وجہ سے رہ گئے ہوں تو ان کے ليے ضروري ہے کہ پہلے وہ فرضي روزوں کي قضا ديں شوال کے چھ نفلي روزے اس کے بعد رکھيں۔ جيسا کہ صحيح مسلم ميں بني اکرمﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ (صحيح مسلم ، باب استحباب صوم ستة ايام من شوال اتباع لرمضان، 1164)

جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔

اس حديث سے يہ واضح ہوتا ہے کہ شوال کے چھ روزے رمضان کے چھوڑے گئے فرضي روزوں کے بعد رکھے جائيں کيونکہ رمضان کے روزے فرض ہيں اور ان کي قضا لازمي ہے جبکہ شوال کے روزے نفل ہيں اور نفل پر قضا نہيں ہوتي۔

رسول اللہﷺ نے شوال کے روزوں کي فضيلت يوں بيان فرمائي:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ (المعجم الأوسط (8/ 275)

جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وه گناہوں سے ايسا پاک ہوگيا جيسا کہ اپني ماں کي پيٹ سے پيدا ہونے کے بعد تھا۔

ان احاديث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ شوال کے چھ روزوں کي بہت اہميت ہے اگر کوئي شخص رمضان کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے بھي رکھ لے تو اسے (ان شاء اللہ) سال بھر کے روزوں کا اجر مل جاتا ہے۔

اللہ تعاليٰ تمام مسلمانوں کو نيکياں کرنے کي توفيق عطا فرمائے۔ آمين

ایڈیٹر

Share
Published by
ایڈیٹر

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago