44-روزہ کی حالت میں خاتمہ

 عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِلَى صَدْرِي فَقَالَ . . . مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ [مسند احمد:23324]

 حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنا سینہ نبی ﷺ کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا: . . . جو شخص اللہ کے چہرے کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

45-سنتوں کی ادائیگی سے جنت میں گھر بنائیں

 عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ثَابَرَ عَلَى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ [سنن النسائي:1795]

 عائشہ رضی اللہ عنہا نبیﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہمیشہ بارہ رکعات پڑھے تو اللہ عزوجل اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔

ظہر سے قبل چار رکعات، ظہر کے بعد دو رکعات، مغرب کے بعد دو رکعات، عشاء کے بعد دو رکعات، اور فجر سے پہلے دو رکعات۔

46-دو ٹھنڈی نمازوں کی ادائیگی کا اجر وثواب

 عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ [صحیح البخاری:574]

 ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں (فجر اور عصر) پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

47-سب سے اعلی درجے والے جنتی کی جنت

عَنِ الْمُغِيرَةَ بْن شُعْبَةَ مرَفُوْعا قَالَ سَأَلَ مُوسَى… رَبِّ فَأَعْلاَهُمْ مَنْزِلَةً قَالَ أُولَئِكَ الَّذِينَ أَرَدْتُ غَرَسْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِى وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا فَلَمْ تَرَ عَيْنٌ وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ. قَالَ وَمِصْدَاقُهُ فِى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ (فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِىَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ) الآيَةَ. [صحیح مسلم:485]

 مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا . . . میرے رب! جنتيوں میں سب سے بلند درجے والا (جنتی) کون ہے؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ (اونچے درجے والے مقربین میں سے ہوں گے) یہ ہی وہ لوگ ہیں جن كے لیے میں نے (اپنے ہاتھ سے جنت بنانے کا ) ارادہ کیا۔

پس ان کی عزت (کی جگہ کے درختوں) کو میں نے اپنے ہاتھوں سے کاشت کیا اور پھر اس پر مہر بھی لگا دی،

پس یہ (نعمتیں) نہ تو کسی آنکھ نے دیکھیں اور نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان (نعمتوں اور مرتبوں) کا خیال گزرااور اس (بات) کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ(السجدة:17) پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔

48-سب سے ادنی درجے کے جنتی کی جنت

عَنِ الْمُغِيرَةَ بْن شُعْبَةَ مرَفُوْعا قَالَ سَأَلَ مُوسَى رَبَّهُ مَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً قَالَ هُوَ رَجُلٌ يَجِىءُ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ فَيُقَالُ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ كَيْفَ وَقَدْ نَزَلَ النَّاسُ مَنَازِلَهُمْ وَأَخَذُوا أَخَذَاتِهِمْ فَيُقَالُ لَهُ أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ لَكَ مِثْلُ مُلْكِ مَلِكٍ مِنْ مُلُوكِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ. فَيَقُولُ لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ وَمِثْلُهُ. فَقَالَ فِى الْخَامِسَةِ رَضِيتُ رَبِّ. فَيَقُولُ هَذَا لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ وَلَكَ مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ.فَيَقُولُ رَضِيتُ رَبِّ. [صحیح مسلم:485]

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ سیدناموسی علیہ السلام نے اپنے رب سے سوال کیا: جنت والوں میں سب سے کم درجے والا (جنتی) کون ہو گا؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ (ایسا) آدمی ہوگا جو تمام اہل جنت کو جنت میں بھیج دیے جانے کے بعد آئے گا۔

 تو اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ کہے گا: میرے رب کیسے؟ لوگ اپنی اپنی منزلوں میں قیام پذیر ہو چکے ہیں اور جو لینا تھا سب کچھ لے چکے ہیں۔

 تو اس سے کہا جائے گا: کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کی بادشاہت کے برابر مل جائے؟وہ کہے گا: میرے رب میں راضی ہوں،

 اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ (بادشاہت) تمہاری ہوئی، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پھر اتنا اور، پانچویں بار وہ آدمی (بے اختیار )کہے گا: میرے رب میں راضی ہو گیا۔

 اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ (سب بھی) تیرا اور اس سے دس گنا مزید بھی تیرا، اور وہ سب کچھ بھی تیرا جو تیرا دل چاہے اور جو تیری آنکھوں کو اچھا لگے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں راضی ہوا۔

49-جنت کے خیموں کی خوبصورتی اور وسعت

عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِى الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلاً لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ فَلاَ يَرَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا [صحيح مسلم:7337]

 ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جنت میں مومن کے لئے ایک کھوکھلے موتی کا بنا ہوا خیمہ ہے،

* جس کی لمبائی 60 میل ہے،

* اس کے ہر گوشہ میں مومن کے لئے ایسے گھر والے ہیں جن میں وہ چکر لگائے گا اور وہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائیں گے۔

50-جنت میں خولدار موتی کا بنا ہوا وسیع خیمہ

 عن ابن عباس قال الخيمة درة مجوفة فرسخ في فرسخ لها أربعة آلاف مصراع من ذهب [صحيح الترغيب والترهيب:3716]

 ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ خیمہ خولدار موتی کا ہوگا،

تین میل لمبا اور تین میل چوڑا ہوگا،

اس کے چار ہزار سونے کے دروازے ہوں گے۔

51-جنت کی نہریں اور سمندر: دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر

 عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللبَنِ وَبَحْرُ الْمَاءِ وَبَحْرُ الْعَسَلِ وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ [مسند أحمد:20052]

 ابو بہز حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جنت میں دودھ، پانی، شہد اور شراب کے سمندر ہوں گے، پھر اس کے بعد ان سے نہریں پھوٹیں گی۔

52-جنت کی چار نہریں

 قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ.[صحیح مسلم:7340]

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل یہ سب جنت کی نہروں میں سے ہیں۔

53-کلمہ توحید کا اقرار اور اسی پر خاتمہ

 عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ ﷺ إِلَى صَدْرِي فَقَالَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ۔۔۔ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ [مسند احمد:23324]

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنا سینہ نبی ﷺ کے لئے تکیہ بنا رکھا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص اللہ کا چہرہ چاہنے کے لیے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کرے۔۔۔اور اسی پر اس کا خاتمہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

54- رسول اللہ ﷺ کی کی اطاعت کرنا

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ [صحيح البخاري:7280]

 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا۔

55-اللہ پر ایمان لانے اور انبیاء کی تصدیق کرنے والوں کے لئے جنت میں مختلف مراتب

 عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضى الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنْ الْمَشْرِقِ أَوْ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ [صحيح البخاری: 3256]

 ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

* اہل جنت اپنے سے بالائی منزل والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح لوگ آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے پر چمکتا ہوا ستارہ دیکھتے ہیں کیونکہ اہل جنت کے درمیان آپس میں مرتبوں کا فرق ہوگا۔

* لوگوں نے عرض کیا:اےاللہ کے رسول!یہ تو انبیاء علیہم السلام کے مقام ہیں، کیا ان کے مراتب پر کوئی اور نہیں پہنچ سکتا؟

* آپ نے فرمایا:کیوں نہیں،

* *اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی(وہ یقیناً ان کےمراتب کو حاصل کرلیں گے)

56-جنت کے درختوں کی سونے اور موتی کی جڑیں

عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه قال نزلنا الصفاح فإذا رجل نائم تحت شجرة قد كادت الشمس تبلغه قال فقلت للغلام انطلق بهذا النطع فأظله قال فانطلق فأظله فلما استيقظ فإذا هو سلمان رضي الله عنه فأتيته أسلم عليه فقال يا جرير تواضع لله فإنه من تواضع لله في الدنيا رفعه الله يوم القيامة يا جرير هل تدري ما الظلمات يوم القيامة قلت لا أدري قال ظلم الناس بينهم ثم أخذ عويدا لا أكاد أراه بين أصبعيه فقال يا جرير لو طلبت في الجنة مثل هذا لم تجده قلت يا أبا عبد الله فأين النخل والشجر قال أصولها اللؤلؤ والذهب وأعلاه التمر [صحيح الترغيب والترهيب:3733]

سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم مقام صفاح پر اترے تو وہاں ایک شخص درخت کے نیچے سو رہا تھا قریب تھا کہ اس پر دھوپ آ جائے،

کہتے ہیں کہ میں نے غلام سے کہا: اس چمڑے کی چٹائی کو لے جا کر اس پر سایہ کر دو، وہ فرماتے ہیں، چنانچہ وہ گیا اور اس پر سایہ کر دیا،

پس جب وہ بیدار ہوا تو وہ سلمان رضی اللہ عنہ تھے، میں ان کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا،

تو انہوں نے فرمایا: اے جریر! اللہ کے لیے تواضع اختیار کرو۔ بےشک جو اللہ کے لیے دنیا میں عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کو قیامت کے دن بلندی عطا فرمائے گا۔

اے جریر! کیا تم جانتے ہو کہ قیامت کے دن کے اندھیرے کیا ہوں گے؟ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا: لوگوں کے باہم کیے ہوئے ظلم۔ پھر انہوں نے اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک تنکا پکڑا، قریب نہ تھا کہ مجھے دکھائی دے۔

پھر انہوں نے فرمایا: اے جریر! اگر تم جنت میں اس طرح کے تنکے ڈھونڈنا چاہو تو نہیں ملیں گے۔

میں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! جنت میں کھجور اور درخت کہاں ہوں گے؟

انہوں نے فرمایا: اس کی جڑیں اور تنے سونے اور موتیوں کے ہوں گے اور اس کے اوپر والے حصے پر کھجوریں ہوں گی۔

57-جنتیوں کا جنت میں کھانا ہضم ہونے کا طریقہ

 عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلاَ يَتْفُلُونَ وَلاَ يَبُولُونَ وَلاَ يَتَغَوَّطُونَ وَلاَ يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا يُلْهَمُونَ النَّفَسَ[صحيح مسلم:7331]

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وه كہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بےشک اہل جنت، جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن نہ تھوکیں گے اور نہ ہی پیشاب کریں گے، اور نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ہی ناک سنکیں گے۔

صحابہ نے پوچھا: پھر ان کے کھانے کا کیا بنے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک ڈکار (آئے گی) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا۔

ان کو تسبیح اور حمد اسی طرح (فطرت کے اندر) الہام کر دیے جائیں گے جس طرح سانس کو الہام کرکے فطرت میں شامل کر دیا جاتا ہے۔

58-جنت میں طرح طرح کے کھانوں پر مشتمل درخت

 عن عتبة بن عبد السلمي قال : كنت جالسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء أعرابي فقال: يا رسول الله ! أسمعك تذكر شجرة في الجنة لا أعلم في الدنيا أكثر شوكا منها، يعني الطلح، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله يجعل مكان كل شوكة (يعني من شجرة الطلح في الجنة) مثل خصية التيس الملبود – يعني المخصي- فيها سبعون لونا من الطعام لا يشبه لونه لون الآخر « . [السلسلة الصحيحة :2734]

سیدنا عتبہ بن عبد سلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا:

اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو جنت کے ایک درخت کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ تو دنیا میں سب سے زیادہ کانٹوں والا درخت ہے یعنی کیکر کا درخت۔

تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ ہر کانٹے کے بدلے (یعنی کیکر کے درخت میں) خصی بکرے کے خصیہ کی طرح کی ایک چیز پیدا کرے گا، اس میں ستر رنگ کے کھانے ہوں گے اور کوئی رنگ دوسرے رنگ کے مشابہہ نہیں ہوگا۔

59-اہل جنت کی ضیافت کا آغاز

 قال رسول اللهﷺ۔۔۔۔ أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَزِيَادَةُ كَبِدِ الْحُوتِ [صحيح البخاری:3938]

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: …. پہلا کھانا جو جنتی كھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہوگا.(جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے)۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *