اسلام، جو کبھی تہذیب و تمدن، علم و حکمت، عدل و انصاف، اور قیادت و رہنمائی کی علامت تھا، آج بدقسمتی سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ اسلامی دنیا کے بیشتر ممالک آج سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی، علمی پسماندگی، اور داخلی انتشار کا شکار ہیں۔ امت مسلمہ کا وہ شاندار ماضی، جب بغداد، قرطبہ، دمشق اور قاہرہ دنیا کے روشن مینار تھے، اب محض تاریخ کی کتابوں میں دفن ہوتا جا رہا ہے۔ اس المیے پر غور کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
تاریخی پس منظر
ساتویں صدی عیسوی میں جب نبی کریم ﷺ نے اللہ کا پیغام انسانیت کو پہنچایا، تو ایک پسماندہ قوم دنیا کی قیادت کی اہل بن گئی۔ خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ تک، اسلامی دنیا نے نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی میدانوں میں بھی عظیم کارنامے سرانجام دیے۔ علم، عدل، سائنس، طب، فلسفہ، فنون، ثقافت اور معیشت ہر میدان میں مسلمان اقوام عالم سے آگے تھیں۔
لیکن رفتہ رفتہ جب مسلمانوں نے قرآن و سنت سے عملی دوری اختیار کی، دنیا پرستی اور فرقہ واریت کو اپنایا، اور علم و عمل سے غفلت برتی، تو زوال کا آغاز ہوا۔ مغرب نے علم اور سچائی کی وہ شمع مسلمانوں ہی سے حاصل کی، اور اسے اپنا کر ترقی کے زینے چڑھ گئے، جبکہ مسلمان پستی کی دلدل میں گرتے چلے گئے۔ذیل میں چند ایک عوامل ہیں جو امت کی زبوں حالی کے عوامل ہیں۔
موجودہ صورت حال
1۔ سیاسی انتشار:اسلامی دنیا کے اکثر ممالک، کرپشن، یا بیرونی طاقتوں کے زیرِ اثر حکومتوں کا شکار ہیں۔ عراق، شام، لیبیا، یمن، فلسطین، اور افغانستان جیسے ممالک مسلسل بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں۔
2۔ معاشی انحطاط:قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مسلم دنیا کی اکثریت معاشی بحران کا شکار ہے۔ اقتصادی انحصار، قرضوں کی معیشت، بدعنوانی، اور غیر منصفانہ وسائل کی تقسیم اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم، جبکہ حکمران طبقات پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں۔
3۔ علمی پسماندگی:تعلیم کے میدان میں مسلم دنیا کی حالت انتہائی افسوسناک ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں تحقیق، سائنس اور ٹیکنالوجی میں روز بروز پیش رفت ہو رہی ہے، جبکہ اسلامی ممالک کی جامعات میں معیارتعلیم ، تحقیق اور جدت کا فقدان ہے۔
4۔ دینی کمزوری اور تفرقہ:اسلام، جو اتحاد، اخوت اور عدل کا دین ہے، آج خود مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، انتہاپسندی اور باہمی نفرت کا شکار ہو چکا ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
«وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» (آل عمران: 103)
’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘
مگر ہم نے تفرقہ کو اپنی پہچان بنا لیا۔
زبوں حالی کی وجوہات کا تجزیہ
فکری غلامی: مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے مسلمانوں کو خود اعتمادی سے محروم کر دیا۔
دینی و دنیاوی علوم میں تفریق: علم کو مذہبی اور دنیاوی خانوں میں بانٹ کر ہم نے اصل اسلامی تصورِ علم کو مجروح کیا۔
نااہل قیادت: مفاد پرست، غیر مخلص اور ناتجربہ کار قیادت نے امت کی کشتی کو بے جہت کر دیا۔
سوشل میڈیا کا منفی استعمال: فکری بگاڑ اور غلط نظریات کا پھیلاؤ تیزی سے ہو رہا ہے، جس نے نوجوان نسل کو دین کے بارے میں مشکوک بنا دیا ہے۔
حل کی راہیں
1۔قرآن و سنت کی طرف حقیقی رجوع
اسلامی دنیا کو صرف رسم و رواج کے درجے سے نکل کر قرآن و سنت کو اپنی انفرادی، اجتماعی، سیاسی، اور معاشی زندگی کا مرکز بنانا ہوگا۔ ہمیں صرف عبادات نہیں، معاملات، معیشت، قیادت، تعلیم اور اخلاقیات کو بھی دین کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
2۔تعلیمی و سائنسی انقلاب
اسلامی دنیا کو اپنی ترجیحات میں تعلیم کو سرفہرست رکھنا ہوگا۔ ہمیں جدید سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور اختراعات میں اپنا کردار بڑھانا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات اور عصری علوم کو یکجا کر کے ایسی نسل تیار کرنا ہوگی جو علم و کردار دونوں میں ممتاز ہو۔
3۔ اتحادِ امت
مسلم ممالک کے درمیان علاقائی، نسلی، مسلکی اور سیاسی اختلافات کو کم کر کے مشترکہ مقاصد کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسلامی بلاک، مشترکہ منڈی، میڈیا اتحاد، تعلیمی اداروں کا تعاون، اور دفاعی اشتراک ضروری ہے۔
4۔صالح و باشعور قیادت
امت کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کی خدمت کو مقصد بنائے، دیانتدار، اہل اور درد دل رکھنے والی ہو۔ یہ قیادت سیاسی، تعلیمی، سماجی اور فکری ہر میدان میں پیدا کی جانی چاہیے۔
5۔نوجوان نسل کی تربیت
اسلامی دنیا کا اصل سرمایہ نوجوان نسل ہے۔ ان کی فکری، اخلاقی اور فنی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔ فکرِ اقبال، عملِ مصطفی ﷺ، اور جدید علم کی روشنی میں ایسے نوجوان تیار کرنا ہوں گے جو امت کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔
اسلامی دنیا کی زبوں حالی اگرچہ ایک حقیقت ہے، مگر یہ حتمی مقدر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم ہدایت، رسول کریم ﷺ کی سنت، اور ایک شاندار تاریخ عطا کی ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر ایمان، اتحاد، علم، اخلاص اور عمل کی روشنی پیدا کریں۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
«إِن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ»
’’اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے، تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔‘‘(محمد: 7)
وقت آ گیا ہے کہ ہم مایوسی کو چھوڑ کر امید، شعور اور عمل کی راہ اپنائیں۔ بیداری کا آغاز ہر فرد سے ہو، تاکہ امتِ مسلمہ پھر سے دنیا کی رہنمائی کے منصب پر فائز ہو سکے۔
