بَاب عَقْدِ الْإِزَارِ عَلَى الْقَفَا فِي الصَّلَاةِ
نماز میں تہبند کا پشت پر باندھنے کا بیان
40-353- حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ أَبُو مُصْعَبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ .
مطرف، ابومصعب، عبدالرحمن بن ابی الموالی، محمد بن منکدر روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
Narrated Muhammad bin Al Munkadir: I saw Jabir bin Abdullah praying in a single garment and he said that he had seen the Prophet ﷺ praying in a single garment.
معانی الکلمات:
| يُصَلِّي | وہ ایک مرد نماز پڑھتا ہے/پڑے گا |
| ثَوْبٍ | کپڑا |
| رَأَيْتُ | میں نے دیکھا |
تراجم الرواۃ:
1نام ونسب:مطرف بن عبد اللہ بن مطرف بن سلیمان بن یسار الھلالی المدنی
کنیت: أبو مصعب
ولادت: 137ہجری
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔اور امام بخاری رحمہ اللہ کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔
وفات:220ہجری
2نام ونسب:عبد الرحمن بن أبی الموالی، قیل: عبد الرحمن بن زید بن أبی الموالی
کنیت :ابو محمد المدنی مولی آل علی
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔
وفات:173 ہجری۔
3نام ونسب: محمد بن المنکدر بن عبد اللہ الھدیر القرشی التیمی۔
کنیت: ابو عبد اللہ ویقال: أبو بکر المدنی
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر کے ہاں ثقہ تھے۔اور امام ذہبی کے ہاں امام تھے۔
وفات: 130ہجری
4نام ونسب:جابر بن عبد اللہ بن عمرو بن حرام السلمی بن ثعلبہ بن حرام بن کعب المدنی الفقیہ
کنیت: ابو عبد اللہ،وأبو عبد الرحمن الانصاری الخزرجی
بیعت رضوان اور بیعت عقبہ کرنے والوں شمار ہوتے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً»
رسول اللہ ﷺ نے اونٹ والی رات میرے لیے 25 مرتبہ بخشش کی دعا فرمائی۔
مرویات: 1540 احادیث
وفات: 74 ہجری
تشریح
ظاہری طور پر اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے یہاں اس لیے نقل کیا کہ اگلی روایت میں رسول اللہ ﷺکا ایک کپڑے میں نماز پڑھنا واضح طور پر مذکور نہ تھا، اس حدیث میں صاف صاف مذکور ہے۔
رسول کریم ﷺکے زمانہ میں اکثر لوگوں کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا تھا، اسی میں وہ ستر پوشی کرکے نماز پڑھتے۔ سیدناجابررضی اللہ عنہ نے کپڑے موجود ہونے کے باجود اسی لیے ایک کپڑے میں نماز ادا کی تاکہ لوگوں کو اس طرح ۔نماز پڑھنا جائز ہے۔معلوم ہوجائے۔ بہت سے دیہات میں خاص طور پر خانہ بدوش قبائل میں ایسے لوگ اب بھی مل سکتے ہیں جوسرسے پیرتک صرف ایک ہی کپڑے کا تہبند وکرتا بنالیتے ہیں اور اسی سے ستر پوشی کرلیتے ہیں۔ اسلام میں ادائے نماز کے لیے ایسے سب لوگوں کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ صحت نماز کا دارومدار کپڑوں کی گنتی پرنہیں بلکہ سترہ عورۃ پر ہے، خواہ وہ کسی طریقے سے حاصل ہو۔ پیش کردہ روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک ہی چادر میں نماز پڑھی اورسترعورۃ کے لیے انھوں نے چادر کے دونوں کناروں کو گردن پر باندھ لیا۔ یہ بھی معلوم ہواکہ اگرکسی کے پاس ایک سے زائد کپڑے ہوں اس کے باوجود وہ صرف ایک کپڑے میں ہی نماز پڑھتاہے تو ایساکرناجائز ہے، اگرچہ بہتر ہے کہ وہ پورا لباس پہن کر نماز پڑھے، چنانچہ پہلی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا عمل بیان ہواہے۔ دوسری سے پتہ چلا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنا اس لیے تھا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھاتھا تاہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت منقول ہے، چنانچہ آپ نے فرمایا:کوئی آدمی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اگرچہ وہ زمین وآسمان جتنا وسیع ہو۔ محدث ابن بطال رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اس طرح کا امتناعی حکم منسوب کیاہے۔ آخر کار اس بات پر اجماع ہوا کہ ایک کپڑے میں نماز ادا کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اُس سے ستر ڈھپ جائے، اگرچہ دوسرے کپڑے اس کے پاس موجود ہوں۔ (فتح الباري:607/1)
صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق روایت کرنے والے سیدنا عبادہ بن ولید تھے۔ صحیح بخاری کی ایک روایت (360) سے معلوم ہوتاہے کہ سعید بن حارث نے اس کے متعلق سوال کیاتھا، جبکہ صحیح بخاری ہی کی دوسری روایت (370) میں ہے، ابن منکدر کہتے ہیں: ہم نے کہا:اے ابوعبداللہ! یعنی ہم نے اس کے متعلق سوا ل کیا۔ ممکن ہے کہ متعدد دفعہ مختلف لوگوں نے اس کے متعلق سوال کیے ہوں۔ ابن منکدر کے جواب میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے چاہا کہ آپ جیسے جاہل مجھے اس طرح نماز پڑھتا دیکھ لیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ بلاتحقیق اکابر علماء پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، بلکہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی نظر میں ایسا کرنا حماقت اور جہالت ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میں نے قصداً ایساکیا ہے، اس میں تمہارے اس اعتراض کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ تمھیں سوچناچاہیے تھاکہ واقف شریعت صحابی عمل کررہا ہے اور اس عمل میں عقل وقیاس کو بھی کوئی دخل نہیں، اس لیے یہ عمل خود جواز کی دلیل ہے، لیکن تم اس عمل سے مسئلہ مستنبط کرنے کی بجائے اعتراض کرنے لگے جو حماقت اور جہالت کی علامت ہے۔ (فتح الباری:606/1)
