بستر کو جھاڑ کر سونا

دلیل :  عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ قال قال النبی  ﷺ : اِذَا آوَی اَحَدُکُمْ اِلیٰ فِرَاشِہِ فَلْیَنْفُضْ فِرَاشَہُ بِدَاخِلَۃَ اِزَارِہِ فَاِنَّہُ لَا یَدْرِیْ مَا خَلَّفَہُ عَلَیْہ۔  (بخاری: ۶۳۲۵)

 ’’سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بسترپر سونے کیلئے آئے تواسے جھاڑ لے کیونکہ اسے کیا خبر کہ اس کے بسترمیں کیا گھس گیا ہے ‘‘۔

مسنون دعائیں پڑھ کر سونا

یادرہے کہ دعائیں پڑھتے وقت وہی کلمات پڑھنے چاہئیں جو کہ رسول اللہ  ﷺ سے صحیح سند کے ساتھ منقول ہوں خود ساختہ دعاؤں سے اجتناب برتیں۔ اور جو شخص ان دعاؤوں کا اہتمام نہیں کرتا اس کے بارے میں شدید وعید وارد ہوئی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے ۔

٭۱۔  عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن رسول اللہ قال: مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ یَذْکُرِاللہَ فِیْہِ کَانَتْ عَلَیْہ ِ مِنَ اللہِ تِرَۃٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مَضْجَعًا لَا یَذْکُرُاللہَ فِیْہِ کَا نَتْ عَلَیْہِ مِنَ اللہِ تِرَۃٌ۔ (رواہ ابو داؤد: ۵۰۵۹ صححہ الالبانی)

ترجمہ: جو شخص کسی جگہ بیٹھ کراللہ کا ذکر نہیں کرتا تو وہ جگہ اس آدمی کیلئے اللہ کے حکم سے باعث نقصان ہو جاتی ہے اور اسی طرح جو شخص کسی بستر پر لیٹتا ہے مگر اللہ کا ذکر نہیں کر تا تو ایسی جگہ بھی اللہ کے حکم سے اس کیلئے باعث نقصان بن جاتی ہے ۔

٭  اَلّلٰھُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ۔ (سنن ابی داؤد :۴۰۴۵، ترمذی: ۳۳۹۸، ابن ماجہ: ۳۸۷۷)

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ  ﷺ یہ دعا تین دفعہ پڑھتے تھے مگر اس روایت کو علامہ الألبانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیاہے ۔

ترجمہ: اے اللہ مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا ۔

٭ اَلّٰلہُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰاتِ وربَّ الْاَرْضِ وَرَبَِّّ الْعرْش الْعَظِیْمِ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَیْئٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالْنَّویٰ مُنَزِّلُ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ أعُوْذُ بِکَ مِنْ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ أنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ أنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ وَاأنْتَ الْآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَ أنْتَ الظَّاہِرُ وَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَأنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْئٌ اِقْضِ عَنَّا الدَّیْنَ وَأغْنِنِا مِنَ الْفَقَرِ۔  (اخرجہ مسلم : ۲۷۱۳، ابوداؤد : ۵۰۵۱، ترمذی: ۳۴۰۰)

ترجمہ:الہی زمین وآسمان اور ہر چیز کے پروردگار دانے (بیج) اور گٹھلی کو پھاڑنے والے،تورات انجیل اور قرآن مجید کو نازل کرنے والے میں ہر تکلیف دہ چیز کی تکلیف سے تیری پناہ چاہتا ہوں اسکی پیشانی تمہارے ہاتھ میں ہے تم سب سے پہلے ہو تم سے پہلے کوئی نہیں اور تم ہی سب سے بعد (ہمیشہ) تک رہو گے تمہارے بعد کچھ نہیں تم ہی غالب ہو تم سے اوپر کوئی نہیں (تم پر کسی کو فوقیت حاصل نہیں) تم ہی باطن ہو (ذات کے اعتبارسے ) تم سے زیادہ باطن اور کوئی نہیں میرا قرض ادا کر دے اور مجھے فقر سے بے نیاز کردے۔

٭ اَلَحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ أطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤوِیَ ۔ (رواہ مسلم : ۲۷۱۵، ابوداؤد: ۵۰۵۳، ترمذی: ۳۳۹۶)

ترجمہ: ہر قسم کی تعریف اس اللہ تعالیٰ کیلئے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا ہمیں کفایت کیا(ہر قسم کے شر سے) اور ٹھکانہ مہیا کیا پس (دنیامیں) کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ انہیں کوئی کفایت کرنے والا ہے نہ ہی کوئی ٹھکانہ دینے والا۔

٭ بِسْمِ اللہِ وَضَعْتُ جَنْبِیْ الّٰلھُمَّ اغَفِرْذَنْبِیْ وَاَخْسِیٔ شَیْطَانِیْ وَفُکَّ رِھَانِیْ وَاجَعَلْنِیْ فِیْ الْنَدِیِّ الْاَعْلیٰ۔ (ابوداؤد: ۵۰۵۴ وصححہ الالبانی)

ترجمہ: میں نے اللہ کے نام سے اپنا پہلو رکھا الہی میرے گناہ معاف کر دے میرے شیطان کو دور کردے میرے ذمہ جو حقوق ہیں ان سے عہدہ بر کر دے اور مجھے اعلیٰ مجلس کا ہم نشین بنا دے۔

٭ اَلَّلھُمَّ أسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَفَوَضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ وَوَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَألْجَأتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَا مَلْجَأ وَلَا مَنْجَأ اِلَّا اِلَیْکَ آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَبِنَبِیَّکَ الَّذِیْ أرْسَلْتَ۔

ترجمہ: اے اللہ میں نے اپنے نفس کو تیرے حوالے کر دیا اور اپنے معاملات کو تیرے سپرد کر دیا اور تیری طرف رغبت اور تجھ سے ڈرتے ہوئے میں نے اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر دیا تیرے علاوہ نہ ہی جائے پناہ ہے اور نہ ہی مفرّ اور تیری منزّل کتاب پر ایمان لایا اور جس نبی کو تو نے بھیجا اس پر ایمان لایا۔

فضیلت: رسول اللہ انے فرمایا جو شخص یہ دعا رات کو پڑھے اور فوت ہو جائے تو وہ فطرت (اسلام)پر فوت ہوگا۔( صحیح بخاری /۶۳۱۱، کتاب الدعوات، باب النوم علی الشق الأیمن ، مسلم /۲۷۱۰، کتاب الذکر والدعا ، باب ما یقول عند النوم وأخذ المضجع)

٭ آیۃ الکرسی

نبی اکرم  ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تم پر صبح ہونے تک اللہ کی طرف سے ایک محافظ فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔ (بخاری : کتاب فضائل القرآن : ۲۳۱۱)

٭ رسول اللہا  کا ارشاد ہے کہ جو شخص سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑ ھ کر سوئے تو اس کیلئے کافی ہو جائیں گی۔

{آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ …… الْکَافِرِیْنَ} (صحیح بخاری ، کتاب فضائل القرآن، باب فضل سورۃ البقرہ)

٭نبی اکرم  ﷺ اس وقت تک سوتے نہ تھے جب تک کہ سورۃ السجدہ اور سورۃ الملک کی تلاوت نہ فرما لیتے ۔ (ترمذی ،کتاب الدعوات:۳۴۰۴)

٭ بِاسْمِکَ اللّٰہُمَّ أ  حْیَا وَ أمُوْت ُ۔ (بخاری ، ۶۳۱۲)

ترجمہ: الہی میں تیرے نام سے زندہ ہوتا ہوں اور مرتا ہوں ۔

٭ آپ  ﷺ جب بستر پر بیٹھتے تو دونوں ہاتھوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور سورئہ اخلاص ، سورئہ فلق اور سورئہ الناس پڑھتے اور سراور چہرے سے شروع کرکے جسم کے جس حصے تک ہاتھ پہنچتا وہاں تک پھیرتے ۔ یادرہے کہ رسول اللہ  ﷺ یہ عمل تین دفعہ کرتے تھے ۔ (ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ماجاء فیمن یقرأ من القرآن عند المنام )

٭ سبحان اللہ (۳۳دفعہ) ، الحمد للہ (۳۳دفعہ) اور اللہ اکبر (۳۳دفعہ) پڑھیں اور یہ دعا پڑھیں ۔

لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَشَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَعَلَی کُلِّ شِیْئٍ قَدِیْرٌ ۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدۃ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے گھریلو کام میں تعاون کیلئے رسول اللہ  ﷺ سے ایک خادم مانگا تو آپ  ﷺ نے ان کو سونے سے پہلے مذکورہ بالا دعا پڑھنے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ یہ ذکر تمہارے لیے خادم کے تعاون سے بہتر ہے ۔ (بخاری، ۶۳۱۸ ، مسلم /۲۷۲۷)

نوٹ : یادرہے کہ مذکورہ بالا ادعیہ مأثورہ امام نووی رحمہ اللہ کی کتاب’’ الأذکار سے لی گئی ہیں جس کی تخریج کا کام معروف محدث الشیخ سلیم بن عید الھلالی نے کیا۔ اور بعض احادیث کی صحت وضعف کے بارے میں علامہ الالبانی رحمہ اللہ کی کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔     ( جاری ہے  )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *