Categories: اپریل 2009

بچوں کا صفحہ

پڑوسی کے حقوق احادیث کے آئینہ میں

پڑوسی سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسان کے قرب وجوار میں یعنی ان کے گھروںکے قریب قریب رہائش پذیر ہیں۔ پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے پر شریعت اسلامیہ نے بہت زیادہ زور دیا ہے اور ان کو انسانیت کے بنیادی حقوق میں سے قرار دیا ہے ۔ اس لئے ان حقوق کو کما حقہ ادا نہ کرنے والا گنہگاروں کے زمرے میں آتا ہے ۔

ان کے حقوق کے بارے میں رسول اکرم  ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایما ن رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ اپنے ہمسائے کا احترام کرے ‘‘ (بخاری ، مسلم)

’’اللہ کی قسم وہ شخص مومن ہی نہیں ہے جس کا ہمسایہ اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہیں ہے ‘‘ (بخاری)

رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا :’’جبرائیل علیہ السلام نے مجیت پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی برابر تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ پڑوسی کو پڑوسی کا وارث بنا دیا جائے گا‘‘  (بخاری ومسلم)

’’وہ مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلومیں بھوکا رہے‘‘  (مشکوٰۃ)

’’اے ابو ذر ! جب تو شوربا پکائے تو اس میں پانی زیادہ ڈال دیا کر و اور اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کیا کرو‘‘  (مسلم)

’’ایک دفعہ نبی کریم  ﷺ کے پاس ایک عورت کا ذکر کیا گیا کہ وہ بہت زیادہ(نفل) نماز ، روزہ کی پابندی کر تی ہے لیکن وہ اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دینے سے گریز نہیں کرتی تو رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:ـ بے شک وہ عورت جہنم کی آگ میں جائے گی، پھر ذکر کیا گیا کہ ایک عورت (نفل)نما ز اور روزہ کی پابندی نہیں کرتی لیکن اس کے ہمسائے اس کی تکلیفوں سے محفوظ ہیںتو آپ  ﷺ نے فرمایا : بے شک وہ عورت جنت میں ہے ‘‘(……)

’’ اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول  ﷺ تم سے محبت کریں تو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو‘‘(مشکوٰۃ)

امام بخاری رحمہ اللہ کا حافظہ

ایک دفعہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ ایک جگہ تشریف لے گئے ۔ اس وقت وہ نو عمر تھے لیکن اپنے علم کی وجہ سے بہت مشہور ہو چکے تھے وہاں کے محدثین نے ان کا امتحان لینے کا ارادہ کیا ، چنانچہ انہوں نے دس دس احادیث اس طرح یاد کیں کہ ہر حدیث کی سند اور متن کو کسی دوسری حدیث کے متن کے ساتھ ، سند ایک کی اور متن کسی اور کا یا ایک ٹکڑا کسی حدیث کا جبکہ دوسرا کسی اور کا خلط ملط کر دیا ، وہ لوگ تعداد میں دس تھے اور ہرایک نے دس دس احادیث پوچھیں ، ان میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی تحریر پڑھی تو آپ نے فرمایا:  (لاادری)  ’’میں نہیں جانتا‘‘

اسی طرح وہ لوگ باری باری احادیث پڑھنے لگے ، امام بخاری ان کی ہر حدیث کے جواب میں یہی بات فرماتے رہے ، جب وہ لوگ احادیث پڑھ چکے کہ جن کی تعداد سو تھی اور وہاں اس منظر کو دیکھنے کی خاطر بہت سے لوگ بھی جمع ہو چکے تھے تاکہ دنیا کے ایک بہت عظیم محدث کے حافظے کا مشاہدہ کریں ، اس حالت میں امام بخاری رحمہ اللہ یوں مخاطب ہوئے : ’’سنئے اب میں آپکی احادیث صحیح پڑھتا ہوں ‘‘

آپ نے تمام سو احادیث صحیح سند او رمتن کے ساتھ سنا دیں اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان حضرات کی سنائی ہوئی غلط احادیث بھی اسی ترتیب کے ساتھ سنا کر بعد میں ان کی اصلاح بھی کر دی ۔ اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ امام بخاری بہت غضب کا حافظہ رکھتے تھے۔

محمد حسان دانش

Share
Published by
محمد حسان دانش

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago