بارہ اسلامی مہینوں میں فضیلت اور تقدس کے اعتبار سے رمضان المبارک کو غیر معمولی مقام حاصل ہے، اس ماہ مبارک کا یہ عالی مقام قرآنی آیات اور نبی کریم ﷺ کے فرامین سے ثابت ہے ، نبی اکرم ﷺ اس ماہ مبارک کا چاند داخل ہوتے ہی صحابہ کرام کو خوشخبری دیتے تھے کہ

أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُالسَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ(سنن نسائي,كتاب الصيام 2108)

’’تمہارے پاس ایک بابرکت مہینہ رمضان آچکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس مہینے کے روزے فرض قرار دیے ہیں۔ اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور سرکش شیاطین کو طوق پہنا دیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ جو اس رات کی نیکی (عبادت) سے محروم رہا، وہ حقیقتاً محروم شخص ہے۔ “،علاوہ دیگر کتاب و سنت کے کئی ایک نصوص سے اس مہینے کی خاص فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مبارک کا چاند نظر آتے ہی پوری دنیا میں مسلمان اپنے روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کرتے ہیں۔کام کاج کے معمولات کے دورانیہ میں غیر معمولی تبدیلی نظر آتی ہے تاکہ بھرپور انداز سے اس مہینے کی برکات اور خیرات کو سمیٹاجا سکے ۔اسی وجہ سے لوگ جوق در جوق مساجد کا رخ کرتے ہیں، بزرگ، نوجوان۔ خواتین اور بچے قیام اللیل کا اہتمام کرتے ہیں ۔صاحب ثروت اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ نمازی پہلی صفوں کو پانے کے لیے پہل کرتے نظر آتے ہیں ۔مسجدیں آباد ہوتی ہیں ،تلاوت قران کریم کا خاص اہتمام ہوتا ہے ،معتکفین حضرات رب تعالیٰ سے مناجات کے لئے خیمے بساتےنظر آتے ہیں۔ گویا نیکیوں کا ایک موسم ہے اور سب اس کے مختلف انواع و اقسام کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

لیکن دوسری جانب المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظرآتا ہے،مسجدیں خالی ہونا شروع ہوجاتی ہیں، قرآن مجید کو غلافوں میں بند کردیا جاتا ہے ،وعظ و نصیحت کی مبارک مجالس میں حاضری کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، لوگ اخلاقی انحطاط کی طرف واپس لوٹتے ہیں اور بزعم خود یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مہمان مہینہ تھا جو ہمارے درمیان ٹھہرا، ہم نے اس کی عزت و تکریم کی اور وہ رخصت ہوگیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مہینہ تو 1400 سالوں سے چلا آ رہا ہے اور مہمان ہم ہیں۔ہم میں سے ہر ایک نے ایک راہی کی طرح کچھ وقت ٹھہر کر اس جہان فانی سے کوچ کرنا ہے۔

اب ایک ضروری امر یہ ہے کہ ہم اس مہینے کے اس حقیقی مقصد کو سمجھیں جس کے متعلق قران کریم نے خبردار کیا ہے کہ روزوں کی فرضیت کابنیادی مقصدلَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَتقوی کا حصول ہے اور تقوی بذات خود ایک مستقل عبادت ہے اوریہ مہینہ اس کے حصول کے لئے گویا ریاضت کا مہینہ ہےاگر تقوی کا مظہر سال کے دیگر مہینے انسانی شخصیت پر نظر آئے تو یہی حقیقی کامیابی ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے:

وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ(الحجر:99)

’’اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔”

 اب یہ ہمارے لیے کس طرح ممکن ہوگا کہ ہم سال کےدیگر گیارہ مہینوں میں اپنی جملہ عبادات کو اسی طرح جاری و ساری رکھ سکیں۔ ذیل میں چند ایسے امور ذکر کیے جا رہے ہیں جس سے عبادت کو ہمیشگی اور دوام بخشا جاسکتا ہے۔

۱۔عبادات کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا

عبادت پر ہمیشگی اور دوام کے لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اللہ رب العالمین سے اس کے لیے خاص مدد مانگی جائے اور یہ مدد مانگنا کس قدر مستقل بنیادوں پر کرنے کا کام ہے اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ’’اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر تو کسی نماز میں یہ دعا کرنا نہ چھوڑ:

«اللهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ

’’اے میرے رب! میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کروں اور تیرا شکر کروں اور تیری عبادت اچھی طرح بنا سنوار کے کروں۔‘‘(سنن ابي داؤد, كِتَابُ تَفريع أَبوَاب الوِترِ.1522)

۲۔ثابت قدمی کی دعا: اطاعت پر ثابت قدمی کے بڑے اسباب میں سے ایک سبب ثابت قدمی کی دعا کا ورد ہے ۔اس امت میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ ثابت قدم کون ہو سکتا ہے؟ لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام رسالت مآب ﷺ کے حوالے سے یوں ذکر کرتے ہیں کہ

“لقد كان من أكثر دعاء النبيِّ -صلَّى الله عليه وسلَّم-: “يا مُقلِّب القلوب، ثبِّت قلبي على دينك” -صلَّى الله عليه وسلَّم”(سنن ترمذي , بَاب مَا جَاءَ أَنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَي الرَّحْمَنِ,2140)

 یقینا نبی اکرم ﷺ جو دعا سب سے زیادہ مانگتے تھے وہ یہ تھی” اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ”

۳۔دل کی اصلاح: انسانی اعضامیں دل کو گویا بادشاہ کی حیثیت حاصل ہےاور باقی دیگر اعضاء اس کا لشکر و رعایا ہیں ۔امر طبعی یہ ہے کہ جب بادشاہ راہ راست پر ہوتا ہے تو باقی لشکر و رعایا اس کی تابع ہوتی ہے۔اس وجہ سے شریعت نے دل کی اصلاح پر غیر معمولی توجہ دلائی ہےنبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے۔”

ألاَ وإنَّ في الجسد مضغةً إذا صلحَتْ صلح الجسد كلُّه، وإذا فسدت فسد الجسد كلُّه، ألا وهي القلب

“سن لو! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو سارا جسم صحیح ہوتا ہے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سنو! وہ دل ہے۔” (بخاري. بَابُ فَضْلِ مَنِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ.52)

جب دل ہر قسم کے غیر شرعی و ناپسندیدہ امور جیسے ریا ،حسد،کینہ، بغض، حب دنیا ،تکبر اور غیر اللہ کے تعلق سے پاک ہو تو عبادت کی توفیق بھی میسر ہوتی ہے ۔

۴۔صالحین کی صحبت: انسان کو نیک بنانے اور تقوی کی طرف راغب کرانے میں ایک بڑا محرک نیک لوگوں کی صحبت ہے۔انسانی فطرت بھی یہی ہے کہ وہ ہروہ کام سر انجام دیتا ہے جو اس کے ماحول میں ہورہا ہوتا ہے۔انسان اپنے ماحول کی ایک اکائی ہے یہاں تک کی اس کی پہچان بھی اپنے ماحول سے ہی ہوتی ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ”(سنن أبي داؤد, بَابُ مَنْ يُؤْمَرُ أَنْ يُجَالِسَ,4833)

“آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہرشخص کویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے”

اور عاقل شخص بھی وہ ہے کہ جو ان لوگوں کی صحبت اختیار کرے جنہیں دیکھ کر اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ یاد آئے۔

۵۔اعمال میں افراط و تفریط سے بچنا: دین اسلام دین عدل ہے۔اس کے ہر ایک امر میں میانہ روی کا پہلومقدم ہے ۔اعمال میں میانہ روی، عبادت میں ہمیشگی میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے،اور شریعت مطہرہ نے اسی کو پسند فرمایا۔ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ سے سوال ہوا :

«أي الأعمال أحب إلى الله؟ قال: أدومها وإن قلَّ

’’کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ فرمایا جس پر ہمیشگی کی جائے ، خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

اور فرمایا:

أكلَفوا من الأعمال ما تطيقون”(بخاري. بَابُ القَصْدِ وَالمُدَاوَمَةِ عَلَى العَمَلِ,6465)

“اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے ( جو ہمیشہ نبھاسکے )۔”

مندرجہ بالا مذکورہ احایث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشگی کے ساتھ کم عمل کرنے والا ایک ہی وقت میں زیادہ عمل کرکے چھوڑ دینے والے سے بہتر ہے۔

۶۔خود احتسابی کا عمل: ایمان اور عمل صالح سے بھرپور زندگی گزارنے میں خود احتسابی کے عمل کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔خود احتسابی کا سب سے آسان مفہوم وہی ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ۔فرمان الٰہی :

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (الحشر:28)

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔”

 اور اسی طرح سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس کا جوسادہ طریقہ بتایا ہے ،اس پر عمل کرنے سے ہم نیک اعمال کی طرف راغب ہوسکتے ہیں ۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوها قبل أن توزنوا”(مسند الفاروق 6/218)

“حساب لیے جانے سے پہلے حساب کرلو ،اور وزن کیے جانے سے پہلے وزن کرلو۔”

۷۔موت کو یاد رکھنا:قرآن کریم میں جا بجا انسان کے حقیقی سفر اور عاقبت کی بابت یاد دہانی موجود ہے۔ا س حوالے سےسب سے بڑی حقیقت جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے وہ اس آیت کریمہ میں ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ

“ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔” (العنكبوت:57)

اس یاد دہانی کا بنیادی مقصد و حکمت جو معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ انسان کسی صورت دنیا کی زینت و خوبصورتی میں غرق ہوکراپنی حقیقت سے غافل نہ ہوجائے،انسان جب موت جیسی اٹل حقیقت کی طرف متوجہ رہتا ہے تو نیک اعمال کی طرف بھی مائل ہوتا ہے،آپ ﷺ نے فرمایا:

