غیر اللہ کی قسم کا حکم حدیث نمبر 41

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْہَاکُمْ اَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفاً فَلْیَحْلِفْ بِاللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ ۔

تخریج : صحیح بخاری ، کتاب الإیمان والنذور ، حدیث نمبر :۶۶۴۶ ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر :۴۲۵۷

راوی کا تعارف : حدیث نمبر 5 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں ۔

معانی الکلمات

 أَلاَ  : خبردار be aware            إِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ تعالیٰ Indeed Allah           یَنْہَاکُمْ : وہ تمہیں منع کرتاہے He forbids you

تَحْلِفُوْا :تم قسم کھاؤ You Swear                           بِآبَائِکُمْ :اپنے آباؤ اجداد کی of / with your forefathers               

مَنْ کَانَ : جو تھا who was   حَالِفاً : قسم کھانے والا swearer           فَلْیَحْلِفْ :تو وہ قسم کھائے So he may swear

بِاللّٰہِ : اللہ کی of Allah            أَوْ: یا or  لِیَصْمُتْ : چاہے کہ وہ خاموش رہے He may keep  sitent

 ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا : خبردار ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد (کے نام ) کی قسم کھانے سے منع فرماتاہے چنانچہ اگر کوئی شخص قسم کھانا چاہے تو (صرف ) اللہ (کے نام) کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے۔

تشریح :اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، صفات اور جملہ حقوق میں وحدہ لا شریک ہے۔ اس تمام کائنات کا اکیلا خالق ، مالک اور مدبر الامور ہے۔ جس طرح اس کی ذات میں شراکت یعنی اس کے ساتھ کسی کی رشتہ داری (بزعم خود) سمجھنا( مثلاً : بیٹا ، بیٹی ، بیوی وغیرہ) شرک ہے۔ اس کی صفات میں شراکت مثلاً حاجت روا ، مشکل کشا ، اولاد دینے والا وغیرہ سمجھنا شرک ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے جو حقوق خاص ہیں وہ کسی اور کو دینا بھی شرک ہے ۔ چنانچہ نذرو نیاز ، قسم وغیرہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے ۔ غیر اللہ کیلئے نذرونیاز شرک ہے تو غیراللہ کی قسم کھانا بھی شرک ہے۔ حتی کہ ایک صحابی نے کعبہ کی قسم کھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تصحیح فرمائی اور حکم دیا ’’کعبہ کی نہیں کعبہ کے رب کی قسم ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے مالک اور خالق ہونے کے ناطے متعدد اشیاء کی قسمیں کھائی ہیں مگر اپنی مخلوق کو قطعاً اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائیں۔ غیر اللہ کی قسم کھانا شرک ہے اور شرک جرمِ عظیم ہے۔

نوٹ : واضح رہے کہ ’’غیر اللہ‘‘ میں تمام کائنات کے ساتھ اپنے والدین ، اولاد ، فرشتے اور انبیاء کرام بھی شامل ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *