مذاق کے ذریعے عارضی طور پر کسی کو پریشان کرنا اور خود اس کا تماشا دیکھنا شرعًا منع اور حرام ہے ۔
امۃ مسلمہ اور پاکستانی قوم خصوصاجس تیزی سے اپنے دینی اور اسلامی تشخص سے بیگانہ ہورہی ہے اور اپنی تہذیبی اقدار اور ثقافتی روایات (جواکثرعبادات ہیں ) سے دوری اختیار کررہی ہے اس سے اہل فکر ودانش کو سخت تشویش لاحق ہے ، مغربی معاشرت سے مرعوب نقالی کا شوقین اور احساس کمتری میں مبتلا غیر ملکی تعلیم کا دلدادہ طبقہ قومی واسلامی اخلاقی اقدار سے جان چھڑانے کو ہی ترقی کا زینہ سمجھتاہے ان کے دین ومذہب سے بیزار مسیحی آقاؤں نے اپنے تجربہ کی روشنی میں انہیں یہی سکھایاہے کہ دنیوی ترقی کا راز ترک دین میں ہی ہے ،اسی لیئے اب یہود وہنود کی پیروی ہمارے ہاں فیشن بنتی جارہی ہے ، جبکہ دین وشریعت کی پابندی اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع انتہاء پسندی ٹھہری ہے ، تحفظ حقوق نسواں کے نام سے ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی تذلیل ، اپنے جگر گوشوں اور نوجوانوں کو بے راہ روی کی تعلیم کے لئے پوری سرکاری مشینری مصروف کار ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
{إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ } (النور 19 )
“اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا۔ “
جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کی مخالف قوتین پاکستان کے وجود کی نفی کرنے اور اسے ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کے لیئے سرگرم عمل ہیں ان پڑھ اور بے روزگار لوگوں کی کثرت ہونے کی وجہ سے ہر کسی کو ہر قسم کے کام کے لیئے ہر جگہ تماشائی وافر مقدار میں مل جاتے ہیں ، عریانی وفحاشی اور بے حیائی کو فنکاری کا نام دیکرفروغ دینے والا ایک مستقل طبقہ بھی ہمارے ہاں موجود ہے جو وقتًا فوقتًا غیر ملکی ثقافتی طائفوں کے ذریعے دوقومی نظریئے کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتاہے ہے اور اس کے لیئے کوئی موقع ضائع نہیں کرتا، نظریاتی لکیریں مٹانا اور جغرافیائی سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا ان کا محبوب مشغلہ ہے اس سب پر مستزاد میڈیا کی مادر پدر آزادی ہے ،ا للہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم دین وملت ، انسانی اقدار ، خاندانی وقار اور وطن عزیز کی نظریاتی حدیں ، الغرض کہ کوئی شیء بھی ان کے دست ستم کیش سے محفوظ نہیں ۔
این جی اوز کی روز افزوں پر اسرار بلکہ سرِ بازار سرگرمیوں کی بدولت دین دار اور اہل علم کی آواز کو بیکار اور بے وقار کردیا گیا ہے ، انتشار پیدا کرنے اور برائی پھیلانے والی قوتوں کو سرکاری سر پرستی اور حمایت بھی حاصل ہے اور دینی قوتوں کے خلاف پوری حکومتی مشینری سرگرم عمل ہے ، غالبًا انہی بدترین حالات کی وجہ سے ملک وقوم گو نا گو ں مصائب ومشکلات کا شکار ہے ، خصوصًا زلزلہ کے بعد کی صورتحال نیز حالیہ خانہ جنگی کی کیفیت سیاسی عدم استحکام عدالتی بحران اور معاشی ابتری وبدحالی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہواہے ،اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر مہنگائی کا عفریت بھی خوف ناک شکل اختیار کرچکاہے ، اس کے باوجود کسی سطح پر بھی اللہ کی طرف رجوع اور نیکی کا رجحان نہیں ہے یہ صورتحال نہایت افسوس ناک ہے ، جبکہ اللہ کا فرمان ہے :
{ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَہُم بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ}( الروم 41 )
“تری اور خشکی میں فساد برپا ہوچکاہے اور یہ سب کچھ لوگوں کے اپنے کیئے دھرے کا نتیجہ ہے ( اللہ اس لیئے ایسا کرتے ہیں ) تاکہ لوگوں کو ان کے اعمال کا کچھ مزہ چکھادیں تاکہ لوگ اللہ کی طرف رجوع کریں ۔”
آپ دیکھ رہے ہیں کہ بسنت اور جشن بہاراں کے بے ہنگم شوروغوغا اور طوفان بدتمیزی نے اس قدر ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے اور نئی نسل کے نوجوان مرد وخواتین نے اس قدر حیا سوز کردار پیش کیا ہے ، کتنے ہی بے گناہوں کا خون بہانے اور معصوم بچوں کی گردنیں کٹانے کے بعد ہمارے لبرل اور ماڈرن اسلامی مملکت کے اصحابِ اقتدار واختیار بھی بالآخر ان حیا سوز حرکات پر چیخ اٹھے ہیں اس کے بعد اب اپریل فول کی خوئے بد پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے گی جس کے بہانے لاکھوں جھوٹ بولے جائیں گے ، ہزاروں دھوکے ہوں گے اور ایک دن کے لیئے پھر قوم اپنے آپ کو بیوقوف اور احمق تسلیم کرکے اپنی قومی ودینی شرافت ونجابت اور اسلامی تہذیب وثقافت کا جامئہ شرم وحیاء تارتار کریگی ( الأمان والحفیظ)
اسلامی نقطۂ نظر سے اس رسم بد کا نہ صرف یہ کہ کوئی جواز نہیں بلکہ قرآن وسنت کی رو سے متعدد زاویوں سے اس کی حرمت واضح ہوتی ہے ، اس پر ایک سے زیادہ دلائل کی رو سے حرمت کا حکم لگتاہے :
uیہ غیر مسلم اقوام کی عادت وروایت ہے اور ایسے مسلمان جو غیر مسلموں کی نقالی کرتے ہیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں انہیں جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی میں سے قرار دیا ہے :
” عن عَبدِ اللہِ بن عمر رضی اللہ عنہما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بُعِثْتُ بین یدیِ الساعۃ بالسیفِ حتیّٰ یُعبدَ اللہ وحدہ لا شریک لہ وجُعل رزقی تحت ظل رمحی ، وجُعل الذُّل والصغار علیٰ من خالف امری ومن تشبَّہَ بقومٍ فھوَ مِنہم “(رواہ أحمد)
ترجمہ : “سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں قیامت سے پہلے تلوار دیکر بھیجا گیا ہوں تاکہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے بلا کسی شریک ، میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھا گیا ہے جو میرے دین کی مخالفت کرے ذلت وحقارت اسکا مقدر بنادی گئی ہے اور جو شخص کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے “
vاس رسمِ بد کی بنیاد جھوٹ پر ہے جس کی اسلام میں کسی صورت بھی اجازت نہیں ہے بالخصوص ایساجھوٹ جس کے نتیجے میں متعدد جانیں بھی ضائع ہونے کا خطرہ ہے ، سیرۂ طیبہ نبویہ کا طرۂ امتیازہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولا ، آپ کا مزاح بھی حکمت ودانائی اور سچ پر مبنی ہوتاتھا ، روز مرہ اور عام جھوٹ کے بارے میں توکسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ، زندگی کے مسائل اور ایمانیات کو غیر سنجیدگی سے لینے کے بارے میں ارشاد فرمایا :
{ وَلَئِن سَأَلْتَہُمْ لَیَقُولُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللّہِ وَآیَاتِہِ وَرَسُولِہِ کُنتُمْ تَسْتَہْزِؤُونَ } (التوبہ 65 )
ترجمہ “اور اگر ان سے پوچھو ( کہ تم کیا کررہے تھے ) تو فورًا بولیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے ، ان سے کہو کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ ، اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی ہوسکتی ہے ؟ ” ۔
سب کو معلوم ہے کہ اس قسم کے مواقع پر ان غیر سنجیدہ اور بیہودہ لوگوں کے مذاق کا اہم ہدف دین ، اس کی تعلیمات اور اس کے شعائر ہی ہوتے ہیں ، اہل ایمان اور دین دار طبقے کا مذاق اڑانا ، انہیں تحقیر سے دیکھنا ،انہیں طعن وملامت کا نشانہ بنانا دنیا ئے دوںکی جھوٹی مسرتوں کے جنون کے شکار اوباش نوجوانوں کا محبوب مشغلہ ہے ہمارا بزعمِ خویش پڑھا لکھا طبقہ جو حقیقت میں جاہلیت کا نمائندہ ہے ان کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کو ہی اپنی ترقی پسندی کی علامت سمجھتاہے ، اہل ایمان کے لیئے یہ طرزِ عمل کوئی نیا نہیں ہے ہر دور میں اوارہ مزاج لوگوں کا یہی طریقہ رہاہے ، مذکورہ آیتِ مبارکہ میں عہد نبوی کے ایسے ہی دین بیزار اور ترقی پسند منافقین کا ذکر ہوا ، فرمایا :
{قَاتَلَہُمُ اللّٰہُ أنیّٰ یُؤْفَکُوْنَ} (المنافقون 4 )
’’ اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں۔ “
wاس کی اہم بنیاد دھوکہ دہی ہے ، اور اسکے بارے میں رسول ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ “جو شخص دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے “
“عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من غشنا فلیس منا ” (رواہ مسلم وأبوداؤد والترمذی وابن ماجہ )
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ہم سے دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “
نبی ٔ رحمت علیہ الصلاۃ والسلام کا کسی سے اظہار برائت اور اعلانِ لاتعلقی اس شخص کی بہت بڑی بد بختی ہے ، اور جب پوری قوم اپنے طرز عمل سے یہ بدبختی سمیٹ رہی ہو تو اس کے لیئے ہدایت کی دعاء ہی کی جاسکتی ہے ۔
xاپریل فول کی بدترین روایت کے ذریعہ وقتی اور عارضی طور پر لوگوں کو پریشان کیا جاتاہے ، مذاق کے ذریعے عارضی طور پر کسی کو پریشان کرنا اور خود اس کا تماشا دیکھنا شرعًا منع اور حرام ہے ۔ ابوداؤد اور ترمذی میں ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ایک شخص نے دوسرے کی رسی اٹھالی وہ سو رہاتھا بیدار ہوکر اسے گھبراہٹ اور پریشانی لاحق ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
“لا یحل لِمُسْلِمٍ أَنْ یُرَوِّعَ مُسْلِماً “
ترجمہ : ” مسلمان کے لیئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے یا پریشانی میں مبتلا کرے “
دوسری روایت میں ہے:
“لا یأخذن أحدکم متاع أخیہ لاعبًا ولا جادًا فمن أخذ عصا أخیہ فلیردھا”
ترجمہ: “کوئی شخص اپنے بھائی کا سامان مذاق یا سنجیدگی سے ( بلا اجازت ) نہ اٹھائے ، حتیٰ کہ اگر کسی نے اپنے بھائی کی چھڑی بھی چھپائی ہے تو اسے واپس کردے ” ۔
بظاہر یہ چھوٹے چھوٹے مذاق ہیں مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اہل ایمان کی معمولی سی پریشانی بھی گراں گزرتی تھی اس لیئے آپ نے صراحت کے ساتھ اس سے منع فرما دیا ، اپریل فول کے حوالے سے بڑی بڑی بدترین اور تکلیف دہ حرکتیں کی جاتی ہیں ، جو حدیث میں وارد “لایحل ” کے لفظ کی رو سے حرام ہیں ، آیات ، صحیح احادیث اور ان سے ماخوذ مذکورہ دفعات کی روشنی میں اپریل فول کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر بالکل واضح ہوجاتاہے ، اہل علم ودانش کو اس بارے میں قومی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیئے اور سرکاری میڈیا پر بالخصوص اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے اور عام طور پر اہل فکر ونظر کو چاہیئے کہ قوم کو عذابوں سے بچانے کی فکر وتدبیر کریں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین پر چلنے کی توفیق بخشے ، شیطان اور اس کی ذریت کے مکر وفریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین
دوسری طرف اصحاب فکر وفہم اور اہل تقوی وایمان اور سنجیدہ طبقے کو اپریل فول کی حماقتوں ، نالائقیوں اور بدتمیزیوں میں کسی طرح کی کوئی شرکت نہیں کرنی چاہیئے ، عملی طور پر ، تماشائی کی حیثیت سے ، اور نہ ہی خاموش تماشائی کے طور پر بلکہ پوری ہمت اور اہتمام سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرکے رضائے الہی کے حصول کا سامان کرنا چاہیئے ، اور بے مقصد کڑھنے اور بے جا بحث وجدل اور احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق اعراض اور” مرور کرام “کی پالیسی اپنانی چاہیئے ، فرمایا :
{قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ٭ الَّذِینَ ہُمْ فِی صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ ٭ وَالَّذِینَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ } ( المؤمنون 1-3 )
ترجمہ : “یقینًا ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں ، جو لغویات اور بیہودہ باتوں سے منہ موڑ ے رہتے ہیں “
نیز فرمایا :
{وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ } ( الأعراف199 )
ترجمہ : “آپ در گزر کو اختیار کریں ، نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے اعراض کریں “
اہل ایمان کے اوصاف حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
{وَالَّذِینَ لَا یَشْہَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَامًا} ( الفرقان 72 )
ترجمہ “اور یہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو چیز پر انکا گزر ہوتاہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں۔”
قرآنی تعلیمات پر مبنی یہ خوبصورت اور باوقار طرز عمل ہر بیہودہ اور فضول رسم پر اپنایا جانا چاہیئے ، اس میں عزت واحترام ہے ، اصلاح کا ایک طریقہ ہے اور ان فضولیات کی تحقیر وتذلیل بھی ہے ۔
