انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

معزز قارئین!ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسان کا تعلق کتاب سے استوار رہا ہے۔ رب العزت نے اس تخلیق کائنات کا سارا ریکارڈ ایک کتاب ہی میں محفوظ فرمایا اور اسے لوح محفوظ کہہ کر پکارا۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تاریخ کی کتاب ( البدایۃ والنہایۃ) میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور اسے کہا لکھو، قلم نے عرض کیا: کیا لکھوں؟ تو رب العزت نے فرمایا قیامت تلک آنے والی ہر چیز کی تقدیر لکھو۔اسی طرح اللہ کے رسول ﷺکا ارشادِ گرامی ہے:

ابوحفصہ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ہے: ”سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ہے: ”جو اس کے علاوہ (کسی اور عقیدے) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں۔(سنن أبي داود،كتاب السنة،باب في القدر،حدیث نمبر: 4700)

یوں انسان قلم و کتاب سے متعارف ہوا اور ہر دور میں اس کی اہمیت مسلمہ رہی۔مذہب اسلام میں بھی نزول قرآن کے بعد باقاعدہ انسان کتاب و قلم سے روشناس ہوا۔اور اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر آج تک اس قوم میں اتنے ادیب اور صاحبان علم پیدا ہوئے کہ ان کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہلاکو خان نے جب علم وادب کے مرکز بغداد کو تاراج کیا تو مسلمانوں کے ادبی ضیاع کی وجہ سے دریائے دجلہ کا پانی کئی دنوں تک کتابوں کی سیاہی سے اور بے گناہ مسلمانوں کے خون سے رنگین رہا۔

 قارئین کرام! بغداد کے بعد قرطبہ بھی علم و ادب کا مرکز رہا۔ ’’ڈاکٹر جمیلہ شوکت ‘‘جامعہ پنجاب کے شعبہ تاریخ اور اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی وابستہ رہی ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے»محدثین اندلس» جس میں آٹھویں صدی ہجری تک کے بے شمار محدثین کا ذکر کیا ہے جن کو اس تحریر میں قلمبند نہیں کیا جا سکتا اور انھوں نے اس تعارفی کتاب میں پچیس خواتین محدثات کا ذکر فرمایا ہے جنھوں نے علم حدیث میں خدمات سر انجام دیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یورپ کے بڑے شہروں میں جب گنتی کے چند افراد پڑھنا، لکھنا جانتے تھے تو قرطبہ میں کوئی گھر ایسا نہیں تھا جہاں ایک بہت بڑی لائبریری نہ ہو۔ پھر مسلمانوں کی نا اہلیوں کی وجہ سے سقوط غرناطہ کا سانحہ ہوا تو اہل یورپ نے یہ تمام ادبی سرمایہ اپنی سرحدوں میں محفوظ کر لیا۔اسی سانحہ کے حوالے سے حکیم الامت یوں تڑپے تھے:

مگر وہ علم کے موتی،کتابیں اپنے آباء کی

دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا سی پارہ

یوں کتاب و ادب کے ساتھ یہ رشتہ عروج و زوال کی کشمکش میں سفر کرتا رہا اور ہر دور میں ہماری اخلاقی قدروں کا پاسباں رہا۔لیکن دور حاضر کی ایجادات نے ہمارے اس تعلق کو بہت متاثر کیا کتابوں سے رشتہ اس قدر ناپائیداری کا شکار ہوا ہے کہ سعود عثمانی یوں پکار اٹھے:

یہ کاغذ کی مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

 اور یہی بات ہماری تباہی کا پیش خیمہ ہے۔مانا کہ انٹرنیٹ جیسے جدید ذرائع شعور و آگہی اور عقائد و نظریات کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انسانی شعور کی ترقی بھی انھیں کا خاصہ ٹھہری۔ مگر ہم اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے کہ کتاب سے دوری ہماری نسل کو اخلاقیات سے بے بہرہ کر رہی ہے۔ بچوں کے معصوم ذہنوں پر اجالے کی بجائے منفی پروگرامز کے ذریعے بے راہ روی کے نقوش ثبت ہورہے ہیں۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل کو گلیمر، جدیدیت اور مصنوعی و پر تعیش زندگی کے حصول کا خواب مادیت پرستی کا شکار کر رہا ہے اور یہ طوفان ہماری نسل کو احساس کمتری میں بھی مبتلا کر رہا ہے۔اور ہم عظیم مقاصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں:

چاند تارے اب تو گرد راہ میں گم ہو گئے

کون سی منزل کے عازم ہیں دیوانہ وار ہم

انٹرنیٹ سے چپکے رہنے کا یہ رجحان نہ صرف تعلیمی سر گرمیوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ہمارے بچوں کی صحت کو بھی تباہ کرنے کا باعث ہے۔ہماری نوجوان نسل اعصابی تناؤ اور اس طرح کی کئی بیماریوں کا شکار ہو رہی ہے۔

میری گزارش یہ ہے کہ جو کتاب ازل سے ہماری ساتھی رہی، اس کی حرمت کو پامال ہونے سے بچائیں اور ہماری نسل نو کا ناطہ کتاب سے جوڑ کر بلندیوں کا ہم نوا بنائیں۔ ویسے بھی ہماری نسل کو سر ور و کیف اور دائمی نشاط کے لیے کتاب سے اپنا تعلق استوار رکھنا چاہیے۔ورنہ وہ علم کی روشنی سے محروم رہ جائے گی کیونکہ

کتاب ایک ایسا آئینہ کردار ہے

جو وابستہ اس سے وہ قوم کا معمار ہے

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *