لمحہ فکریہ

قرآن حدیت اور سیرت کے ان پہلووں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ وعدے کی پاسداری کا عمل ہماری زندگی میں کس قدر اہم ہے اور ہم اس کی ادائیگی میں کس قدر سچے ہیں۔

بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہم کسی کو وقت دے کر، کسی سے قرضہ لے کر، کسی کو اپنے انتظار میں بٹھاکر کس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں۔

اسی طرح ہم اپنی ملازمت اور معاہدے وغیرہ میں کس قدر پورے اترتے ہیں اور ادھوری ذمہ داری کے ساتھ ہم کس طرح اپنی روزی حلال سے حرام کردیتے ہیں۔

یہ سب سوچنے کے پہلو ہیں، اللہ رب العزت ہم سب کو سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وعدے کی تعریف اور ضرورت

جب ہم کسی کام کی تعمیل کا ذمہ لیتے ہیں تو اسے وعدہ کہا جاتا ہےچونکہ انسان لین دین کا محتاج ہے اسی لیے اسے بعض اوقات وعدے کی بنیاد پر بہت سے امور ملتوی رکھتے ہیں۔

لہذا جو وعدے کو پورا کرتے ہیں وہ آپس کے اعتماد اور بھروسے کو برقرار رکھتے ہیں اور وعدے کی خلاف ورزی آپس میں غفلت اور بے اعتمادی کی فضاء پیدا کرتی ہے جو کہ معاشرے کے لیے بہت نقصان دہ ہے ۔

وعدے کا ذکر قرآن کریم میں

قرآن کریم سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا:

وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا[الإسراء: 34]

’’وعدے پورے کیا کرو یقینا وعدوں سے متعلق قیامت میں سوال کیا جائے گا ۔‘‘

اللہ رب العزت سورۃ آل عمران میں اپنی ذات سے متعلق فرماتے ہیں

إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ [آل عمران: 9]

’’یقینا اللہ تعالی اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن حدیث میں ہم سے جو جو وعدے بیان فرمائے ہیں وہ پورے ہوکر رہیں گے۔

وعدے کا ذکر حدیث میں

وعدے کی اہمیت کا اندازہ رسول اللہ ﷺکی اس معروف روایت سے بھی ہوتا ہے جس میں منافق کی تین نشانیاں ذکر فرمائی ہیں :

1۔جھوٹ بولنا                            2۔وعدہ خلافی کرنا

3۔امانت میں خیانت کرنا

مطلب یہ کہ جو شخص وعدے کی پاسداری نہیں کرتا وہ در اصل اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا جو کہ منافق کی مختلف نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔

وعدہ اور سیرت النبی ﷺ

واقعہ معروف ہے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺنے غزوہ احد جیسے عظیم غزوے میں صرف اس وجہ سے شرکت سے منع فرمایا کیونکہ مکہ سے مدینے سفر کے دوران انہوں نے بعافیت پہنچنے کی خاطر ابو جہل سے وعدہ کیا تھا کہ ہم مدینہ جاکر آپ سے لڑائی نہیں کریں گے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *