’’بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً‘‘ کے مصداق جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے ایک تبلیغی اور اصلاحی پروگرام کیلئے جو سلسلہ شروع کیاگیا ہے اس کیلئے میں جامعہ ابی بکر کی انتظامیہ کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے پسماندہ علاقوں کی طرف یہ سلسلہ شروع کیا جہاں تبلیغ کی اشد ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی محنتوں اور کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی جماعت کی صورت میں نو دسمبر بروز جمعرات سہ پہر ساڑھے بارہ بجے جامعہ سے نکلی ، یہ مختصر جماعت پانچ اشخاص پر مشتمل تھی جس میں ایک جامعہ کے ڈرائیور عبد الغفور بھائی اور باقی مشائخ عظام جن میں فضیلۃ الشیخ عباس فتح (شیخ الحدیث جامعہ ابی بکر)، فضیلۃ الشیخ محمدیونس ربانی ،شیخ محمد عثمان اور شیخ احسان الحق تھے ۔ اس پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے عین مغرب کے وقت جامع مسجد اقصیٰ لوھی پہنچے، جہاں پر مغرب کی نماز ادا کی اور درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوا جس میں فضیلۃ الشیخ محمد یونس ربانی صاحب نے توحید کی اہمیت اور فضیلت پر منجھے ہوئے اسلوب بیاں اور دلائل سے مزین سندھی زبان میں درس دیا جس سے سامعین بہت محظوظ ہوئے پھر عشاء کی نماز کے بعد عشائیہ کا وقفہ کیا گیا اور دوبارہ اس پروگرام کا آغاز کیاگیاجس میں فضیلۃ الشیخ محمد عثمان اور شیخ احسان الحق نے درس دیئے اور آخر میں امیر قافلہ فضیلۃ استاد عباس حفظہ اللہ ورعاہ نے بلوچی (جو اہل علاقہ کی مادری زبان ہے)میں درس دیااور دعائیہ کلمات کہے۔
اس کے بعد چائے پیش کی گئی جس کے ساتھ ساتھ سوالات کی نشست کا سلسلہ بھی جاری رہا حتی کہ رات کے تقریبا11 بج گئے، اس کے بعد پروگرام کا پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا۔
اور دوسرے سیشن کا آغاز اگلے روز 10دسمبر بروزجمعہ کو جمعۃ المبارک کی ادائیگی کیلئے ہر کسی کو الگ الگ مساجد میں پہنچناتھا جس میں شیخ عباس فتح اور شیخ یونس ربانی کو ٹکوباران (تقریباً لوھی سے 60سے70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے)کے علاقہ میں جاناتھاجو حدودِ سندھ میں شامل ہے جہاں شیخ یونس ربانی نے مسلک دیوبند کی مسجد میں جمعۃ المبارک پڑھایا اور شیخ عثمان نے لوھی کے مقامی علاقہ کی ایک مسجد میں جبکہ شیخ احسان الحق نے مسجد اقصیٰ کے قرب وجوار کی جامع مسجد بلال (مسلک دیوبند)میں سندھی زبان میں جمعۃ المبارک کا خطبہ پڑھایا ۔بعدازاں شیخ احسان الحق اور شیخ محمد عثمان کو وہاں کے مقامی حضرات جس میں محترم عبد الرزاق اور یاسر بھائی نے موٹر سائیکل پر دریجی شہر جو ضلع لسبیلہ کی تحصیل ہےوہاں چھوڑا جہاں انہوں نے شیخ عباس فتح اور شیخ محمد یونس ربانی کا انتظار کیا تقریباً ایک گھنٹے بعد مشائخ وہاں پہنچے،عصر کی نماز ادا کی جس کے بعد مقامی حضرات سے اجازت چاہی اور اپنے واپسی کے سفر کا آغاز کیا۔
اس تبلیغی واصلاحی دورے میں محترم بھائی جام اور سائیں مراد نے بھر پور ساتھ دیا جس کی بدولت یہ دورہ کامیابی وکامرانی کے ساتھ پائے تکمیل کو پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ان سب بھائیوں کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازکر انہیں جزاء خیر عطا فرمائے۔ آمین
