Categories: فروری 2022

الشیخ عصمت اللہ عاصم کاشمیری

نام: عصمت اللہ بن صفی اللہ بن معرفت اللہ بن حبیب اللہ بمن نصر اللہ مغل مظفر آباد آزاد کشمیر

ولادت : 29 جون 1964ء

ابتدائی تعلیم:

اپنے گاؤں میں حاصل کی اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے میرے چچا مرحوم نے راولپنڈی جامعہ تدریس القرآن والحدیث جامع مسجد روڈ داخل کروایا، جامعہ تدریس القرآن میں مکمل آٹھ سالہ کورس مکمل کیا۔ تقریب بخاری میں فضیلۃ الشیخ سلطان محمود رحمہ اللہ نے امتحان لیا پھر وفاق المدارس السلفیہ سے عالمیہ کے امتحان کے لیے فیصل آباد گئے۔ راولپنڈی میں جن شیوخ کرام سے شرف تلمذ حاصل کیا ان میں شیخ صادق خلیل، سید حبیب الرحمن شاہ بخاری، مولانا محمد مسکین، شیخ عبد السلام بھٹوی، شیخ عبد الحمید ازہررحمہ اللہ ، شیخ حافظ عبد العزیز علوی حفظہ اللہ سے علم حاصل کیا۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لیے میرے بڑے قاری فضل الرحمن صاحب نے جو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں حفظ القرآن کے استاذ تھے مجھے بھی جامعہ میں داخل کرایا۔ 1984ء میں کلیۃ الحدیث میں داخل ہوا۔ جامعہ کا تعلیمی سلسلہ عربی میں تھا یہ میرے لیے مشکل مرحلہ تھا اللہ کے فضل وکرم سے اور ہم مکتب بھائیوں کی حوصلہ افزائی سے کوئی پریشانی نہ رہی ۔ بانی جامعہ کی محبت ، اخلاص، انتہائی عظیم ،قابل رشک تھا۔طلباء کو ہر سہولت فراہم کرتے تھے۔ خاص کر اساتذہ کرام بہت مشفق تھے جن میں شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ، شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ ، شیخ عبد الغفار مدنی حفظہ اللہ اور ڈاکٹر عبد الجواد صاحب حفظہ اللہ ہر روز جامعہ کی تعلیمی سرگرمیاں شروع ہونے سے پہلے دروازے پر نظر آتے تھے۔اور کوئی خاص بات یاد نہیں جو قابل ذکر ہو بہت عرصہ گزر گیا ہے۔ کوئٹہ عنابی کی چائے اور ڈاکٹر کڑوا کی دوائی یاد ہے۔

بابا جی عائش محمد صاحب کا ذکر خیر کرنا بہت مناسب ہے کہ وہ مستجاب الدعا تھے انہوں نے مجھے علامہ اشفاق صاحب حفظہ اللہ کے پاس

دیکھا مغرب کے بعد ہم چیکو کے درخت کے پاس بیٹھے تھے۔ میری دفترطلبی ہوئی شیخ نے فرمایا کہ چھوٹے بچوں کو منع کیا ہے کہ کوئی چھوٹا بچہ بڑوں کے پاس نہیں بیٹھ سکتا۔ کان پکڑو الامر فوق الادب کے فوراً تعمیل کی کافی دیر بعد شیخ کے پاس سے خلاصی وہ استاد محترم سفارش شیخ کا نام یاد نہیں رہا۔

ایک دن جامعہ میں جو شیخ محترم جمعہ کا خطبہ دیتے تھے وہ تشریف نہ لائے تو اچانک مجھے جمعہ کے خطبہ کے لیے کہا گیا جیسے ہی منبر پرکھڑا ہوا دونوں پاؤں حرکت میں آئے اور کانپنے لگے ، کبھی ایک پر وزن ڈالتا ، کبھی دوسرے پر اللہ اللہ کرکے جمعہ مکمل کیا اور نماز پڑھائی سورۃ الاعلی اور غاشیہ کی آخری آیات تلاوت کی تو نماز کے بعد عربی استاد تھے نام یاد نہیں رہا بہت شفقت کی حوصلہ بڑھایا اور ساتھ فرمایا ۔

أحسنت الخطبة وأخطأت في الصلاة

پوچھا فرمایا سورۃ پوری کیوں نہ پڑھی۔

کراچی سے فاضل عربی کیا اور کورنگی ناصر کالونی میں خطابت کی پھر 1990ء میں مظفرآباد آزاد کشمیر جامعہ محمدیہ میں تدریس شروع کی اب جامعہ میں مدیر التعلیم کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں اور مرکزی مسجد اہلحدیث عائشہ الصدیقہ میں خطابت بھی جاری ہے ۔ میرے ہم مکتب جنہوں نے بہت شفقت فرمائی۔ ان کا ذکر ضروری ہے ان میں علامہ نور محمد صاحب، شیخ محمد حسین لکھوی صاحب، شیخ طاہر باغ صاحب، بابا عبد اللطیف صاحب جو ہماری کلاس کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ والسلام علیکم

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

5 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

5 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

5 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

5 days ago