تعارف و خاندانی پسِ منظر:

شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیف صحیح معنوں میں ایک عالمِ ربانی تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں بہت سی خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ وہ اس دھرتی پر ان اشخاص میں سے تھے جن کے وجودِ مسعود سے خیر کے چشمے پھوٹتے ہیں اور ایک دنیا ان کے فیض سے متمتع ہوتی ہے۔

آپ ۲۱ شعبان ۱۳۴۷ھ بمطابق ۲ فروری ۱۹۲۹ء بروز ہفتہ چک نمبر ۱۷ تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کا سکونتی تعلق ضلع گورداس پور کی تحصیل بٹالہ کے ایک موضع ملک وال سے تھا۔ 1900ء کے پس و پیش آپ کا خاندان یہاں کی سکونت ترک کر کے ساہیوال میں منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد کا نام محمد ابراہیم اور دادا کا رحمت اﷲ اور پردادا کا اسمِ گرامی کرم دین تھا۔ ممدوح محترم، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa سے بے حد متاثر تھے، اسی وجہ سے آپ نے ’’حنیف‘‘ کا لقب اختیار کیا۔

آپ کے والد مرحوم مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے ۱۹۷۳ء میں 7-R/ 186 مشرقی تحصیل فورٹ عباس ضلع بہاول نگر میں رہائش پذیر ہوگئے۔ یہاں انھیں زرعی و سکنی رقبہ بھی مل گیا تھا۔ آپ کے دادا رحمت اﷲ مرحوم اپنے خاندان کے پہلے شخص تھے جنھوں نے سابقہ ریاست بہاول پور کے ممتاز عالمِ دین شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ عبدالحق الہاشمی محدث مہاجر مکیa کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر آبائی مسلک حنفیت کو ترک کر کے سلفیت کی راہ کو اختیار کیا۔ اس وقت ان کے گاؤں میں حنفیت غالب تھی اور وہاں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے انھیں جمعہ پڑھنے کے لیے ایک قریبی گاؤں میں جانا پڑتا تھا جہاں ایک اہلِ حدیث عالمِ دین حضرت مولانا محمد فاضلa درس و خطابتِ جمعہ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ جو حضرت مولانا عبدالحق الہاشمی کے والد گرامی حضرت مولانا عبدالواحد الہاشمیa (تلمیذ حضرت سید میاں نذیر حسین دہلویa) کے تلامذہ میں سے تھے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالستار حنیفa کے والد اور دادا انہیں مولانا محمد فاضلa کے خطبات و مواعظ سے ازحد متاثر تھے اور دینی احکام کی تفہیم میں ان سے رجوع فرماتے۔ مولانا حنیف مرحوم کے والد اور دادا نے بالترتیب ۱۴؍ مئی ۱۹۳۲ء اور ۲۳ جنوی ۱۹۴۲ء کو وفات پائی۔ یاد رہے کہ مولانا عبدالحکیم شفیق شہیدa (فاضل دار العلوم اوڈاں والا) ساکن ۴۵۲ ۔ گ۔ ب، رحمے شاہ، تاندلیاں والا ہمارے ممدوح گرامی مولانا عبدالستار حنیفa کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔

دینی تعلیم و تربیت کے مراحل:

مولانا عبدالستار حنیفa اوائل عمر میں اپنے ننھیال علی والا (تحصیل بٹالہ، ضلع گورداس پور) بھیج دیے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے نانا دین محمد مرحوم کے سایہ شفقت میں عہدِ طفولیت کی منازل طے کیں۔ انھیں وہاں کے مقامی سکول میں داخل کرا دیا گیا، جہاں آپ شوق سے پڑھنے لگے۔ آپ ابھی چھٹی جماعت میں تھے کہ والد محترم وفات پا گئے۔ انھوں نے وفات سے قبل یہ وصیت کی کہ میرے بیٹے کو دینی تعلیم سے ضرور آشنا کیا جائے۔ اصل میں انھوں نے یہ وصیت اپنے قریبی عزیز مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa کے علم و فضل اور عارفانہ شخصیت سے متاثر ہو کر کی تھی۔ حکیم صاحبa تحریک اہلِ حدیث کے روحِ رواں، مربی، ہمدردِ خلائق اور مقبول عوام الناس تھے۔ آپ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آگئے۔ جمعیت اہلِ حدیث لاہور کے امیر رہے اور ساٹھ کی دہائی میں ان کی وفات ہوئی۔

مولانا حنیفa کی دینی تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل کو بیان کرنے کے لیے ان مدارس کا تعارف کراتے ہیں جہاں وہ فنونِ حدیث سیکھتے رہے اور ان اساتذہ کرام سے بھی ملواتے ہیں جن کے سامنے انھوں نے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔

دینی مدارس کا رخ:

مولانا مرحوم کے سوانحی حالات سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ دینی تعلیم کے حصول کے لیے کئی ایک مدارس میں تشریف لے گئے اور اپنے دور کے عظیم رجالِ حدیث سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے کی تفصیل کے لے ہم اپنے نہایت ہی مخلص دوست، ادب نواز جناب حکیم رانا مدثر خاں (سمندری) سے چند معلومات مستعار لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

مولانا عبدالستار حنیفa کے نانا نے آپ کو مدرسہ دار السلام واقع در مسجد قاضیاں والی بٹالہ میں داخل کرا دیا جہاں آپ تین سال حصولِ تعلیم میں مصروف رہے اور آپ کے استاد تھے۔ مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa۔

پھر دو سال تک کاشت کاری میں مصروف رہے، پھر وہیں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مرتبہ ان کا یہاں قیام دو سال رہا۔ کچھ عرصہ کے بعد دار الحدیث رحمانیہ (دہلی) کا قصد کیا۔ وہاں داخلے بند تھے۔ اس لیے واپس آگئے۔ پھر ملتان میں مولانا عبدالتواب محدث ملتانیa کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے فرمایا: ’’میرا مدرسہ بند ہوچکا ہے، لہٰذا آپ مولانا شمس الحق کے پاس چلے جائیں۔‘‘ چنانچہ آپ نے مولانا شمس الحق محدث ملتانیa سے جامع مسجد حسین آگاہی ملتان میں گلستان، بوستان اور صرف و نحو کی بعض کتب تین ماہ تک پڑھیں۔ پھر تیسری بار اپنے نانا کے مطالبے پر مدرسہ دار السلام بٹالہ میں داخل ہوگئے۔ اس مرتبہ یہاں اواخر جولائی ۱۹۴۷ء تک پڑھتے رہے۔

اگست ۱۹۴۷ء میں چک نمبر ۴۵۲ گ۔ ب رحمے شاہ میں اپنی پھوپھی کے پاس آئے اور یہیں سے اوڈاں والا کا عزم کیا۔ یہاں مدرسہ تعلیم الاسلام میں کسبِ علم میں مشغول ہوگئے۔ یہاں آپ نے مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا حافظ محمد عبداﷲ بڈھیمالوی، مولانا محمد یعقوب ملہوی، مولانا حافظ محمد یعقوب جہلمی، مولانا عبدالصمد رؤف، مولانا محمد صادق خلیل اور مولانا عبدالقادر ندویS سے استفادہ کیا۔ چار سال کے بعد دار العلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں داخلہ لیا اور مولانا ہدایت اﷲ بٹالویa سے علمِ طب پڑھنے کی درخواست کی، جو انھوں نے قبول فرمائی، لیکن مولانا سید محمد داود غزنویa کی طرف سے مدرسے سے باہر جانے کی ممانعت کی وجہ سے علمِ طب نہ پڑھ سکے۔ یہاں آپ نے ایک سال تک حضرت مولانا محمد عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa سے سنن ابی داود، مولانا محمد موسیٰ خان پشاوری سے فلسفہ، منطق اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ نیز مولانا عبدہ الفلاحa سے بھی مستفید ہوئے۔ ناموافقتِ آب و ہوا کی وجہ سے ایک سال بعد مولانا عطاء اﷲ حنیفa کے مشورے سے جامعہ اسلامیہ گوجراں والا میں داخل ہوئے۔ یہ واقعہ ۱۹۵۳ء کا ہے۔ یہاں آپ نے مولانا محمد داوٗد بھوجیانی، مولانا ابو البرکات احمد مدراسی اور مولانا حافظ محمد محدث گوندلویS سے انتہائی کتب کا درس لیا اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیفa نے فراغتِ تعلیم کے بعد بہاول پور ڈویژن کے مختلف دینی مدارس میں تدریس شروع کی تو اس دوران انھوں نے وقت نکال کر پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ بہاول پوریa سے شرح وقایہ اور شرح العقائد النسفیہ کا درس لیا۔ اسی طرح انھوں نے ماہر علم الفرائض مولانا عبدالعزیزa ساکن بستی عثمان بہاول نگر سے علمِ وراثت کے موضوع پر پڑھا۔

اساتذہ کرام کا تعارف:

حضرت مولانا مرحوم نے جن اساتذہ کرام سے علمِ حدیث و دیگر فنونِ دینیہ پڑھے، وہ اپنے دور کے ممتاز ترین مفسرین، شیوخ الحدیث اور کتاب و سنت کے بہترین داعی و مبلغ تھے۔ ان عالی قدر حضرات کے اسمائے گرامی پر ایک نظر ڈالیے:

۱۔ مولانا حافظ محمد محدث گوندلویa (۴؍جون ۱۹۸۵ء)

۲۔مولانا حافظ محمد عبداﷲ بڈھیمالویa (۹؍ مئی ۱۹۸۷ء)

۳۔مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa (۲؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء)

۴۔مولانا محمد یعقوب ملہویa (۲۱؍ اپریل ۱۹۸۹ء)

۵۔ پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ بہاول پوریa (۲۱؍ اپریل ۱۹۹۱ء)

۶۔ مولانا ابو البرکات احمد مدراسیa (۲۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء)

۷۔مولانا محمد اسحاق چیمہa (۲۳؍ مارچ ۱۹۹۳ء)

۸۔ مولانا محمد داوٗد بھوجیانیa (۵؍ نومبر ۱۹۹۵ء)

۹۔مولانا عبدہ الفلاحa (یکم جولائی ۱۹۹۹ء)

۱۰۔مولانا حافظ محمد یعقوب جہلمیa (۲۰؍ جولائی ۲۰۰۳ء)

۱۱۔مولانا محمد صادق خلیلa (۶؍ فروری ۲۰۰۴ء)

۱۲۔مولانا شمس الحق ملتانیa (۲۹؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء)

۱۳۔ مولانا عبدالصمد رؤفa (۲۷؍ نومبر ۲۰۰۵ء)

۱۴۔ مولانا عبدالقادر ندویa (۸؍ اپریل ۲۰۱۱ء)

۱۵۔ مولانا محمد موسیٰ خان پشاوریa (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

۱۶۔ مولانا عبدالعزیزa (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

۱۷۔ مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

مولانا مرحوم کی خود نوشت سے چند اقتباسات:

ہمارے پاس حضرت مولانا مرحوم کا ایک غیر مطبوعہ علمی رسالہ ہے جس کا نام ہے: ’’شاہکارِ بخاری‘‘ جس کا تعارف ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اس مخطوطے کے شروع میں مولانا کے خودنوشت حالات موجود ہیں جس پر انھوں نے ’’میری زندگی کے لمحات‘‘ کا عنوان قائم کر کے مختصراً اپنی مصروفیات کا ذکر کیا ہے اور حصولِ علم کے لیے اپنی جدوجہد کی وضاحت بھی کی ہے۔ یہ مختصر مضمون پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف وفا اور کاملیت کا عکس جمیل تھے۔ رقم طراز ہیں:

’’۔۔۔۔ تین سال پڑھنے کے بعد میرا دل اکتا گیا۔ چند سال کے بعد پھر پڑھائی کا شوق ہوا تو جامعہ رحمانیہ دہلی میں چلا گیا۔ میں جامع مسجد دہلی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ ایک شخص نے پوچھا: کس سے ملنا ہے؟ میں نے کہا: کسی سے نہیں، پڑھنے آیا ہوں۔ اس نے کہا: میرے ساتھ چلو، میں پیر ہوں، صبح مریدوں کے پاس جاؤں گا۔ میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ تین دن اس کے ساتھ رہا، پھر شیخ عطاء الرحمان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے فرمایا: داخلہ صرف شوال میں ہوتا ہے۔ تم شروع سال میں آنا۔ میں پھر انہی لوگوں کے پاس گیا۔ میرے پاس واپسی کا کرایہ نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے کام تلاش کر کے دیا۔ ایک ماہ مزدوری کر کے میں نے کرایہ تیار کیا اور گھر آگیا اور گھر کا کام کرنے لگا۔ پھر چند ماہ بعد ملتان میں مولانا عبدالتواب صاحبa کے پاس گیا۔ انھوں نے فرمایا: مدرسہ بند ہوگیا ہے۔ میرے پاس صرف ایک طالب علم بخاری پڑھنے والا ہے، تم مولانا شمس الحق صاحب کے پاس چلے جاؤ۔ میں نے ان کے پاس جا کر پڑھنا شروع کر دیا۔ تین ماہ بعد نانا جیa کا خط آیا کہ ہمارے پاس آجاؤ اور بٹالہ میں ہی داخل ہوجاؤ۔

میں گھر گیا تو مجھے اجازت نہ دی گئی۔ میرے استاد محترم مولانا ہدایت اﷲ بٹالویa حج کر کے چک نمبر ۸۔۷/۱۸۶ میں تشریف لائے تو میں نے ان سے گزارش کی، مجھے پڑھائی کے لیے اجازت لے کر ساتھ لے جائیں۔ اجازت مل گئی تو میں ان کے ساتھ جا کر مدرسہ دار السلام میں داخل ہوگیا۔ ایک دن میرے نانا جیa گاؤں سے مدرسہ میں آئے اور مولاناa سے کہنے لگے کہ اس کو واپس گھر بھیج دو۔ مولانا صاحبa نے فرمایا: یہ ایک دفعہ دہلی چلا گیا، پھر ملتان گیا، اب کراچی جائے گا۔ اس کو پڑھنے دو۔ میں وہاں پڑھتا رہا، حتی کہ قیامِ پاکستان کا اعلان ہوگیا۔۔۔۔۔۔‘‘

تدریسی خدمات:

مولانا کی تدریسی خدمات شاندار علمی روایات کا مظہر ہیں۔ آپ ایک کامیاب مدرس تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں اس میدان میں قرآن فہمی اور حدیث شناسی کی جس عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ وہ ان ہی کا حصہ تھا۔ آپ نے ۱۹۷۸ء سے ۲۰۱۰ء تک مختلف دینی مدارس میں بطور صدر مدرس اور شیخ الحدیث کے تدریسی فرائض سر انجام دیے۔

انھوں نے آزمائشی مڈل سکول، ولہر بنگلہ فورٹ عباس میں بحیثیت عربی معلم اپنی عملی تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ چار سال تدریس کرنے کے بعد آٹھ برس تک مختلف کاروبار کرتے رہے جب کہ اسی دوران میں جامع مسجد اہلِ حدیث -R۷/ ۱۸۶ فورٹ عباس میں خطباتِ جمعہ بھی ارشاد بھی فرماتے رہے۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انھوں نے اپنی زندگی تحریک اہلِ حدیث کی آبیاری کے لیے وقف کرنے کا عزم بالجزم فرمایا اور قرآن و حدیث کی تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۶۸ء میں آپa نے شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس ہزارویd کے مشہور مدرسہ ضیاء القرآن والحدیث چشتیاں سے تدریس کا آغاز فرمایا اور مسلسل نو (۹) برس تک یہیں پڑھایا۔ پھر دو سال چک نمبر D-B/ ۵۷ منڈی یزمان (ضلع بہاول پور) کی جامع مسجد اہلِ حدیث میں دعوت و ارشاد کا کام کرتے رہے۔

حضرت مولانا مرحوم اپنی تدریسی خدمات کے آغاز کے متعلق رقم طراز ہیں:

’’ سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد گھر آیا تو ولہر بنگلہ کے مڈل سکول میں عربی پڑھانے لگا۔ چار سال کے بعد گھر جا کر دکان بنا لی۔ ایک دن مونگ پھلی کے کھیت میں گوڈی کر رہا تھا کہ میری اولاد کا بڑا ماموں آیا۔ اس نے کہا کہ یہ کام تو ہم بھی کر لیتے ہیں۔ میں نے اسی دن کاشت کاری کو خیر باد کہا اور چشتیاں ضلع بہاول نگر میں مولانا عبدالقدوس ہزاروی صاحب کے پاس آیا اور مدرسہ میں تدریس شروع کر دی۔اور پھر یہ سلسلہ ۲۰۱۰ء تک جاری رہا۔‘‘

اسلوبِ تدریس:

جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور کے سینئر استاذِ حدیث مولانا محمد اصغر سلفی صاحب نے مولانا عبدالستار حنیفa کی تدریسی خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

’’مولانا کی علومِ حدیث پر وسیع و عمیق نظر تھی دورانِ تدریس علمی گفتگو فرماتے۔ آپ جب مسندِ حدیث پر رونق افروز ہوتے تو نہ صرف احادیث میں فقہی مباحث بیان فرماتے بلکہ طلبہ کو علوم الحدیث سے مکمل آگاہی دیتے۔ بطورِ خاص اسماء الرجال، راویوں کا تعارف، ان کی رحلاتِ علمیہ، بلند پایہ علمی کارناموں اور علمی عظمتوں کو آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ حدیث اور اہل الرائے کے خصائل کو بھی واضح فرماتے۔ آپ کی تدریس میں سادگی کا عنصر غالب رہتا مگر علوم و معارف کا ایک دریا بہا دیتے۔‘‘

تدریسِ حدیث سے خصوصی شغف:

یوں تو آپa نے متعدد مقامات پر جمیع علوم و فنون کی مروجہ کتب کا درس دیا لیکن تدریسِ حدیث سے آپ کو خصوصی شغف تھا اور اس میں آپ کو ملکہ بھی حاصل تھا۔ علومِ حدیث سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔ اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو آپa نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا۔ لکھتے ہیں:

مولانا حکیم عبدالحئی صاحب ناصر زادك اﷲ شرفاً وعزاً

میں خیریت سے ہوں۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ مدرسہ کی رسید (وصولی رقم) ۲۰۰۱ء۔۱۲۔۲۵ کو موصول ہوئی۔ تمام جسم اﷲ کی مہربانی اور فضل سے تندرست ہے، صرف گھٹنہ چار ماہ پلستر لگنے کی وجہ سے مڑتا نہیں، سیدھا رہتا ہے۔ نماز کرسی پر بیٹھ کر ادا کرتا ہوں اور قضائے حاجت بھی۔

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

اﷲ کا شکر ہے کہ سبق پڑھاتا ہوں۔ اس معذوری کی حالت میں بھی اﷲ تعالیٰ نے خدمتِ دین سر انجام دینے کی ہمت دی ہے۔ موت تک ارادہ یہی ہے، مجھے اس دن موت آئے جس دن بخاری و مسلم کا سبق پڑھایا ہو۔ تکمیل اﷲ پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔

عبدالستار حنیف

چک ۱۸۶، بہاول نگر

تدریسی سرگرمیوں پر ایک نظر:

دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اعتبار قمری سال کے حساب سے ہوتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھیے اور ۱۹۷۸ء سے لے کر ۲۰۱۰ء تک کی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیفa کی تدریسی سرگرمیوں پر نظر ڈالیے۔

۱۔آٹھ سال جامعہ محمدیہ فقیر والی (ضلع بہاول نگر)

۲۔آٹھ سال جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا (ضلع بہاول نگر)

۳۔ دوبارہ جامعہ محمدیہ فقیر والی میں دو سال

۴۔چھ سال جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور (ضلع رحیم یار خان)

۵۔ دوبارہ جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا میں دو سال

۶۔ جامعہ عثمان بن عفان منڈی یزمان میں ایک سال

۷۔ جامعہ صدیقیہ للبنات عارف والا میں ایک سال

۸۔ مدرسہ بنات الاسلام رحیم یار خان میں تین سال

۹۔ دوبارہ جامعہ صدیقیہ عارف والا میں دو سال

مولانا کا تالیف کردہ رسالہ: ’’شاہکار بخاری‘‘:

تدریسی مصروفیات کی وجہ سے مولانا a تصنیف و تالیف کی طرف توجہ نہ کر سکے، البتہ انھوں نے حضرت الامام بخاریa کی ’’بخاری شریف‘‘ کے متعلق ایک رسالہ ’’شاہکار بخاری‘‘ کے نام سے تالیف کیا تھا جو تاحال غیر مطبوعہ ہے۔ یہ رسالہ بڑے سائز کے ۶۳ صفحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مولانا مرحوم نے شروع میں اپنی سندِ حدیث بھی رقم کی ہے۔ یہاں ہم اس رسالے کے عنوانات کی فہرست درج کر دیتے ہیں، تاکہ اہلِ فکر و نظر کو معلوم ہو سکے کہ اس رسالے کا اصل موضوع ہے کیا، نیز عام طبقہ بھی اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھ سکے۔ عنوانات دیکھیے:

علمِ حدیث کا تعارف                     تاریخ

کتابت                                       لفظ سنت کی تحقیق

حدیث کی قرآن سے نسبت          حجیت حدیث

انکارِ حدیث کا فتنہ، ان کے فریبوں کا جواب

نبی اکرم کا اندازِ بیان

اصولِ حدیث کی ضرورت

حدیث کا مقام و مرتبہ

کتبِ احادیث کے طبقات

صحیح بخاری

تراجم ابوابِ بخاری

معلقات بخاری

بخاری کے رواۃ

اس کے رواۃ پر تشیع کے الزام کی حقیقت

اسبابِ تالیف

خصائص بخاری (ابوب اور ذیلی ابواب )باب بلا ترجمہ `باب با ترجمہ

بخاری میں اقسامِ حدیث

اس میں آیاتِ قرآن سے استدلال

امام بخاری کا ایک گراں قدر قول

امام بخاری، حسب و نسب ،پیدائش شوقِ حدیث

رحلت علمی

حرمِ مکہ کے علماء سے ملاقات

تدوین الجامع الصحیح امام بخاریa اور صحیح بخاری پر احناف کے اعتراضات اور ان کے جوابات

علامہ کے نزدیک امام بخاریa کا مرتبہ ملا علی قاری کے نزدیک امام بخاری معصوم عن الخطاء نہ تھے، اعتراضات اور جوابات ،وفات وغیرہ وغیرہ۔

اوصاف اور خوبیاں:

مولانا مرحوم اپنے بلند مقام، علمی تفوق، کبار علماء کے استاذ ہونے کے باوجود، درویش صفت، ملنسار اور تواضع و انکساری کے باب میں منفرد حیثیت کے حامل تھے۔ قدرت نے منور چہرے کے ساتھ مناسب قد و قامت اور خوب سلیقے سے نوازا تھا۔

آپ کے ایک شاگرد رشید پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفرa نے آپ کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’میرے شیخ ہمت، جراَت، دینی غیرت، اخلاص اور دین کی دعوت کو عام کرنے والے عظیم انسان تھے۔ آپ کا حافظہ قوی تھا۔ وہ شیخ الحدیث تھے۔ کثرت سے احادیث حفظ تھیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ شیریں بیانی اور دل گداز و دل نواز گفتگو سے خوب نوازے گئے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ذہن ثاقب اور مضبوط حافظہ عطا فرمایا تھا۔ علمِ حدیث میں آپ مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ علم و ادب و لغت، صرف و نحو اور معانی و بلاغت، فنِ تاریخ اور قرآنیات میں آپ بلند و بالا مینار تھے۔ تواضع کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہم عصر بزرگوں کا نام ادب و احترام سے لیتے۔ عبادت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ علالت کے دوران میں بھی تہجد کی نماز کبھی نہ چھوڑتے۔

حضرت استاذِ محترم صبر و استقامت کا پیکر تھے۔ وہ تاحیات دینِ حق کی آبیاری کے لیے تن، من، دھن کی قربانی پیش کرتے رہے اﷲ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنتِ فردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر فائز کرے۔ آمین‘‘

نامور تلامذہ:

شیخ الحدیث مرحوم و مغفور کم و بیش اڑتیس (۳۸) برس درس و تدریس کی خدمت سے جڑے رہے۔ اس طویل عرصہ میں بلا مبالغہ سینکڑوں مرد و خواتین نے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ چند حضرات کے نام یہ ہیں:

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفرa

شیخ الحدیث مولانا عبداﷲ سبحانی

مولانا حبیب الرحمن یزدانی

پروفیسر میاں عبدالمجید

پروفیسر محمد یونس

مولانا عبداﷲ شاہین

مولانا محمد خالد ہیڈ ماسٹر

مولانا عبدالرحیم

مولانا محمد اسلم

مولانا عمر فاروق

مولانا محمد ارشد

مولانا محمد اکبر محمدیa

مولانا محمد ثاقب

مولانا عطاء اﷲ

مولانا ضیاء الحق جانباز لیاقت پور

آل و اولاد:

۱۹۶۰ء کی دہائی میں ان کی شادی فورٹ عباس کے چک -R۹/ ۲۳۹ میں ہوئی۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں عطا کیں۔ ساری اولاد شادی شدہ اور خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔

عبدالغفار (کاشتکار)

عبدالرزاق (سعودی عرب مقیم)

عبدالجبار (کاشتکار)

عبدالواحد (گورنمنٹ ہائی سکول فورٹ عباس میں ایس ایس ٹی ہیں)

عبدالوہاب (دکان دار)

دو چھوٹی بیٹیاں جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا کی فاضلات میں سے ہیں اور وہاں تین سال تک پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ ایک نواسہ شکیل الرحمن حافظ قرآن ہے۔ ایک نواسہ عبدالحنان جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث شکار پوری گیٹ بہاول پور سے فارغ التحصیل ہو کر وہیں دعوت کا کام کر رہا ہے۔ اسی طرح آپ کے خاندان کے دو عالمِ دین بھی دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں:

۱۔مولانا احسان اﷲ صارم (فاضل جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن۔ ایم اے، بی ایڈ)

۲۔مولانا قاری عامر شہزاد (فاضل جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن)

سفرِ آخرت:

مولانا عبدالستار حنیف کثرتِ محنت دماغی کی وجہ سے کچھ عرصہ صاحبِ فراش رہے۔ آخر کار ۲۶؍ جولائی ۲۰۱۶ء کو داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کی وفات سے جماعت اہلِ حدیث نہ صرف ایک مایہ ناز عالم سے، بلکہ ملک و ملت کے ایک ایسے خاموش اور درویش صفت راہنما سے بھی محروم ہوگئی جن کا وجود فتنوں کے دور میں امت کی ڈھارس کا باعث ہوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا مرحوم کا نمازِ جنازہ مولانا عبدالقدوس صاحب (چشتیاں) نے پڑھایا۔

اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے انھیں جنت فردوس میں مقامات خاص سے نوازیں اور ان کے تلامذہ اور آل و اولاد کو صدقہ جاریہ بنا کر ان کے فیوض و مآثر کو قائم و دائم رکھنے کی توفیق خاص مرحمت فرمائیں۔ آمین

ہر گز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوامِ ما

مراجع و مصادر:

۱۔تذکرہ علمائے اہلِ حدیث پاکستان۔ از پروفیسر یوسف سجاد (سیالکوٹ)

۲۔مکتوب حکیم رانا مدثر محمد خان (سمندری) بنام: راقم حمید اﷲ خان عزیز۔

۳۔’’شاہکار بخاری‘‘۔ از شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیف (غیر مطبوعہ)

۴۔انٹرویوز:

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر

مولانا حافظ محمد اسحاق فاروقی (احمد پور شرقیہ)

مولانا محمد اصغر سلفی (جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور)

تعارف و خاندانی پسِ منظر:

شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیفa صحیح معنوں میں ایک عالمِ ربانی تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں بہت سی خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔ وہ اس دھرتی پر ان اشخاص میں سے تھے جن کے وجودِ مسعود سے خیر کے چشمے پھوٹتے ہیں اور ایک دنیا ان کے فیض سے متمتع ہوتی ہے۔

آپ ۲۱ شعبان ۱۳۴۷ھ بمطابق ۲ فروری ۱۹۲۹ء بروز ہفتہ چک نمبر ۱۷ تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کا سکونتی تعلق ضلع گورداس پور کی تحصیل بٹالہ کے ایک موضع ملک وال سے تھا۔ 1900ء کے پس و پیش آپ کا خاندان یہاں کی سکونت ترک کر کے ساہیوال میں منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد کا نام محمد ابراہیم اور دادا کا رحمت اﷲ اور پردادا کا اسمِ گرامی کرم دین تھا۔ ممدوح محترم، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa سے بے حد متاثر تھے، اسی وجہ سے آپa نے ’’حنیف‘‘ کا لقب اختیار کیا۔

آپ کے والد مرحوم مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے ۱۹۷۳ء میں 7-R/ 186 مشرقی تحصیل فورٹ عباس ضلع بہاول نگر میں رہائش پذیر ہوگئے۔ یہاں انھیں زرعی و سکنی رقبہ بھی مل گیا تھا۔ آپ کے دادا رحمت اﷲ مرحوم اپنے خاندان کے پہلے شخص تھے جنھوں نے سابقہ ریاست بہاول پور کے ممتاز عالمِ دین شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ عبدالحق الہاشمی محدث مہاجر مکیa کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر آبائی مسلک حنفیت کو ترک کر کے سلفیت کی راہ کو اختیار کیا۔ اس وقت ان کے گاؤں میں حنفیت غالب تھی اور وہاں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے انھیں جمعہ پڑھنے کے لیے ایک قریبی گاؤں میں جانا پڑتا تھا جہاں ایک اہلِ حدیث عالمِ دین حضرت مولانا محمد فاضلa درس و خطابتِ جمعہ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ جو حضرت مولانا عبدالحق الہاشمیa کے والد گرامی حضرت مولانا عبدالواحد الہاشمیa (تلمیذ حضرت سید میاں نذیر حسین دہلویa) کے تلامذہ میں سے تھے۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالستار حنیفa کے والد اور دادا انہیں مولانا محمد فاضلa کے خطبات و مواعظ سے ازحد متاثر تھے اور دینی احکام کی تفہیم میں ان سے رجوع فرماتے۔ مولانا حنیف مرحوم کے والد اور دادا نے بالترتیب ۱۴؍ مئی ۱۹۳۲ء اور ۲۳ جنوی ۱۹۴۲ء کو وفات پائی۔ یاد رہے کہ مولانا عبدالحکیم شفیق شہیدa (فاضل دار العلوم اوڈاں والا) ساکن ۴۵۲ ۔ گ۔ ب، رحمے شاہ، تاندلیاں والا ہمارے ممدوح گرامی مولانا عبدالستار حنیفa کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔

دینی تعلیم و تربیت کے مراحل:

مولانا عبدالستار حنیفa اوائل عمر میں اپنے ننھیال علی والا (تحصیل بٹالہ، ضلع گورداس پور) بھیج دیے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے نانا دین محمد مرحوم کے سایہ شفقت میں عہدِ طفولیت کی منازل طے کیں۔ انھیں وہاں کے مقامی سکول میں داخل کرا دیا گیا، جہاں آپ شوق سے پڑھنے لگے۔ آپ ابھی چھٹی جماعت میں تھے کہ والد محترم وفات پا گئے۔ انھوں نے وفات سے قبل یہ وصیت کی کہ میرے بیٹے کو دینی تعلیم سے ضرور آشنا کیا جائے۔ اصل میں انھوں نے یہ وصیت اپنے قریبی عزیز مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa کے علم و فضل اور عارفانہ شخصیت سے متاثر ہو کر کی تھی۔ حکیم صاحبa تحریک اہلِ حدیث کے روحِ رواں، مربی، ہمدردِ خلائق اور مقبول عوام الناس تھے۔ آپ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آگئے۔ جمعیت اہلِ حدیث لاہور کے امیر رہے اور ساٹھ کی دہائی میں ان کی وفات ہوئی۔

مولانا حنیفa کی دینی تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل کو بیان کرنے کے لیے ان مدارس کا تعارف کراتے ہیں جہاں وہ فنونِ حدیث سیکھتے رہے اور ان اساتذہ کرام سے بھی ملواتے ہیں جن کے سامنے انھوں نے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔

دینی مدارس کا رخ:

مولانا مرحوم کے سوانحی حالات سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ دینی تعلیم کے حصول کے لیے کئی ایک مدارس میں تشریف لے گئے اور اپنے دور کے عظیم رجالِ حدیث سے استفادہ کیا۔ اس سلسلے کی تفصیل کے لے ہم اپنے نہایت ہی مخلص دوست، ادب نواز جناب حکیم رانا مدثر خاں (سمندری) سے چند معلومات مستعار لیتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

مولانا عبدالستار حنیفa کے نانا نے آپ کو مدرسہ دار السلام واقع در مسجد قاضیاں والی بٹالہ میں داخل کرا دیا جہاں آپ تین سال حصولِ تعلیم میں مصروف رہے اور آپ کے استاد تھے۔ مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa۔

پھر دو سال تک کاشت کاری میں مصروف رہے، پھر وہیں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مرتبہ ان کا یہاں قیام دو سال رہا۔ کچھ عرصہ کے بعد دار الحدیث رحمانیہ (دہلی) کا قصد کیا۔ وہاں داخلے بند تھے۔ اس لیے واپس آگئے۔ پھر ملتان میں مولانا عبدالتواب محدث ملتانیa کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے فرمایا: ’’میرا مدرسہ بند ہوچکا ہے، لہٰذا آپ مولانا شمس الحق کے پاس چلے جائیں۔‘‘ چنانچہ آپ نے مولانا شمس الحق محدث ملتانیa سے جامع مسجد حسین آگاہی ملتان میں گلستان، بوستان اور صرف و نحو کی بعض کتب تین ماہ تک پڑھیں۔ پھر تیسری بار اپنے نانا کے مطالبے پر مدرسہ دار السلام بٹالہ میں داخل ہوگئے۔ اس مرتبہ یہاں اواخر جولائی ۱۹۴۷ء تک پڑھتے رہے۔

اگست ۱۹۴۷ء میں چک نمبر ۴۵۲ گ۔ ب رحمے شاہ میں اپنی پھوپھی کے پاس آئے اور یہیں سے اوڈاں والا کا عزم کیا۔ یہاں مدرسہ تعلیم الاسلام میں کسبِ علم میں مشغول ہوگئے۔ یہاں آپ نے مولانا محمد اسحاق چیمہ، مولانا حافظ محمد عبداﷲ بڈھیمالوی، مولانا محمد یعقوب ملہوی، مولانا حافظ محمد یعقوب جہلمی، مولانا عبدالصمد رؤف، مولانا محمد صادق خلیل اور مولانا عبدالقادر ندویS سے استفادہ کیا۔ چار سال کے بعد دار العلوم تقویۃ الاسلام لاہور میں داخلہ لیا اور مولانا ہدایت اﷲ بٹالویa سے علمِ طب پڑھنے کی درخواست کی، جو انھوں نے قبول فرمائی، لیکن مولانا سید محمد داود غزنویa کی طرف سے مدرسے سے باہر جانے کی ممانعت کی وجہ سے علمِ طب نہ پڑھ سکے۔ یہاں آپ نے ایک سال تک حضرت مولانا محمد عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa سے سنن ابی داود، مولانا محمد موسیٰ خان پشاوری سے فلسفہ، منطق اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ نیز مولانا عبدہ الفلاحa سے بھی مستفید ہوئے۔ ناموافقتِ آب و ہوا کی وجہ سے ایک سال بعد مولانا عطاء اﷲ حنیفa کے مشورے سے جامعہ اسلامیہ گوجراں والا میں داخل ہوئے۔ یہ واقعہ ۱۹۵۳ء کا ہے۔ یہاں آپ نے مولانا محمد داوٗد بھوجیانی، مولانا ابو البرکات احمد مدراسی اور مولانا حافظ محمد محدث گوندلویS سے انتہائی کتب کا درس لیا اور ۱۹۵۶ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیفa نے فراغتِ تعلیم کے بعد بہاول پور ڈویژن کے مختلف دینی مدارس میں تدریس شروع کی تو اس دوران انھوں نے وقت نکال کر پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ بہاول پوریa سے شرح وقایہ اور شرح العقائد النسفیہ کا درس لیا۔ اسی طرح انھوں نے ماہر علم الفرائض مولانا عبدالعزیزa ساکن بستی عثمان بہاول نگر سے علمِ وراثت کے موضوع پر پڑھا۔

اساتذہ کرام کا تعارف:

حضرت مولانا مرحوم نے جن اساتذہ کرام سے علمِ حدیث و دیگر فنونِ دینیہ پڑھے، وہ اپنے دور کے ممتاز ترین مفسرین، شیوخ الحدیث اور کتاب و سنت کے بہترین داعی و مبلغ تھے۔ ان عالی قدر حضرات کے اسمائے گرامی پر ایک نظر ڈالیے:

۱۔ مولانا حافظ محمد محدث گوندلویa (۴؍جون ۱۹۸۵ء)

۲۔مولانا حافظ محمد عبداﷲ بڈھیمالویa (۹؍ مئی ۱۹۸۷ء)

۳۔مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیa (۲؍ اکتوبر ۱۹۸۷ء)

۴۔مولانا محمد یعقوب ملہویa (۲۱؍ اپریل ۱۹۸۹ء)

۵۔ پروفیسر حافظ محمد عبداﷲ بہاول پوریa (۲۱؍ اپریل ۱۹۹۱ء)

۶۔ مولانا ابو البرکات احمد مدراسیa (۲۹؍ جولائی ۱۹۹۱ء)

۷۔مولانا محمد اسحاق چیمہa (۲۳؍ مارچ ۱۹۹۳ء)

۸۔ مولانا محمد داوٗد بھوجیانیa (۵؍ نومبر ۱۹۹۵ء)

۹۔مولانا عبدہ الفلاحa (یکم جولائی ۱۹۹۹ء)

۱۰۔مولانا حافظ محمد یعقوب جہلمیa (۲۰؍ جولائی ۲۰۰۳ء)

۱۱۔مولانا محمد صادق خلیلa (۶؍ فروری ۲۰۰۴ء)

۱۲۔مولانا شمس الحق ملتانیa (۲۹؍ اکتوبر ۲۰۰۵ء)

۱۳۔ مولانا عبدالصمد رؤفa (۲۷؍ نومبر ۲۰۰۵ء)

۱۴۔ مولانا عبدالقادر ندویa (۸؍ اپریل ۲۰۱۱ء)

۱۵۔ مولانا محمد موسیٰ خان پشاوری (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

۱۶۔ مولانا عبدالعزیزa (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

۱۷۔ مولانا حکیم ہدایت اﷲ بٹالویa (تاریخ وفات معلوم نہیں ہوسکی)

مولانا مرحوم کی خود نوشت سے چند اقتباسات:

ہمارے پاس حضرت مولانا مرحوم کا ایک غیر مطبوعہ علمی رسالہ ہے جس کا نام ہے: ’’شاہکارِ بخاری‘‘ جس کا تعارف ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اس مخطوطے کے شروع میں مولانا کے خودنوشت حالات موجود ہیں جس پر انھوں نے ’’میری زندگی کے لمحات‘‘ کا عنوان قائم کر کے مختصراً اپنی مصروفیات کا ذکر کیا ہے اور حصولِ علم کے لیے اپنی جدوجہد کی وضاحت بھی کی ہے۔ یہ مختصر مضمون پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف وفا اور کاملیت کا عکس جمیل تھے۔ رقم طراز ہیں:

’’۔۔۔۔ تین سال پڑھنے کے بعد میرا دل اکتا گیا۔ چند سال کے بعد پھر پڑھائی کا شوق ہوا تو جامعہ رحمانیہ دہلی میں چلا گیا۔ میں جامع مسجد دہلی کے دروازے پر کھڑا تھا۔ ایک شخص نے پوچھا: کس سے ملنا ہے؟ میں نے کہا: کسی سے نہیں، پڑھنے آیا ہوں۔ اس نے کہا: میرے ساتھ چلو، میں پیر ہوں، صبح مریدوں کے پاس جاؤں گا۔ میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ تین دن اس کے ساتھ رہا، پھر شیخ عطاء الرحمان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے فرمایا: داخلہ صرف شوال میں ہوتا ہے۔ تم شروع سال میں آنا۔ میں پھر انہی لوگوں کے پاس گیا۔ میرے پاس واپسی کا کرایہ نہیں تھا۔ انھوں نے مجھے کام تلاش کر کے دیا۔ ایک ماہ مزدوری کر کے میں نے کرایہ تیار کیا اور گھر آگیا اور گھر کا کام کرنے لگا۔ پھر چند ماہ بعد ملتان میں مولانا عبدالتواب صاحبa کے پاس گیا۔ انھوں نے فرمایا: مدرسہ بند ہوگیا ہے۔ میرے پاس صرف ایک طالب علم بخاری پڑھنے والا ہے، تم مولانا شمس الحق صاحب کے پاس چلے جاؤ۔ میں نے ان کے پاس جا کر پڑھنا شروع کر دیا۔ تین ماہ بعد نانا جیa کا خط آیا کہ ہمارے پاس آجاؤ اور بٹالہ میں ہی داخل ہوجاؤ۔

میں گھر گیا تو مجھے اجازت نہ دی گئی۔ میرے استاد محترم مولانا ہدایت اﷲ بٹالویa حج کر کے چک نمبر ۸۔۷/۱۸۶ میں تشریف لائے تو میں نے ان سے گزارش کی، مجھے پڑھائی کے لیے اجازت لے کر ساتھ لے جائیں۔ اجازت مل گئی تو میں ان کے ساتھ جا کر مدرسہ دار السلام میں داخل ہوگیا۔ ایک دن میرے نانا جیa گاؤں سے مدرسہ میں آئے اور مولاناa سے کہنے لگے کہ اس کو واپس گھر بھیج دو۔ مولانا صاحبa نے فرمایا: یہ ایک دفعہ دہلی چلا گیا، پھر ملتان گیا، اب کراچی جائے گا۔ اس کو پڑھنے دو۔ میں وہاں پڑھتا رہا، حتی کہ قیامِ پاکستان کا اعلان ہوگیا۔۔۔۔۔۔‘‘

تدریسی خدمات:

مولانا کی تدریسی خدمات شاندار علمی روایات کا مظہر ہیں۔ آپ ایک کامیاب مدرس تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں اس میدان میں قرآن فہمی اور حدیث شناسی کی جس عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ وہ ان ہی کا حصہ تھا۔ آپ نے ۱۹۷۸ء سے ۲۰۱۰ء تک مختلف دینی مدارس میں بطور صدر مدرس اور شیخ الحدیث کے تدریسی فرائض سر انجام دیے۔

انھوں نے آزمائشی مڈل سکول، ولہر بنگلہ فورٹ عباس میں بحیثیت عربی معلم اپنی عملی تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔ چار سال تدریس کرنے کے بعد آٹھ برس تک مختلف کاروبار کرتے رہے جب کہ اسی دوران میں جامع مسجد اہلِ حدیث -R۷/ ۱۸۶ فورٹ عباس میں خطباتِ جمعہ بھی ارشاد بھی فرماتے رہے۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انھوں نے اپنی زندگی تحریک اہلِ حدیث کی آبیاری کے لیے وقف کرنے کا عزم بالجزم فرمایا اور قرآن و حدیث کی تدریس میں مشغول ہوگئے۔ ۱۹۶۸ء میں آپa نے شیخ الحدیث مولانا عبدالقدوس ہزارویd کے مشہور مدرسہ ضیاء القرآن والحدیث چشتیاں سے تدریس کا آغاز فرمایا اور مسلسل نو (۹) برس تک یہیں پڑھایا۔ پھر دو سال چک نمبر D-B/ ۵۷ منڈی یزمان (ضلع بہاول پور) کی جامع مسجد اہلِ حدیث میں دعوت و ارشاد کا کام کرتے رہے۔

حضرت مولانا مرحوم اپنی تدریسی خدمات کے آغاز کے متعلق رقم طراز ہیں:

’’ سندِ فراغت حاصل کرنے کے بعد گھر آیا تو ولہر بنگلہ کے مڈل سکول میں عربی پڑھانے لگا۔ چار سال کے بعد گھر جا کر دکان بنا لی۔ ایک دن مونگ پھلی کے کھیت میں گوڈی کر رہا تھا کہ میری اولاد کا بڑا ماموں آیا۔ اس نے کہا کہ یہ کام تو ہم بھی کر لیتے ہیں۔ میں نے اسی دن کاشت کاری کو خیر باد کہا اور چشتیاں ضلع بہاول نگر میں مولانا عبدالقدوس ہزاروی صاحب کے پاس آیا اور مدرسہ میں تدریس شروع کر دی۔اور پھر یہ سلسلہ ۲۰۱۰ء تک جاری رہا۔‘‘

اسلوبِ تدریس:

جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور کے سینئر استاذِ حدیث مولانا محمد اصغر سلفی صاحب نے مولانا عبدالستار حنیفa کی تدریسی خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

’’مولانا کی علومِ حدیث پر وسیع و عمیق نظر تھی دورانِ تدریس علمی گفتگو فرماتے۔ آپ جب مسندِ حدیث پر رونق افروز ہوتے تو نہ صرف احادیث میں فقہی مباحث بیان فرماتے بلکہ طلبہ کو علوم الحدیث سے مکمل آگاہی دیتے۔ بطورِ خاص اسماء الرجال، راویوں کا تعارف، ان کی رحلاتِ علمیہ، بلند پایہ علمی کارناموں اور علمی عظمتوں کو آشکار کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ حدیث اور اہل الرائے کے خصائل کو بھی واضح فرماتے۔ آپ کی تدریس میں سادگی کا عنصر غالب رہتا مگر علوم و معارف کا ایک دریا بہا دیتے۔‘‘

تدریسِ حدیث سے خصوصی شغف:

یوں تو آپa نے متعدد مقامات پر جمیع علوم و فنون کی مروجہ کتب کا درس دیا لیکن تدریسِ حدیث سے آپ کو خصوصی شغف تھا اور اس میں آپ کو ملکہ بھی حاصل تھا۔ علومِ حدیث سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔ اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو آپa نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا۔ لکھتے ہیں:

مولانا حکیم عبدالحئی صاحب ناصر زادك اﷲ شرفاً وعزاً

السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ!

میں خیریت سے ہوں۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ مدرسہ کی رسید (وصولی رقم) ۲۰۰۱ء۔۱۲۔۲۵ کو موصول ہوئی۔ تمام جسم اﷲ کی مہربانی اور فضل سے تندرست ہے، صرف گھٹنہ چار ماہ پلستر لگنے کی وجہ سے مڑتا نہیں، سیدھا رہتا ہے۔ نماز کرسی پر بیٹھ کر ادا کرتا ہوں اور قضائے حاجت بھی۔

اﷲ کا شکر ہے کہ سبق پڑھاتا ہوں۔ اس معذوری کی حالت میں بھی اﷲ تعالیٰ نے خدمتِ دین سر انجام دینے کی ہمت دی ہے۔ موت تک ارادہ یہی ہے، مجھے اس دن موت آئے جس دن بخاری و مسلم کا سبق پڑھایا ہو۔ تکمیل اﷲ پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔

عبدالستار حنیف

چک ۱۸۶، بہاول نگر

تدریسی سرگرمیوں پر ایک نظر:

دینی مدارس میں تعلیمی سال کا اعتبار قمری سال کے حساب سے ہوتا ہے۔ اس کو ذہن میں رکھیے اور ۱۹۷۸ء سے لے کر ۲۰۱۰ء تک کی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیفa کی تدریسی سرگرمیوں پر نظر ڈالیے۔

۱۔آٹھ سال جامعہ محمدیہ فقیر والی (ضلع بہاول نگر)

۲۔آٹھ سال جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا (ضلع بہاول نگر)

۳۔ دوبارہ جامعہ محمدیہ فقیر والی میں دو سال

۴۔چھ سال جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور (ضلع رحیم یار خان)

۵۔ دوبارہ جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا میں دو سال

۶۔ جامعہ عثمان بن عفان منڈی یزمان میں ایک سال

۷۔ جامعہ صدیقیہ للبنات عارف والا میں ایک سال

۸۔ مدرسہ بنات الاسلام رحیم یار خان میں تین سال

۹۔ دوبارہ جامعہ صدیقیہ عارف والا میں دو سال

مولانا کا تالیف کردہ رسالہ: ’’شاہکار بخاری‘‘:

تدریسی مصروفیات کی وجہ سے مولانا a تصنیف و تالیف کی طرف توجہ نہ کر سکے، البتہ انھوں نے حضرت الامام بخاریa کی ’’بخاری شریف‘‘ کے متعلق ایک رسالہ ’’شاہکار بخاری‘‘ کے نام سے تالیف کیا تھا جو تاحال غیر مطبوعہ ہے۔ یہ رسالہ بڑے سائز کے ۶۳ صفحات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مولانا مرحوم نے شروع میں اپنی سندِ حدیث بھی رقم کی ہے۔ یہاں ہم اس رسالے کے عنوانات کی فہرست درج کر دیتے ہیں، تاکہ اہلِ فکر و نظر کو معلوم ہو سکے کہ اس رسالے کا اصل موضوع ہے کیا، نیز عام طبقہ بھی اس کی اہمیت و افادیت کو سمجھ سکے۔ عنوانات دیکھیے:

علمِ حدیث کا تعارف                     تاریخ

کتابت                                       لفظ سنت کی تحقیق

حدیث کی قرآن سے نسبت          حجیت حدیث

انکارِ حدیث کا فتنہ، ان کے فریبوں کا جواب

نبی اکرمe کا اندازِ بیان

اصولِ حدیث کی ضرورت

حدیث کا مقام و مرتبہ

کتبِ احادیث کے طبقات

صحیح بخاری

تراجم ابوابِ بخاری

معلقات بخاری

بخاری کے رواۃ

اس کے رواۃ پر تشیع کے الزام کی حقیقت

اسبابِ تالیف

خصائص بخاری (ابوب اور ذیلی ابواب )باب بلا ترجمہ `باب با ترجمہ

بخاری میں اقسامِ حدیث

اس میں آیاتِ قرآن سے استدلال

امام بخاری کا ایک گراں قدر قول

امام بخاری، حسب و نسب ،پیدائش شوقِ حدیث

رحلت علمی

حرمِ مکہ کے علماء سے ملاقات

تدوین الجامع الصحیح امام بخاریa اور صحیح بخاری پر احناف کے اعتراضات اور ان کے جوابات

علامہ کے نزدیک امام بخاریa کا مرتبہ ملا علی قاری کے نزدیک امام بخاری معصوم عن الخطاء نہ تھے، اعتراضات اور جوابات ،وفات وغیرہ وغیرہ۔

اوصاف اور خوبیاں:

مولانا مرحوم اپنے بلند مقام، علمی تفوق، کبار علماء کے استاذ ہونے کے باوجود، درویش صفت، ملنسار اور تواضع و انکساری کے باب میں منفرد حیثیت کے حامل تھے۔ قدرت نے منور چہرے کے ساتھ مناسب قد و قامت اور خوب سلیقے سے نوازا تھا۔

آپ کے ایک شاگرد رشید پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفرa نے آپ کے اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’میرے شیخ ہمت، جراَت، دینی غیرت، اخلاص اور دین کی دعوت کو عام کرنے والے عظیم انسان تھے۔ آپ کا حافظہ قوی تھا۔ وہ شیخ الحدیث تھے۔ کثرت سے احادیث حفظ تھیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ شیریں بیانی اور دل گداز و دل نواز گفتگو سے خوب نوازے گئے تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ذہن ثاقب اور مضبوط حافظہ عطا فرمایا تھا۔ علمِ حدیث میں آپ مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ علم و ادب و لغت، صرف و نحو اور معانی و بلاغت، فنِ تاریخ اور قرآنیات میں آپ بلند و بالا مینار تھے۔ تواضع کا یہ عالم تھا کہ اپنے ہم عصر بزرگوں کا نام ادب و احترام سے لیتے۔ عبادت آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ علالت کے دوران میں بھی تہجد کی نماز کبھی نہ چھوڑتے۔

حضرت استاذِ محترم صبر و استقامت کا پیکر تھے۔ وہ تاحیات دینِ حق کی آبیاری کے لیے تن، من، دھن کی قربانی پیش کرتے رہے اﷲ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنتِ فردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر فائز کرے۔ آمین‘‘

نامور تلامذہ:

شیخ الحدیث مرحوم و مغفور کم و بیش اڑتیس (۳۸) برس درس و تدریس کی خدمت سے جڑے رہے۔ اس طویل عرصہ میں بلا مبالغہ سینکڑوں مرد و خواتین نے آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ چند حضرات کے نام یہ ہیں:

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفرa

شیخ الحدیث مولانا عبداﷲ سبحانی

مولانا حبیب الرحمن یزدانی

پروفیسر میاں عبدالمجید

پروفیسر محمد یونس

مولانا عبداﷲ شاہین

مولانا محمد خالد ہیڈ ماسٹر

مولانا عبدالرحیم

مولانا محمد اسلم

مولانا عمر فاروق

مولانا محمد ارشد

مولانا محمد اکبر محمدیa

مولانا محمد ثاقب

مولانا عطاء اﷲ

مولانا ضیاء الحق جانباز لیاقت پور

آل و اولاد:

۱۹۶۰ء کی دہائی میں ان کی شادی فورٹ عباس کے چک -R۹/ ۲۳۹ میں ہوئی۔ اﷲ تعالیٰ نے انھیں پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں عطا کیں۔ ساری اولاد شادی شدہ اور خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔

عبدالغفار (کاشتکار)

عبدالرزاق (سعودی عرب مقیم)

عبدالجبار (کاشتکار)

عبدالواحد (گورنمنٹ ہائی سکول فورٹ عباس میں ایس ایس ٹی ہیں)

عبدالوہاب (دکان دار)

دو چھوٹی بیٹیاں جامعہ تعلیم الاسلام کھچی والا کی فاضلات میں سے ہیں اور وہاں تین سال تک پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ ایک نواسہ شکیل الرحمن حافظ قرآن ہے۔ ایک نواسہ عبدالحنان جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث شکار پوری گیٹ بہاول پور سے فارغ التحصیل ہو کر وہیں دعوت کا کام کر رہا ہے۔ اسی طرح آپ کے خاندان کے دو عالمِ دین بھی دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں:

۱۔مولانا احسان اﷲ صارم (فاضل جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن۔ ایم اے، بی ایڈ)

۲۔مولانا قاری عامر شہزاد (فاضل جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن)

سفرِ آخرت:

مولانا عبدالستار حنیف کثرتِ محنت دماغی کی وجہ سے کچھ عرصہ صاحبِ فراش رہے۔ آخر کار ۲۶؍ جولائی ۲۰۱۶ء کو داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کی وفات سے جماعت اہلِ حدیث نہ صرف ایک مایہ ناز عالم سے، بلکہ ملک و ملت کے ایک ایسے خاموش اور درویش صفت راہنما سے بھی محروم ہوگئی جن کا وجود فتنوں کے دور میں امت کی ڈھارس کا باعث ہوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا مرحوم کا نمازِ جنازہ مولانا عبدالقدوس صاحب (چشتیاں) نے پڑھایا۔

اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی دینی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے انھیں جنت فردوس میں مقامات خاص سے نوازیں اور ان کے تلامذہ اور آل و اولاد کو صدقہ جاریہ بنا کر ان کے فیوض و مآثر کو قائم و دائم رکھنے کی توفیق خاص مرحمت فرمائیں۔ آمین

ہر گز نہ میرد آں کہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوامِ ما

مراجع و مصادر:

۱۔تذکرہ علمائے اہلِ حدیث پاکستان۔ از پروفیسر یوسف سجاد (سیالکوٹ)

۲۔مکتوب حکیم رانا مدثر محمد خان (سمندری) بنام: راقم حمید اﷲ خان عزیز۔

۳۔’’شاہکار بخاری‘‘۔ از شیخ الحدیث مولانا عبدالستار حنیف (غیر مطبوعہ)

۴۔انٹرویوز:

پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر

مولانا حافظ محمد اسحاق فاروقی (احمد پور شرقیہ)

مولانا محمد اصغر سلفی (جامعہ محمدیہ اہلِ حدیث خان پور)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *