حفظ کی کلاس میں قاری فضل الرحمان صاحب اور قاری عمر بشیر صاحب
معہد اور کلیہ کے اساتذہ میں شیخ عطااللہ ساجد صاحب، شیخ نصیر احمد اخترصاحب، شیخ حافظ محمد شریف صاحب ،شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب ،شیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظهم اللہ تعالی ورعاهم
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی جامعہ کے بانی شیخ ظفراللہ رحمہ اللہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماے اور ان کے صاحبزادے شیخ ضیاء الرحمن صاحب کی کاوشوں کو کامیابی عطا فرمائے۔
آ خر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے اور میرے بعد میرے بچوں کو جامعہ کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر جب اترا تو باہر آکر ایک انگریز سے پوچھا کہ برمنگھم جانے کے لیے بس کہاں سے ملے گی، تو اسنے جو کہا وہ تو سمجھ نہ آیا البتہ اسکے ہاتھ کے اشارے سے سمجھ گیا کہ بسوں کا اڈا کس طرف ہے۔
داخلہ میرا آکسفورڈ ہوا تھا جو کہ ائیرپورٹ سے صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھا، مگر نا سمجھی اور اکیلا ہونے کی وجہ سے برمنگھم چلا گیا اور ایک دوست کے عزیز واقارب کے ہاں اپنا سامان رکھ کر واپس آکسفورڈ یونیورسٹی آیا اور حاضری لگوائی اور سٹوڈنٹ کارڈ لیکر اپنی رہائش کا انتظام کیاپھر برمنگھم گیا، سامان اٹھایا اور واپس آکسفورڈ آگیا۔
نیا ملک نیا شہر، کچھ سمجھ نا آرہا تھا کہ کیسے اپنے آپ کو settle كروں
قاری فضل الرحمان صاحب جن سے میں نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی 1982-83 میں قرآن پاک حفظ کیا تھا، ان کے بارے پتہ چلا کہ وہ بھی UK میں ہی رہتے ہیں۔ ان کی تلاش شروع کی تو برمنگھم کی مرکزی مسجد سے پتہ مل گیا۔
قاری فضل الرحمان صاحب رحمہ اللہ میرے محسن اور استاد محترم تھے۔ پرائمری کی تعلیم خانیوال سے حاصل کی۔ایک بار چھٹیوں میں شادی کے موقع پر کراچی آنا ہوا۔والد گرامی جو کہ کراچی کی جماعت غرباء سے منسلک تھے کہا کہ کراچی میں یہ نیا مدرسہ قائم ہوا ہے ، داخلہ چونکہ ٹیسٹ بیس ہے لہذا اگر کامیاب ہوجائیں تو داخلہ لے لینا۔ میرے بڑے بھائی عبداللطیف انور جو کہ علامہ احسان الہی ظہیر شہید کے چہیتے کارکن تھے ان کے ہمراہ جامعہ ابی بکر آیا ،ٹیسٹ دیا اور داخلہ ہوگیا۔
جامعہ میں داخلہ گویا کہ کامیابی کی سیڑھی پر پہلا قدم تھا۔ قاری فضل الرحمن صاحب کی حفظ کی کلاس میں جگہ ملی اور اللہ تعالی نے ایک عظیم استاد کی نعمت سےنوازا۔ عموماً مدارس میں حفظ کے بچوں کی پٹائی ایک معمول تھی لیکن سبحان اللہ ہمارے پیارے قاری صاحب کبھی بھی ڈنڈا تو دور کی بات کبھی ہلکہ تھپڑ بھی نہ مارا۔ دو سال سے کم عرصہ میں حفظ مکمل کیا۔ والد محترم کو میں نے اپنی حفظ قرآن کی تقریب میں زور لگا کر بلوایا۔ اور الحمدللّٰہ شیخ عبدالغفار المدنی کے ہمراہ کئی اساتذہ نے میری دعوت کو شرف قبولیت بخشا۔
حفظ کے ساتھ ساتھ جامعہ میں سکول کی تعلیم بھی جاری تھی۔ مڈل تک تعلیم کا انتظام تھا۔ جیسے ہی مکمل ہوا تو دل کیا کہ آگے بھی پڑھنا ہے۔ جامعہ کے قریب عنابی ہوٹل ہے اور وہاں اکثر چائے کے لیے جانا ہوتا تھا۔ اس ہوٹل کے قرب میں گورنمنٹ سیکنڈری سکول تھا اور ایک دن میں ہمت کرکے سکول گیا اور ہیڈ ماسٹر صاحب سے داخلہ کی درخواست کی۔ میرے مڈل کے امتحان میں بڑے اچھے نمبر تھے اور حفظ بھی تھا تو الحمدللّٰہ داخلہ ہوگیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ گورنمنٹ اسکول شروع ہوتا تھا 12:30پر اور جامعہ میں کلاس ختم 12 بجے ہوتی تھی جب کہ جامعہ سے سکول کا سفر 20 سے 25 منٹ کا تھا۔
ایک کٹھن مرحلہ تھا اور بہت مشکل تھا کہ میرےاسکول والوں کو میرا یہ عذرقبول ہوگا کہ نہی؟۔ قاری فضل الرحمن صاحب نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک بار پھر شفیق باپ جیسا رول ادا کیا اور جامعہ کے باورچی صاحب سے درخواست کی کہ مجھے کھانا حفظ کی چھٹی کے فورا بعد دے دیا جاے۔ اسکول وقت پر پہنچنا ناممکن تھا۔ لہذا ھیڈماسٹر صاحب نے جامعہ کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے مجھے رعایت بخشی اور اسکول کا امتحان A»plus Grade» سے پاس کیا۔
یہ میری زندگی کے teenage دور کے بہت اچھے دن تھے۔ کرکٹ کھیلنا، گھومنا پھرنا، اور سیروتفریح میں بہت مزا آتا تھا۔ ایک بار دو مدارس کے مابین کرکٹ میچ ہوا اور اس میں شیخ عبداللہ ناصر رحمانی میری بیٹنگ سے خوش ہوکر مجھے اسوقت 50 روپے انعام کے طور پر دئیے۔ محترم شیخ ظفراللہ صاحب نے ہمیشہ طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کا بھی ہر طرح سے خیال رکھا۔ وہ ہمیشہ طلباء میں اعلی تعلیم کی ترغیب دیتے ، ان کی روحانی تربیت کے ساتھ جسمانی نشونما اور اعلی قسم کے کھانے اور دماغی قوت کیلیے بادام وغیرہ میں بھی کوئی کمی نہ آنے دیتے تھے ۔ اللہ تعالی شیخ محترم کے پر خلوص اقدامات پر انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
حفظ کی کلاس کے بعد معھد کی کلاس میں داخلہ ہوا اور ساتھ ساتھ گورنمنٹ پریمیئر کالج میں داخلہ ہوگیا۔
معھد الثانوی کیا اور کامرس میں انٹر پاس کیا۔ جامعہ میں جیسے ہی کلیہ کی کلاس شروع کی تو میں نے اپنی درخواست مدینہ یونیورسٹی بھیج دی۔ مدینہ میں داخلہ نہ ہوا اور میں نا امید ہو کر ’’بی کام‘‘ کے لیے لاھور آگیا۔ اسی دوران مجھے جامعہ سے ساتھیوں کا فون آیا کہ میرا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا ہے۔ میں فورا لاہور سے کراچی آیا تو پتہ چلا کہ میرا ایڈمیشن لیٹر شیخ موسی کے پاس ہے۔ بڑی بیتابی سے ان کا انتظار کیا۔ جیسے ہی وہ کلاس سے بابر آئے تو فرمانے لگے کہ میں آپ کا خط کہیں کسی کتاب میں رکھ کر بھول گیا ہوں۔ بہت تلاش کیا مگر نہ مل سکا۔ واپس لاہور آیا بی کام کیا اور آخری پرچہ دے کر سیدھا بریٹش کونسل چلا گیا۔ وہاں سے چارٹرڈ اکاونٹینسی میں داخلہ کی معلومات لیکر خانیوال آگیا اور گریجویشن کے نتائج کا انتظار کرنے لگا۔ 1992 کا ورلڈ کپ ہو رھا تھا اور میں بالکل فارغ تھا۔ کرکٹ سے لگاؤ تھا چھٹیوں کو بہت انجوائے کیا۔ اسی دوران میں میں نے اپنی اکاونٹینسی کی تعلیم کیلئے انگلینڈ اپلائی کیا اور الحمدللّٰہ داخلہ ہوگیا۔
تعلیم کی تکمیل سے پہلے ہی جاب مل گئ اور میری زندگی کی پہلی سیڑھی پر ایک بار پھر جامعہ ابی بکر کی تعلیم نے بہت اہم کردار کیا۔ مکتبہ دارلسلام ریاض کے مدیر شیخ عبدالمالک مجاہد صاحب کو لندن میں اپنے ادارے کیلیے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو کہ اعلی تعلیم یافتہ ہو، عربی زبان بول سکتا ہو اور دینی علوم سے واقف ہو۔ الحمدللّٰہ میرا اس کام کیلیے انتخاب ہوا۔ اور آ ج 20 سال سے زیادہ عرصے سے اس ادارہ سے منسلک ہوں ۔
جامعہ ابی بکر میں حفظ کی کلاس سے کلیہ اولی تک کے جن دوستوں سے خصوصی اُنس رہا ان میں حافظ محمودالحسن ،حافظ مجیب الرحمان ،ضیاء اللہ ، خورشید عالم ،عنایۃاللہ ،حافظ عبدالستار عاصم،علامہ ابراہیم طارق صاحب ،ڈاکٹر مقبول احمد صاحب ،شعیب اختر ،بھائی جمال الدین، عرفان صاحب برادر قاری فضل الرحمان صاحب۔
اساتذہ کرام
حفظ کی کلاس میں قاری فضل الرحمان صاحب اور قاری عمر بشیر صاحب
معہد اور کلیہ کے اساتذہ میں شیخ عطااللہ ساجد صاحب، شیخ نصیر احمد اخترصاحب، شیخ حافظ محمد شریف صاحب ،شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب ،شیخ حافظ مسعود عالم صاحب حفظهم اللہ تعالی ورعاهم
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی جامعہ کے بانی شیخ ظفراللہ رحمہ اللہ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماے اور ان کے صاحبزادے شیخ ضیاء الرحمن صاحب کی کاوشوں کو کامیابی عطا فرمائے۔
آ خر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی مجھے اور میرے بعد میرے بچوں کو جامعہ کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
