17-سب سے بہترین انسان
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو يُحَدِّثُنَا، إِذْ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَإِنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا.
سیدنا مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے بلکہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔(صحیح بخاری:6035)
18-اخلاق رسول اللہ ﷺ
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو يَحْيَى هُوَ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبابا وَلَا فَحَّاشًا وَلَا لَعَّانًا، كَانَ يَقُولُ لِأَحَدِنَا عِنْدَ الْمَعْتِبَةِ: مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہوگیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔(صحیح بخاری:6031)
19-صدقہ کے کام
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ ؟ قَالَ: فَيَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَوْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَقَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ أَوْ قَالَ بِالْمَعْرُوفِقَالَ: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ؟ قَالَ: فَيُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ.
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر کوئی چیز کسی کو (صدقہ کے لیے) جو میسر نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا امر بالمعروف کا کرنا عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔ (صحیح بخاری:6022)
20-آداب جمعہ اور اس کا اجر
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا:جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا۔
وضاحت: ١۔ اچھی طرح وضو کیا کا مطلب ہے سنت کے مطابق وضو کیا۔ ٢۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر سے وضو کر کے مسجد میں آنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔ ٣۔ یعنی دس دن کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا ہے۔ ٤۔اس سے صغیرہ گناہ مراد ہیں کیونکہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ (جامع ترمذی:498)
21-ھدیہ میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الليْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ.
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو ( ہدیہ میں) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح بخاری:6017)
22-رسول اللہ ﷺ کی بہادری
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ: لَنْ تُرَاعُوا لَنْ تُرَاعُواوَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ، فَقَالَ: لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے (شہر کے باہر شور سن کر) گھبرا گئے۔ (کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم ﷺ آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ابوطلحہ کے (مندوب نامی) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا یا فرمایا کہ یہ تیز دوڑنے میں سمندر کی طرح تھا۔(صحیح بخاری:6033)
23-مہمان اور پڑوسی کی تکریم
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ.
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔(صحیح بخاری:6018)
24-رسول اللہ ﷺ کی ہر انسان سے شفقت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرً يَقُولُ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قَطُّ فَقَالَ: لَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔(صحیح بخاری:6034)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الليْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ.
25-کسی کو حقیر نہ سمجھو
سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو ( ہدیہ میں) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح بخاری:6017)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ أَنْ يُسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ.*
26-نظر بد کا علاج
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا یا (آپ نے اس طرح بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے) حکم دیا کہ نظر بد لگ جانے پر معوذتین( سورة الفلق اور سورة الناس) سے دم کرلیا جائے۔(صحیح بخاری :5738)
27-حج مبرور کا بدلہ جنت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ-
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اورحج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔(صحیح بخاری:1773)
28-والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا پس میں نے (خواب میں) اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو تلاوت کر رہا تھا، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں، رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہی نیکی ہے، یہی نیکی ہے۔(حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ) لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوك کرنے والے تھے۔ [مسند احمد: 25182] (جاری ہے)
