الحمد للہ علی نعمہ الظاہرۃ والباطنۃ قدیما وحدیثا والصلوۃ السلام علی نبیہ ورسولہ محمد وآلہ وصحبہ الذین ساروا فی نصرۃ دینہ سیرا حثیثا وعلی اتباعھم الذین ورثوا علمھم والعلماء ورثۃ الانبیاء اکرم بھم وارثاء موروثا ، اما بعد: فقال اللہ تعالی: {وَلَوْ أَنَّمَا فِی الْأَرْضِ مِن شَجَرَۃٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہُ مِن بَعْدِہِ سَبْعَۃُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمَاتُ اللَّہِ }(لقمان:۲۷)
لگا رہا ہوں مضامین نوکے پھر انبار
خبر کو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
جناب صاحب صدر واصحاب ذیشان اساتذہ کرام اور میرے ہم سفر سا تھیوں !اللہ رب العزت کی یہ عجیب تقسیم ہے کہ مجھ جیسے نو عمر کو محدثین کرام کی سیرت اور خدمات پر کچھ کہنے کا موقع نصیب ہوا ہے ۔ (الحمد للہ ولی ذالک )
حضرات ! اسلام اللہ رب العالمین کا انتہائی پسندیدہ اور آخری دین ہے ۔ احادیث رسول ا اسکی تفسیر ، توضیح اور بیان ہیں۔ان احادیث کو امت کے سامنے پیش کرنے اور رہتی دنیا تک تحفظ دینے کے لیے محدثین کرام کی خدمات بالخصوص اصحاب کتب ستہ نے جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ اس قدر خوبصورت اور منور ہیں کہ ان کے سامنے کہکشاں کی رونق بھی ماندہے ۔ یوںتو یہ ہستیاں اس عالم ہست وبود میں عام معروف انداز میں آئیںلیکن ان کی انفرادیت یہ ہے کہ ان کے والدین اپنے فرزندوں کے لیے خاص تمنائیں اور امیدیں رکھتے تھے ان کی کاوشیں عام لوگوں کی روش سے ہٹ کر تھیں ۔ان کی ماؤں نے بھی انہیں دودھ پلاتے ہوئے خاص ہی قسم کی لوریاں دی تھیں ۔امام بخاری رحمہ اللہ کے والد گرامی قدر جناب اسماعیل بن ابراہیم نے جووراثت چھوڑی اس کے متعلق انتہائی وثوق سے فرماتے ہیں کہ میرے مال میں ایک چَوَنِّیْ تو حرام کی کیا مشکوک بھی نہیں ہے۔ بیٹے کی بینائی جاتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے بے کس و بے سہارا ماں کی دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازا اور امام بخاری رحمہ اللہ کو ایسی بصارت نصیب ہوئی کہ وہ اپنا تحریری کام چاند کی روشنی میں سرانجام دیا کرتے تھے۔ اور بصیرت ایسی عطا کی کہ جس کے نتیجہ میں آپ امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پہچانے گئے۔
سبھی ائمہ کرام اپنی عملی زندگی میں عزم راسخ اور عمل پیہم کی بہترین مثال تھے۔ کھانے ، پینے اور پہننے اور منزل کی تکلفات سے یہ لوگ کبھی زیر بار نہیں ہوئے۔ کسی بھی موقعہ پر کسی کے سامنے اپنی خودداری کا سودا نہیں کیا۔ اکل حلال ، صدق مقال ، عمل بالسنۃ ، دعوت الی الحق اور اِخلاص ان کا سرمایہ رہا۔ کبھی کسی کج کلاہ یاسرمایہ دار کی خوشامدی نہیں کی بلکہ بادشاہ ان فقیروں کے ہاں حاضر ہونے میں اپنی سعادت جانتے تھے۔
امام اسحاق بن راھویہ رحمہ اللہ کے درس میں امام بخاری رحمہ اللہ کو خیال آیا کہ احادیثِ رسول مکرم ا کا ایک مختصر اور صحیح ترین مجموعہ ترتیب دینا چاہیے۔ تو پھر اس مبارک خیال کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مسلسل سولہ سال شب وروز محنت کرتے رہے۔ اور الجامع المسند الصحیح کی صورت میں ایک نادر روزگانہ کتاب پیش کی جسے عالم شرق وغرب نے بلا کسی کم وکاست کے اصح الکتب بعد کتاب اللہ تعالیٰ تسلیم کیا۔
صرف ایک یہی الجامع الصحیح ہی نہیں بلکہ الادب المفرد ، کتاب الفوائد ، بر الوالدین ، کتاب الضعفاء ، کتاب العلل ، الجامع الکبیر ، التفسیر الکبیر ، کتاب الأشربہ ، کتاب الٰہیہ ، کتاب جزء رفع الیدین ،اسامی الصحابہ ، تاریخ الاوسط ، تاریخ الصغیر ، تاریخ الکبیر ، خلق افعال العباد ، جزء قرأۃ فاتحہ خلف الامام جیسی تصانیف چھوڑیں۔ یہ دَواوین علمائے امت کے دلوں کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ الحافظ الامام مسلم رحمہ اللہ نے دیوان پیش فرمایا وہ بھی الجامع الصحیح کے نام سے موسوم ہے مگر صحیح بخاری کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس میں احادیث کی معتبر اسانید کو ایک جگہ جمع کردیا گیاہے۔ جس سے علماء وفقہاء کو استنباط واستخراج میں انتہائی آسانی پیدا ہوتی ہے ۔امام موصوف رحمہ اللہ نے الجامع الکبیر ، السند الکبیر ، کتاب الأسماء والکنی ، کتاب التمییز ، کتاب اوہام المحدثین، کتاب حدیث عمرو بن شعیب ، کتاب مشائخ امام مالک رحمہ اللہ ، کتاب مشائخ امام ثوری رحمہ اللہ اور کتاب العلل جیسی اہم تصانیف چھوڑی ہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ وہ عظیم آدمی ہیں جو بصرہ جیسی عظیم الشان آبادی کا باعث بنے واقعہ یوںہے کہ ایک دفعہ بصرہ میں کسی وجہ سے ہنگامے پھوٹ پڑے جسکی وجہ سے یہ شہر اپنی بہار کھو بیٹھا اس کی رونقیں ختم ہوگئی ۔چنانچہ والی بصرہ نے بغداد میں آپ سے التجاء کی کہ آپ اپنا دارالحدیث بصرہ میں بنالیں تاکہ طلبہ حدیث اور دوسرے لوگ اس شہر کا رخ کرنے لگیں ۔چنانچہ امام صاحب نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ تو اس طرح یہ شہر اپنی کھوئی ہوئی شہرت اور رونقیں بحال کرپایا تھا۔
یہ وہ معزز اور پاکباز ہستیاں ہیں جیسے کہ صاحب وفیات الاعیان نے لکھا ہے کہ جناب سہل تَسْتُری نے امام ابوداؤد سے کہا کہ میں آپ کے پاس خاص کام سے آیا ہوں کہا کہ بتلاؤکہنے لگے کہ جب تک آپ ہا ں نہیں کہہ دیتے میں عرض نہیں کرونگا آپ نے فرمایا ہا ں جہاں تک ممکن ہوا میں ضرور کروںگا کہنے لگے جناب امام صاحب ذرا اپنی وہ زبان مبارک ظاہر فرمائیے جس سے آپ احادیث رسول ﷺ بیان فرماتے ہیں کہ میں اس کا بوسہ لینا چاہتا ہوں ۔چنانچہ امام صاحب ؒنے اپنی زبان مبارک ظاہر کی تو سہل تستری نے اس کا بوسہ لیا ــحقیقت یہ ہے کہ کہنے والے کا یہ قول انہیں مقدس لوگوںپر صادق آتا ہے ۔
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوء کریں
امام ابوداؤدرحمہ اللہ نے سنن ابی داؤد کے نام سے فقہ السنہ کا جو دیوان پیش کیا ہے۔فقہا ئے امت اسی کے گھاٹ سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں ــعلاوہ ازیں کتاب المراسیل ،الرد علی القدریہ ،الناسخ والمنسوخ، کتاب المسائل ،فضائل الانصار ،کتاب الزھد ۔وغیرہ انیس کتابیں آپ کی عظمت کی دلیل ہیں ـ۔
ہمارے محدثین عظام کی کتابوں کو اللہ عزوجل کی طرف سے جو قبولیت عام حاصل ہوئی ہے دنیا کے کسی مذہب کی کتابوں کو حاصل نہیں ـ۔
صحیح احادیث کی روشنی میں سچے خواب نبوت کا چھیا لیسواں حصہ بتائے گئے ہیں ان میں بڑی بڑی بشارتیں بھی ہوتی ہیں مثلاًصحیح بخاری کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی کتاب فرمایا ہے ـامام ابوزید مروَزِی کا بیان ہے کہ خواب میں مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابو زید کب تک شافعی کی کتاب کا درس دیتے رہو گے کیا میری کتاب کا درس نہیں دوگے ؟میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺآپ کی کتاب کونسی ہے فرمایا جامع محمد بن اسماعیل البخاری اس طرح تاریخ بغداد میں ہے کہ جناب ابو علی زا غونی کو خواب میں دیکھا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی نجات کیسے ہوئی تو انہوں نے جواب دیا اس صحیفے کی بنا پر جو تیرے ہاتھ میں ہے اور وہ صحیح مسلم کا ایک جز تھا ـ۔
الغرض کتب ستہ کے صحیفے ہر صاحب ایمان کے لیے آنکھو ںکی ٹھنڈک اور دلوں کا سرور ہیں ان کتب قیمہ سے صراط مستقیم واضح ہوتاہے ـجو ان شاء اللہ سیدھا جنت میں لے جانے والا ہے ـ(اور بعض کہنے والے ان کتب سبعہ کو قرآن مجید کی اس آیت کا منطوق بتاتے ہیں۔
{وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ} (حجر:۸۷)
اللہ تعالی ہمیں سید الاولین والآخرین کی سیرت کو اپنا نے کی توفیق نصیب فرمائے۔
