کچھ اپنے بارے میں

نام: محمد سرور، گوہر، ابو انس

10 ستمبر 1962ءکو ایک سادہ مسلمان گھرانے میں پیدائش ہوئی۔ والدین نے محمد سرور نام رکھا۔ میٹرک کے داخلہ فارم بھیجنے کا وقت آیا تو استاد محترم نے اپنے ایک گوہر کے تخلص والے دوست سے متاثر ہو کر میرا تخلص بھی گوہر رکھ دیااور جب جامعہ میں آئے تو میرے کمرے میں ابو عمر عمادالدین البکری تھے ، انہوں نے کنیت ابو انس رکھ دی۔ اس طرح مجھے ابو انس محمد سرور گوہر کہا جانے لگا۔ 1978ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1979ء میںPAF میں ملازمت اختیار کی۔ ٹریننگ وغیرہ مکمل کرنے کے بعد شاہراہ فیصل بیس پر پوسٹنگ ہوئی۔ اس بیس پر ہفتہ وار درس قرآن کا اہتمام کیا جاتا تھا اور درس کے لیے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے شیوخ تشریف لایا کرتے تھے۔ بالخصوص سلیمان خان صاحب، خالد سیف صاحب، فاروق قصوری صاحب اور ارشدزاہد وزیر آبادی رحمه الله ۔ ان دروس اور مدرسین کے علم و فضل سے متاثر ہو کر میں نے بھی جامعہ ابی بکر میں داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں مذکورہ بالا شیوخ نے راہ نمائی اور معاونت فرمائی۔ الحمدللہ مجھے وہاں کے جید شیوخ کرام سے فیض حاصل کرنے کا موقع نصیب ہوا۔

اساتذہ کرام

فضیلۃالشیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب، فضیلۃالشیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب، فضیلۃالشیخ عطاء اللہ ساجد صاحب، فضیلۃالشیخ شبیر بن نور صاحب، فضیلۃالشیخ نصیر احمداختر صاحب، فضیلۃالشیخ حسین محمد حسین صاحب المصری، فضیلۃالشیخ حافظ مسعود عالم صاحب، فضیلۃالشیخ حافظ محمد شریف صاحب اور میرے مربی خاص حافظ محمد منشاء صاحب رحمہ اللہ۔

تمام اساتذہ کرام انتہائی قابل اور اپنے اپنے مضمون میں ماہر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ انتہائی مشفق و مہربان بھی تھے۔ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب کے تو کیا ہی کہنے۔

ہم جماعت ساتھی

فضیلۃالشیخ ابو نعمان بشیر احمد، محمدیوسف ضیاء صاحب، ڈاکٹر عبد الحئی مدنی صاحب،شبیر احمد سبحانی صاحب، الشیخ محمد یقوب صاحب، محمد رفیق رحمانی صاحب، جمال الدین صاحب، لالہ معاذ صاحب، جنود صاحب (سری لنکا) و دیگر حضرات شامل ہیں۔ان حضرات میں جو صاحب جس جس مقام پر ہیں، اس سے ہماری کلاس کی لیاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عزیزم ڈاکٹر عبدالحئی صاحب کے ساتھ مسابقت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ جیسا کہ محترم ابراہیم محمدی صاحب اور جناب شفیق الرحمان فرخ صاحب کے درمیان رہتا تھا۔ استاد شبیر احمد نورانی صاحب فرمایا کرتے تھے: ’’جس دن سرور گوہر نے سبق نہ سنایا تو میں اسے ڈیسک پر کان پکڑوائوں گا۔‘‘ لیکن ان کے صرف نظر یا اللہ تعالی کے مجھ پر فضل و کرم کی وجہ سے وہ موقع نہ بن سکا۔

استاد محترم حسین محمد حسین المصری فرمایا کرتے تھے:

ورقة سرور، أنا أشم فقط

یہ ان کی مہربانی تھی کہ انہیں مجھ پر ’’اندھا‘‘ اعتماد تھا۔

اساتذہ کرام میں سے بقیۃالسلف مولانا عائش محمد صاحب کے دروس، بالخصوص سورۃ یوسف کے ، بہت ہی علمی اور فکر انگیز ہوا کرتے تھے۔

ماحول

جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، ایک بین الاقوامی یونی ورسٹی هے لیکن ہمارے مربی اعظم محترم پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے خلوص اور ان کی مقبول دعائوں کی وجہ سے طلباء میں نفلی عبادات، تہجد اور سوموار و جمعرات کے روزے کا بہت ہی اہتمام ہوا کرتا تھااور روزے کا سارا بندو بست جناب محمد ابراہیم المحمدی صاحب کیا کرتے تھے اور وہ کسی نہ کسی طرح وارڈن عبدالرحمن صاحب سے سامان سحری حاصل کر لیتے تھے۔ جب کہ تہجد کے وقت جامعہ کا کوئی کمرہ ایسا نہیں ہوتا تھا جہاں سے اللہ تعالی کے حضور مناجات و بکاء کی صدائیں بلند نہ ہو رہی ہوتیں۔یہ سب اللہ تعالی کا خاص فضل و کرم تھا۔ کاش کہ وہ بہاریں پھر لوٹ آئیں۔

حس مزاح

اساتذہ کرام میں حس مزاح بھی تھی اور وہ بھی ادبی انداز میں۔ مثلاً: (معذرت کے ساتھ) محمد یوسف ضیاء صاحب پر دوران سبق کچھ زیادہ ہی سکینت نازل و طاری ہوتی تھی۔ وہ اتباع سنت کے جذبہ کے پیش نظر قیلولہ فرماتے تو استاد محترم عطاء اللہ ساجد صاحب فرماتے:

(( یوسف أعرض عن ھذا ))

ہمارے ایک کلاس فیلو، طلعت الصینی ہوتے تھے۔ جس دن وہ کلاس میں نہ آتے تو الشیخ ساجد صاحب حاضری کے وقت فرماتے:

طلعت ! ما طلع الیوم

میرے کمرے کے ساتھی عماد الدین البکری سوڈانی تھے۔ ہم اپنے پاکستانی مہمانوں سے ان کا تعارف کراتے وقت ’’بکری‘‘ کہتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں اردو والی بکری کا پتا چلا تو پھر تعارف کے وقت وہ وضاحتی بیان ارشاد فرماتے:

بکری، ’’But not goat‘‘

ایک دفعہ قاری محمد علی صاحب جامعہ کے کچھ اساتذہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور ایک البنانی طالب علم بھی ان کے ساتھ تھے جن کا رنگ سرخ و سفید تھا، تو قاری محمد علی صاحب جو کہ عربی بولنا سیکھ رہے تھے، اس طالب علم سے کہنے لگے:

یا الشیخ! لونك حمار

امتحانات

میں نے جامعہ میں پڑھتے ہوئے کراچی یونی ورسٹی سے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے امتحانات پاس کیے۔ ایم اے عربی میں میں نےدوسری پوزیشن حاصل کی اور وفاق المدارس میں پورے پاکستان میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ سب اللہ تعالی کا فضل و کرم، والدین کی دعائوں اور اساتذہ کرام کی محنت و تربیت کا ثمرہ تھا۔

1990ء میں کراچی سے کامرہ پوسٹنگ ہو گئی۔ وہاں حضرو شہر کے پاس ہی گائوں پیر داد میں محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے تعارف ہوا اور ان سے اکتساب فیض کیا۔

1997ء میں PAFسے ریٹائر ہوا تو محترم حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی وساطت سے اسلامی کتب کی اشاعت کے بین الاقوامی ادارے دارالسلام سے تعارف ہوا اور وہاں بطور پروف ریڈر کام کیا۔ بڑے علماء کی تحریریں پڑھنے کا موقع ملااور یوں ترجمے کا شوق پیدا ہوا تو میں نے اللہ تعالی کے خاص فضل و کرم سے کتب حدیث کے ترجمے کا کام شروع کیا جو ہنوز جاری ہے۔ اللہ تعالی اسے جاری و ساری رکھے، اسے میرے لیے، میرے والدین اور اساتذہ کرام کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

اسی دوران 1999ء میں بطور لیکچرر اسلامیات سلیکشن ہوئی اور اب اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہا ہوں ۔ ان شاء اللہ ستمبر 2022ء میں ریٹائرمنٹ ہے۔

مترجم کتب کی تفصیل
1۔الصحاح الستہ الا الصحیح للبخاری رحمہ اللہ
2۔ ریاض الصالحین
3۔ بلوغ المرام
4۔ المعجم الاوسط
5۔ السنن الکبری
6۔ دلائل النبوۃ
7۔ المسند البزار
8۔ المسند اسحاق بن راہویہ
9۔ المسند علی بن ابی طالب
10۔ المسند عائشہ
11۔ الدین الخالص (مولانا محمد امین اللہ پشاوری)
12۔ الفوائد (مولانا محمد امین اللہ پشاوری)
13۔ الاوامر والنواھی
14۔ الکبائر
15۔ تحفۃالعروس
16۔ مشکوۃ شریف
17۔ سیرت ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ
18۔ سیرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
19۔ المعجم الکبیر (جاری ہے)

یہ مختصر سی کچھ یاد داشتیں ہیں جو عرض کر دی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالی جامعہ کے تمام اساتذہ و طلباء کی دین حنیف کی سر بلندی و فروغ کے لیے کی جانے والی مساعی کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائے اور اسے فضیلۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کے اس فیض کو تا قیامت جاری رکھے۔ ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم وصلى الله على النبي

By editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *