برصغیر میں مختلف فتنوں نے جنم لیا ان میں سے ایک فتنہ قادیانیت تھا جس کا محاسبہ علماء کرام و مشائخ عظام نے خوب کیا آواز نبوت کے دعویدار ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کا بھرپور تعاقب کیا اور ہر جگہ مرزا قادیانی ذلیل و رسواء ہوا۔ اور بالآخر انتہائی بری موت سے واصل جہنم ہوا۔
دوسرا فتنہ لنواری ضلع بدین کا مصنوعی حج تھا۔ اگرچہ یہ فتنہ اہل اسلام کی کماحقہ توجہ حاصل نہ کر سکا۔ لیکن پھر بھی اہل ایمان اس فتنے کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اس فتنہ کو روکنے کے لیے میدان عمل میں آئے اور حکومت کی سطح پر اسے روک دیا گیا۔
سندھ میں مولانا حاجی احمد ملاح کے زمانہ میں ایک عظیم فتنے نے سر اٹھایا۔ بدین کے قریب ایک خانقاہ ہے۔ جہاں ابتدا میں تو عرس اور میلے کا ڈھونگ رچایا جاتا تھا مگر ۱۹۳۸ء میں باضابطہ طور پر سراسر خلاف شرع یہ اعلان کیا گیا کہ آئندہ ۹ ذی الحجہ کو لنواری میں غریبوں کے لئے خطبہ حج پڑھا جائے گا۔ اور یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ جو شخص حج کے دنوں میں لواری کی درگاہ پر بہ ارادہ صدق و صفا حاضری دیگا وہ عنداللہ حاجی و ناجی ہے۔ درگاہ کے باہر ایک بورڈ پہ الفاظ تحریر کیے گئے:
حاجی، ناجی، نمازی کو صد مبارک، صد سلام! خطبہ حج تین بجے دیا جائے گا۔
یہاں تک کہ(نعوذ بالله)لواری کی زمین کو مکہ اور مدینہ کا کہا گیا۔ آب زمزم، عرفات اور جنت البقیع کے نام بھی تجویز کیے گئے آج تک لنواری کے مرید خواہ کہیں بھی ہوں لواری کی طرف پاؤں کر کے نہیں سوتے۔
اس مشرکانہ اور باغیانہ سازش کے متعلق سن کر نہ صرف سرزمین سندھ بلکہ ہر اس جگہ جہاں جہاں یہ روح فرسا خبر پہنچی دیار حرم پر مر مٹنے والے بدین پہنچنے لگے۔ ان میں افغانی بھی تھے، سندھی بھی تھے، بلوچی بھی تھے اور پنجاب کے غیور مجاہدین بھی تھے۔ لیکن توحید کے اس لشکر جرار کو ایک بے باک اور جرات مند امیر کارواں کی ضرورت تھی۔ یہ سعادت عظمی مولانا حاجی احمد ملاح کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔ جو اپنے رفقاء کے ساتھ دوسرے پاسبان حرم کے انتظار میں تھے۔ بالآخر وہ دن آیا جب ہزاروں سرفروش جان کی بازی لگانے اور حرمین شریفین کی ناموس پر مر مٹنے کے لیے تیار ہوگئے اور مولانا احمد ملاح ان سرفروشوں کا ایک جم غفیر پیچھے لگائے بیت الحرام کے عشق میں گرفتار، ترنم ریز آواز میں پرسوز اشعار پڑھتے لواری کی طرف بڑھے۔ سادہ لباس میں ملبوس گھنی داڑھی والا نورانی چہرے کا مالک، جسمانی طور پر بوڑھا، روحانی طور پر نوجوان تھا۔ جب یہ مرد مجاہد د اور درویش صفت انسان اس شان سے لواری پہنچا تو لواری کے قبے کانپنے لگے۔ مولانا نے نعرہ لگایا:
اے ہماری غیرت ایمانی سے کھیلنے والو! گولیوں کے لیے ہمارے سینے حاضر ہیں۔ ان کو چھید ڈالو۔ ہماری بوٹی بوٹی نوچ لو، تمہارا گولہ بارود اور بے رحم گولیاں ختم ہو سکتی ہیں لیکن بیت اللہ میں ہونے والا حج لواری میں نہیں ہوسکتا۔ سرزمین سندھ پر محمد بن قاسم کے قدم ثبت ہوچکے ہیں، یہ سر کٹایا جاسکتا ہے لیکن جھکایا نہیں جا سکتا۔ جو سعادت مند اس معرکے میں شامل تھے ان کا بیان ہے کہ جب ہم زمین پر نعرے لگا رہے تھے تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ آسمانوں پر سے ان کا جواب آرہا ہے جس کی گونج ہمیں سنائی دیتی تھی۔ عجیب وقت تھا عجیب سماں تھا۔ مسلمان جب سر پر کفن باندھ کر نکلتا ہے تو قدرت کی ان دیکھی قوتیں اس کی مدد کے لئے حرکت میں آ جاتی ہیں اور یہی ہوا۔ سامراجیوں اور بدعتیوں کو حق کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑ گئے۔ لواری کے حج کو منوع قرار دیکر غیر معینہ مدت کے لیے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی گئی۔ اور مجاہدین اسلام اپنی تاریخ کا ایک روشن ترین باب لکھ چکے تھے
۱۹۵۸ء میں اس فتنے نے دوبارہ سر اٹھایا جسے بروقت مولانا احمد ملاح اور فدائیان حرم نے کچل دیا۔ اس جدوجہد میں مولانا احمد ملاح کو دو مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
جب مولانا احمد ملاح انتقال کر گئے تو پھر ۱۹۷۳ء میں تیسری بار یہ فتنہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے مریدوں نے ایک وزیر باتدبیر کو مدعو کرکے اس حج سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا جو اخبارات میں بھی شائع ہوا لیکن در حقیقت یہ ایک سوچی سمجھی سکیم تھی جس کا انکشاف اس وقت ہوا جب مولانا مرحوم کے کتب خانہ کو لواری کے مریدوں نے آگ لگا دی اور کتب خانے میں موجود ایک بے گناہ شخص کو بری طرح زد وکوب کیا گیا۔ اس داستان کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ کتب کے علاوہ کتب خانہ میں قرآن مجید کی جلدیں بھی تھیں جو جل کر راکھ ہوگئیں۔ اس کے بعد بعد نیم سوختہ اور بچی کھچی کتابوں کی بوریاں بدین کے تھانوں میں جمع کرادی گئیں۔ سندھ میں اس حادثے کی خبر سن کر ایک بار غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ جو انصاف چند سال قبل سندھی مجاہدوں کو ایک غیر مسلم عیسائی حکومت سے ملا تھا وہ انہیں اپنی مسلمان حکومت سے نہ مل سکا:
ایں چہ بوالعجبی است
اب جب اسلام کے خلاف ہر طرف فتنوں کی یلغار ہو رہی ہے مرزا قادیانی کی خبیث ذریت اپنے پر پرزے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے ، الحاد، دہریت اور انکار حدیث جیسے فتنے اسلام پر حملہ آور ہیں تو ان حالات میں ایک دفعہ پھر سے « فتنہ لنواری» بھی سر اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس خانقاہ کے لوگ اس کوشش میں ہیں کہ پرانے عدالتی و حکومتی فیصلوں میں من مانی تحریف کرکے بیت اللہ کی بجائے لنواری میں مصنوعی اور نقلی حج کا انعقاد کیا جائے۔
بحمداللہ اہل ایمان بیدار و ہوشیار ہیں جو بروقت اس سازش کو بھانپ چکے ہیں۔ جب اس فتنے کے خلاف سندھ کی ایک علمی شخصیت جناب ڈاکٹر عبدالحفیظ سموں صاحب حفظہ اللہ ورعاہ نے آواز بلند کی ہے تو فتنہ باز لوگ ڈاکٹر صاحب کے خلاف نہ صرف بدزبانی پر اتر آئے ہیں بلکہ وہ آپ کو اس فتنے کی راہ میں حائل رکاوٹ سمجھ کر آپ کے خلاف مختلف سازشوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔
اہل ایمان کا فریضہ بنتا ہے کہ بیت اللہ کے حج کے مقابلے میں منعقد کیے جانے والے مصنوعی اور نقلی حج کو روکنے کے لیے میدان عمل میں نکل آئیں اور اس فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔
حکومت وقت کا بھی فرض بنتا ہے کہ ایک اسلامی ملک میں بننے والے فتنے کو روکنے اور ختم کرنے کا انتظام کرے۔ تاکہ مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے اور شعائر اسلام کا تحفظ بھی ہو جو کہ مسلمان حکمران پر فرض ہے۔
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…
رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…
قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…
جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…
زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…
میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…