دنیامیں عظیم کارنامے انجام دینے والی ہستیاں (خصوصا انبیاء علیہم السلام) ہمیشہ غیر معمولی درجے کی شخصیتوں سے آراستہ ہوتی ہیں ۔ اصلاح کے کام ، تحریکوں کے بانی، تہذیبوں کی تعمیر نو کرنے والوں کی اصل قوت ان کی شخصیت ہوتی ہے جو خاص طرح کے افکار وکردار سے بنتی ہے ۔ سیرت پاک کے مطالعہ کی ایک غایت یہ بھی ہے کہ محسن انسانیت کی شخصیت کو سمجھا جائے۔
کسی بھی شخصیت کو سمجھنے میں اس کی وجاہت بڑی مدد دیتی ہے۔ آدمی کا سراپا ، اسکے بدن کی ساخت ، اس کے اعضاء کا تناسبِ خاص، اس کے ذہنی ، اخلاقی اور جذباتی مرتبے کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ خصوصا چہرہ ایک ایسا قرطاس ہوتا ہے جس پر انسانی کردار اور کارناموں کی ساری داستان لکھی ہوتی ہے اور اس پر ایک نظر ڈالتے ہی ہم کسی کے مقام کا تصور کرسکتے ہیں ۔
ہم بعد کے لوگوں کی یہ کوتاہی قسمت ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے انسان کا روئے زیبا ہمارے سامنے نہیں ہے اور نہ ہم عالم واقعہ میں سر کی آنکھوں سے زیارت کا شرف حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہم حضور ﷺ کے حسن وجمال کی جو کچھ جھلک پا سکتے ہیں وہ حضور ﷺ کے پیغام اور کارنامے کے آئینے میں ہی پا سکتے ہیں ۔
انہی حقائق او راسلامی تاریخی ورثہ کے تناظر میں نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ ، انکے شب وروز اور آپ کی عائلی زندگی ، اہل وعیال کے احوال او رآپکی تبلیغ دین کی کاوشوں کے سنہرے ابواب میں چیدہ چیدہ احوال جو ہماری زندگی میں گوہر نایاب کی حیثیت کا درجہ رکھتے ہیں ان کا مختصر تعارف پیش کیا جارہا ہے۔
٭ ولادت ……۹ ربیع الاول عام الفیل ، ۲۲ اپریل ۵۷۱ء (مطابق یکم جیٹھ سمت ۶۲۸بکرمی ) بعد از صبح صادق قبل از طلوع بروز سوموار
٭ تقریبا ایک ہفتہ بعد… …سیدہ حلیمہ سعدیہ کی آ ٓغوش رضاعت میں
٭ پانچ سال کی عمر میں ……پھر آغوش مادر میں
٭ چھ سال کی عمر میں ……والدہ ماجدہ کا انتقال
٭آٹھ سال کی عمر میں ……داداعبدالمطلب کی وفات
٭ بارہ سال کی عمر میں ……شام کا پہلا تجارتی قافلہ
٭ ۲۵سال کی عمر میں ……خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
٭ ۳۰سال کی عمر میں ……تمام قبائل کی طرف سے حکم (ثالث )دیوارِکعبہ میں حجر اسود نصب کرتے وقت
٭ ۳۷سال کی عمر میں ……غارِحرا میں خلوت اور عبادت وتفکر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کفالت
٭ ۴۰سال کی عمر میں ……نزول وحی
٭ ۳ نبوی ۴۳سال کی عمر میں…… چالیس مردو زن کا قبول اسلام
٭ ۵ نبوی ۴۵سال کی عمر میں……حبشہ کی طرف ہجرت کیلئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم
٭۷ نبوی ۴۷سال کی عمر میں……کفار قریش کی جانب سے بائیکاٹ اور شعب ابی طالب میں محصور ہونا
٭ ۱۰ نبوی ۵۰سال کی عمر میں……معاشرتی مقاطعہ (بائیکاٹ) کا خاتمہ ، چچا ابو طالب کا انتقال ، حضرت خدیجہ کی وفات، تبلیغ اسلام کیلئے طائف کا سفر ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، رخصتی چار سال بعد ہوئی، معراج کا واقعہ
٭ ۱۱ نبوی ۵۱ سال کی عمر میں …… یثرب (مدینہ)کے چھ آدمیوں کا قبول اسلام
٭ ۱۲ نبوی ۵۲ سال کی عمر میں … یثرب(مدینہ ) کے بارہ آدمیوں کا قبول اسلام
٭ ۱۳ نبوی ۵۳ سال کی عمر میں …… مدینہ کے ۷۲ آدمیوں کا قبول اسلام ہجرت مدینہ
٭ ۱ہجری۵۴ سال کی عمر میں ……مدینہ کے شہری نظم ونسق کی دیکھ بھال
٭ ۲ ہجری ۵۵ سال کی عمر میں ……کفار کا پہلا حملہ (غزوہ بدر)کفار کی تعداد تقریبا ایک ہزار اور مسلمان ۳۱۳ تھے ۔
٭ ۳ ہجری ۵۶ سال کی عمر میں ……کفار کا دوسراحملہ (غزوہ احد)
٭ ۴ ہجری ۵۷ سال کی عمر میں …… بنی عامر کی چالبازی اور قاریوںکی شہادت
٭ ۵ ہجری۵۸ سال کی عمر میں …… کفار کا تیسراحملہ (غزوہ خندق) حملہ آوروں کی تعداد ۱۲ اور ۱۵ ہزار کے درمیان
٭ ۶ ہجری ۵۹ سال کی عمر میں … … صلح حدیبیہ، رسول ﷺ کے ہمراہ ۱۴۰۰ صحابہ تھے۔
٭ ۷ ہجری ۶۰ سال کی عمر میں…… فتح خیبر، بادشاہوں کو دعوت نامے
٭ ۸ہجری ۶۱ سال کی عمر میں…… موتہ کا واقعہ، فتح مکہ اور غزوہ حنین
٭ ۹ہجری ۶۲ سال کی عمر میں…… غزوہ تبوک ، مسلمانوں کا حج کرنا ، وفود کی آمد
٭ ۱۰ ہجری ۶۳سال کی عمر میں…… حجۃ الوداع اور مشہور آخری خطبہ
٭ ۱۱ ہجری ۶۳سال کی عمر میں…علالت اور وفات ا
(اللہم صل علی محمد وعلیٰ آل محمد کما صلّیت علی ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید)
نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات
ازواج مطہرات کی تعداد۱۲ ہے ان میں سے دو (حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما ) کا انتقال آپ کی زندگی میںہو گیا تھااور ۱۰ ازواج مطہرات آپ کی وفات کے وقت موجود تھیں
ازواج مطہرات کے نام:
۱- حضرت خدیجہ بنت خویلد…… قریش کے قبیلہ بنو اسد سے تعلق رکھتی تھیں ۔ وفات ۱ ہجری میں
۲- حضرت سودہ بنت زمعہ…… ان کا تعلق قریش سے تھا۔
۳- حضرت عائشہ صدیقہ…… قریش کے قبیلہ بنو تمیم سے تھیں ان کے والد ماجد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
۴- حضرت حفصہ بنت عمر…… حضرت عمر فاروق کی بیٹی تھیں
۵- حضرت زینب بنت خزیمہ…… بنو بکر بن ہوازن سے تھیں اور ام المساکین کے لقب سے مشہور تھیں۔
۶- حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ … …قریش کے قبیلہ بنو مخزوم سے ان کا تعلق تھا۔
۷- حضرت جویریہ بنت حارث ……بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔
۸- حضرت زینب بنت جحش…… بنو اسد بن خزیمہ سے تھیں۔
۹- حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان…… قریش کے مشہورقبیلہ بنو امیہ کے رئیس ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔
۱۰- حضرت صفیہ بنت حیّ… …ان کا تعلق یثرب کے یہودی قبیلے بنو نضیر سے تھا۔
۱۱- حضرت میمونہ بنت حارث … …ان کا انتقال ۶۱ھ میں ہوا۔
۱۲- حضرت ماریہ قبطیہ…… انہیں مقوقس شاہ مصر نے آپکی طرف بھیجا تھا۔ حضرت عمر کے عہد خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔(رضی اللہ عنہن اجمعین)
آپکی صاحبزادیا ں اور صاحبزادے
آنحضرت ﷺ کی چار صاحبزادیاں اور تین صاحبزادے تھے۔
۱- سیدہ زینب رضی اللہ عنہا:
رسول معظم ﷺکی صاحبزادیوں میںسب سے بڑی تھیں ان کی شادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی خالہ کے لڑکے ابو العاص بن ربیع الامو ی کے ساتھ کی تھی۔ ان کا انتقال ۸ھ میں مدینہ میں ہوا ۔ ان کے بطن سے ایک فرزند اور ایک ہی لڑکی پیدا ہوئی تھی۔
۲- سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا:
یہ سیدہ زینب سے چھوٹی تھیں۔ ان کی شادی قبل ازاسلام ابو لہب کے لڑکے عتبہ کے ساتھ ہوئی تھی ۔ ظہور اسلام کے بعد ابو لہب نے اپنے بیٹے سے طلاق دلوا دی اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہو گئی ۔ ۲ ھ میں وفات پائی اور ان کے بطن سے ایک لڑکا جس کا نام عبداللہ تھا پیدا ہوا۔
۳- سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا:
سیدہ رقیہ سے چھوٹی تھیں۔ ان کی شادی بھی ابو لہب کے دوسرے بیٹے عتبہ کے ساتھ قبل ازاسلام ہوئی تھی اور انہیں بھی ابو لہب نے عتبہ سے طلاق دلوا دی تھی۔سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کی شادی بھی عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دی تھی۔اس لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کا لقب دیا گیا۔ ۹ھ میں بمقام مدینہ منورہ انتقال فرمایا۔
۴- سیدۃ النساء فاطمۃ رضی اللہ عنہا:
آنحضرت ﷺ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ ان کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔انہوں نے آپ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان ۱۱ ھ کو انتقال فرمایا۔ان کے بطن سے دو صاحبزادے حضرت حسن، حضرت حسین اور دو لڑکیاں حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم پیدا ہوئیں۔ حضرت ام کلثوم کی شادی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔
حضور اکرم ﷺ کے تین صاحبزادے تھے ۔ جن کے نام ابراہیم ، طاہر(انہی کے دوسرے نام عبداللہ اور طیب تھے) اور قاسم تھے۔انہوں نے عالم طفولیت میں ہی انتقال فرمایا۔۔ طاہرا ور قاسم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئے جبکہ ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے۔
آپ ﷺ کا لباس
آپ ﷺ سفید لباس بیحد پسند فرماتے تھے۔ زیادہ تر روئی کا لباس پہنتے تھے، صوف اور کتان کا لباس بھی کبھی پہن لیتے۔ جبہ، قبا، قمیص، ازار، عمامہ، ٹوپی، چادر، حلّہ اور موزہ یہ سب آپ ﷺ نے استعمال فرمائے ہیں ۔ سبز رنگ کی یمنی چادر آپ ﷺ کو بہت پسند تھی جو برد یمانی کے نام سے مشہور ہے۔ سرخ لباس سے منع فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کبھی کبھی سیاہ عمامہ بھی باندھتے تھے جبکہ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے سر پر جہادی ٹوپی پہن رکھی تھی۔
آپ ﷺ کا اسلحہ
تلواریں: آپ کے پاس نو تلواریں تھیں جن کے نام یہ ہیں: ماثور،العضب،قلعی،البتار،الحتف، الرسوب،المخزوم، اور ذولفقار۔
زرہیں:ان کی تعداد سات تھی: ذات الفصول لوہے کی زرہ تھی جسے آپ ﷺ نے ایک یہودی کے پاس گروی رکھا ہوا تھااور اس سے تین صاع غلہ اپنے اہل وعیال کیلئے قرض لیا تھا۔اسکے علاوہ ذات الوشاح، السوریہ، ذات الحواشی، فضّہ، البترأالخرنق تھیں۔
کمانیں:یہ چھ تھیںجن کے نام یہ ہیں: الزورأ، الروحا، الصفرأ، البیضا، الکتوم، اور شوحظ۔
ڈھالیں:یہ دو تھیں ،الزلوق اور الفقق۔
آنحضرت ﷺ کے مؤذنین
آنحضرت ﷺ کے چار مؤذنین تھے، دو مدینہ میں بلال بن رباح اور عمرو بن ام مکتوم القرشی العامری رضی اللہ عنہما۔ ایک قبا میں سعد بن القراطہ اور مکہ میں ابو محذورہ اوس بن مغیرہ رضی اللہ عنہما شامل ہیں۔
آپ ﷺ کی سواری کے جانور
گھوڑے:آپ کے پاس سات گھوڑے تھے اورکسی صفت کی وجہ سے ان کے مختلف نام تھے۔سکب، لُحَیف، شجأ، ظرب، لِزاز، مرتجز اور الورد۔
خچر: پانچ تھے ایک دلدل نامی جو مقوقس شاہ مصر نے ، دوسرا نضہ نامی فردۃ الجذامی نے ، تیسرا صاحب ایلہ نے ، چوتھا دومۃ الجندل کے حکمران اور پانچواں نجاشی شاہ حبشہ نے آپکی خدمت میں بھیجا تھا۔
گدھے: تین تھے، ایک یعفور جو مقوقس شاہ مصر نے بھیجا تھا، دوسرا فردۃ الجذامی نے اور تیسرا حضرت سعد بن عبادہ الخزرجی رضی اللہ عنہ نے ہدیتہ بھیجا تھا۔
اونٹ : ان کی تعداد تین بتائی جاتی ہے ، جن میں سے ایک کا نام القصواء تھا جس پر آپ ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تھی۔
بکریاں: آپکی ملکیت میں ایک سو بکریاں تھیں اگر سو سے زیادہ ہوتیں تو ان کو ذبح کر دیتے او رپوری سو رکھتے۔
حضور ﷺ کے کاتبان وحی
۱-حضرت ابو بکر صدیق
۲-حضرت عمر فاروق
۳-حضرت عثمان بن عفان
۴-حضرت علی بن ابی طالب
۵-حضر ت أبی بن کعب
۶-حضرت زید بن ثابت انصاری
۷-حضرت معاویہ بن ابو سفیان
۸-حضرت حنظلہ بن ربیع الاسیدی
۹-حضرت ابان بن سعید
۱۰-حضرت خالد بن سعید بن العاص
۱۱-حضرت علأ بن حضرمی رضوان اللہ علیہم اجمعین
حضور ﷺ کے محافظ
۱-حضرت سعد بن ابی وقاص
۲-حضرت سعد بن معاذ
۳-حضرت عباد بن بشیر
۴-حضرت ابو ایوب انصاری
۵-حضرت زکوان بن قیس انصاری
۶-حضرت محمد بن مسلم انصاری
۷-حضرت بلال رضی اللہ عنہم اجمعین
رسول اللہ ﷺ کے خدام
۱۔ حضرت انس… گھر میں کام کرتے تھے،
۲- حضرت ربیعہ بن کعب …وضو کرواتے
۳- حضرت عبداللہ بن مسعود… جوتے پہناتے
۴-حضرت عقبہ بن عمرو… خچرکی نگرانی آپ کے سپرد تھی۔ ۵- حضرت بلال ۶-حضرت سعد ۷-حضرت بکیر ۸-حضرت اسود بن مالک ۹-حضرت ثعلبہ ۱۰-حضرت سالم ۱۱-حضرت سابق ۱۲-حضرت ہلال بن حارث رضی اللہ عنہم جمیعاً
عہد رسول ﷺ کے مفتیان کرام
۱- خلفا ء اربعہ ۲-حضرت عبدالرحمن بن عوف
۳-حضرت أبی بن کعب ۴-حضرت عبداللہ بن مسعود
۵-حضرت معاذبن جبل ۶-حضرت عمار بن یاسر
۷-حضرت حذیفہ بن یمان
۸-حضرت زید بن ثابت
۹-حضرت ابو الدرداء ۱۰- حضرت سلمان
۱۱- حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہم اجمعین
عمال نبوی ﷺ(گورنر)
۱- حضرت باذان بن ساسان …والی یمن
۲- حضرت شہر باذان……والی صنعاء
۳- حضرت علأ بن الحضرمی……والی بحرین
۴- حضرت علی بن ابی طالب …والی اخماس یمن
۵- حضرت خالد بن سعید……والی صنعاء
۶- حضرت مہاجر بن ابی امیہ مخزومی… والی کندہ
۷- حضرت عمروبن العاص……والی عمان
۸- حضرت ابوسفیان بن حرب……والی نجران
۹- حضرت یزید بن ابو سفیان……والی تیما
۱۰- حضرت عتاب بن سعید……والی مکہ
۱۱- حضرت معاذبن جبل ……والی جند
۱۲-حضرت ابو موسیٰ الاشعری……والی مآرب
۱۳- حضرت زیاد بن لبید……والی حضرموت
بیعت عقبہ کے چھ افراد
عقبہ کے مقام پر یثرب کے ان چھ افراد نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اوراسلام لے آئے۔
۱-حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ
۲-حضرت عوف بن حارث
۳- حضرت قطبہ بن عامر بن حدیدہ
۴-حضرت رافع بن مالک
۵-حضرت عقبہ بن عامر بن نابی
۶-حضرت جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہم اجمعین
