آتش کے لغوی معنی آگ کے ہیں آگ کا کھیل تماشہ ہو تو آتش بازی کہلاتی ہے۔
آتش زرتشت وہ آگ جو مجوسی قوم زرتشت کے آگ کدہ میں تھی جس عمارت میں آگ کی پرستش ہوتی ہو وہ وہ آتش پرستوں کا معبد خانہ کہلاتا ہے۔
مجوسی قوم یعنی آتش پرست دو خداؤں کے وجود کے قائل ہیں ایک خدائے خیر کو خدائے یزداں اور خدائے شر کو خدائے اہر من کہتے ہیں۔ یہ لوگ آگ کو سرچشمہ خیر تصور کرتے ہیں اسی تخیل کو پیش نظر رکھ کر سرزمین ایران میں جگہ آتش کدے بنائے گئے اور ہزارہا سال آگ کی پوجا ہوتی رہی مجوسیوں کے یہاں ہر خوشی کے موقع پر آگ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے جو آج بھی ان میں نوروز کی صورت میں پایا جاتا ہے۔
ہندؤں میں جو دیوالی منائی جاتی ہے وہ اسی آتش پرستی کی یادگار ہے سیدنا عیسی علیہ السلام کے تقریبا 600 سال بعد جب دنیا پر کفر ،شرک، جہالت اور ظلم کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے عرب کی سرزمین میں کائنات کے رہبر آخری پیغمبر نبی محمد ﷺ کو دنیا کی رہبری کے لیے بھیجا اور دین اسلام غالب ہوا۔
اسلام وحدانیت کا علمبردار اور واحد سچا دین ہے ۔یہ اسلام کی سچائی اور وحدانیت ہی تھی کہ 30 برس کی مختصر مدت میں اسلام سرزمین عرب سے نکل کر آس پاس کے ممالک میں پھیلا ۔صرف یہی نہیں کہ ملکوں کے ملک فتح ہوئے بلکہ جن ممالک کو فتح کیا ان کی ثقافت و مذہب بغیر کسی جبر و اکراہ تبدیل ہو گئی۔
خلیفہ دوم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب عراق پر حملہ ہوا تو یہ آتش کدے ٹھنڈے ہونے شروع ہوئے اور خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موجودہ ایران کے آتش کدے ختم ہوئے جب ایران کے آتش کدے بجھ گئے اور برامکہ اور یرمغاں کے مذہبی عہد ختم ہو گئے تو انہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا یہی وہ طبقہ ہے جس نے مساجد میں چراغاں کی بدعت جاری کی تاکہ اس طرح وہ آگ کی پوجا کر سکیں۔
163 ہجری میں مجوسی عہدہ داروں میں سب سے اہم کردار برامکہ نے ادا کیا یہ ایک مجوسی خاندان تھا یہ خاندان پڑھا لکھا اور علم و فضل کا مالک تھا جو نسلاً اعتقاد ًاآتش پرست تھے ۔
برامکہ،برمک کی جمع ہے اور برمک آتش کدے کو روشن کرنے والے اور نگرانی کرنے والے کو کہتے ہیں یعنی مہا پجاری ،مجوسیوں کے یہاں یہ سب سے بڑا مذہبی عہدہ تھا۔
عبدالرحمن بن عبدالرحیم مبارکپوری رحمہ اللہ’’تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی ‘‘میں لکھتے ہیں کہ
’’چراغاںکی بدعت برامکہ نے جاری کی کیونکہ وہ آگ کے پجاری تھے جب وہ اسلام لائے تو یہ دھوکہ دےکر کہ یہ دین کی سنت ہے انہوں نے آتش پرستی کو اسلام میں داخل کر دیا حالانکہ ان کا مقصد آگ کی پوجا تھی جب وہ مسلمانوں کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرتے تو آگ کو رکوع اور سجدہ مقصود ہوتا اور شریعت میں ضرورت سے زیادہ کی جگہ روشنی جائز نہیں ہے۔ ‘‘(تحفۃ الاحوذی۳/174)
جہاں تک راستوں اور مسجد میں چراغاں کا تعلق ہے تو ابن وجیہ کہتے ہیں کہ اس کی ابتدا ءیحیی بن خالد بن برمک کے زمانے میں ہوئی وہ کھانا کھلانے کا نام کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے ۔جب ملک الکامل کے ہاتھ میں مصر حکومت آئی اور میں نے اس سے ذکر کیا تو اس نے اس مجوسی بدعت کو پورے ملک مصر سے خارج کر دیا۔ (فتح الملہم شرح صحیح مسلم۳/174)
مالک الکامل کے دور میں علامہ ابن وجیہ کی کوششوں سے مصر سے تو چراغاں کے نام سے آتش پرستی کا قلع قمع ہو گیا لیکن ہند و پاکستان پر جہاں ایرانیوں کا ہمیشہ سے اثر غالب رہا ہے اس میں اضافہ ہوتا رہا جس کے نتیجے میں آتش پرستی کے ساتھ ساتھ آتش بازی بھی وجود میں آگئی۔ آتش بازی کا فن بہت ہی قدیم ہے اور یہ معلوم کرنا قطعا محال ہے کہ اس کا موجد کون ہے؟ اس کی ابتدا کب ہوئی ؟آتش بازی کی صحیح تعریف کیا ہے ؟یہ اعتقاد رکھنا کہ آتش بازی کی ایجاد بارود کی رہین منت ہے ۔غلط ہے آتش بازی کی ایجاد فی الحال صرف اس دریافت پر منحصر ہے کہ پوٹاس سے شعلے کو بھڑکنے میں بڑی مدد ملتی ہے البتہ اس میں شبہ نہیں کہ بعد میں بارود ہی آتش بازی کا جزء اعظم بن گیا۔ غالب گمان یہی ہے کہ فن آتش بازی کی ابتدا چین یا ہندوستان سے ہوئی ہے۔آتش بازی محض ایک کھیل اور تفریح کا سبب بن کر رہ گئی۔ سالگرہ، شادی، مذہبی تہوار ،جشن آزادی اور فتح کے موقع پر نمائش ہونے لگی ۔
اہل فارس جشن نوروز پر ہندو دیوالی کے تہواروں پر اور مسلمان شب براءت پر خوب بڑھ چڑھ کر آتش بازی میں حصہ لیتے ہیں مسلمانوں کو جتنا نقصان اپنے ہی حکمران نے پہنچایا ہے کسی اور نے نہیں ۔ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے اکبر شاہ بادشاہ نے دین الہی کے نام پر نصیر الدین روشن اختر شاہ علاج کے نام پر آتش بازی کی رسم قائم کر دی۔ دہلی کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں جب سلطنت مغلیہ کا آخری چراغ ٹمٹما رہا تھا ،قلعے میں تیسرے پہر کے وقت شہزادوں اور شہزادیوں کو آتش بازی تقسیم ہوتی اور دھوم دھام سے آتش بازی کا آغاز قلعہ ہی سے ہوتا تھا۔
مسٹر کا نڈر اپنی کتاب ’’لیسٹن کنگڈم آف یرویشلم ‘‘میں لکھتے ہیں کہ آتش یونانی کا راز وسط ایشیا ءکے مغلوں اور یونیوں کو مدت دراز سے معلوم تھا۔
جہاں تک آتش بازی کا تعلق ہے یہ کھیل نہیں بلکہ اسے رضائے الہی کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے جو خالص مجوسی عقیدہ ہے ۔آج مسلمانوں کی اکثریت نے ہر چیز میں مجوسیوں ،یہود و نصاری ،بت پرستوں ،مغرب کے بے دینوں کی اندھی پیروی شروع کر رکھی ہے ۔
آخر کیا بات ہے سالگرہ کے موقع پر موم بتیاں جلائی جاتی ہیں اور غبارے پھاڑے جاتے ہیں، شادی کے موقع پر انار پھلجڑی اور پٹاخے چلائے جاتے ہیں ۔جشن آزادی کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔اب اس کی ایک جدید شکل یہ نکل آئی ہے کہ کوئی مذہبی کارڈ ہو یا اشتہار ہو یا کتاب ہو اس پر بھی قمقمےاور موم بتیاں اور قندیلیں بنی ہوتی ہیں۔آخر اس میں کوئی تو راز ہے ؟آتش بازی نے لوگوں کا چین و سکون چھین لیا ،مریض اور بوڑھے خوفزدہ ہو کر مزید بیمار ہو جاتے ہیں۔
ہماری قوم آتش بازی اپنی سالگرہ اور شادی کی رسومات پر جتنا سرمایہ برباد کرتی ہے ،سب مجوسیت کی یادگار ہے ۔وہاں اسراف ،بے جا اور مال کا ضیاع بھی ہے قران حکیم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’اور اسراف اور بے جا خرچ یعنی فضول خرچی سے بچو ، بے جاخرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ۔(بنی اسرائیل 26 اور 27 )
اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ بے جا اسراف کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔ظاہر ہے کہ جو شیطان کا بھائی ٹھہرا اس کا رسول اللہ ﷺ سے کیا واسطہ ؟ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمان اپنے رسول ﷺ کا راستہ پکڑتے ، آپ کے طریقے پر عمل کرتے افسوس کے بجائے یہ کام کرنے کے انہوں نے وہ کام اختیار کیے کہ کلمہ نبی برحق ﷺ کا پڑھ رہے ہیں اور پینگیںشیطان سے بڑھا رہے ہیں ۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے والدین کی نافرمانی ،بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے، خود بخل کر کے دوستوں سے سوال کرنے ،فضول باتوں اور سوالات اور مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ (صحیح بخاری 2408 )
عقل اس بات کی شناخت کرنے سے قاصر ہے کہ شیطان کی کیا کیا خصلتیں اس بات کی موجب ہیں جس کی وجہ سے انسان پر انہی کے احکام جاری ہوتے ہیں تاکہ اس بات کو پہچان کر وہ دیگر غیر مصنوعی چیزوں کو بھی اسراف کے اس حکم ممانعت کے تحت داخل قرار دے سکے۔
اسراف کے معنی :’’حد سے تجاوز کرنا ‘‘۔
اسراف کی تعریف :یعنی کسی دینی اور دنیاوی قابل ذکر فائدےکے بغیر مال کو تباہ و برباد کرنا اور بے جا خرچ کرنا اسراف کہلاتا ہے ۔قرآن و حدیث میں جن چیزوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ان میں سے اہم چیز اسراف ہے۔ متعدد نصوص میں اس کی ممانعت کی گئی ہے اور مختلف پیراؤں سے اس کی مذمت فرمائی گئی ہے ۔نصوص سے ہٹ کر ذرا بھی عقل سلیم نصیب ہو تو بھی اس کی مذمت و ممانعت میں شبہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
دین اسلام ایک کامل مکمل بلکہ اکمل ضابطہ حیات ہے اس میں انسانوں کی تمام مشکلات اور مسائل کا حل موجود ہے۔اسلام نہایت اعتدال کے ساتھ ہر انسان کی نجی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی، خوشی کا ماحول ہو یا غمی کی فضا، تجارت کا میدان ہو یا عبادت کی چار دیواری یا خاندانی امور۔ اسلام نہایت انصاف کے ساتھ ان تمام امور کا تعین اور تجدید اور تفصیل پیش کرتا ہے اور انسان کو افراط و تفریط سے بچاتا ہے۔ اسلام انسان کو زندگی گزارنے کا نہایت آسان راستہ سکھاتا ہے، اسلام انسان کو خوددار اور کفایت شعار بناتا ہے- غفلت اور آوارگی سے اس کی حفاظت کرتا ہے، بخل و بزدلی سے اس کو دور رکھتا ہے اور اسراف سے اس کو منع کرتا ہے۔
اسراف کا علاج تین طریقوں سے ہو سکتا ہے؟
۱) علمی :آدمی اسراف کے بُرے انجام کو سمجھنے کی کوشش کرے، یعنی وہ علم حاصل کرے کہ دنیا وآخرت میں اسراف کی عواقب کتنے خطر ناک ہوسکتے ہیں۔
۲)عملی : آدمی تکلف کرکے اپنے آپ کو قابو میں رکھے اور بے جا خرچ نہ کرے بلکہ اپنے اوپر ایک نگران مقرر کرے جو اس کو اسراف کے خطرات سے ڈراتا رہے۔
۳)قلعی: آدمی اسراف کی جڑوں کو پہلے معلوم کرے اور پھر اپنی زندگی سے اسراف کی ان جڑوں کو کاٹ کر رکھ دے، یعنی اسراف کے تمام اسباب کا ازالہ کرے۔ ( طریقۂ محمدیہ ۲/28)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی زندگیاں کتاب وسنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قرآن وحدیث کے سیدھے راستے پر قائم فرمائے اور آخرت کے دن رسول اللہ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ہمیں آبِ کوثر نصیب فرمائے۔ آمین
