درس حدیث (رباعیات)

-219- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ دَعُوهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ

موسی بن اسماعیل، ہمام، اسحاق ، انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے ایک اعرابی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، جب وہ فارغ ہو چکا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔

Narrated Anas bin Malik: The Prophet saw a Bedouin making water in the mosque and told the people not to disturb him. When he finished, the Prophet asked for some water and poured it over the urine

شرح الکلمات:
رَأَىاس ایک آدمی نے دیکھا
أَعْرَابِيًّادیہات کے رہنے والا، بدوی
يَبُولُوہ ایک آدمی پیشاب کرتاہے یا کرے گا
دَعُوهُاس کو چھوڑ دو
فَرَغَوہ ایک آدمی فارغ ہوا
دَعَاطلب کیا
مَاءپانی
فَصَبَّهُپس انڈیل دیا اس کو
تراجم الرواۃ :

1نام ونسب: موسی بن اسماعیل

کنیت: ابو سلمہ المنقري التبوذكي البصري

ولادت: ابو جعفر کے زمانہ میں ولادت ہوئی۔

وفات: 223ہجری بصرہ میں وفات پائی۔

محدثین کے ہاں رتبہ: الحسین بن الحسن الرازی فرماتے ہیں کہ میں یحی بن معین سے موسی ابن اسماعیل کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ موسی بن اسماعیل ثقہ اور مأمون تھے اور امام الذہبی کے ہاں ثقہ تھے۔

2نام ونسب : ھمام بن يحيى بن دينار العوذي المحلمی

كنیت: ابو عبد اللہ و أبو بکر البصری

محدثین کے ہاں رتبہ: عبد الرحمن بن ابی حاتم الرازی اپنے والد کے حوالے سے ہمام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ثقہ صدوق تھے۔

وفات: 164ہجری یا 165 ہجری

3نام ونسب : إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة بن سهل الأنصاري کا ترجمہ حدیث نمبر23 میں ملاحظہ فرمائیں۔

4نام ونسب: انس بن مالک کا ترجمہ حدیث نمبر2 میں ملاحظہ فرمائیں۔

تشریح:

امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسانی پیشاب کامعاملہ بہت اہم اور سنگین ہے۔ اس میں معمولی سی بے احتیاطی سے عذاب قبر کا اندیشہ ہے۔ ایک طرف اس قدر اہمیت کا بیان، جبکہ دوسری طر ف اس کے برعکس ایک اور صورت سامنے آتی ہے کہ ایک اعرابی آیا، مسجد نبوی میں نماز ادا کی اورمسجد ہی کے کونے میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اس کی سخت سرزنش کرنا چاہتےتھے، لیکن آپ نے انھیں منع فرمادیا۔ اس صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشاب کا معاملہ اتنااہم نہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مذکورہ روایت کے پیش نظر یہ خیال کرنا صحیح نہیں کہ معاملہ سنگین نہیں بلکہ اس مقام پر ایک اوراصول کے تحت تخفیف کی گئی ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ جب انسان دو مصیبتوں میں گھرجائے تو اسے آسان مصیبت اختیار کرلینی چاہیے۔ اس مقام پر دومصیبتیں یہ تھیں: ایک مسجد کی آلودگی وگندگی۔ دوسرے، اعرابی کا بیماری کا اندیشہ۔ دیہاتی نے تو پیشاب شروع کردیاتھا، اب فرش کی حفاظت تو نا ممکن تھی جوہوناتھا وہ ہوچکاتھا، البتہ اس کی تلافی ممکن تھی لیکن اگر اعرابی کو پکڑا جاتا تو اس کے بھاگنے سے معاملہ مزید خراب ہوجاتا، اس کی بیماری بلکہ جان کو بھی خطرہ تھا، اس لیے ہلکی مصیبت کواختیار کرلیا گیا کہ وہ اطمینان سے پیشاب کرلے، بعد میں آپ نے تین کام کیے: پانی کا ایک ڈول منگوایا اور اسے اعرابی کے پیشاب پر بہادیاگیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کونصیحت فرمائی کہ ہمارا کام سختی کرنا نہیں بلکہ لطف ومہربانی سے پیش آنا ہے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، حدیث:220)

اعرابی کو نرمی سے سمجھایا کہ مسجدیں نماز، اللہ کے ذکر اور تلاوت قرآن کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں۔ گندگی پھیلانے سے ان کا تقدس مجروح ہوتاہے۔ (صحیح مسلم، الطھارة، حدیث: 661(285) )

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نےلکھا ہے کہ اس دیہاتی کو پیشاب سے اس لیے نہیں روکا گیا کہ وہ برائی کا آغاز کرچکا تھا جس کوروکنے سے اس میں مزید اضافہ ہوجاتا۔ اگر اسے روکا جاتا تو دو کاموں میں سے ایک ضرور ہوتا: اگر وہ مارے خوف کے پیشاب روک لیتا تو اس سے ضرر اور بیماری کااندیشہ تھا۔ اگروہ پیشاب نہ روکتا اور ادھر اُدھر بھاگنا شروع کردیتا تو مسجد کے بہت سے حصے اس سے متاثر ہوتے۔ مزید برآں اس کے کپڑے بھی پلید ہوجاتے۔ (فتح الباري:421/1)

جبکہ یہ بھی مسئلہ ہے کہ زمین اور دیگر جمادات (پتھر،شیشہ وغیرہ) پر نجاست لگ جائے تو اس کے عین(اصل) کو دور کر دینا اور پیشاب کی صورت میں پانی بہا دینا کافی ہے۔

admin

Share
Published by
admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

5 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

5 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

5 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

5 days ago