أكثروا من ذكرَ هاذمِ اللذات”(سنن الترمذي,2307)

“لذتوں کو توڑ دینے والی (موت) کو خوب یاد کیا کرو۔”

صحابہ کرام کس انداز سے اس حقیقت کو سمجھتے تھے اس کا اندازہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول زریں سے لگایا جاسکتا ہے:

إِذَا أَمْسَيْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ المَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِك”(بخاري, بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ,6416)

“شام ہوجائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اورصبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو ۔ اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کوموت سے پہلے ۔”

۸۔قرآن فہمی: صنعتی انقلاب کے بعد نت نئی ایجادات کی بھرمار سے جدید شعبے وجود میں آرہے ہیں ۔آئے روز نئے موضوعات پر تالیفات وجود میں آرہی ہیں ۔لیکن صد افسوس یہ ہے کہ رب تعالیٰ کی مبارک کتاب کے ساتھ ہمارا رویہ اعراض اور رو گردانی والا ہے۔رب متعال نے اعراض کرنے والوں کے متعلق واضح ارشادات نازل فرمائے ہیں :

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى (طه: 124-۔126)

“اور جو میری یاد سے منہ موڑے گا ، اس کی معیشت تنگ ہوگی ، اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے وہ کہے گا ، اے رب مجھےاندھا کیوں اٹھایا میں تو بینا تھا ۔ ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئیں سو تونے انہیں بھلا دیا ، اور اسی طرح آج تو بھلایا گیا ۔‘‘

اس لئے نیک اعمال پر مداومت کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ ہمارا یمانی تعلق بھی ہو اور روزانہ کی بنیاد پر ہم کچھ وقت ترجمہ و تفسیر بھی سیکھیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم اعمال اورآخرت کی تیاری کے معاملے میں کس مقام پر کھڑے ہیں اور کہیں ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے ہمارا شمار اللہ کے ناپسندیدہ بندوں میں تو نہیں ۔و العیاذ باللہ

مندرجہ بالا امور کے علاوہ چند دیگر ایسے مختصر اعمال ہیں جو ہم روزانہ کی بنیاد پر آسانی کے ساتھ سرانجام دے سکتےہے ۔اور جن کی وجہ سے اعمال پر مداومت و ہمیشگی بھی ممکن ہے ،اس میں صبح و شام کے اذکار، ذکر و تسبیح ،تحیۃ الوضوء ،تحیۃ المسجد ،راستے سے کوئی تکلیف دہ چیزہٹانا اور جمعے کے دن درود شریف کا پڑھنا شامل ہے۔

مستقل مزاجی سے نیک اعمال کرنے کے چند ایک فوائد

۱۔بیماری یا دیگر کسی رکاوٹ کی وجہ سے عبادت میں خلل واقع ہونے پر اللہ کی طرف سے اجر لکھا جانا: جب کوئی شخص مستقل مزاجی کے ساتھ عبادت کرتا رہتا ہے اور کسی بیماری، سفر یا کسی اور شرعی عذر کے بناء پر عبادت کا سلسلہ منقطع ہو تو رب کریم کی طرف سے اس کا اجر لکھا جاتا ہے۔صحیح بخاری میں حدیث ہے ۔نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: 

إِذَا مَرِضَ العَبْدُ، أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا(بخاري, بَابُ يُكْتَبُ لِلْمُسَافِرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الإِقَامَةِ,2996)

’’جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔‘‘

۲۔حسن خاتمہ: جو شخص مستقل مزاجی کے ساتھ عبادت میں مصروف رہتا ہے ۔اللہ رب العالمین اس کا خاتمہ بالخیر فرماتا ہے۔یہ ایک طبعی امر ہے کہ جو کوئی بھی جس کام میں اپنا زیادہ تر اوقات گزارتا ہے۔عمر کے آخری حصے میں اس پر اسی کا غلبہ ہوتا ہے،اس وجہ سے ہماری کوشش ہونی چائیے کہ ہمہ وقت ذکر و اذکار اوراطاعت میں مصروف رہیں ۔یہ ایک مستقل جدوجہد ہےاوراس طرح کے جدو جہد کرنے والے کے بارے میں ارشاد باری ہے:

وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ (العنكبوت:69)

“اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں،ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے۔‘‘

۳۔نبی اکرم ﷺ کی اقتدا:مستقل مزاجی سے نیک اعمال کرنا آپ ﷺ کی اقتداو اطاعت میں سے ہے کیونکہ آپ ﷺ کے بارے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں:

وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ (سنن أبي داؤد. بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْقَصْدِ فِي الصَّلَاةِ: 1368)

“اور نبی کریم ﷺ جب کوئی عمل اختیار کرتے تو اس پر ہمیشگی کرتے تھے ۔”

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *