اپنے آپ کو جاننے اور دنیا میں اپنا مقام پہچاننے کے لیے غور و فکر ، تدبر اور کردار سازی کی ضرورت ہوتی ہے۔غور و فکر اور تدبر،سیکھنے، علم حاصل کرنے اور معلومات جمع کرنے سے ہٹ کر ایک الگ چیز ہے۔تدبر و استغراق ، دانائی ، شائستگی، ذہنی سکون اور یونانی الفا ظ Catharsis ) (اندرونی تزکیہ) کی طرف لے جاتا ہے ۔کسی قوم میں جب خود شناسی ،شعور و ادراک اور احساس و بیداری ختم ہوجائے تومنزل نظروں سے اوجھل اور راستے گم ہوجاتے ہیں۔حال کی بہتری اور مستقبل کی تشکیل اپنے ماضی سے شناسا ہوکر ہی کی جاسکتی ہے۔ہم ماضی میں جھانکیں بغیر حال کو نہیں سمجھ سکتے۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ فرنگی کی قدیم تاریخ کو پڑھے بغیر ہم مسلمانوں کے خلاف اس کی عصبیت اور بغض و عداوت کو نہیں سمجھ سکتے۔اپنی قدیم تاریخ میں فرنگی ایک خوں آشام بھیڑیا نظر آئے گا اور اس کی اصلیت کھل کر سامنے آجائے گی۔جس کو ہم ایک مہذب ، ترقی یافتہ اور فراخ دل قوم سمجھتے ہیں اور اس کی ہر ادا پر فدا ہوتے اور اس طرف سے آئی ہوئی ہر شے کو اپنے لیے بہت بڑی نعمت سمجھ کر اس کی طرف والہانہ طور سے لپکتے ہیں ،اس قوم نے ماضی میں مسلمانوں پر کیا قیامت ڈھائی ہے یہ ان کا ماضی بتائے گا۔اصل میں ماضی(Past) ہی ہمارے حال کو متعین کرتا ہے۔ماضی ہی حال ہے اور اس کے بنیادی علم کے بغیر حال ہمارے لیے ناقابلِ فہم ہوتا ہے۔
انسان کے کردار پر اس کی سوچ کا گہرا اثر ہوتا ہے، جس طرح کے عقائد و نظریات ہوں گے ، اعمال اسی کا مظہر ہوں گے۔جس شخص کے خیالات پرا گندہ ہوتے ہیں تو وہ اس کے اعمالِ ظاہرہ اور کردار پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ تو ایک فرد کا معاملہ ہے ۔ اسی طرح کسی قوم کے اجتماعی رجحانات ایک اجتماعی سوچ و فکر اور ایک نیا تمدنی نقشہ قائم کرتے ہیں۔درحقیقت سوچ ہی سے اعمال کی تشکیل ہوتی ہے۔وہ خاص سوچ وفکر ، نظریہ ، عقیدہ جس کی بنیاد پر عمل وجود میں آتاہے اسی کو تہذیب کہتے ہیں۔اور اس فکر کے نتیجے میں جو انداز زندگی اور رہن سہن کا طریق کار اپنایا جاتاہے اس کو تمدن کہا جاتاہے۔
جب قومیں مغلوب ہوتی ہیں تو شمشیر و سناں اور تیر و ترکش ہی کند نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کی سوچ و فکر ، ذہنیت ، اندازِ فکر اور زاویۂ نظرکو بھی زنگ لگ جاتا ہے ۔غیر اقوام کی مرعوبیت کی وجہ اپنی تاریخ اور اپنے ماضی سے ناواقفیت ہے۔اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تعلیمات سے صرفِ نظر کر کے جب مجرد عقل و وجدان پر ہی نظر یات کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو قدم قدم پر انسان ٹھوکریں کھاتا ہے۔
دنیا کے جامع نظریات تین ہیں:
(۱) نظریۂ مذہب
(۲) نظریۂ مادیت
(۳) نظریۂ اسلام
شعور ، فطرت اور انسا ن اس کے نمائندے ہیں ۔ازمنۂ قدیم سے آج تک جتنے افکار و نظریات اور فلسفے ظاہر ہوئے ہیں ان کا شمار ان ہی تینوں نظریات میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔اہل مذہب روح کو نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں،مادہ پرست مادے کو نقطہ ٔآغاز مانتے ہیں جبکہ اسلام روح اور مادے کے بیک وقت ظہور کو نقطۂ آغاز تسلیم کرتا ہے۔
چنانچہ اگر مادے کے وجود کو ہی اصل تسلیم کر لیا جائے تو مادہ پرستی بر حق محسوس ہوگی،اگر روح کو اصل مان لیا جائے تو انسان کا وجود بے مقصد نظر آتا ہے۔در اصل روح اور مادے کے اشتراک کا نام ہی اسلام ہے، اور اس کا بڑا مظہر انسان ہے۔انسانی زندگی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب روحانی (Spritually)اور جسمانی (Phisically) دونوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھا جائے۔مادہ پرستی انسان کے خاکی وجود کی نشوو نما اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کا نام ہے۔روحانیت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔روحانیت کی آبیاری کے لیے اگر غیر فطری طریقے اختیار کیے جائیں تو انسان کا وجودِ خاکی مضمحل ہونے لگتا ہے جس سے وہ معاشرے کا غیر فعال عنصر بن کر رہ جاتا ہے۔پھر اس پر ہر قسم کی مر عوبیت ڈیرہ جمالیتی ہے اور اس سے پھر کسی خیر کی تو قع کرنا فضول ہے۔اس لیے کہ پتھر میں جونک نہیں لگا کرتی۔
مفکر اسلام علامہ اقبال رحمہ اللہ اپنی تصنیف ’’ تشکیل جدید الہٰیات ِ اسلامیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ عالمِ مادی میں جو تلازم و جبر پایا جاتا ہے وہ صرف اپنے وجود کے اندر ہی حقیقی ہوتا ہے، مگر شعور و ارادہ کی صفت خود اختیاری ہےجو اپنے خارجی قوانیں کے لزوم سے اثر انداز نہیں ہوتا۔اقبال کا خیال ہے کہ جہاں ایک جانب زمانہ لمحہ لمحہ ایک تواتر کی کیفیت ہے وہیں۔ دوسری طرف ہی زمانہ اپنے طور پر ایک قسم کا رجحانِ حیات بھی ہے جسے زندگی اپنے منشا و مقصد کی طرف بڑھتے ہوئے تسلسل کی صورت کی صورت میں رہتی ہے۔یہ ایک ایسا تفا عُل ہے جس میں حیات کی اقدار مجرد شکل میں گمنامی کی کیفیت میں پڑی رہتی ہے۔ مگراسی تفا عُل سے وہ عمل کے پیکر میں ڈھل کر اس قعر گمنامی میں سے باہر آتی ہے۔زمانے کو انہیں اقدار کے پس منظر میں دیکھنے کانام تاریخ ہے، مغربی تہذیب انسانوں کا تیار کردہ ایسا نظام زندگی ہے جس میں اعلیٰ اتھارٹی رب کے بجائے انسان کے پاس ہے ، کیا چیز خیر ہے یہ وہ بتائے گا۔کیا چیز شر ہے ، اس کا تعیین بھی بندہ خود کرے گا۔اس تہذیب کا مآخذ قرآن یا کوئی اور کتابِ مقدس کے بجائے انسانی حقوق کا عالمی منشور (Human Rights Charter)ہے۔جدید عصری تحریکوں میں پانچ عناصر ِ تہذیب کو شامل کیا جاتا ہے۔فلسفۂ مادیت، نظریۂ الحاد، حاکمیت ِ جمہور، جذبۂ قوم پرستی اور حیوانی ازدواج کا نظریہ،یہ وہ قوائے خمسہ ہیں جو جدید تہذیب کی بلند و پرشکوہ عمارت کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔
اسلام جن عقائد پر معاشرت کی عمارت اٹھاتا ہے وہ تین ہیں: توحید، فکرِ آخرت اور سنت رسولﷺ۔وہ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ ان عقائد پر پختہ ایمان رکھیں اور جو لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کو دعوت دیتا ہے کہ ان پر ایمان لائیں۔اس لیے ایمان ہی تمام اعمال و حرکات کی بنیاد ہے۔خواہ وہ عمل کسب مال اور خرچ کرنے سے متعلق ہو یا رہنے سہنے اور ملنے جلنے سے،خانگی زندگی سے متعلق ہو یا شہری زندگی سے ، اخلاق سے ہو یا تعلیم سے،آپس کے تعلقات سے متعلق ہویا حقوق و فرائض سے۔زندگی کے سارے لازمی پہلو اسی وقت صحیح ہوسکتے ہیں جب کہ ایمان صحیح ہو۔اسلام کا دعویٰ یہ ہے کہ اس نے جو عقائد اور ایمانیات پیش کیے ہیں، وہی حق ہیںاور دونوں جہان کی فلاح صرف انہیں سے وابستہ ہے۔اس زندگی کی سدھار، امن و سکون،ترقی و خوشحالی بھی اور اُس زندگی کی فلاح و کامرانی بھی۔ اسی لیے وہ تمام انسانوں کو انہیں عقائد پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے۔اور ان عقائد کے انکار پر بننے والی زندگی کو ہلاکت اور تباہی قرار دیتا ہے۔
اب انسانی ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا امن و سلامتی والا مذہب جس میں زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں ، جو انسانوں کی فلاح وبہبود اور بہترین زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔تو پھر اس مذہب کے ماننے والوں اور اس کے پیروکاروں پر دنیاروز بروز تنگ کیوں ہوتی جارہی ہے۔اغیار سے آزاد ہونے کے باوجود فکری اور عملی غلامی کی بیڑیاں ان کے پیروں کو کیوں گھائل کر رہی ہیں۔بقول غالب:
ہیں کیوں آج ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں
امت کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کی جو خصوصیت بیان کی ہے آج یہ اس سے یکسر بدل چکی ہے۔انحراف کی راہیں اختیار کرنا اس امت کا شیوہ بن چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس امت کا ایک وصف ’’ خیر امت‘‘ بیان کیا ہے۔اور خیر امت ہونے کی ایک علت یہ بیان کی ہے کہ یہ ’’ امر با لمعروف اور نہی عن المنکر‘‘کا فریضہ انجام دینے والی اور اللہ پر کامل ایمان رکھنے والی قوم ہے۔ارشاد ربانی ہے:
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۱۰۴
’’تم میں ایک جماعت ایسی ہونے چاہئے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریںاور برائی سے روکیں۔ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (آلِ عمران ۱۰۴)
لیکن امت مسلمہ میں سے یہ قدر رخصت ہوچکی ہے۔اس کے افراد نیکی کو پھیلانے اور بدی کو دنیا سے مٹانے کے جذبے سے محروم ہیں۔ چنانچہ ہماری اس کمزوری کی بنا پر باطل ہم پر غالب آگیا اور بحیثیت امت مسلمہ ہم زندگی کے ہر محاذ پر مغلوب ہوگئے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ہم نے پیمانے ہی بدل دیئے ہیں۔ہمارے شعور و احساس سے نیکی اور بدی کی پہچان ہی مٹ چکی ہے۔معروف ہمیں ناگوار گزرتا ہے اور منکر کے ہم رسیا ہیں۔اللہ تعا لیٰ نے اس امت کو ایک نام ’’امت وسط‘‘ بھی دیا ہے۔ارشاد فرمایا:
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا (البقرۃ:143)
’’اور (مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو۔اور رسول ﷺتم پر گواہ بنے۔
اللہ نے ہمیں جن انعامات سے نوازا تھاتو ضروری تھا کہ ان پر اپنی زندگیوںکو گامزن کرتے مگر ہم ان را ہوں پر چل کھڑے ہوئے جن پر مغضوب اور ضالین چلتے ہیں۔اللہ نے ملت اسلامیہ کو ’’امت واحدہ‘‘ قرار دیا ہے ، لیکن ہماری بد بختی کہ ہم اللہ کی منشا کے مطابق اپنی صفوں میں وحدت پیدا کرتے ، ہم استعماری قوتوں کی پالیسی کے تحت تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے۔جب ہم نے اللہ تعالی کو بھلا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے مقام اور اپنی پہچان سے ہی بھلا دیا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۰۰۱۹ (سورۃ الحشر:19)
’’تم ان جیسے نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے ، تو اللہ نے اُنہیں خود اپنے آپ سے غافل کردیااور وہی لوگ ہیں جو نافرمان ہیں ۔‘‘
اس ا مت کی بقا و سلامتی مشروط ہے اتحاد سے ۔اتحاد کی ڈور جب بھی دڈھیلی ہوئی ہے یہ امت اپنا وقار اور اپنی عظمت کھو بیٹھی ہے۔دشمنانِ اسلام نے یہی حربہ استعمال کیا ہے کہ امت مسلمہ میںپھوٹ ڈال کر ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے۔دوسری حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عمل کے لیے پید ا کیا ہے،بلکہ اس نے تو ہمارے عمل کو ہی ہماری زندگی کی آزمائش قرار دیا ہے۔سورۃ ملک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا
’’ اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم سے کون اچھے کام کرتا ہے‘‘ ۔( آیت ۰۲)
قرآن کی نظر میں علم ایک وحدت ہے جس کے دو پہلو ہیں ، ایک دین و شریعت اور دوسرا فطرت و طبیعت۔چنانچہ وہ ان دونوں علوم کو ’’ علم‘‘ ہی سے تعبیر کرتا ہے۔ان دونوں کی اہمیت اس طرح سے ہے کہ ایک کا تعلق نظریہ سے ہے اور دوسرے کا عمل سے۔چنانچہ علمِ طبیعی (Phisical knowlidge) یا اشیاء علم سے متعلق علم سے ہمارے فکر و نظر کی اصلاح ہوتی ہے تو علم شریعت(Divine Law) سے ہمار ا عملی سدھار ہوتا ہے۔اس طرح ہمارے فکر و عمل کی درستی کے لیے ان دونوں کا وجود از بس ضروری ہے،کیونکہ جب تک فکر و نظر کی اصلاح نہ ہو کوئی شخص عمل کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔دنیا کے تمام قدیم و جدید فلسفے فکر و نظر سے ہی بحث کرتے ہیں، لہٰذا فلسفیانہ نقطۂ نظر سے انسان کی فکر و نظرکی اصلاح بہت ضروری ہے۔اس وجہ سے قرآن حکیم میں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے انِ دونوں علوم کو برابر برابر جگہ دی گئی ہے۔کیونکہ وہ دین ابدی نہیں ہوسکتا جو حقائق و واقعات سے چشم پوشی کرے ۔
مولانا شہاب الدین ندوی اپنی تصنیف جدید علمِ کلام میں رقم طراز ہیںکہ:
’’ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم کی دو قسمیں ہیں: اول وہ لوگ جو شرعی امور کا علم رکھتے ہیں اور اُن میں غوروخوض کرکے دین و شریعت کی حکمتوں اور ان کی مصلحتوں کا پتہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔دوم وہ لوگ جو مظاہر ِ کائنات (اشیاء علم) اور ان کے نظاموں میں غور و فکر کر کے اسرارِ ربوبیت یا خدائی دلائل کا کھوج لگانے میں مصروف رہتے ہیں۔چنانچہ گروہِ اول کے بارے میں ارشاد ربانی ہے:
وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۰۰۲۳۰
’’ اور یہ سب اللہ کی حدود ہیں جو وہ ان لوگوںکے لیے واضح کر رہا ہے جو سمجھ رکھتے ہوں۔‘‘ (البقرہ 230)
یہ آیت کریمہ احکام طلاق کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ اہلِ علم کی تعریف کرتے ہوئے انہیں عقلی اعتبار سے احکامِ طلاق کی حکمت و مصلحت معلوم کرنے پر ا بھارتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے احکام میں دراصل عقلی خوبیاں موجود ہیں جن کو دریافت کرنا اہلِ علم کا کام ہے۔
اور گروہِ ثانی وہ لوگ جو اشیاء علم (جمادات، حیوانات اور افلاک) کے نظاموں میں غورو فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی توحید ، اُس کی ربوبیت اور اس کی حکمتوں اور مصلحتوں کا پتہ چلاتے ہیں ان کو بھی اہل علم قرار دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں فرمانِ الٰہی ہے:
اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰى ١ؕ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۰۰۹۵ فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِيْرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِيْمِ۰۰۹۶ وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۰۰۹۷
’’ بے شک اللہ ہی دانے اور گھٹلی کو پھاڑنے والا ہے ، وہ جاندار چیزوں کو بے جان چیزوں سے نکالتا ہے اور وہی بے جان چیزوںکو جاندار چیزوں سے نکالنے والا ہے۔لوگو! وہ ہے اللہ! پھر کوئی تمہیں بہکا کر کس اوندھی طرف لیے جا رہا ہے؟وہی ہے جس کے حکم سے صبح کو پو پھٹتی ہے اور اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اور سورج و چاند کو ایک حساب کا پابند!یہ سب اس ذات کی منصوبہ بندی ہے جس کا اقتدار بھی کامل ہے ، علم بھی کامل ۔اسی نے تمہارے لیے ستارے بنائے ہیں تاکہ تم ان کے ذریعے سے خشکی اور سمندر کیتاریکیوں میں راستے معلوم کرو۔ہم نے ساری نشانیاں ایک ایک کر کے کھول دیں ہیں ،مگر ان لوگوں کے لیے جو علم سے کام لیں۔(سورۃ الانعام ۹۵،۹۶،۹۷)
واضح رہے کہ جدید سے جدید تر علوم و فنون اوران کی تحقیقات کے با وجود آج تک قرآن کا کوئی دعویٰ غلط یا مہمل ثابت نہیں ہوسکا ہے۔جب کہ انسانی علوم و افکار کے زمین و آسمان ہی بدل گئے۔ اللہ تعالیٰ نہایت واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ اس کے کلمات اور اس کی باتیں پتھر کی لکیر کی طرح مضبوط و محکم ہوتی ہیں جن کو علمی حیثیت سے کبھی کسی قسم کا زوال نہیں آسکتا۔اس کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا اور اس کے کلام میں باطل کا گزر ہوہی نہیں سکتا۔ارشاد فرمایا:
الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍۙ۰۰۱ (سورۃ ھود:1)
’’ الرٰ ، یہ وہ کتا ب ہے جس کی آیتوں کو(دلائل سے) مضبوط کیا گیا ہے۔پھر ایک ایسی ذات کی طرف سے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔جو حکمت کی مالک اور ہر بات سے باخبر ہے۔‘‘
المیہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں قرآن حکیم جیسی بے مثال اور رہنما کتاب ہونے کے باوجود عالم انسانی اس کے اسباق و بصائر سے بے خبر ہے، تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خود حامل کتاب ہی اس کتاب ہدایت اور عالم انسانی کے درمیان حجاب بنے ہوئے ہیں۔اگر وہ منشا الٰہی کی رو سے جدید علم کی روشنی میں قرآن حکیم کے اسباق و بصائر کو پیش کریں اور سائنٹفک نقطۂ نظر سے اس کتابِ حکمت کی تفسیریں کریں تو فکر و نظر کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور علم صحیح کی پیاسی اور متلاشی دنیا اس کے سرچشمے سے بخوبی سیراب ہوسکتی ہے۔خود قرآن حکیم اپنے بارے میں پورے شد و مد کے ساتھ یہ اعلان کرتاہے کہ وہ سارے جہان اور تمام اقوامِ عالم کے لیے تذکرہ و تبصرہ اور تنبیہ و انتباہ ہے۔ارشاد بانی ہے:
وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۵۲
’’ حالانکہ یہ تو دنیا جہاں کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہی نصیحت ہے۔‘‘ (سورۃ القلم ۵۲)
تَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَاۙ۰۰۱
’’ بڑی شان ہے اس ذات کی جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کا فیصلہ کردینے والی یہ کتاب نازل کی تاکہ وہ دنیا جہاں کے لوگوں کو خبر دار کردے‘‘ ( سورۃ الفرقان ۰۱)
هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِيُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِيَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِؒ۰۰۵۲
’’ یہ تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے اور اس لیے دیا جارہا ہے تاکہ انہیں اس کے ذریعے سے خبردار کیا جائے، اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبودِ بر حق ایک ہی ہے،اور تاکہ سمجھ رکھنے والے نصیحت حاصل کر لیں۔‘‘(سورہ ابراہیم ۵۲)
اب یہ کھلی کھلی آیاتِ بینات انسانوں کے لیے اتمام حجت بن سکتی ہیں۔اگر حامل قرآن اس پرنہ خود عمل کریں اور نہ اس کی تبلیغ و اشاعت کریں تو پھر الزام اقوامِ عالم پر نہیں خود حامل دین پر عائد ہوتا ہے،اور وہ ہی قابلِ مؤاخذہ قرار پائیں گے۔رسول مکرمﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
’’قرآن تیرے لیے حجت یا تجھ پر حجت ہے‘‘ (صحیح مسلم)
مطلب یہ کہ ایک مسلمان قرآن پر عامل رہے گا تو وہ اس کے لیے دلیل بنا رہے گا۔لیکن جو اسے چھوڑ دے گایا اس کے خلاف عمل کرنے لگے گا تو وہ(قرآن) اس پر حجت بن جائے گا۔
مسلمانوں کی حالتِ زار اور ان کی ذلت و رسوائی کی بڑی وجہ تو قرآن کی تعلیمات سے رو گردانی ہے،رشد و ہدایت کا خزانہ ان کے ہاتھ میں ہے مگر وہ دنیا کی کاسہ لیسی میں زندگی گزارنے میں اپنی فلاح و کامرانی سمجھتے ہیں۔کیونکہ وہ تو نقد فائدے کے عادی ہوچکے ہیں آخرت کا معاملہ ان کے نزدیک ادھار کا سودا ہے۔انہیں یہ دنیا اور اس کی نیرنگیاں مطلوب ہیں،دنیا کی چمک دمک سے نظریں ہٹیں تو اس دنیا کی اصل حقیقت اور اپنی حیثیت کا پتا چلے۔اور انہیں یہ منظور نہیں ہے۔امت مسلمہ نے قرآن کو ہدایت کی کتاب نہیں بلکہ اپنے دنیوی مقاصد کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور ایصالِ ثواب، ٹونے ٹوٹکے، جھاڑ پھونک کی کتا ب سمجھا ہواہے۔انہیںیہ پتا ہی نہیں یہی وہ کتاب ہے جس سے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کو عروج و ارتقا اور اقوامِ عالم میں عزت و وقار ملا ہے۔رسول کریم ﷺ روزِ قیامت اللہ سے شکایت کریں گے:
وَ قَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا۰۰۳۰
’’ یا ربّ ! میری قوم اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ بیٹھی تھی۔‘‘ سورۃ الفرقان ۳۰)
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ دنیا بے مقصد نہیں بنائی ہے۔اس کا تو کوئی کام مقصد سے خالی نہیں ہوتا۔اس کا مقصد ان لوگوں کو دوسروں کے لیے مثال اور اسوہ بنانا ہے جو آزادی اور ارادہ رکھنے کے باوجود اس دنیا کی آلائشوں سے اپنے دامن کو بچا کر رکھتے ہیں،اور اللہ کے امتحان میں پورے اترتے ہیں۔ختمِ نبوت کے بعد کارِنبوت ان ہی لوگوں کا کام ہے کہ وہ خدائی منصوبے کو نہ جاننے والوں تک پہنچائیں اور اپنے قول و فعل سے اس بات کی گواہی دیںکہ اسلام ہی سچا اور کامل دین ہے۔اور یہ دنیا کے تمام ادیان پر غالب ہونے آیا ہے۔ارشاد الٰہی ہے:
هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۰۰۳۳
’’ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجاہے، تاکہ اسے ہردوسرے دین پر غالب کردے،چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔’’ ( سور ۃ التوبہ ۳۳)
امت مسلمہ کا فرض منصبی ہے کہ اللہ کا دین قرآن حکیم کی آیات بینات کی روشنی میں ان لوگوں تک پہنچائے جو جہالت کے اندھیروں میں کھوئے ہوئے ہیں یا وہ لوگ جو مسلمان ہونے کےبا وجود اسلام کی اصل تعلیمات سے دور مغربی تہذیب کو ہی اپنا مقصد زندگی بنا کر بیٹھے ہیں۔کیونکہ عالم انسانیت کی ہدایت و رہنمائی امت مسلمہ پر واجب ہے۔ارشاد ربّ العزت ہے:
كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ
’’ (مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو،برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ (سورہ آلِ عمران ۱۱۰)
دنیا کے تمام فلسفے اور علوم و فنون کوئی حیثیت نہیں رکھتے اگر اس میں ہدایت کی روشنی نہ ہو۔اور جس میں ہدایت کی روشنی نہ ہو وہ انسان کی فلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔اللہ کی عطا کی ہوئی الہدیٰ کی روشنی سے دور ہوکر انسان جن راستوں پر چلتاہے وہ اسے ایک ایسے مقام پر لے جاتے ہیں جس کا اختتام بند گلی پر ہوتا ہے۔چنانچہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہدایت کی روشنی کے ساتھ ساتھ چلے تو کبھی اس کے راستے میں کوئی بند گلی نہیں آئے گی۔اور اس طرح اس کے لیے دنیا کی منزلیں بھی آسان ہوجائیں گی اور امید ہے کہ آخرت بھی سنور جائے گی۔
