Categories: فروری 2022

میں جامعہ سے فیض یاب ہوا

سلسلہ تعارف میں آغاز سے پہلے مجلہ اسوۂ حسنہ، اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی،کی لائق تحسین انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مادر علمی کو تا حشر قائم ودائم رکھے ۔آمین ثم آمین

میرا نام ڈاکٹر عبدالرؤف آرائیں بن محمد شفیع ہے، شاہ پور جہانیاں کے قریب ایک گاؤں گوٹھ محمد اسماعیل آرائیں ضلع نواب شاہ سندھ سے ہجرت کر کے نیو کراچی منتقل ہوگئے۔

پرائمری تعلیم گورنمنٹ اسٹینڈر سکینڈری اسکول سیکٹر 5D نیو کراچی سے حاصل کی، 1985 میں بڑے بھائی چوہدری محمد افضل آرائیں اور والدہ حج کے لیے تشریف لے گئے، میری والدہ محترمہ نے بتایا کہ جب بیت اللّٰہ پر پہلی نظر پڑی تو میں نے دعا کی کہ اے اللّٰہ میری اولاد میں بھی عالم بنا اللّٰہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور جولائی 1986 میں دنیا کی عظیم الشان درسگاہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں داخلہ مل گیا، معہد المتوسطہ کے 3 سال، الشیخ محمد داؤد احمد آف شیخو پورہ، الشیخ سلیمان خاں، آف بمبا وآلہ سیالکوٹ اور الشیخ عبداللطیف ارشد رحمۃ اللّٰہ علیہ سے متوسط مکمل کر کے مرکز اللغۃ العربیہ میں داخلہ مل گیا وہاں ہمارے بہت ہی مشفق اساتذہ الشیخ موسیٰ موسوک آف یوگنڈا، اور الشیخ ایمن حفظھما اللّٰہ نے ہمیں خوب محنت سے پڑھایا، ((متوسطہ میں ھم 65 طلباء تھے، آخر تک صرف 3 ساتھی :1) فضیلہ الشیخ محمد شفیق آف بھریا روڈ 2) فضیلہ الشیخ عبدالرحمان ثاقب آف سکھر ساتھ رہے اور آج تک ساتھ ہیں الحمد للّٰہ،)) 1990 میں لائنز ایریا میں شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے نام سے جامعہ الاحسان کا قیام عمل میں آیا مزید تعلیم کے لئے جامعہ احسان میں داخلہ لے لیا 31 جنوری 1994 کو درس نظامی کی سند فراغت حاصل کی اور جامعہ بھر میں ٹاپ کیا الحمد للّٰہ، فراغت کے فوراً بعد جامعہ احسان میں ہی 1 سال تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے، باتیں اور یادیں تو بہت ہیں لیکن۔۔۔۔ مختصراً یہ کہ یہاں اگر ھمارے بہت ہی پیارے ہر دلعزیز شخصیت محترم جناب عنایت اللّٰہ مغل کشمیری کا تذکرہ نہ کیا جائے تو زیاتی ہو گی، ھمارے خطوط کے امین یہی بھائی تھے جب پوچھا جاتا کہ میرا خط تو نہیں آیا تو تنگ کرنے کے لئے کہہ دیتے ابھی تک تو نہیں آیا حالانکہ خط آ چکا ہوتا تھا، یہ ان کی سارے بھائیوں کے ساتھ محبت تھی، BA ،فاضل عربی، فاضل اردو اور ھومیو پیتھک کا 4 سالہ کورس D.H.M.Sبھی مکمل کیا، آج اس مادر علمی میں میرا لخت جگر محمد بن ڈاکٹر عبدالرؤف آرائیں معہد ثالث میں زیر تعلیم ہے۔ والحمد للّٰہ علی ذلک

اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے5 بیٹیاں اور 3 بیٹے عطافرمائے ہیں جن میں سے 5 حفظ اور عالم بن چکے ہیں،باقیوں کو بھی دین کا داعی اور سپاہی بنانے کا مصمم ارادہ ہے،(( یہ سب میری ماں کی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے، الحمد للّٰہ))

تمام بھائیوں سے دعا کی درخواست ہے، اللّٰہ تعالیٰ میری اولاد کو میرے لئے اور مجھے اپنے والدین اساتذہ اور معاونین محسنین کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین ثم آمین

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

5 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

5 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

5 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

5 days ago