اس شخص سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور وہ مسلمان ہونے کا داعويدارہو ۔
اس آیت میں اللہ نے دعوت الیٰ اللہ کے ساتھ عمل صالح کو خاص طور پر جوڑا ہے، کیونکہ اگر داعی اپنے عمل میں کمزور ہو یا بے عملی کا شکار ہو تو بہت خلوص کے باوجود مدعو اس سے متاثر نہیں ہوتا اس لئے کہ داعی کا اپنا عمل ہی اس کی دعوت کو جھٹلا رہا ہے، تو وہ دوسرے پر کس طرح اثر انداز ہوگا۔ اسلام ایک عالمگیراورآفاقی مذہب ہے، یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کابذریعۂ خاتم النبیین سیدالمرسلین محمد عربیﷺ مخلوق کے نام ایک ابدی صلاح وفلاح پرمشتمل پیغام و دعوت ہے۔ اُمتِ مسلمہ اُس آخری نبی کی آخری امت ہے جواِس مبارک پیغام الٰہی کی حامل ہے۔ اس اِمت کایہ خاصہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک خاص اورمبارک پیغام ودعوت لے کرآئی ہے، لوگوں کواس کی طرف بلانا اورتمام اطراف عالم میں اس کی دعوت کوپھیلانا یہ اُمت کے افراد کی زندگی کا فریضہ ہے۔
اُمتِ محمدیہ کا مبارک فریضہ قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ کے نصوص اورنبی اکرم اکی سیرت مقدسہ سے بالکل واضح طورپرثابت ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ارشادباری تعالیٰ ہے:
’’(اے مسلمانو!)تم بہترین امت ہوجولوگوں (کی نفع رسانی) کے لئے نکالی گئی، تم اچھے کاموں کاحکم کرتے ہواوربرے کاموں سے منع کرتے ہو‘‘۔
اس آیت کریمہ میں صاف اورکھلے لفظوں میں یہ بتلایاگیاہے کہ مسلم امت کاوجودہی اس لئے ہواہے کہ وہ اُممِ عالم کی نفع رسانی کافریضہ سرانجام دے، خیرکی طرف بلائے، معروف کی ترویج کرے اور منکرات سے روکے۔ اس سے بڑھ کرایک دوسری آیت میں اللہ رب العزت نے اس کام کے لئے ایک مستقل جماعت کاہوناضروری قراردیا، قرآن مجیدمیں ارشادِباری تعالیٰ ہے:
’’اورچاہئے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہوجولوگوں کونیکی کی طرف دعوت دیتی رہے اورامربالمعروف ونہی عن المنکرکرتی رہے اوریہی وہ لوگ ہیں جوفلاح پانے والے ہیں ‘‘۔
فریضۂ دعوت میں نبی اکرم اکی نیابت اس سے مزیدایک قدم اورآگے بڑھ کرامت مسلمہ فریضۂ دعوت میں نبی اکرم ﷺ کی جانشین اور نائب ہے، اللہ رب العزت نے قرآن مجیدمیں جہاں رسول اکرم ﷺ کافریضۂ منصبی بیان فرمایا، وہاں یہ بھی ارشاد فرمایاکہ یہ کام رسول معظم ﷺ کا ہے اورنبی اکرم کوحکم دیاکہ وہ اپنی اُمت کویہ بتلادیں کہ یہ کام متبعین کابھی ہے، اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے:
’’اے نبی !آپ فرمادیجئے، کہ یہ میراراستہ ہے میں لوگوں کواللہ کی طرف بلاتاہوں بصیرت کے ساتھ، یہ میرااورمیری اتباع کرنے والوں کابھی کام ہے‘‘۔
دعوت الی اللہ کی ڈھیروں فضیلت وارد ہوئی ہے ،قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے فرمایا:
اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں۔
اے (برگزیدہ) رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (وہ سارالوگوں کو) پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اس (ربّ) کا پیغام پہنچایا ہی نہیں، اور اللہ (مخالف) لوگوں سے آپ (کی جان) کی (خود) حفاظت فرمائے گا۔ بے شک اللہ کافروں کو راهِ ہدایت نہیں دکھاتا۔‘‘
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے (دوسروں کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کے لیے اس راستے پر چلنے والوں کی مثل ثواب ہے جبکہ ان کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ جس نے گناہ کی دعوت دی اس کے لیے بھی اتنا گناہ ہے جتنا اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں پر ہے جبکہ ان کے گناہوں میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی۔(صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ…..، الحدیث:2674)
داعی کو اپنے اسلوب دعوت کو مؤثر بنانے کے لئے جہاں ہمت وحوصلہ ،صبر تحمل ، قوت برداشت ، برد باری وجفاکشی ،اخلاص وللہیت اور فکر ولگن کی بہت ضرورت ہوتی ہے وہیں طریقہ کار اوراپنے اسلوب کو مؤثر بنانے کے لئے استقامت فی العمل ، گہرے علم ومطالعہ اور اللہ والوں کی صحبت یافتہ ہونے کی بھی اہم ضرورت ہے ۔
پیغمبر اسلام کا نصب العین تھاجیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہرقل اور مقوقس وغیرہ حکمرانوں کے پاس قاصد بھیجے اور ایمان واسلام کی دعوت دی۔ اس سے آپ کا مقصد تھاکہ دعوت کا دروازہ کھلے، عام لوگوں تک رسائی ہوجائے تاکہ ہراک کو دعوت دی جاسکے۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کسی کو حاکم یا گورنر بناکر بھیجتے تھے تو یہ تاکید فرمادیتے کہ ’’آپ کی رعایا مسلمان ہو یا ذمی ہر ایک کے سامنے آپ اسلام کا تعارف کرائیں اسلامی محاسن اور بشارتیں بیان کریں اور انہیں دینی امور سکھائیں‘‘۔
ان جملوں سے نہ صرف اسلامی جہاد بلکہ دعوت وتبلیغ کی روح کو بھی سمجھاجاسکتا ہے۔ اس طرح رسول مکرم ﷺ کی سیرت سے دعوت وتبلیغ کے اصولوں پر روشنی پڑتی ہے کہ آپ اس بات کا انتظار نہیں فرماتے تھے کہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں بلکہ خود عام میلوں، ٹھیلوں اور بازاروں میں پہنچ کر مختلف علاقوں کا سفر کرکے وہاں کے رئیسوں کے گھروں پر دستک دیکر دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دیتے تھے جیسا کہ طائف وغیرہ کے واقعات سے معلوم ہوتاہے۔حج کے موسم میں بھی آپ کا کام یہی ہوتا کہ ایک ایک قبیلہ کے ذمہ دار کے پاس تشریف لے جاتے اور ان کے تلخ وترش جواب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پیغام حق پہنچادیتے ۔
اسلام کی دعوت کا دائرہ بہت وسیع ہے رسول اللہ ﷺ نے جہاں غیرمسلمانوں کو اسلام کا پیغام پہنچایا اپنے دعوتی نمائندے بناکر بھیجے، وہیں مسلمانوں کے لئے بھی سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ اور سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن اسی مقصد کے لئے روانہ کیا۔ ’’دعوت وتبلیغ‘‘ کی اسی کشش اور طاقت کا نتیجہ ہے کہ جن سلجوقیوں ، ترکوں اور تاتاریوں کو مسلمانوں کی عظیم سیاسی طاقت وقوت نہ روک سکی ان کے بڑھتے ہوئے قدم کو دین کی دعوت نے نہ صرف روک دیا بلکہ ان کے دلوں کو بھی مسخر کردیا۔
داعی کی دعوت صرف اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول کریم ﷺ کی سنت کی طرف ہوتی ہے۔دعوت دینے والوں پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کے لیے اس چیز کو اسی طرح واضح کریں جس طرح کہ رسولوں نے کیا اور وہ چیز اللہ تعالیٰ کے صراطِ مستقیم کی طرف دعوت ہے اور وہ ہی اللہ تعالیٰ کا دین حق ہے اور وہ ہی اس لائق ہے کہ اس کی طرف بلایا جائے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’اپنے رب کے راستے کی طرف بلایئے‘‘۔ اللہ جل جلالہ کا راستہ ہی اسلام ہے اور وہی صراط مستقیم ہے اور وہ دین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنے نبی کریم ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ صرف اسی کی طرف دعوت دینا واجب ہے نہ کہ فلاں کے مذہب کی طرف اور نہ ہی فلاں کی رائے کی طرف۔ اس بات پر قرآن عظیم اور رسول اللہ ﷺ کی ثابت شدہ سنت مطہرہ دلالت کرتی ہے۔ کتاب وسنت میں اس بارے میں کثیر تعداد میں دلائل موجود ہیں۔ علمائے امت نے بھی اس بات کو خوب اچھی طرح واضح کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول ﷺ کی دعوت قبول کرو، جب وہ تمہیں اس چیز کے لیے دعوت دیں، جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔‘‘
امام حاکم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’اے لوگو! یقیناً میں تم میں ایسی چیز چھوڑکے جارہاہوں، کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھام لو گے تو کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے، اللہ تعالیٰ کی کتاب اور ان کے نبی ﷺ کی سنت۔‘‘
اس حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ امت کو گمراہی سے محفوظ کرنے والی چیز کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے کسی پیروکار سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ گمراہی سے بچانے والی چیز کو چھوڑ کر امت کو کسی اور چیز کی طرف بلائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر موسی علیہ السلام (بھی) تمہارے لیے ظاہر ہوں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرو تو یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک جاؤگے اور اگر وہ زندہ ہوتے اور میری نبوت کو پالیتے تو وہ ضرور میری اتباع کرے۔‘‘
جب نبی کریم ﷺ کی سنت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا شرف پانے والے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی اتباع گمراہی ہے تو پھر کسی سچے مسلمان کے بارے میں یہ تصور کیسے کیاجاسکتاہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سنت کی بجائے کسی اور کے قول وفعل کی طرف بلائے گا۔
ملا علی القاری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں:
’’ کتاب وسنت سے اعراض کرکے حکماء وفلاسفہ کی کتابوں کی طرف متوجہ ہونے سے انتہائی قوی انداز میں منع کیاگیاہے۔‘‘
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…