سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام شریعت کی روشنی میں مندرجہ ذیل صورت کے متعلق کہ20 سال قبل میرے شوہر کا انتقال ہواہے ، انتقال سے قبل وہ اپنے آبائی گاؤں کے ہسپتال میں سرکاری ملازم تھے ، میرے سسر پہلے ہی سے فوت ہوچکے تھے جس کا ورثہ آج تک تقسیم نہیں ہوا۔ میرے شوہر کے دوبھائی تھے۔ ان میں سے ایک کا بعد میں انتقال ہوا۔ جس کا صرف ایک ہی بیٹا ہے۔ پہلے تینوں بھائی مشترکہ مکان میں رہائش پذیر تھے۔میرے شوہر نے دوران ملازمت حاصل ہونے والی تنخواہ سے گاؤں میں ایک مکان خریدا ۔ میرے سسر کی ایک بیٹی بھی تاحال حیات ہے۔

میرے سسرنے اپنے ورثے میں ایک مکان اور دوجگہوں پرزرعی اور بنجر زمین چھوڑی ہے۔ جس کے ورثا میرے یتیم بچے اور میرا دیور اور مرحوم دیور کا بیٹاہے۔ میرے شوہر نے اپنی زندگی میںاپنی نوکری اپنے بھائی کے سپرد کرکے کراچی منتقل ہوئے اور بطور چوکیدار وہ اپنے فرائض سرانجام دیتے تھے اور چند ہی سال میں انہوں نے کراچی میں دو کمروں پر مشتمل ایک کچا مکان 10,000/- روپے کا خریدا۔ جوکہ ندی کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلے میں بہہ جاتا تھا۔ میرے شوہر کے انتقال کے بعد چار مرتبہ میںنے اس مکان کو ازسرنوتعمیر کرایا جس پر میرے دیوروں کی ایک اینٹ بھی نہیں لگی۔ وہ گاؤں میں میرے شوہر کے خریدے گئے مکان پر بھی قابض ہیں جبکہ کراچی والے مکان کے بھی دعویدار ہیں ۔ کیا میرے شوہر کی ذاتی کمائی کے خریدے گئے مکان میں اس کے بھائیوں کا حصہ بنتاہے؟ کیا یہ جائز ہے کہ ایک بھائی مزدوری کرے اور دوسرا کچھ بھی نہ کرے؟ لیکن پھر بھی اس کا برابر کا حصہ بنتاہو؟ جبکہ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ایک بھائی مزدوری کرتاہے اور دوسراکچھ بھی نہیں کرتا پھر بھی اس کا برابر کا حصہ ہے۔

ہمارے گاؤں میں جنگلات کی رائیلٹی بھی آتی تھی جوکہ اس وقت 80,000/- روپے صرف میرے بچوں کی تھی جوکہ میری ساس محترمہ کے پاس امانت کے طور پر رکھے تھے جبکہ میرے دیور حضرات خود ہی اپنا حصہ سنبھالتے تھے۔ اتفاقاً میرا شوہر 12اپریل 1988؁ کراچی میں روڈایکسیڈنٹ کے حادثے میں انتقال کرگئے اور میرے چار بیٹے اور دو بیٹیاں یتیم ہوگئے چونکہ ان کی پرورش میرے ذمہ تھی لہذا میں گھر میں سلائی کاکام کرتی تھی اس وقت میں نے جب ان سے اپنے بچوں کی ذاتی 80,000/- کی وصولی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے یہ کہہ کربات ٹال دی کہ جو کچھ بھی موجود ہے سب مشترکہ ہے یعنی میرے بچوں کے 80,000/- روپے اور جو مکان میرے شوہر نے گاؤں میں خریدا اور جو مکان کراچی میں خریدا تھا اور جو ورثہ میرا سسر چھوڑ گیا ہے سب تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔ یعنی ایک حصہ میرے بچوں کا ایک حصہ میرے موجودہ دیور کا اور ایک حصہ مرحوم دیور کے بیٹے کا۔ جب ہم فیصلہ کروانے مولوی صاحب کے پاس گئے تو انہوں نے شرعی طریقے کو بالائے طاق رکھ کر صلح کرنے کو کہا وہ یوں کہ مولوی صاحب کے منتخب شدہ دو منصفوں کو اپنا اختیار دیا۔ انہوں نے فیصلہ اس طرح کیا کہ میرے سسر کے ورثے سمیت میرے شوہر کا ورثہ بھی تین حصوں میں تقسیم کروانے کو کہا اور میرے بچوں کے ذاتی 80,000/- میں سے 40,000/- معاف کردیا۔کیا مذکورہ بالا فیصلہ کرنے والوں کو یہ اختیار ہے کہ وہ میرے بچوں کے ذاتی 80,000/- میں سے 40,000/- معاف کرادیں۔

برائے کرم تمام مسائل کا مفصل ومدلل جواب تحریر فرما کر تشفی فرمائیں۔                                                        درخواست گزار :    بیوہ عبد المالک

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین ، أما بعد:

سائلہ کے سوال کے اعتبار سے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مندرجہ ذیل ہے۔

سب سے پہلے شوہر کے والد کا ترکہ اس کے تین بیٹے( یعنی آپ کے شوہر اور اس کے دوبھائی) اور بیٹی( یعنی آپکے شوہر کی بہن) اور زوجہ( یعنی متوفی کی اہلیہ ، آپکے شوہر کی ماں) کے درمیان تقسیم کیا جائے (بشرطیکہ کفن دفن کے اخراجات، قرضہ ، اور ایک تہائی یا اس سے کم کی وصیت سے خالی ہو)

تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر کے والد کا تما م ترکہ آٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے پھر زوجہ کو ان آٹھ حصوں میں سے ایک حصہ دیاجائے ۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے:

{فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ }(النساء:۱۲)

یعنی متوفی شوہر کی کوئی اولاد ہوتو ان کیلئے (یعنی اہلیہ کو) اس کے مال میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔‘‘

اس کے بعد جو باقی مال ہے وہ ہر بیٹے کو دو دو حصے اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا ۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے:

{یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ }(النساء:۱۲)

یعنی تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرتاہے کہ (تمہارے ترکہ میں سے ) بیٹے کا بیٹی سے دگنا حصہ ہوگا۔‘‘

باقی آپ کے شوہر کے ذاتی مال میں بھائیوں کا کوئی حق نہیں ہے اور بھائی اس کے حصے میں شریک نہیں ہوسکتے کیونکہ متوفی کیلئے بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹے بھی ہیں۔ جیسا کہ فرمان رسول ﷺ ہے۔

’’أَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَہْلِہَا فَمَا بَقِیَ فَلِأَوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ ‘‘ (البخاری ومسلم)

یعنی سب سے پہلے اصحاب الفروض کو اپنا حصہ دیدو پس جومال بچ جائے تو میت کے زیادہ قریب مرد کا ہوگا۔

اور یہاں پر آپ کے شوہر کے سب سے قریب اس کی اولاد ہے لہذا ان کے بھائی حضرات کو کچھ بھی نہیں ملے گا البتہ آپ کی ساس(یعنی شوہر کی والدہ) کو شوہر کے ترکہ سے چھٹا حصہ ملے گا ۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے :

{وَلِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍمِنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہُ وَلَدٌ} (النساء:۱۱)

’’یعنی اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کیلئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے اگر اس (میت) کی اولاد ہو۔‘‘

اب آپ کے متوفی شوہر کی تقسیم ترکہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اس طرح ہے(بشرطیکہ کفن دفن کے اخراجات، قرضہ اور غیر وارثین کیلئے ایک تہائی یا اس سے کم وصیت سے خالی ہو)

۱۔متوفی کی والدہ کو اس کے کل مال میں سے چھٹا حصہ ملے گا۔

۲۔متوفی کی زوجہ کو اس کے تمام مال میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔

۳۔متوفی کا باقی تمام مال اس کی اولاد میں تقسیم ہوگا، بیٹوں کو دو دو حصہ اور بیٹیوں کو ایک ایک حصہ ملے گا، ان تمام کی دلیل پہلے گزر چکی ہے۔

باقی جن لوگوں نے صلح کرکے آپ کے شوہر کے مال کو تین حصوں میں برابر تقسیم کرکے فیصلہ کیا ہے یعنی ایک حصہ آپ کے بچوں کیلئے ، ایک حصہ آپ کے دیور(یعنی متوفی کا بھائی) کیلئے، اور ایک حصہ آپ کے متوفی دیور کے بیٹے (یعنی متوفی شوہر کا بھتیجا) کیلئے۔ تویہ صلح باطل ہے اس کی شریعت میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیونکہ یتیم کے مال میںولی یتیم کیلئے صلح کرانے کی شریعت میں کوئی اجازت نہیں الاّ یہ کہ اس صلح میں یتیم کیلئے فائدہ ہو تو اجازت ہے۔( دیکھئے: فقہ السنۃ۳/۳۹۰)

دوسری بات یہ ہے کہ شریعت مطہرہ نے عام مسلمان کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر کھانے سے منع کیا ہے، جیسا کہ فرمان رسول ﷺ ہے ۔

’’لاَ یَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ إِلاَّ بِطِیْبِ نَفْسِہِ…‘‘ (مسند أحمد، سنن بیھقی)

 یعنی کسی شخص کو کسی مسلمان کامال اس کی رضا کے بغیر کھانا یا استعمال کرنا جائز نہیں۔‘‘

جبکہ یتیم کامال کھانے سے ،بلکہ اس کا مال ناحق کھانے والوں کو سخت وعید سنائی ہے ۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:

{إِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتَامیٰ ظُلْماً إِنَّمَا یَأْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَاراً وَّسَیَصْلَوْنَ سَعِیْراً} (النساء:۱۰)

’’بیشک جولوگ ناحق ظلم سے یتیم کامال کھاجاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں صرف آگ ہی بھررہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے۔‘‘

مذکورہ صلح کے باطل ہونے سے متعلق ایک اور مقام پر نبی علیہ الصلاۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں :

’’اَلصُّلْحُ جَائِزٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِیْنَ إِلاَّ صُلْحاً حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَاماً‘‘ (ترمذی ، صحیح ابن حبان ، المستدرک للحاکم)

’’مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے مگر وہ صلح جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے تو جائز نہیں ہے۔‘‘

شیخ البانی رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کے تمام طرق کو ذکر کرنے کے بعد ’’صحیح لغیرہ‘‘ کہا ہے ۔ (دیکھئے: إرواء الغلیل ۵/۱۴۲،۱۴۳۔ الرقم:۱۳۰۳)

لہذا مذکورہ صلح آیات وأحادیث اور علماء کے اقوال کی روشنی میں باطل ہے۔

آخر میں ناحق طریقے سے یتیم کامال کھانے والوں کیلئے میری نصیحت ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور ان کامال باطل طریقے سے کھانے کے بجائے ان کو اپنی اولاد کیطرح سمجھتے ہوئے ان سے پیار اور ان کی مدد ودیکھ بھال کرنے کا فریضہ انجام دیں تاکہ دنیا وآخرت دونوں میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوسکیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یتیموں کے حقوق کا صحیح معنوں میں خیال رکھتے ہوئے ان سے پیار ، محبت اور الفت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *