ہر سال 8مارچ کو پوری دنیا میں عورتوں کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔جس میں ان کی آزادی اور صنفی مساوات جیسے مطالبات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس عنوان سے یہ دن آوارہ مزاج خواتین، انسانی حقوق کی نام نہاد دعویدار مختلف تنظیموں اور سول سوسائٹی کے مختلف کرداروں نے کئی ایک شہروں میں مظاہروں، مارچ اور ناچ گانے کے پروگرام منعقد کر کے منایا۔

اکثر خواتین نیم عریاں لباس پہنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ڈھول کی تھاپ اور موسیقی کی آواز پر رقص کرتی نظر آئیں۔پلے کارڈز پر بے ہودہ نعرے درج تھے۔سوقیانہ جملے بازی، بد تہذیبی وبدذوقی کی عکاسی، منٹو کی الٹی سیدھی نقل۔۔۔۔

عورت مارچ میں توہین رسالت

پاکستان میں عورت مارچ کے دوران ایک ایسا پلے کارڈ بھی سامنے آیا جو بہت ہی انتہائی تکلیف دہ تھا جس پر اشارتا رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ومقدس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے ساتھ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی بھی توہین کی گئی تھی۔

اس پر لکھا ہوا تھا:’’میں نو سال کی تھی، جبکہ وہ پچاس سال کا۔آج بھی اس کا نام اذان میں گونجتا ہے۔‘‘

اس پلے کارڈ میں اشارتا یا کنایتا ہی یہ بات لکھی گئی ہے۔جس کا واضح اشارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتا ہے۔۔نہایت ہی تکلیف دہ جملے ہیں۔جو ہمارے مرکز محبت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے شایان شان نہیں ہیں۔

اگر اس مخصوص شخص کا تعین ہو جائے، جس نے یہ توہین آمیز پلے کارڈ بنایا اور بعد ازاں اسے اٹھا کر پھرتا رہا تو اس (مرد یا عورت) پر مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

ہمارے کئی دانشور کہ رہے ہیں کہ ان توہین آمیز جملوں کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف نہیں بلکہ کسی اور طرف ہے۔یہ عذر باطل ہے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشارہ کنایہ کس طرف ہے۔۔۔جس عورت یا مرد نے یہ پلے کارڈ اٹھایا ہوا تھا اسے چاہیے کہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے، سامنے آئے اور وضاحت پیش کرے کہ اگر ان کی مراد رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی نہیں تھی تو کس طرف ان کے اشارے تھے۔

اس صریحا توہین اور گستاخی پر پاکستان کے قانون کی شق 295-C ایکٹ کے الفاظ میں کسی معافی کی گنجائش نہیں ہے۔۔اس دفعہ کے الفاظ ہیں:

«Whoever by words، either soken or written، or by visible reresentation، or by any imutation، innuendo or insinuation، directly or indirectly، deflies the sacred name of tha Holy rohet Muhammad (eace be uon Him)shall also be liable to fine.

«جوکوئی بھی الفاظ کے ذریعے، خواہ تحریری صورت میں ہوں یا بولے جانے کی صورت میں، یا دکھائی دینے والی بصری علامت کے ذریعے، یا کسی بھی تعریض، کنایہ یا اشارے کے ذریعے براہ راست یا بالواسطہ، سیدنا محمد ﷺ کے مقدس نام کی توہین کرے، تو اسے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔»

استاذ قانون بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد) اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:

«واضح رہے کہ اس قانون کے متن میں عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ سزائے موت یا عمر قید میں کوئی ایک سزا چنے( اور جرمانہ تو بہر صورت عائد ہو گا) لیکن وفاقی شرعی عدالت نے 1991ء میں اسماعیل قریشی کیس میں قرار دیا ہے کہ اس متن میں «یا عمر قید» کے الفاظ قرآن و سنت سے منافی ہیں۔اور حکومت کو 30 اپریل 1991ء تک کا وقت دیا گیا تھاکہ وہ متن سے یہ الفاظ حذف کرے بصورت

دیگر یہ الفاظ غیر مؤثر ہو جائیں گے۔حکومت نے آج تک، یعنی 30سال بعد بھی، یہ الفاظ حذف نہیں کیے لیکن قانونا یہ الفاظ غیر مؤثر ہیں۔چنانچہ اس جرم پر دو ہی سزائیں ہیں۔سزائے موت اور جرمانے کی سزا۔ان دونوں سزاوں میں سے کسی ایک کے چننے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں ہے۔بلکہ اسے دونوں سزائیں دینا ہوں گی، اگر جرم ثابت ہو جائے۔»

«عالمی یوم خواتین»۔۔حقیقت کیا ہے؟

بین الاقوامی طور پر عالمی یوم خواتین 8-مارچ کو منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے کو خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر ظلم وتشدد سے روکنے کے اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے۔یوم خواتین منانے کا پس منظر یہ ہے کہ

8مارچ 1907 کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں کپڑےاور لباس کی صنعت سے وابستہ سینکڑوان خواتین نے مردوں کے برابر حقوق اور روزگار کی بہتری کے لئے مارچ کیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ وہ کئی کئی گھنٹے کام کرتی ہیں جب کہ انہیں تنخواہ کی وصولی کے وقت کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کے جائز مطالبے کو ماننے کی بجائے پولیس نے ان پر تشدد کیا۔اسی طرح اگلے سال یعنی 8-مارچ 1908ء کو نیو یارک ہی میں سوئی سازی کی صنعت سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین اور بچوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ انہیں ووٹ کا حق دیا جائے، جسے حکومت نے گھڑسوار دستوں کے ذریعے کچل دیا۔ خواتین اور بچوں کو لاٹھیوں سے بار بار مارا گیا۔خواتین کے بال نوچے گئے۔انہیں سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔بہت سی خواتین کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔اس واقعے کے بعد فوری بعد( 1908ء) میں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے خواتین کے مسائل کے حل کے لئے «وومن نیشنل کمیشن» بنایا۔اسی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 28 فروری 1909ء میں پہلی بار عالمی یوم خواتین منایا گیا۔اسی طرح 1910ء میں پہلی عالمی خواتین کانفرنس کوپن ہیگن میں منعقد کی گئی۔پھر 8 مارچ 1913ء کو پورے یورپ میں خواتین سے اظہار یکجہتی کے لئے خواتین نے ریلیاں نکالیں اور پروگرام منعقد کیے۔اس وقت سے لے کر اب تک ہر سال 8 مارچ کو «یوم خواتین» کے نام سے منایا جاتا ہے۔

اب دیکھیں امریکہ والے بے چارے لوگوں نے تو اس لئے یوم آزادی خواتین منانا شروع کیا کہ وہاں کی مجبور بے کس خواتین کی مزدوری روکی گئی انہیں اپنے قیام وطعام کا بندوبست خود کرنا پڑا۔ان کا کوئی ولی وارث نہیں تھا۔جب وہ کمانے کے لئے باہر نکلی تو اس کی محنت کا معاوضہ ہتھیا لیا گیا۔جب وہ اپنے حقوق کے لئے نکلی تو اس پر ظلم وستم ڈھایا گیا۔

«می ٹو» نامی مہم:

سوشل میڈیا پر «می ٹو»نامی ہیش ٹیگ سامنے آیا ہے جس میں جنسی طور پر ہراساں کی جانے والی خواتین کے الزامات موجود ہیں۔یہ وہ خواتین ہیں جن کا تعلق فلم انڈسٹری سے ہے۔ اداکاراوں کے یہ الزامات 2017ء کے ہیں۔ان میں بالخصوص ان لوگوں کو بے نقاب کیا گیا ہے جن پر جنسی ہراسگی کے الزامات ہیں۔

جو لوگ اس مہم کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔ان کے بقول:یہ مہم خواتین کی عزت وحرمت کے تحفظ کی تحریک ہے۔جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں کیونکہ اس وقت امریکہ سمیت یورپ کے تمام ممالک میں عورت غیر محفوظ ہے۔اسے دوران تعلیم درسگاہوں میں ہسپتالوں یا دوسرے شعبہ جات، ہیلتھ سنٹرز، یا بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز پر جابز کے مراحل میں جنسی ہراسگی کا ہر صورت سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس بات کا اعتراف «می ٹو مہم»میں بھی کیا گیا ہے۔15مارچ 2021ء کو آسٹریلیا کے چالیس شہروں میں «عورت مارچ» منعقد ہوا، جس میں لاکھوں عورتوں نے شرکت کی۔انہوں نے آسٹریلیا کو عورتوں کے لئے غیر محفوظ ملک قرار دیا۔۔انہوں نے اس موقع پر صرف ایک ہی مطالبہ کیا کہ ان کے تحفظ وحقوق کے لئے قانون سازی کی جائے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا، امریکا میں طالبات کا جنسی استحصال:

یہاں ہم یورپ کی خواتین بالخصوص یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالبات کاذکر کرتے ہیں جن پر جنسی حملے ہوتے ہیں اور وہ خود کو اس ماحول میں غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا امریکہ کے اعلی درجے کی یونیورسٹی ہے، جہاں تحقیقی کام کیا جاتا ہے۔یہاں امریکہ کے علاوہ دنیا بھر کے طلبہ وطالبات کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے۔اس یونیورسٹی میں اگر 100 طلبہ وطالبات داخلے کے لئے اپلائی کرتے ہیں تو گیارہ طلبہ وطالبات کو ہی داخلہ مل پاتا ہے۔یوں مسابقتی فضا قائم رہتی ہے۔اس کا جنوبی یونیورسٹیوں میں بائیسواں نمبر ہے۔اس کے تدریسی عملے کی تعداد 3945، انتظامی عملہ 13216، انڈر گریجویٹ طلبہ وطالبات کی تعداد18740، پوسٹ گریجویٹ کی تعداد23729 ہے، کل ملا کر یہ تعداد 42469بنتی ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا ان دنوں ایک مقدمے کے حوالے سے زیر بحث ہے۔اس یونیورسٹی کی 710 سابقہ طالبات نے کیلی فورنیا کی اسٹیٹ کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ 1990ء سے 2016ء تک تمام مختلف اوقات میں یونیورسٹی کے ماہر امراض نسواں ڈاکٹر جارج ٹنڈال نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ڈاکٹر ٹنڈال طبی معائنے کے دوران ان کے ساتھ جنسی زیادتیاں کرتے تھے۔

مقدمہ دائر کرنے والی سابقہ طالبات نے ان زیادتیوں کے واقعات کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے زیادتی کے یہ واقعات یونیورسٹی انتظامیہ تک پہنچائے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کے جواب میں سرد مہری کا نہ صرف رویہ اختیار کیا اور ہمارے الزامات پر توجہ نہ دی بلکہ اس نے ڈاکٹر جارج ٹنڈال کو برطرف بھی نہ کیا۔اس بے توجہی کے باعث یونیورسٹی میں وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہوا، جس میں طلبہ وطالبات کے علاوہ فیکلٹی کے ممبران بھی شامل تھے۔طلبہ کے غم وغصے اور مظاہروں کے بعد 2017ء میں ڈاکٹر ٹنڈال کو معطل کیا گیا اور احتجاج جاری رہنے پر پہلی بار 2018ء میں ڈاکٹر ٹنڈال کے خلاف الزامات میڈیا میں شائع ہوئے۔ان الزامات کی اشاعت کے باعث اس وقت کے یونیورسٹی کے بورڈ کے صدر نے استعفا دے دیا۔

ذرائع ابلاغ میں ان الزامات کی باز گشت پر چینی حکومت نے گہری تشویش کا اظہار کیا کیونکہ متاثرہ طالبات میں کئی طالبات چین سے تعلق رکھتی تھیں۔ڈاکٹر ٹنڈال تیس برس تک اس یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔اور انہوں نے ان الزامات کی تردید کی، لیکن اب وہ الزامات کا سامنا ایک اور عدالت میں کر رہے ہیں اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں 64 سال کی قید کی سزا مل سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے موجودہ سربراہ کیرول فالٹ اور یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے مقدمہ دائر کرنے والی طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے ازالے کے لئے ایک تصفیہ لاس اینجلس کاونٹی کی اعلی عدالت کے جج کے تعاون سے کیا اور یونیورسٹی اور طالبات کے مابین ایک معاہدہ طے پایا جس کی توثیق کیلی فورنیا یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے کر دی۔اس معاہدے کے مطابق متاثرہ710 طالبات کو جنسی زیادتی کے تاوان کے طور پر 85.2 کروڑ ڈالر ادا کیے جائیں گے۔وکلاء کے مطابق یہ کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں جنسی زیادتیوں کے واقعات کے ازالے کے طور پر ادا کی جانے والی سب سے زیادہ ریکارڈ رقم ہے۔اس سے قبل ایک اور تصفیے میں بھی یونیورسٹی نے رقم ادا کی، اگر اس رقم کو ان 85.2 کروڑ ڈالر سے ملایا جائے تو یہ ایک ارب ڈالر بنتی ہے۔جو یونیورسٹی کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔(دیکھئے روزنامہ اسلام ایڈیٹوریل پیج:31-مارچ 2021ء)

آپ اس خبر کا بار بار مطالعہ کریں کہ امریکہ جو پوری دنیا کی خواتین کی آزادی چاہتا ہے اوران کا وکیل بنا ہوا یے۔اس کی اپنی حالت یہ ہے کہ امریکہ کے بڑے بڑے تعلیمی ادارے جنسی ہراسگی کا مرکز بن چکے ہیں۔یہ تو صرف ایک مقدمہ کھلا ہے۔پتا نہیں ایسے ہزاروں مقدمات ہوں گے، جو طالبات کی خاموشی کے باعث سامنے ہی نہ آ سکے ہوں گے۔یہ ایک کیس تو تعلیمی ادارے کا ہے۔جب کہ دیگر درجنوں شعبہ جات:پولیس، آرمی، دفاتر، کاروباری مراکز، تجارتی سنٹرز وغیرہ میں بھی آئے روز جنسی ہراسانی کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔سارا سال خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔مگر جوں ہی 9-مارچ آتا ہے۔ایلیٹ کلاس کی خواتین اور نام نہاد این جی اوز کے نمائندہ لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر عورت کے تحفظ کے نام پر «عورت مارچ» نکالتے ہیں۔عورت چراغ خانہ تھی مگر اسے یہ باور کرایا گیا کہ اس کے حقوق غصب ہو رہے ہیں۔اسے ہر صورت اپنے گھر کو چھوڑ کر باہر نکلنا پڑے گا۔۔چنانچہ عورت کو چراغ خانہ سے شمع محفل بنا دیا گیا۔

پرانےامریکی آج بھی اس نظام پر کڑھتے ہیں۔انہیں اپنا خاندانی نظام دن بدن کمزور دکھائی دے رہا ہے۔وہ حقوق نسواں کے نام پراٹھنے والی آزادی کی آواز کو پسند نہیں کرتے۔امریکہ اور مغربی ممالک کے معمر افراد اس بے لگام آزادی کو اخلاقی اقدار کے یکسر خلاف سمجھتے ہیں۔

پدر سری معاشرے کا طعنہ:

عورت مارچ کے پروموٹر اور مردو خواتین کی صنفی تقسیم کے مخالف اور ان کے مابین مساوات کے علم بردار اور مغربی تعلیمات سے متاثر «دان شور» اور این جی اوز اور ایلیٹ کلاس پاکستانی سوسائٹی کو «پدر سری» معاشرے کا طعنہ مارتی ہیں۔یہاں ہمارا ان سے ایک سوال بنتا ہے کہ آپ جس مغربی کلچر اور سسٹم سے متاثر ہو کر خواتین کی آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہیں۔پاکستان سمیت دنیا کی دیگر مسلمان ممالک میں اسی نعرے پر اپنے دفاتر کھول رہے ہیں۔کیا یہی مغربی کلچر اور ثقافتی اقدار مغرب کی بااختیار عورت کو بھی تحفظ دے سکی ہے؟

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کی خواتین اپنے کلچر اور ماحول سے تنگ ہیں۔انہیں بنیادی صنفی حقوق کے حصول کے لئے اپنی اور اپنے خاندان کی عزت وحرمت کو داو پر لگانا پڑتی ہے۔انہیں واضح کہا جاتا ہے کہ ہم آپ کو یہ سہولت دے رہے ہیں۔۔آپ کو اس کے بدلے میں یہ کچھ دینا پڑے گا۔مجبورا ان خواتین کو بات ماننا پڑتی ہے۔

ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے!

یورپ میں مرد کی بے توقیری کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔لوگ اس کے نتائج سے خوف زدہ ہیں۔وہ مزید حالات کا سامنا نہیں کرسکتے اور اس سے نجات چاہتے ہیں۔جب کہ مسلمان خواتین ایسی ہی بے توقیری کی فضا قائم کرنا چاہتی ہیں۔

ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے۔

مغرب میں عورت کی حالت زار

یہ المناک رویہ ہے کہ تحفظ حقوق نسواں کے جغادری مغربی ممالک میں خواتین کو محض جنسی تسکین کی مشین بنا کر رکھ دیا گیا ہےخواتین کو سماجی عزت واحترام حاصل نہیں۔ہم یورپ کے کس کس ملک کا نام لیں۔۔جس کا بھی مطالعہ کیا وہیں عورت کا درجہ جانور سے بھی بد تر پایا۔بلکہ ان کے مقابلے میں جانوروں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔بعض مذاہب تو ایسے ہیں جہاں جانوروں کی پوجا کی جاتی ہے اور عورت کو جنس بازار سے بھی کم تر سمجھا جاتا ہے۔مغربی معاشرے کے علاوہ ہندو معاشرے کو بھی دیکھ لیں، جہاں عورت کو شادی کے وقت تولا جاتا ہے تاکہ اس کے وزن کے مطابق جہیز کا مطالبہ کیا جا سکے۔

اسی وجہ سے بڑے مغربی ممالک اپنی ننگی تہذیب وثقافت سے بہت زچ آ چکے ہیں۔وہاں کے باشندے بہت تیزی سے فطرت اسلام کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ان میں سے بے شمار لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ہم یہاں ایک نو مسلم خاتون محترمہ امینہ جنان کا ایک اقتباس پیش کرتے ہیں جس میں عورت مارچ کا اہتمام کرنے والی مسلم خواتین بالخصوص اوربالعموم تمام غیر مسلموں کے لئے مقام عبرت ہے کہ ایک ایسی عورت جو امریکہ کے سنڈے سکولوں میں عیسائیت کی تعلیم دیا کرتی تھی لیکن انہیں اس مذہب میں سکون نہ ملا، وہ اپنے دین سے مطمئن نہیں تھی۔وہ 1977ء میں عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں آگئی۔وہ اسلام کے شعار عفت وحیاء اور پاکیزگی سے بہت متاثر تھیں۔۔صرف ایک دو اقتباسات ان کی قبولیت اسلام کی روئداد سے نقل کرتا ہوں۔

«*۔۔۔۔۔مزید اطمینان کی خاطر میں نے پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کیا، تو یہ دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کہ امریکی مصنفین کے پرا پیگنڈے کے بالکل برعکس حضور اکرم ﷺ کی بنی نوع انسان کے عظیم محسن اور سچے خیر خواہ ہیں۔خصوصا انہوں نے عورت کو جو مقام اور مرتبہ عطا فرمایا اس کی پہلے یا بعد میں کوئی مثال نظر نہیں آتی۔

ماحول کی مجبوریوں کی بات دوسری ہے۔ورنہ میں طبعا بہت شرمیلی ہوں اور خاوند کے سوا کسی مرد سے بے تکلفی پسند نہیں کرتی۔چنانچہ جب میں نےپڑھا کہ پیغمبر اسلام خود بھی بےحد حیاء دار تھے۔اور خصوصا عورتوں کے لئے عفت وپاکیزگی اور حیا کی تاکید کرتے ہیں۔

تو میں بہت متاثر ہوئی اور اسے عورت کی ضرورت اور نفسیات کے عین مطابق پایا۔پھر حضور ﷺ نے عورت کا درجہ جس درجہ بلند فرمایا اس کا اندازہ اس قول سے ہوا، کہ جنت ماں کے قدموں میں ہے اور آپ کے اس فرمان پر تو میں جھوم اٹھی کہ عورت نازک آبگینوں کی طرح ہے اور تم میں سے سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنی بیوی اور گھر والوں سے اچھا سلوک کرے۔

قرآن اور پیغمبر اسلام ﷺ کی تعلیمات سے میں مطمئن ہو گئی اور تاریخ اسلام کے مطالعے اور اپنے مسلمان کلاس فیلوز نوجوانوں کے کردار نے مسلمانوں کے بارے میں ساری غلط فہمیوں کو دور کر دیا اور میرے ضمیر کو میرے سارے سوالوں کے جواب مل گئے تو میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس کا ذکر میں نے متذکرہ طالب علموں سے کیا، تو وہ 21مئی 1977ء کو میرے پاس چار ذمہ دار مسلمانوں کو لے آئے۔ان میں سے ایک ڈینور(Denver) کی مسجد کے امام تھے۔چنانچہ میں نے ان سے چند مزید سوالات کئے اور کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔» (ہمیں خدا کیسے ملا؟ ص:58)

یورپ کے معاشرے کی تقلید نہ کریں:

(نومسلمہ سسٹر امینہ کی خواتین اسلام کو نصیحت)

نومسلمہ سسٹر امینہ امریکہ میں پلی بڑھی، آخر وہاں کے بےحیائی پر مبنی معاشرے سے متنفر ہو کر مسلمان ہو گئی۔ان کا مختصر قصہ آپ پڑھ چکے۔۔جس معاشرے سے امینہ نکل کر آئیں وہ مادر پدر آزاد ہے۔موصوفہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں اور باقی زندگی اس کی اطاعت میں گزارنے کا عزم رکھتی ہیں۔افسوس تو ان مسلمانوں پر ہے کہ وہ اسی فرسودہ معاشرے میں جانا چاہتے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔

عورت مارچ کے جغادری یورپ کی اندھی تقلید نہ کریں اس کے بےحیاء معاشرے سے بے زار ہو کر بے شمار خواتین مسلمان ہو گئیں، ان خواتین کی زبانی لکھی گئی داستانوں پر بھی ایک نظر ضرور ڈالیں تاکہ حرمت وعفت کے تقدس سے دور اس معاشرے کی حقیقی تصویر ہمارے سامنے آ سکے۔ہم امینہ سے ہی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے مسلمان مرد مغربی کلچر کی نقالی میں امریکہ ثقافت کو پسند کرتے ہیں۔اور خواتین شعار اسلام پردہ وغیرہ سے چھٹکارا چاہتی ہیں۔آپ ہی انہیں کوئی نصیحت کریں۔۔اور مغربی معاشرے کی کوئی تصویر پیش کریں جن سے اندازہ ہو کہ مادر پدر آزاد معاشرے کے کیا مسائل ہیں اور اس نے خاندانوں کے لئے کیا کیا مشکلات کھڑی کی ہیں۔فروری 1990ء میں محترمہ امینہ انٹرنیشنل یونین آف مسلم وومن کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان تشریف لائیں اور یہاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات، لاہور کالج برائے خواتین، کنیئرڈ کالج، کالج فار ہوم اینڈ سوشل سائنسز اور اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں میں خطاب فرمایا۔انہوں نے خواتین کو تکرار کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی کہ حجاب میں عورت کی عزت واحترام ہے اور عورت کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے بچوں کی پرورش ہے۔انہوں نے بڑے دکھ سے کہا:«میں سمجھتی تھی کہ پاکستان کا معاشرہ اسلامی رنگ میں رنگا ہوا ہو گا، مگر افسوس سے کہ یہاں ائیر پورٹ پر اترتے ہی مجھے مردوں کے عجیب وغریب رویے سے دوچار ہونا پڑا۔وہ عورتوں کو جس انداز سے بے باکی کے ساتھ گھورتے ہیں، اس طرح امریکہ کے لادین معاشرے میں بھی نہیں ہوتا۔ پھر یہاں کی خواتین یورپین عورتوں کی نقالی میں ماڈرنزم اختیار کرنے کی بڑی شوقین ہیں۔میں انہیں انتباہ کرتی ہوں کہ یورپ کے معاشرے کی تقلید نہ کریں۔وہاں کی خواتین آزادی اور برابری کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکیں انہوں نے ہر شعبہ زندگی میں مردوں سے مسابقت کا انداز اختیار کیا اور نسوانیت کو ترک کر کے مردوں کی روش اپنا لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ آج یورپ میں عورت سے زیادہ مظلوم کوئی نہیں۔وہ فحاشی اور عدم تحفظ کے گہرے گڑھے میں گر گئی ہے اور جو کچھ اس کے پاس تھا، وہ بھی کھو دیا ہے۔آج عالم یہ ہے گھر کو قید خانہ سمجھ کر دفتروں کی زندگی اپنانے کے نتیجے میں اسے صبح ہی صبح تیزی کے ساتھ گاڑیوں کا تعاقب کرنا پڑتا ہے اور ٹریفک کے بے پناہ رش میں دو دو گھنٹے کی بھاگ دوڑ کے بعد اپنے دفتر پہنچتی ہے۔وہاں دن بھر نوکرانی کی طرح کام بھی کرتی ہے اور اپنے باس(Boss) کے اشارہ ابرو پر ہر طرح کا ناگوار مطالبہ بھی پورا کرتی ہے۔شام کو دوبارہ ٹریفک کے سیلاب کا مقابلہ کر کے گھر آتی ہے تو تھکاوٹ سے اس قدر نڈھال اور زندگی سے اتنی بیزار ہوتی ہیں کہ اپنے ننھے پیارے بچے کی بات کا جواب تک نہیں دے سکتی۔

امریکی خواتین کے بچے ڈے کیئر سنٹروں میں پلتے ہیں۔جہاں وہ عدم توجہی کا شکار رہتے ہیں اور نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔وہاں انہیں سادھو ازم اور جادوگری کا زہر پلایا جاتا ہے، ان پر مجرمانہ حملے ہوتے ہیں اور والدین کی شفقت اور خاندانی زندگی سے محروم ہو کر وہ بچپن ہی سے منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں۔چنانچہ بے شمار بچے نو دس سال کی عمر میں خود کشی کر لیتے ہیں اور پبلک اسکولوں میں فیل ہونے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ایڈز اور ہم جنس (پرستی) عام ہے اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں تو ہم جنسی کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔بڑھاپے میں والدین شدید کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں اور جوں ہی ایک خاتون کی عمر 35سال سے تجاوز کرتی ہے اسے اس طرح نظر انداز کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ درگور ہو کر نفسیاتی مریض بن جاتی ہے۔چنانچہ امریکہ میں ذہنی امراض کے ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔غرض وہاں نہ عورتوں کو سکون حاصل ہے نہ بچوں کا اور نہ بوڑھوں کو۔

پھر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پاکستانی خواتین اور مرد حضرات اس معاشرے کو آئیڈیل کیوں سمجھتے ہیں۔اور وہی اطوار کیوں اختیار کر رہے ہیں، جنہوں نے امریکی اور یورپی سماج کو تباہ وبرباد کر دیا ہے۔»؟ (ہمیں خدا کیسے ملا؟ص:65)

روسی صدر میخائل گوربا چوف کا موقف:

مغرب میں آزادی نسواں یا عورت کو مردوں کے برابر لانے کا غیر متوازن نظریہ غیر مقبول یے۔روسی صدر میخائل گورباچوف اپنی کتاب:Status of Womenمیں لکھتے ہیں:

«ہماری مغرب کی سوسائٹی *میں عورتوں کو گھر سے باہر نکالا گیا، اور اس کو گھر سے باہر نکالنے میں بے شک ہم نے کچھ فوائد حاصل کیے ہیں۔پیداوار میں کچھ اضافہ ہوا، اس لئے کہ مرد بھی کام کر رہے ہیں اور عورتیں بھی کام کر رہی ہیں، لیکن پیداوار کے زیادہ ہونے کےباوجود اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو گیا۔اور اس فیملی سسٹم کے تباہ ہونے کے سلسلے میں ہمیں جو نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔وہ نقصانات ان فوائد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں جو پروڈکشن کے اضافے کے نتیجے میں ہمیں حاصل ہوئے۔لحاظہ میں اپنے ملک میں پرو آسٹرائیکا کے نام سے ایک تحریک شروع کر رہا ہوں۔اس میں میرا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ عورت جو گھر سے باہر نکل چکی ہے اس کو گھر میں واپس کیسے لایا جائے؟

اس کے طریقے سوچنے پڑیں گے ورنہ جس طرح فیملی سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔اس طرح پوری قوم تباہ ہو جائے گی۔»

اسلام اور حقوق نسواں:

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ دنیا بھر کے تمام مذاہب میں خواتین کو سب سے زیادہ حقوق اسلام نے دیے ہیں۔عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، بہو ہو یا نوکرانی ہو، اسلام میں ان سب کے حقوق وفرائض بیان کر کے انہیں اپنے فرائض وذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔اور ہر لحاظ سے ان کا احترام ووقار بلند کیا گیا ہے۔اسلام نے جدید معاشرے کی خواتین کو بھی وہی حقوق عطا کیے ہیں جو اس نے قدیم زمانے کی خواتین کو عطا کیے تھے۔

قرآن مجید کا اعلان:

قرآن مجید کا یہ اعلان نہایت واضح ہے کہ حقوق کے اعتبار سے مرد اور عورت برابر ہیں۔جس طرح مردوں پر خواتین کے حقوق ہیں اسی طرح خواتین پر مردوں کے حقوق متعین کر دئیے گئے ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے: وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ(البقرة:٢٢٨)’’عورت کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔‘‘

اللہ کے اس ارشاد اور اسلوب بیان کی جامعیت پر تدبر کرنے کی ضرورت ہے۔ان مختصر الفاظ میں کون سی خرابی ہے جسے دور نہیں کیا گیا۔پھر سورۃ النساء میں یہ بات فرمائی کہ حقوق وفرائض کی برابری کے باوجود مردوں کو ایک درجہ فوقیت دی گئی ہے۔وہ درجہ کون سا ہے۔۔۔سورة النساء کی آیت 34 میں اس کا جواب دیا گیا ہے:

 اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْهِنَّ سَبِيْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا(النساء: 34)

’’مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بناء پر کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔پس نیک تابع فرمان عورتیں خاوند کی غیر حاضری میں اللہ کی حفاظت ونگرانی میں (عزت ومال) کی حفاظت کرنے والی ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستر پر چھوڑ دو اور انہیں سزا دو پھر اگر اطاعت کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔یقینا اللہ تعالی بلند اور بڑا ہے۔‘‘

ان آیات میں فرمایا گیا کہ مرد خواتین کے قوام ہیں۔۔اس میں دو چیزیں قابل ذکر ہیں۔۔

1۔اللہ نے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت دی۔

2۔مرد اپنا مال خواتین پر خرچ کرتے ہیں۔یعنی وہ نان نفقہ وغیرہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔اگر مرد کو نکال دیں۔اکیلی عورت کا وجود کوئی معنی نہیں رکھتا۔مرد اس کا قوام ہے یعنی اس کے لئے ہر قسم کے حالات میں بندوبست کرنے والا۔یہ قرآن مجید ہی فرما رہا ہے کہ مرد سے ہی خاندانی نظام بنتا ہے۔اس کے بغیر نہیں۔

اللہ تعالی کا ہی یہ منشا تھا کہ خاندانی نظام ایسا ہو کہ جہاں شوہر کی حیثیت قوام کی ہو۔بس یہی مناسب سا فرق اور امتیاز ہے جو مرد کو خواتین کے مقابلے میں حاصل ہے۔یہ ذمہ داری ایک بوجھ ہے جو مردوں کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔دونوں فریقین کو منزل من اللہ تقسیم کھلے دل سے قبول کر کے اس کے مقرر کردہ دائرہ میں زندگی گزارنی چاہیے۔

اللہ تعالی نے مرد و عورت دونوں کے مابین خوبصورت توازن وامتزاج کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔غور فرمائیں۔مرد کو طاقت دی ہے تو عورت کو حسن وجمال۔ایک کو چاہنے کی خواہش دی ہے تو دوسرے کو چاہت وپیار کا مرکز بنا دیا ہے۔ایک کے حصے میں اگر اولاد رکھی ہے تو دوسرے کے مقدر میں رزق۔اور دونوں کے مابین ایسی کشش رکھ دی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے جتنا بھی دور ہوں۔ان کا راستہ ایک اور دل ملے ہوئے ہوتے ہیں۔لیکن یہاں ٹھہریئے۔

اور ایسے تمام کام جن سے عورت کا وقار اور اس کی نسوانیت کا بھرم ٹوٹتا ہو، اس سے عورت کو آزاد ہی رکھا ہے۔معاش، جہاد، سیاست، عدالت، تھانہ کچہری وغیرہ کی آزماِشوں اور جھمیلوں سےاسے بری الذمہ قرار دیا ہے۔مرد کا ایک درجہ بڑھا کر اس پر منوں وزن بھی ڈالا گیا ہے اور دوسری طرف خاتون پر اپنے خاوند کی خدمت، بچوں کی پرورش اور تربیت، گھر کے مال ومتاع کی حفاظت کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں۔عورت کے لئے تو گویا آسائش کا سامان کیا گیا ہے۔اسے فکر معاش سے آزاد رکھا گیا ہے۔اسے مظلوم یورپی خاتون کی طرح یہ نہیں کہا گیا کہ جاو کما کر لاو، خود بھی کھاو اور ہمیں بھی کھلاو۔

اسلام نے خواتین کی ضروریات اور معاش کی ذمہ داری مردوں پر ڈالی ہے۔شادی سے پہلے باپ، بھائی اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹے پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے۔وہ زندگی میں کبھی تنہائی کا شکار نہیں ہوتی۔وہ باپ اور شوہر کے ترکے کی وارث ہے لیکن اسے کسی پر خرچ کرنا اس کی ذمہ داری نہیں۔یہاں تک کہ اس کی کفالت واخراجات کا ذمہ دار مردوں کو ہی ٹھہرایا گیا ہے۔مال کمانا اور اس سے گھر چلانے کی قطعا کوئی ذمہ داری اس پر نہیں ہے۔اگر وہ خوشی سے کچھ کما لیتی ہے تو وہ اس کی واحد مالک ہے۔

اسلامی تہذیب وثقافت کے رنگ:

اسلامی تہذیب وثقافت کے اپنے شاندار رنگ ہیں۔شریعت نے مردوں پر اسلامی احکامات ساقط نہیں کیےلیکن خواتین کو ان کے مخصوص ایام میں رعایت دی ہے۔عورت کی ذمہ داریاں ان کی فطرت کے عین مطابق ہیں۔عورت کو اس قدر اہمیت دینے اوراسے بہترین حقوق عطا کرنے کے بعد اس پر حجاب، شرم وحیا، اختلاط مرد وزن سے پرہیز جیسی پابندیاں لگا کر اسے معاشرے کی ہوس اور گندی سے محفوظ بنادیا ہے۔لیکن دین سے دوری، اسلامی احکامات سے سخت غفلت، حقوق وفرائض سے عدم توجہی، اپنی خوبصورت روایت اور تہذیب سے نفور، فلموں، ڈراموں اور یورپی کلچر کی اندھا دھند تقلید سے اسلامی سوچ اور کلچر کے منافی جذبات اور حرص وہوس کی تکمیل کے لئے ہم ہر حد کو ہم عبور کر چکے ہیں۔

عورت کے وزن کو جہیز کے لئے استعمال کرنا، اسے اپنے شوہر کی میت کے ساتھ ستی کردینا، اسے کمائی کی مشین بنا لینا، اس کی خوبصورتی اور زیبائش کو کاروباری مقاصد(اشتہارات) کے لئے استعمال کرنا، مذہب کے نام پر اسے بنیادی حقوق سے یکسر محروم رکھنا یا دھکے مار کر گھر سے نکال دینا، یا اس کی اولاد چھین لینا، اسے شمع محفل بنانا، اسے زرق برق لباس پہنا کر اور پاوں میں گھنگھرو ڈال کر لوگوں کے سامنے نچوانا یا اسے سیاست میں گھسیٹ لانا۔۔۔اس کی نسوانیت کی کھلی توہین ہے۔یہ عورت کی فطرتی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہے۔خواتین اور نوجوان و ناسمجھ بچیوں کے ساتھ بدترین استحصال ہے۔

ایسے لوگ جو عورت کو شمع محفل بنانے یا اشتہارات کی زینت بنانے میں آگے آگے ہیں۔وہ کفر ویہود کے ایجنڈے کی حمایت کر رہے ہیں۔یہ لوگ صرف قانون ہی کے نہیں بلکہ آنے والی انسانی نسلوں کے بدترین دشمن ہیں۔اور جن لوگوں کی اس بےحیائی کے کاموں کو روکنے کی ذمہ داری ہے وہ خاموش تماشائی بن کر گویا اس عمل کی تائید کر رہے ہیں۔وہ اپنے منصب کے اعتبار سے پرلے درجے کے خائن اور عورت کی ناموس کی دھجیاں اڑانے میں برابر کے شریک ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ جو ظلم اور زیادتیاں ہوتی ہیں ان کا تدارک کیا جائے اس کے ساتھ ہی ہمیں پہلے مرحلے میں آزادی اور حقوق نسواں کے نام پر پاکستانی خواتین کو اس ظلم وزیادتی سے بچانا ہے جس کا شکار یورپ کی عورت ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ محض خواتین کا عالمی دن منانے سے کوئی تبدیلی یا انقلاب نہیں آئے گا بلکہ سوسائٹی میں خواتین کے مقام ومرتبہ کو کھلے ذہن سے قبول کرنا ہو گا۔اس طرح خواتین کو بھی اپنی سرشت میں رکھی گئی شرم وحیاء کی پاس داری کرتے ہوئے اپنے حقوق وفرائض کی پہچان کر کے اس سے سبکدوش ہونے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک فلاحی اور معیاری معاشرے کا قیام عمل میں لا سکیں۔

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش

مجبور ہیں معذور ہیں مردان خرد مند

کیا چیز ہے آرائش وقیمت میں زیادہ

آزادی نسواں کہ زمرد کا گلو بند

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *