خاتم النبیین ﷺنے کوہ صفا پر کھڑے ہوکر اعلان فرمایا کہ لا إلہ إلا اللہ کا اقرار کر لو تو عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نےمسلمانوں کو تاکید فرمائی۔

مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا(الحشر: 7)

’’اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو اور جس سے روکے رک جاؤ۔‘‘

قرون اولی کے مسلم حکمرانوں نےعزت وذلت، موت وحیات اور اقتدار کا سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہی مان لیا اور نبی کریم ﷺ کے نقش قدم کو اپنی زندگی کا ماٹو بنالیا تو اللہ قدیر نے ان کا رعب ودبدبہ دشمن پر اس قدر طاری کر دیا کہ ان کا نام سن کر قیصر وکسریٰ پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا۔ موجودہ دور کے مسلم حکمرانوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ایٹمی ملک کے جرنیل صدر کو امریکی وزیر خارجہ کا فون آیا وہ کھڑا ہوکر اس کے مطالبات پر yes sir کہتا رہا۔

عرب ریاستوں کے حکمرانوں نے امریکی صدر کے استقبال میں قومی وملی غیرت کا  جنازہ نکال دیا۔ باہمی معاملات میں ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط ہوئے وہ جب الوداع ہوا تو نہایت قیمتی تحائف سے نوازا۔ قرآن میں ارشاد ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ (المائدۃ:51)

’’اے ایمان والو! یہودونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔‘‘

مسلم ریاستوں خصوصا عرب حکمرانوں نے اُن کو اپنا راز دان سمجھ لیا اور اقتدار کا سرچشمہ مان کر لبیک کہنا شروع کردیا۔ وائیٹ ہاؤس کی اندھی پیروی کا سبب جہاد کی تیاری میں غفلت کا نتیجہ ہے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد ہے:

وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ(الانفال: 60)

’’تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو۔‘‘

قوۃ کی تفسیر نبی ﷺ سے ثابت ہے یعنی تیراندازی۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)

کیونکہ اس دور میں یہ بہت بڑا جنگی ہتھیار اور نہایت اہم فن تھا جس طرح گھوڑے جنگ کے لیے ناگزیر ضرورت تھے جیسا کہ اس آیت سے بھی واضح ہے لیکن اب تیراندازی اور گھوڑوں کی یہ جنگی اہمیت اور افادیت وضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے

(وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ )کے تحت آج کل کے جنگی ہتھیاروں (مثلاً: میزائل، ٹینک، بم اور جنگی جہاز اوربحری جنگ کے لیے آبدوزیں وغیرہ) کی تیاری ضروری ہے۔ (احسن البیان )

عرب حکمرانوں نے تیل کے بدلہ ٹیکنالوجی لے کر عسکری قوت میں اضافہ کے لیے دفاعی اسلحہ فیکٹریاں قائم نہیں کیں اور نہ ہی ایٹمی قوت کے حصول کی طرف پیش رفت کی بلکہ اپنے تحفظ کے لیے امریکہ ودیگر ممالک سے جدید اسلحہ خرید کر ذخیرہ کرلیا۔ امریکہ نے اپنے چیلوں سے خوف کا احساس دلاکر عربوں کے حواس باختہ کردیا۔ اس بناء پر انہوں نے ممکنہ دشمن سے لڑنے کے لیے امریکہ سے فوج طلب کر لی اس سے عربوں کے دشمن پر کوئی خوف طاری نہیں ہوا بلکہ اسرائیل پر امید ہے کہ جب گریٹ اسرائیل کی خاطر عرب ریاستوں پر حملہ کیا تو امریکی فوجی ہمارے خلاف(اسرائیل) لڑنے سے انکار کردیں گے۔

اسلحہ ذخائر جہاں جہاں موجود ہیں امریکی فوج یقیناً اس سے باخبر ہے تو وہ جنگ کی صورت میں اسرائیل سے مخفی نہ رہیں گے۔ یہ خطرہ بھی لاحق ہوگا اسرائیل سے جنگ کی صورت میں امریکہ عربوں کو براہ راست اسلحہ فروخت نہ کرے گا۔

ماضی کے دور میں سپین کے عیسائی وزیر نے عربوں سے فوجی مدد طلب کی جبکہ موجودہ دور میں عربوں نے صلیبی امریکہ سے فوج طلب کی اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عرب حکمران طبقہ کو وہن کی بیماری لاحق ہوچکی ہے یعنی دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پس منظر میں مذہبی جذبہ کارفرماہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے ٹبی وی پر اعلان کیا ہے کہ ارض مقدس خدا کی طرف سے یہود کی میراث ہے ہم گریٹر اسرائیل کے لیے تاریخی وروحانی مشن پر ہیں اور اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔یہودی جس مسایاج کے منتظر ہیں وہ دراصل مسیح الدجال ہوگا وہ جس کی تاج پوشی کے لیے مسجد اقصیٰ کو مسمار کرکے تھرڈ ٹمپل تعمیر کرنا چاہتے ہیں صلیبی دنیا غلط فہمی کی بنا پر اس دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام سمجھ کر ان کی مدد کر رہے ہیں۔ایرانی قیادت بھی اپنے نجات دہندہ کی آمد کے منتظر ہیں وہ اس کی نصرت کے لیے عرب کے مخصوص علاقوں پر تسلط حاصل کرنے کی تگ ودو میں ہیں لیکن عرب حکمران حضرت عیسیٰ علیہ السلہ کے نزویل اور امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر ایمان رکھتی ہیں لیکن ان کے مدد کے لیے جہاد کے فرض سے غافل ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے خدائی مشن کو پورا کرنے کے لیے غزہ کی جانب پچاس ہزار فوج بھیج دی ہے وہ پحاس سال تک عمر کے شہریوں کو فوج میں بھرتی کررہا ہے۔ اسرائیل کی منشا ہے کہ غزہ کے اٹھارہ لاکھ مسلمان مرنے کے لیے تیار ہوجائیں یا دیار غیر میں انخلا کی راہ اختیار کریں۔ اسرائیل نے شام میں اقتدارکی منتقلی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر 7000 مربع کلو میٹر پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اسرائیل شام کے دروزیوں سے مل کر فوجی مدافعت کر رہا ہے۔ صیہونی فوج شام میں گولان پہاڑیوں سے ملحقہ علاقوں میں گھس چکی ہے اور مقامی آبادی سے زبردستی اسلحہ لے کر ان کو غیر مسلح کر رہی ہے۔ اسی طرح یہودی شہری بھی شام کے علاقہ میں گھس رہے ہیں جنھوں نے اسرائیلی جھنڈے گاڑ کر یہودی بستیاں قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیل لبنان پر فضائل حملے کر رہا ہے وہ حکومت پر دباؤ ڈال کر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تگ ودو میں ہے۔ ترکی نے اسرائیل کو خبرکردیا ہے کہ وہ شام میں مداخلت نہ کرے لیکن اسرائیل ترکی کو قبرص کے معاملہ میں الجھانا چاہتا ہے تاکہ وہ شامی حکومت کی نصرت نہ کرسکے۔ صیہونی حکومت ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا مذموم ارادہ رکھتی ہے اور بھارت کو شکست کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے پر اُکسارہا ہے چونکہ گریٹر اسرائیل کے نقشہ میں مدینہ منورہ شامل ہے۔ اسرائیل سعودی عرب پر حملہ سے قبل اُن مسلم ممالک کو دفاعی طور پر مفلوج کرنا چاہتا ہے جن سے توقع کی جاسکتی ہےکہ وہ سعودی عرب سے فوجی تعاون کریں گے۔ مزید برآں اس کے اشارے پر طاغوتی قوتیں دباؤ ڈال کرعرب حکمرانوں سے شریعت کے خلاف ایسے امور سرانجام دلانا چاہتی ہے جن سے مسلم امہ کی نظروں میں عرب حکمران قابلِ نفرت بن جائیں وہ اُن کے لیے کلمۂ خیر تک نہ کہیں۔

گریٹر اسرائیل کے منصوبہ میں فلسطین کے علاوہ اردن، لبنان، شام، مصر، عراق کے علاقوں کے علاوہ سعودی عرب کا مدینہ منورہ اور اربوں ڈالر کا فیوم سٹی بھی شامل ہے۔

عرب حکمران جو غزہ کی لڑائی کو مسئلہ فلسطین سمجھتے تھے۔ اسرائیل وزیر اعظم کے بیان نے اُن کی آنکھیں کھول دیں کہ یہ تو عرب ریاستوں کو براہ راست جنگ کی دھمکی ہے جب عرب حکمرانوں کو اقتدار کا سورج ٹمٹماتا نظر آیا تو ان کا چین وقرار اُڑ گیا۔ اسرائیلی حکومت کے بیان کے رد عمل میں عرب ریاستوں کے حکمران اوردیگر مسلم ممالک کی اکیس(31) مشترکہ اجلاس ہوا جس میں برملا اعلان کیا گیا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے اور اس جنگی مجرم کے ساتھ تعلقات قائم نہیں کریں گے۔

موجودہ سعودی حکومت نے عالمی امن وسلامتی کی خاطر مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دوریاستی حل پیش کیا حالانکہ اس میں بھی قباحت تھی کیونکہ جس ملک نے فلسطین کو تقسیم کرنا تھا تو اس کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا لازمی تھا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیاکہ اگر تم کو ہمدردی ہے تو سعودی عرب میں فلسطینی حکومت قائم کر لو۔

راقم نے صیہونی حملہ کے خطرہ کے پیش نظر ربع صدی قبل عرض کی تھی کہ تیل اُن کو دو جو تم کو ایٹمی توانائی میں خود کفیل بنائے۔لیکن عرب ریاستوں نے جدید دفاعی ہتھیار توضرور خریدے لیکن دفاعی وایٹمی طور پر خودکفیل ہونے کا عمل نہیں کیا۔

اسرائیلی حکومت نے باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن اس نے مخالفین کو ایٹمی حملہ کی دھمکی دی ہے چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کے سہولت کار امریکہ کو خبردار کریں کہ اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کردے ورنہ ہم تمہارا معاشی بائیکاٹ کریں گے۔ علاوہ ازیں عرب ریاستیں مل کر ایٹمی قوت حاصل کرکے اعلانیہ طاقت کا مظاہرہ کریں اورمختلف علاقوں میں جدید نوعیت کی اسلحہ ساز فیکٹریاں قائم کریں۔ سرکاری فوج کو جدید تقاضوں کے مطابق گوریلا طرز کی تربیت دیں اور عام شہریوں کو رضاکارانہ فوجی ٹریننگ دیں تاکہ ہنگامی حالات کے دوران وہ دفاعی فریضہ سرانجام دے سکیں۔

اسرائیل جن عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کا مذموم ارادہ رکھتاہے ان سے مستقل فوجی چھاؤنیاں قائم کی جائیں۔ وہاں کے شہریوں کو دفاعی ٹریننگ دیں اورممکنہ اسرائیلی حملہ کے خطرہ کے پیش نظر ان کو دفاعی اسلحہ فراہم کردیا جائے تاکہ افغان طالبان کی طرح صیہونی عزائم کو خاک میںملادیں۔

طاغوتی قوتوں نے عرب حکمرانوں کو تیل کے ذخائر ختم ہونے کا خوف دلاکر سیروسیاحت کو آمدنی کا ذریعہ معاش بنانے پر آمادہ کیا۔عرب علاقوں میں مندر اورلبرل سٹی تعمیر ہوچکے ہیں اوردیگر تفریحی مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ پاکستان کے وہ علماء کرام جن کا عرب ریاستوں میں اثررسوخ ہے وہ وفد کی صورت میں عرب حکمرانوں سے بالمشافہ ملاقات کریں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی طرح اُن کو جہاد کی راہ اختیار کرنے اور عیش وعشرت ترک کرنے کی ترغیب دے کر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیں۔

عرب ممالک متحد ہوکر خلافت عثمانیہ کے دور کی اسلامی سلطنت پر قبضہ خصوصا مسجد اقصیٰ کی آزادی کو ماٹو بناکر اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں۔ صیہونی نظام کے خاتمہ اور بے حیائی کے مراکز مسمار کرنے کا عملی مظاہرہ کریں پھر رب کے دربار میں توبہ کرکے نصرت طلب کریں تو یقیناً اللہ کی طرف سے رحمت کا نزول ہوگا۔ پاکستان، افغانستان دیگر مسلم ممالک جہاد کے اعلان پر لبیک کہیں گے۔ بیت المقدس پر اسلامی پرچم لہرائے گا اوریہودی فلسطین سے انخلا پر مجبور ہوجائیں گے۔ إن شاء اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *