خاتم النّبیین محمدﷺ کی چار بیٹیاں سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم تھیں۔ جناب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبوت کے دوسرے سال پیدا ہوئیں۔ نبی کریمﷺ نے ان کا نام فاطمہ رکھا۔ فاطمہ کے معنی باز رہنے والی چونکہ آپ نے اللہ اور اُس کے رسول کی خاطر خود کو دنیوی راحت، تن آسانی، عیش و عشرت سے باز کیے رکھا اور تنگی و تکلیف کو ہنسی و خوشی سے برداشت کیا۔ اس لیے ان کا نام فاطمہ اسم بامسمٰی ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہا کے کئی القاب ہیں ان میں سے راضیہ بھی تھا یعنی اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ سے ہر حال میں خوش بخوش اور راضی رہنے والی خاتون۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جناب نبی کریمﷺ کی چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں۔ آپﷺ انہیں گود میں بٹھاتے اور کبھی اٹھا کر لیے پھرتے جب جھولے میں ڈالتے تو لوری میں اللہ کی وحدانیت اور صفات کا ذکر فرماتے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا میں شرم و حیا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہا بچپن میں ہی پردہ میں رہنے لگیں۔ گفتگو میں بڑی متانت تھی حافظہ بلا کا تھا جو بات ایک دفعہ سن لیتی دماغ میں نقش ہوجاتی۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمر نو برس کی تھی کہ اُن کی والدہ ماجدہ سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا فوت ہوگئیں۔ اس کے بعد اپنے والد حضرت محمدﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ آپ رضی اللہ عنہا جملہ اعمال و خصائل میں اپنے مقدس باپ کا نمونہ بن گئیں۔ سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا نہایت صالحہ متقی فرماں بردار تھیں۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے حکم کی پیروی کرتی تھیں۔ آپﷺ ان سے محبت کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دوسرے کو دیکھ نہ لیتے صبر و قرار نہ آتا تھا۔
سیدہ فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا کو بھی رسول اللہﷺ سے بے حد محبت تھی۔ نبی کریمﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر اعلان نبوت فرمایا تو قریش مکہ آپﷺ کے مخالف ہوگئے وہ اُن کو کوئی تکلیف دیتے تو سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا سخت بے چین ہوجاتیں۔ ایک دفعہ سرور کائناتﷺ بیت اللہ میں نماز ادا کر رہے تھے قریب ہی سرداران قریش مکہ کی محفل لگی ہوئی تھی اسلام کے بدترین دشمن ابوجہل نبی کریمﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر غضب ناک ہوگیا اس کے کہنے پر عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھری اٹھالایا جب رسول کریمﷺ سجدہ میں گئے تو فوراً آپ کی پیٹھ پر رکھ دی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اطلاع ہوئی تو سنتے ہی بے چین ہوگئیں۔ دوڑتی ہوئی بیت اللہ پہنچیں۔ آپﷺ کو اس حال میں دیکھا تو تڑپ اٹھیں اور پیٹھ سے اوجھری ہٹا کر پھینکی تب آپﷺ نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا اے اللہ! تو اُن کو پکڑلے۔ سب کے سب غزوہ بدر میں مقتول ہوئے۔
سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو اُن کا نکاح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ وہ بھی بچپن سے نبی کریمﷺ کے فیض یافتہ تھے۔ آپﷺ کی عادت مبارکہ تھی جب کہیں تشریف لے جاتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا سے رخصت ہوتے جب واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے۔ باپ بیٹی کے گھروں میں عموماً فاقہ رہتا تھا اگر باپ کے گھر میں کئی دفعہ روٹی نہ پکتی تو بیٹی کا چولہا بھی کئی کئی دن تک گرم نہ ہوتا تھا۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کی رضا پر راضی رہیں کبھی شکوہ نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے غمی و خوشی کے موقع پر اللہ سبحانہ اور رسول اللہﷺ کے حکم کی تعمیل کی۔ مخبر صادق محمدﷺ نے اُن کو سَیِدَةُ نِسَآءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خواتین جنت کی سردار۔کالقب دیا۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اتباع سنت کی مشتاق تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا دستور تھا کہ ہر کام میں حضورﷺ کی پیروی کرتیں اور پیش آمدہ مسئلہ میں دریافت کرلیتیں کہ شریعت میں جائز ہے یا نہیں۔
’’ایک بار سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنے گھر تشریف لائے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں کم سن بچے (حسن و حسین رضی اللہ عنہما ) رو رہے ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ان کے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: یہ بچے بھوک سے روتے ہیں اور گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی جناب سیدنا علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے چند قدم ہی گئے تھے کہ ایک دینار کہیں سے مل گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بتایا کہ فلاں جگہ سے ملا ہے۔ جناب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: فلاں یہودی کی دوکان پر جائیے اور اس کا آٹا خرید لائیے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس دوکان پر پہنچے اور آٹا خریدا۔ دوکاندار اگرچہ یہودی تھا مگر آنحضورﷺ کا عقیدت مند تھا پوچھنے لگا: ’’آپ انہیں کے داماد ہیں نا! جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کررکھا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! سچ کہتے ہو۔ اس نے کہا: پھر یہ دینار بھی لے جائیے اور آٹا بھی لے جائیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دینار دینے پر اصرار کیا مگر وہ نہ مانا جناب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آٹا دے کر گھر آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اس یہودی نے بلا قیمت آٹا دیا ہے۔ سیدہ نے کہا: آپ بازار جائیے اور اس سے ایک درہم کا گوشت لے آئیے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ گوشت لائے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے کھانا تیار کیا اور جناب رسول اللہﷺ کو بھی کھانے پر بلایا۔ حضورﷺ تشریف لائے تو فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے تمام ماجرا کہہ سنایا۔ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ حضورﷺ اسے جائز قرار دیں تو اسے ہم کھائیں ورنہ نہ کھائیں۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے اجازت دے دی اور فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کھالو تو پھر لقمہ منہ میں ڈالا۔‘‘ (سنن ابی داؤد، : 1716)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کا کام کاج اپنے ہاتھ سے کرکے خوشی محسوس کرتیں۔ چکی پیس پیس کر آپ رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں آبلے پڑگئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو احساس ہوا۔
’’ایک دفعہ آنحضورﷺ کے پاس کچھ خادم آئے۔ سيدنا علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ذرا حضورﷺ تک جاؤ اور ایک خادم طلب کرو تم بھی کام کاج کرتی تنگ آگئی ہو۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دربار نبوی میں حاضر ہوئیں مگر شرم کے مارے کچھ عرض نہ کرسکیں۔ دوسرے دن سرکار عالمﷺ خود اُن کے گھر تشریف لے گئے پوچھا: بیٹی! کل کیوں آئی تھی اور کیا کام تھا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بولے۔
حضورﷺ ! چکی پیس پیس کر ان کے ہاتھوں میں آبلے پڑگئے ہیں اور پانی اٹھا اٹھا کر گردن پر نشان ابھر آئے ہیں۔ میں نے حضورﷺ کے پاس کچھ خادم دیکھے تھے اور میں نے بھی ان سے کہا تھا کہ آپ کے پاس جاکر خادم/ خادمہ مانگ لیں۔ حضورﷺ نے خدمت گار دینے کی بجائے فرمایا:
’’اے فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ سے ڈر اور پرہیزگار بن اپنے رب کے فرائض ادا کر اور اپنے کنبہ کے اعمال کو اپنا دستور بنا اور جب سونے کے لیے بستر پر لیٹے تو سبحان اللہ 33 بار، الحمد للہ 33 بار اور اللہ اکبر 34 بار پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ عمل وہ ہے جو تیرے لیے خادم سے بدرجہا بہتر ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد، حدیث : 2988، ماخوذ سیرت فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا مؤلف عبد المجید سوہدروی)
سیدہ فاطمتہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے کھانا نہیں کھایا جب تک نبی کریمﷺ نے اجازت نہیں دی۔ آپ رضی اللہ عنہا کی قناعت کی یہ کیفیت یہ تھی کہ انہوں نے خادمہ کے نہ ملنے پر رنج کا اظہار نہیں کیا بلکہ نبی اکرمﷺ کی زبان اقدس سے خادمہ کی بجائے وظیفہ سن کر اللہ کی رضا پر رضا مندگی کا اظہار کرلیا۔ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جس نے دنیا اور علائق دنیا سے دل نہیں لگایا اُن کے بارے میں گمان کرنا کہ وہ باغ فدک کے مطالبہ پر نبی کریمﷺ کا فرمان :
«لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»(صحیح البخاری : 3093)
سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئیں۔ یہ نظریہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی صفت اتباع پر ناپاک جسارت ہے۔
حدیث فدک میں ’’ قَالَ: فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ، فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى مَاتَتْ‘ ‘میں ’’قال‘‘ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ فقرہ حدیث کی راوی سیدہ عائشہ طاہرہ رضی اللہ عنہا کا فرمان نہیں بلکہ اس کا ذکر کرنے والا مرد ہے پس اس روایت میں ترک گفتگو اور ناراضگی کے الفاظ وہ امام ابن شہاب زہری کے کسی شاگرد کے ہیں۔ جس نے لم تتکلم سے قیاس کرکے فہجرت یا غضبت کا لفظ زیادہ کردیا جس طرح حضورﷺ کی خلوت نشینی سے لوگوں نے قیاس کرلیا کہ آپﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے حالانکہ قطعاً ایسا نہ تھا۔ درحقیقت لم تتکلم کا مقصد یہ تھا کہ سیدہ فاطمہ راضیہ رضی اللہ عنہا نبی کریمﷺ کا فرمان سن کر راضی ہوگئیں تو انہوں نے اس معاملہ میں مزید گفتگو نہ فرمائی۔
ذخیرہ احادیث میں کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنی زبان اقدس سے باغ فدک نہ ملنے پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے غصہ کا اظہار کیا ہو بلکہ اہل بیت عظام عہد نبوی کی طرح باغ فدک کی آمدنی سے بقدر ضرورت حصہ لیتے رہے۔ مولانا محمد عبد الحمید تونسوی نے ’’ارشاد علی‘‘ ص 59 میں تحریر کیا ہے کہ لفظ فدک کی توضیح امام شارح ابن ابی الحدید نے نقل کی ہے:
كَانَ أَبُوْ بَكْرٍ يَأْخُذُ غَلَّتَهَا فَيَدْفَعُ إِلَيْهِمْ مِنْهَا مَا يَكْفِيهِمْ وَيُقْسِمُ الْبَاقِي وَكَانَ عُمَرُ كَذَلِكَ ثُمَّ كَانَ عُثْمَانُ كَذَلِكَ ثُمَّ كَانَ عَلِيٌّ كَذَلِكَ(شرح نهج البلاغة لابن أبی الحدید: 2/296، أیضاً: 4/111 طبع بیروت)
’’یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ فدک کا غلہ لے کر جس قدر اہل بیت نبوی کی ضرورت کو کافی ہوتا ان کی طرف بھیجوایا کرتے تھے اور باقی آمدن کو دوسرے ضرورت مندوں اور حقداروں میں تقسیم کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح تقسیم کرتے تھے پھر عثمان رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح تقسیم کرتے تھے پھر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح تقسیم کرتے تھے۔‘‘
غیر جانبدار صاحبان کو دعوت فکر ہے کہ فدک کے غلہ سے اہل بیت کا بقدر ضرورت حصہ لے لینا رضامندگی کی علامت ہے یا ناراضگی کی؟
سیدہ فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے فرمان نبوی «لاَ نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»سن کر تردید نہیں فرمائی بلکہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تائید کا انکار نہیں کیا۔ فریق ثانی کی تشفی کے لیے نہایت معتبر کتاب اصول کافی کی روایت پیش خدمت ہے:
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوْرِثْهَا دِيْنَارًا أَوْ دِرْهَمًا وَلَكِنْ أَوْرَثُوا العِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ
’’علماء انبیاء کرام کے وارث ہوتے ہیں، انبیاء کسی شخص کو درہم و دینار (سونا چاندی) کے وارث نہیں بناتے لیکن وہ علم دین کے وارث بناتے ہیں پس جس نے علم (دین) حاصل کیا اس نے (ان کی وراثت سے) حظ وافر پالیا۔‘‘(أصول كافی، كتاب العلم)
نبی کریمﷺ دنیا فانی سے کوچ کرکے رفیق اعلیٰ سے جاملے تو اُس وقت آپﷺ کی اولاد میں سے صرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی زندہ تھیں تاہم دیگر ازواج مطہرات تو موجود تھیں وہ بھی شرعی لحاظ سے حق دار تھیں۔ چنانچہ فریق ثانی مستند حوالہ سے ثابت کرے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا و دیگر ازواج مطہرات کو وراثت سے حق دیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا۔ بصورت دیگر آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حق تلفی نہیں ہوئی پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریمﷺ کے فرمان کی پیروی کی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی فرمان نبوی سن کر راضی ہوگئیں اور آئندہ اس معاملہ پر گفتگو نہ فرمائی۔
فریق ثانی کے بقول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حق غضب کیا یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اذیت پہنچائی تو قابل غور پہلو ہے کہ مخالفین حق سے لڑنے کا عزم کرنے والے اور تن تنہا ہزاروں کا مقابلہ کرنے والے حیدر کرار رضی اللہ عنہ کی ذوالفقار حرکت میں کیوں نہ آئی؟
سیدہ فاطمہ زکیہ رضی اللہ عنہا خاوند کی وفا شعار خاتون تھیں وہ اُن کی اجازت کے بغیر گھر کی دہلیز سے باہر قدم نہ رکھتی تھیں۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اطلاع کی اور اجازت دی تو پھر آپ رضی اللہ عنہا خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے اپنے والد (نبی کریمﷺ ) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اسی طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے بیعت خلافت کے دسویں دن بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں قاصد بھیج کر ورثہ طلب کیا۔
پس انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ برحق تسلیم کیا تھا تو حق طلب کیا فریق ثانی کے بقول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زبردستی خلافت پر قبضہ کیا ہوتا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غاصب کے پاس قطعاً نہ بھیجتے۔
مذکورہ وضاحت کے باوجود فریق ثانی اصرار کرے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مطالبہ پر باغ فدک نہ دے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حق تلفی کی ان کے بعد سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی حق نہیں دیا۔
اہل سنت اور اہل تشیع ہر دو فریق کا اس پر اتفاق ہے کہ خلیفہ وقت یا امام کی ذمہ داری ہے کہ وہ وراثت کو حق داروں میں صحیح طریقہ سے تقسیم کرے۔
قابل غور معاملہ ہے کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وراثت سے حق نہیں دیا اور سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اپنے دور خلافت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کو نہیں دیا تو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں باغ فدک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کو کیوں نہیں واپس کیا؟
شبہ: فریق ثانی کے معروف سکالر علامہ آصف رضا علوی نے اس کا جواب دیا ہے کہ ہمارے امام ششم جعفر صادقؒ کا قول ہے:
’’ہم آل محمد کا یہ مزاج ہے کہ ہم سے جو چیز ظلماً چھین لی جائے ہم دوبارہ اس پر اختیار نہیں کرتے کہ ظالم کی سزا میں کمی نہ ہوجائے۔‘‘(سوشل میڈیا)
ازالہ: امام جعفر صادق رحمہ اللہ کے اس قول سے واضح ہوگیا چونکہ باغ فدک کو ظلماً غصب کیا گیا اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اس کو واپس نہیں لیا۔ فریق ثانی کا ہی دعویٰ ہے کہ خم غدیر کے موقع پر نبی کریمﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مَنْ كُنْتُ مَوْلَا فَعَلِي مَوْلَا(خصائل علی نسائی: 85) کہہ کر خلافت کا حق دار بنایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر زبردستی قبضہ کرلیا۔
خلفاء ثلاثہ یکے بعد دیگرے اس پر قابض رہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تقریباً پچیس سال گزرنے کے بعد ظلماً غصب کی ہوئی خلافت کیوں حاصل کی؟ قابل غور پہلو ہے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے غصب کی ہوئی خلافت حاصل کرلی لیکن ظلماً حاصل کیا ہوا باغ فدک حسنین کریمین سمیت دیگر اہل بیت کو منتقل کیوں نہ کیا؟
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خود کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی خاطر دنیوی راحت سے باز رکھنا اور تنگی و تکلیف کو ہنسی و خوشی برداشت کیا۔ اُن کے بارے یہ نظریہ رکھا کہ وہ باغ فدک کے مطالبہ پر نبی کریمﷺ کا فرمان سن کر ناراض ہوگئیں۔ یہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت اور اسم بامسمٰی کے منافی عمل ہے۔ درحقیقت سیدہ فاطمہ زکیہ رضی اللہ عنہا نبی کریمﷺ کا فرمان سن کر راضی ہوگئیں اور راضیہ کے لقب سے مزین رہیں یہی اقرب الی الحق ہے۔
