’’طلاق کی مذمت ‘‘
حدیث نمبر : 39-38
(38)۔عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَیُّمَا امْرَأَۃٌ سَأَلَتْ زَوْجَہَا الطَّلاَقَ فِیْ غَیْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْہَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ‘‘
تخریج : سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق ، باب کراہیۃ الخلع للمرأۃ ، حدیث نمبر ۲۰۵۵، مسند امام احمد ۵/۲۷۷
راوی کا تعارف : ثوبان بن بجدد
کنیت: ابو عبد اللہ / ابو عبد الرحمن
لقب: الھاشمی
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ، آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر اپنے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہوتوجاسکتے ہو میرے پاس رہنا چاہو تو میں تمہیں اپنا سمجھونگا چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے پاس رہنا پسند کیا اور سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے۔
وفات : ۵۴ھ
مرویات:۱۲۷
معانی الکلمات:
أَیُّمَا:جوکوئی Whoever
ا مْرَأَۃٌ: عورت Women
سَأَلَتْ: اس نے مانگاdemanded
فِی : میں In
زَوْجَہاَ: اس کا شوہرHer Husband
الطَّلاَقَ:طلاقDivorce
غَیْرِ بَأْسٍ:بغیر ضروت کے out any reason With
فَحَرَامٌ:پس حرام So banned
عَلَیْہَا : اس پر upon her
رَائِحَۃ :خوشبوSmell
الْجَنَّۃِ :جنتParadis
ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔
(39)۔عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ أَبْغَضُ الْحَلاَلِ إِلیَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الطَّلاَقُ‘‘
تخریج : سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق ، باب فی کراہیۃ الطلاق، حدیث نمبر ۲۱۸۷
روای کا تعارف : حدیث نمبر 5 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔
أَبْغَضُ: مکروہ ، ناپسندیدہ Hated/un Wanted
الْحَلاَلِ :حلال ، جائز Permitted
إِلیَ اللّٰہِ :اللہ کے نزدیک To Allah
تشریح :
دین اسلام صلح وآشتی ، اتفاق واتحاد ، قرب ویگانگت ، صبر وحوصلہ ،برداشت ووسعت قلبی کا درس دیتاہے چنانچہ ان صفات پر قدغن لگانے والے تصرفات نہ صرف کہ ناپسندیدہ ہیں بلکہ بعض صورتوں میں سخت گناہ کا درجہ رکھتے ہیں۔
میاں بیوی کا رشتہ انتہائی محبوب رشتہ ہوتا ہے چنانچہ شوہر اور بیوی دونوں کو الگ الگ احکام وآداب سکھائے ایک دوسرے سے آخری حد تک محبت وخلوص کا درس دیا ، کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے رہنے کی نصیحت کی ، تاہم ایک دوسرے کی وجہ سے بڑے جرم وگناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ لاحق ہونے پر علیحدگی کی اجازت بھی دی ہے چنانچہ ایسی معقول وجہ کے بغیر طلاق دینے والے (شوہر) اور طلاق طلب کرنیوالی (بیوی) کیلئے وعید سنائی گئی ہے کیونکہ یہ اقدام اسلام کی بہت ساری تعلیمات کے منافی ہے۔
