بھریاروڈ ضلع نوشہرو فیروز سندھ میں ایک مسجد اہل حدیث تعمیر ہوئی اور اس کی تعمیر کا سبب غیر اہل حدیث ( احناف دیوبندی) کی طرف سے زیادتی تھی۔ مسجد میں مختلف اوقات میں مختلف ائمہ کرام تشریف لاتے رہے اور امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ سندھ میں علماء کرام کی کمی کی وجہ سے راقم الحروف جب طالب علم تھا تو اس دور میں بھی خطبہ جمعۃ المبارک کے لیے آیا تھا۔ محدث سندھ علامہ سید محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے مدرسہ سے ایک طالب علم فراغت حاصل کرتا ہے اور اس کی ذمہ داری حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ بھریاروڈ میں لگا دیتے ہیں۔ ان کا نام مولانا عبد المالک صاحب ( رحمۃ اللہ علیہ) تھا۔ یہاں کی مقامی جماعت نے اظہار کیا کہ ہم یہاں پر دینی درسگاہ بنانا چاہتے ہیں تو اس نے کہا کہ میرے برادر اکبر مولانا محمد خالد راسخ صاحب کو ادارہ قائم کرنے کا شوق اور تجربہ ہے اور ان ایام میں بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد فارغ ہیں اور گھر پر اور باقاعدہ طور پر مدرسہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ مدرسہ کا نام مدرسہ دارالقرآن والحدیث تجویز ہوا اور اس کے آغاز/ افتتاح کے لیے محدث دیار سندھ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کو دعوت دی گئی اور آپ تشریف لائے اور مدرسہ کا آغاز ہوگیا۔
مولانا محمد خالد راسخ صاحب کو مدرسہ اور اپنے مشن سے جنون کی حد تک پیار تھا انہوں نے دن رات اس مدرسے کو کامیاب بنانے کےلئے محنت کی۔ اور اچانک 1996 میں فوت ہوگئے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ
راقم الحروف ان ایام میں اپنے مربی و شیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کے پاس جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ مولانا محمد شفیق عاجز صاحب اور حاجی اسلام الدین صاحب نے راقم الحروف کو بھریاروڈ میں کام کرنے کی دعوت دی تو بندہ ناچیز نے کہا کہ آپ شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ سے بات کریں تو ہم تینوں شیخ محترم کے گھر حاضر ہوئے اور شیخ صاحب سے بہت ہی اچھے ماحول میں بات ہوئی تو انہوں نے ناصرف اجازت دی بلکہ بہت سے مفید مشورے اور قیمتی نصیحتیں بھی کیں۔ جزاہ اللہ خیرا
بندہ ناچیز یہاں پر آگیا اور اپنے رفقاء مولانا محمد شفیق عاجز صاحب اور مولانا عبد الروف ظہیر صاحب ( متوفی 2024 ) کے ساتھ مل کر مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انتظامی امور اور مسجد و مدرسہ کی تعمیر کی طرف توجہ دی۔
اس دوران کئی دیگر اساتذہ کرام بھی رفیق بنے جن میں سے مولانا محمد احمد سندھی مرحوم فاضل مدینہ یونیورسٹی اور مولانا سید محمد شاہ صاحب فافل جامعۃ الامام محمد بن سعود الریاض بھی شامل ہیں۔
بحمداللہ تعالیٰ بندہ ناچیز کو یہاں پر رہ کتب حدیث پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی جن میں سے جامع ترمذی اور صحیح بخاری قابل ذکر ہیں۔
آٹھ سال تک یہاں پر تدریسی فرائض انجام دیے اور اس کے بعد بندہ ناچیز سکھر کی مرکزی جامع مسجد اہل حدیث میں امامت و خطابت کے لیے چلا گیا۔
15 جون 2025 بروز اتوار فاضل دوست مولانا محمد شفیق عاجز صاحب مدیر مدرسہ دارالقرآن والحدیث بھریاروڈ نے مدرسہ ھذا سے فیض حاصل کرنے والے طلباء کرام کو جمع کرنے کا پروگرام بنایا اور راقم الحروف کو بھی بطور مہمان عزت دی اور عید الاضحی سے پہلے ہی پابند کر دیا کہ پروگرام میں ضرور شریک ہوں۔
15 جون کو سابق طلباء تشریف لائے ہوئے تھے ان میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جنہیں میں جانتا تھا اور بعض نے مجھ سے پڑھا ہوا تھا جو کہ میرے لیے قابل فخر بات ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے مولانا حافظ طارق ضیاء صاحب پنجاب سے خصوصی طور پر تشریف لائے۔ دیگر پروگراموں کے علاوہ رات کو باہمی تعارف کی نشست تھی جہاں طلباء/ علماء کرام نے اپنا اپنا تعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اپنی سرگرمیوں کے بارے آگاہ کیا۔ سب علماء کرام نے اپنی اپنی نشاطات بتائیں۔ ان میں سے دو علماء کرام کے کاموں کا سن کر سر فخر سے بلند ہوا اور میں ذاتی طور پر سمجھا کہ مدرسہ دارالقرآن والحدیث بھریاروڈ کے قیام کا مقصد پورا ہوگیا۔ ایک طالب نے بتایا کہ وہ اب تک اتنی کتب پر کام کر چکے ہیں اور دوسرے عالم دین مولانا محمد آصف فاروق صاحب جس نے راقم الحروف سے بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام پڑھی تھی۔ اس نے بتایا کہ ایک وہ بلوغ المرام کی شرح لکھ رہے ہیں جو کہ تقریباً پچاس جلدوں میں مکمل ہوگی۔ اور اس کی دو جلدیں مکمل ہوچکی ہیں اور دوسری اسماء الرجال کی مشہور کتاب ’’ تھذیب الکمال فی اسماء الرجال‘‘ پر کام کر رہے تھے۔ اس کے علاؤہ ایک کتاب کا بھی تذکرہ کیا کہ اس پر بھی کام چل رہا ہے۔ اللھم زد فزد و أیدہ بروح القدس
اس پروگرام سے روح کو تازگی ملی کہ جس ادارے کے لیے ہم نے دن رات محنت کی تھی اور پروان چڑھایا تھا اب وہ ناصرف تناور درخت بن چکا ہے بلکہ وہ ثمر باآور بھی ہے اور لوگ اس کے ثمرات سے مفید ہو رہے ہیں۔ اور کئی علماء جنہوں نے یہاں سے علمی تشنگی بجھائی ہے وہ اپنے ادارے قائم کرکے چلا رہے ہیں ان میں سے ایک نام مولانا عبد الغفار ناصر صاحب آف مورو کا بھی ہے۔ کئی مختلف مقامات تدریس کر رہے ہیں اور کئی امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور کچھ اپنا کاروبار بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ دینی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ والحمد للّٰہ علی ذالك
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس مدرسے و دیگر دینی اداروں کو برکتوں سے نوازے اور ان کے مدرسین، منتظمین ،معاونین اور محسنین کو جزائے خیر عطاء فرمائے آمین یارب العالمین
