یہ تصویر مرشدی عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ کی ہے آپ عاجزی و انکساری کا پیکر ہیں، آپ نے سند فراغت جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے حاصل کی اور پھر مدینہ یونیورسٹی چلے گئے وہاں سے مبعوث ہوئے اور جامعہ ابی بکر کراچی میں تدریس کا آغاز کیا، کچھ عرصہ وہاں پڑھایا پھر جامعہ اسلامیہ نیائیں چوک گوجرانوالہ آ گئے ریٹائرڈ ہونے تک ادھر پڑھایا بعد ازاں شیخ عبدالسمیع عاصم حفظہ اللہ انہیں اپنے جامعہ علوم اسلامیہ لے گئے تاحال آپ وہیں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں آپ کئی کتب کے تراجم کر چکے ہیں جن میں سنن ابن ماجہ، منھاج المسلم، قصص الانبیاء اور الطب النبوی وغیرھم سر فہرست ہیں سنن کا ناصرف ترجمہ کیا بلکہ فوائد بھی تحریر کیے جسے عالمی شہرت یافتہ ادارے دارالسلام نے پانچ جلدوں میں طبع کیا، آپ نا صرف بہترین مترجم بلکہ انتہائی ماہر مدرس بھی ہیں، یہ شیخ کا مختصر تعارف تھا کچھ باتیں آگے تحریر میں بھی آئیں گی ۔

جمعے کے روز پتہ چلا کہ شیخ کی طبیعت ناساز ہے آج عصر کی نماز اس مسجد میں پڑھی جہاں شیخ نماز ادا کرتے ہیں، یہ مسجد میرے گھر سے قریب ہی ہے لیکن ایک مسجد اس سے بھی قریب ہیں تو عموما نماز وہی پڑھتا ہوں، شیخ کافی عرصے سے گردے کی پتھری کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور چند روز سے تکلیف کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے جامعہ بھی نہیں جا رہے، وگرنہ آپ نا صرف یہ کہ چھٹی نہیں کرتے بلکہ وقت کے بھی بہت پابند ہیں اور عمر کے اس حصے میں بھی جامعہ پیدل ہی جاتے ہیں جبکہ آپ کے گھر سے پیدل جامعہ چالیس منٹ کی مسافت پر ہے۔ شیخ سے تقریبا 1:50 ملاقات ہوئی ارادہ تو یہی تھا کہ آپ کا زیادہ وقت نا لیا جائے لیکن آپ چاہتے تھے کہ باتیں ہوتی رہیں، میں نے شیخ سے کہا میں چلتا ہوں آپ آرام کریں تو کہتے ہیں یہ بھی آرام ہی ہو رہا ہے، پھر شیخ کے پاوں دبانے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ میں نے جب بتایا کہ میں آپ کی عیادت کے لیے ہی آیا تھا تو بہت خوش بھی ہوئے اور ڈھیروں دعاوں سے بھی نوازا ۔

پھر بتانے لگے جب میں پیدل جاتا تھا تو راستے میں بہت سے اذکار کا موقع بھی مل جاتا خصوصا درود شریف پڑھتا ہوں اور یہ چیز شہاب نامہ پڑھ کر مجھ میں آئی میں نے کہا شہاب نامہ کے مصنف اور اشفاق احمد وغیرھما ایک ہی نظریہ کے لوگ تھے ان کی باتیں بڑی شاندار ہوتی ہیں بس تصوف ان پر غالب رہا شیخ کہتے ہیں تصوف فی نفسہ بڑی چیز نہیں یہ احسان ہی کی ایک شکل ہے لیکن وحدت الوجود جیسے نظریات نے اسے پراگندہ کر رکھا ہے ۔

پھر درود شریف کے حوالے سے میں نے انہیں بتایا کہ رفیق سلفی رحمہ اللہ کی وفات پر مجھے ان کے ایک شاگرد عطوف الرحمن قاسم حفظہ اللہ نے جو کہ میرے استاد بھی ہیں بتایا کہ شیخ رفیق نے اپنے بارے میں بتایا کہ جب مجھے بسیار کوشش کے باوجود بیضاوی کی کوئی عبارت سمجھ نہ آتی تو کتاب پکڑتا اور درود شریف پڑھتے ہوئے جامعہ روانہ ہو جاتا اور جب بیضاوی پڑھانی شروع کرتا تو عبارت حل ہو چکی ہوتی تھی ۔

پھر شیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ اس بات پر اللہ کا شکر کرتے ہیں کہ میں اس قدر تکلیف کے باوجود اس کے فضل سے چل پھر لیتا ہوں اور نماز مسجد میں آکر ادا کرتا ہوں، پھر رسول اللہ ﷺ پر آنے والے مصائب اور ان پر آپ کے صبر کا ذکر کیا اور کہا رسول اللہ ﷺ کو جس لحاظ سے بھی دیکھے آپ بے مثال تھے، آپ سے بڑا ماہر نفسیات کوئی نہیں بطور دلیل مسجد میں پیشاب کرنے والے بدو کا واقعہ ذکر کیا اور آپ کی فضیلت پر غالب کی اکلوتی نعت کا اک شعر سنایا مجھے وہ شعر تو یاد نہیں کیونکہ فارسی میں تھا لیکن مفہوم یہ تھا کہ آپ کی تعریف خالق دو جہاں ہی کر سکتا ہے ہمارے بس کی بات نہیں ۔

پھر غالب اور اس کی شاعری پر کچھ بات ہوئی میں نے غالب کے دو اشعار سنائیں پھر شیخ نے بھی ایک اور شعر سنایا، میں نے جو شعر سنائے وہ یہ تھے ۔

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں

روئیے زار زار کیا؟ کیجیے ہائے ہائے کیوں؟

شیخ نے یہ شعر سنایا

جاتے ہوئے کہتے ہو «قیامت کو ملیں گے»

کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور بتایا کہ یہ اس نے اپنے لے پالک عارف کی وفات پر کہا تھا اس کی اپنی اولاد بچپن ہی میں فوت ہو گئی تھی ۔باتوں ہی باتوں میں ابن قیم رحمہ اللہ کا بھی ذکر ہوا، شیخ آج کل ان کی کتاب «زادالمعاد» کا ترجمہ کر رہے ہیں اور کہہ رہے تھے کہ دعا کرنا کہ ترجمہ پورا ہو جائے، آپ نے ابن قیم کی کتب پڑھنے کا مشورہ دیا بالخصوص «الوابل الصیب» کا ذکر کیا ۔کتابوں کا ذکر شروع ہوا تو فرمانے لگے عیسائیت پر بہترین کتاب «اظہار الحق» ہے جس کا ترجمہ «بائبل سے قرآن تک» کے نام سے طبع ہو چکا ہے ۔ ساجد میر حفظہ اللہ کی کتاب کی بھی تعریف کی جو عیسائیت کے عنوان پر ہے، قادیانیت کے حوالے سے «محمدیہ پاکٹ بک» کا ذکر کیا ۔ کہنے لگے ہمارے اداروں میں بہت سے عیسائی کام کرتے ہیں ہمیں ان سے تعلق بڑھانا چاہیے، گھر پر ان کہ دعوت کرنی چاہیے اور اسلام کی دعوت پیش کرنی چاہیے اگر ایسے لوگ مسلمان ہو جائیں تو روایتی مسلمانوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور پھر یہ حدیث سنائی:

فَوَ اللهِ لَأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ(صحیح البخاری:2942، صحیح مسلم:2406)

پھر کہنے لگے حمر کی میم مضموم نہیں پڑھنا چاہیے اس سے مطلب بگڑ جاتا ہے اور ایسا عموما عدم توجہ کہ وجہ سے ہوتا ہے جیسے اکثر دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں اشف مرَضانا ر کی فتح کے ساتھ حالانکہ یہ ر کے سکون کے ساتھ ہے مرْضانا جو کہ مریض کہ جمع ہے ۔

پھر اپنی بیماری کے حوالے سے کہنے لگے کہ بیماری بھی رحمت ہے اس سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، کچھ آبدیدہ ہو گئے، اور جن لوگوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور ان کی بیماری میں کسی بھی طرح سے معاونت کی ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرنے لگے جس نے انہوں ایسے احباب عطا کیے ۔

آخر میں تدریس کے متعلق کچھ گزارشات عرض کیں اور بتایا کہ یہ اصول غلط ہے کہ جیسے پڑھا ویسے ہی پڑھانا ہے، حالات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہنے لگے ابواب الصرف جیسی کتب رٹوانے کی بجائے سمجھا کر پڑھانی چاہیے، بڑے اور سینئر اساتذہ کو بھی ابتدائی کلاسوں میں پڑھانا چاہیے اس سے ان کی عزت کم نہیں ہوتی ۔یہ مجلس آخری ثابت ہوئي۔

اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *