ایک ولی کامل اورمستجاب الدعوات شخصیت جنہیں قریباً پچاس مرتبہ حج بیت اللہ اور لاتعداد مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔مجھے بچپن ہی سے جن اہل اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا،ان میں ہمارے بزرگ ، ولی کامل حضرت مولانا عائش محمد بھی ہیں جو ایک مستجاب الدعوات شخصیت کے طور پر مشہور و معروف تھے، آپ ضلع فیروز پور (انڈیا) کی ایک دورافتادہ بستی بڈھیمال میں 4 فروری 1941 ء کو فضل دین کے گھر پیدا ہوئے، بڈھیمال دینوی طور پر ایک پسماندہ سی بستی تھی لیکن علمی وروحانی طورپر اہل اللہ اورجہابذہ علماء کرام کا مسکن ہونے کی وجہ سے بہت زرخیز بھی تھی، مولانا عبدالرحمن ،مولانا حافظ ابوالحسن عبداللہ ، مولانا حافظ احمد اللہ، مولانا عبدالحکیم ، مولانا قدرت اللہ، مولانا عطاء اللہ اور دیگر بے شمار علماء کرام رحمھم اللہ اجمعین اسی بستی کی خاک پاک سے اٹھے تھے، ہمارے ممدوح حضرت مولانا صوفی عائش محمد کی عمر قیام پاکستان کے وقت6 سال تھی، قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد، تحصیل جڑانوالہ کے ایک گائوں 36 گ ب نزد ستیانہ بنگلہ کو اپنے اور دیگر علماء بڈھیمال کے خاندانوں کے ہمراہ مسکن بنایا(راقم)۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے علماء راسخین کی صحبت کا شرف عطا فرمایا، ابتدائی تعلیم کا آغاز آپ نے حضرت مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی سے کیا اورانہی کے گھر میں قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی، قیام پاکستان کے بعد آپ نے پرائمری تک تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول چک 36 گ ب ہی میں حاصل کی اور پانچویں جماعت کے سالانہ امتحان میں اپنی کلاس میں اول آئے، 1953 ء میں جب قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی، ہمارے گائوں میں بھی کچھ قادیانی گھر تھے، اس لیے قرب و جوار کے دیگر دیہات کی نسبت ہمارے گائوں کے لوگوں نے اس تحریک میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا، گائوں کے علماء کرام کے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے موضوع پر پرجوش تقریروں نے بھی عوام کو بیدار کرنے اوران میں ولولہ وجذبہ پیدا کرنے میں بہت کردار اداکیا، اس تحریک میں سرگرم حصہ لینے کی وجہ سے ہمارے گائوں کے بہت سے لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا،مولانا عائش محمد ان دنوں بہت روتے تھے کہ انہیں تحریک ختم نبوت میں گرفتاری سے کیوں محروم رکھا گیا، انہیں صغر سنی کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا تھا، ان کی عمر اس وقت صرف بارہ سال تھی اورپانچویں جماعت کے طالب علم تھے لیکن ان کا جذبہ ایمانی بہت جوان تھا، انہیں جب یہ معلوم ہواکہ فیصل آباد(تب لائل پور) کی جامع مسجد، کچہری بازار سے روزانہ ختم نبوت کے پروانوں کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے تو وہ کشاں کشاں وہاں پہنچ گئے مگر ان کی آرزو کی تکمیل میں صغر سنی حائل ہوتی رہی۔گاؤں کے سکول سے پرائمری کی تعلیم کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول ستیانہ بنگلہ سے میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی ، میڑک کے سالانہ امتحان میں انہوں نے نہ صرف اعلیٰ نمبروں میں کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے سکول میں اول پوزیشن حاصل کی ، اس سلسلے میںانہوں نے ایک بار بندہ عاجز سے یہ دلچسپ واقعہ بھی بیان کیا کہ محمد حسن نامی ایک لڑکا میرا کلاس فیلو اور دوست تھا،سالانہ امتحان میں ہماری ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش او رخواہش تھی، میں نے سبقت حاصل کرنے کے لیے جہاں امتحان کی تیاری کے لیے بہت زیادہ محنت کی،وہاں روحانی طور پر اللہ تعالیٰ سے بھی مدد حاصل کرنے کے لیے کوشش کی، مجھے ان دنوں معلوم ہوا کہ حضرت صوفی محمد عبداللہ جو ولی کامل اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے، آج کل اپنے گائوں اوڈانوالہ سے منڈی روڈالہ روڈ تشریف لائے ہوئے ہیں، منڈی روڈالہ روڈ ہمارے گائوں سے مشرقی جانب پانچ چھ میل کی مسافت پر لاہور، شورکوٹ ریلوے لائن پر ایک ریلوے اسٹیشن ہے، میں ان کی خدمت میں حاضرہوا اوران سے عرض کیا کہ مجھے کوئی وظیفہ بتائیں، جس سے میٹرک کے امتحان میں سارے سکول میں میرے سب سے زیادہ نمبر آئیں توانہوں نے فرمایایہ وظیفہ کرکے اپنے مقصد میں کامیابی کے حصول کے لیے دعا کریں، اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوجائے گی۔درود شریف7 بار، سورۃ فاتحہ41 بار، آخری تین قل تین تین بار ،درود شریف 7 بار
انہوں نے بتایا کہ میں یہ وظیفہ کرکے دعا کیا کرتا تھا کہ اے اللہ سالانہ امتحان میں میرے نمبر بھائی محمد حسن سے زیادہ ہونے چاہئیں، خواہ دس نمبر ہی زیادہ ہوں اور جب رزلٹ آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میں نے سکول میں ٹاپ کیا تھا، میرے نمبر بھائی محمد حسن سے زیادہ تھے اورواقعی دس نمبر ہی زیادہ تھے۔
میڑک پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں داخلہ لیا ، ایف اے تک کی تکمیل یہاں کی اور ساتھ ہی پچھلے ٹائم دینی ادارے دارالقرآن جناح کالونی میں جاکر درس نظامی کی کتب کا درس حضرت حافظ احمد اللہ صاحب بڈھیمالوی سے لیتے رہے، جو ان دنوں اس ادارے میں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے اور جب شیخ الحدیث مولانا حافظ احمد اللہ بڈھیمالوی دارالقرآن جناح کالونی فیصل آباد سے تدریس کے لیے ڈھلیانہ ضلع اوکاڑہ منتقل ہوگئے،تو ان کے اس ہونہار شاگرد نے بھی حافظ صاحب سے مزید استفادہ کے لیے ڈھلیانہ جانا ضروری سمجھا، ڈھلیانہ ہی میں انہوں نے حضرت حافظ صاحب سے نہ صرف بخاری شریف کا درس لیا بلکہ بخاری شریف کی احادیث مبارکہ کی روشنی میں سلوک کی کئی منزلیں بھی طے کرنا شرو ع کر دیں،ایک بار انہوں نے خود فرمایا کہ اس دور میں میں نے کثرت سے نفل روزے رکھنا بھی شروع کر دیئے،یہ سن کر ان کے شوق میں اور بھی اضافہ ہوگیا کہ حضرت حافظ عبداللہ محدث روپڑی ساری زندگی صوم داودی کے پابند رہے ہیں یعنی وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے، نیز انہوں نے بتایا کہ بخاری شریف کی قرأت کے ساتھ ساتھ وہ قرآن مجید کے دس پاروں کی بھی روزانہ بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے، تلاوت کرتے ہوئے انہیں بڑی حلاوت اور لذت محسوس ہوتی، ایک آیت کی بار بار تلاوت کرتے اوراس خیال سے آگے نہ بڑھتے، کہیں یہ حلاوت و لذت ختم ہی نہ ہوجائے لیکن اس خیال سے اگلی آیت پڑھنا شروع کر دیتے کہ نامعلوم اگلی آیت کریمہ کس قدر لذیذ ترہوگی،بہر آئینہ اس طرح عبادت و ریاضت میں ان کے شب وروز بسر ہورہےتھے کہ انہیں بعض روحانی مسائل میں کچھ اشکال پیش آئے تو کسی نے انہیں لاہور میں حضرت سید ابوبکر غزنوی کی خدمت میں ان اشکالات کے سلسلے میں رہنمائی کے لیے حاضر ہونے کا مشورہ دیا، اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ خود حضرت غزنوی سے متعلق اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں:
شیش محل روڈ پر دارالعلوم تقویۃ الاسلام میں مین گیٹ کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر حضرت سید صاحب کی رہائش گاہ تھی، میں نے چند سیڑھیاں چڑھ کر سید صاحب کو آواز دی تو دیکھا کہ حضرت سید صاحب نیچے تشریف لارہے ہیں اور ساتھ ہی زبان مبارک سے جی جی فرما رہے ہیں، بندہ عاجزنے (آپ کی) پہلی دفعہ زیارت کی تھی، سفید لباس زیب تن کئے ہوئے، نہایت خوبصورت اورپرنور چہر ہ اور بارعب شخصیت آج بھی میرے سامنے ہے، میں نے سلام عرض کیا، انہوں نے جواب دے کر آنے کا سبب دریافت کیا تو میں نے عرض کیا، حضرت کچھ پوچھنا چاہتا ہوں، آپ میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کمرے میں لے گئے، پانی پلایا اور پھر فرمایا، جی آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟میں نے اپنا روحانی مسئلہ گوش گزار کیا تو فرمانے لگے ہم نے بزرگوں کو دیکھا ہے کہ وہ سیر ہو کر کھانا کھارہے ہوتے ہیں اوران کی آنکھوں میں آنسو (بھی ) ہوتے ہیں، بھائی ! دیکھو اللہ تعالیٰ نے سیب بنائے تو کتنی اقسام کے بنائے، آم بنائے تو ان کی کتنی اقسام پیدا فرمائیں، پھولوں کی کتنی انواع واقسام پیدا کیں اورجب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے روحانی نعمتوں کی تخلیق فرمائی توا س کی صفت خلاّقی زوروں پر تھی ، یہ روحانیت اوراس کے قرب کی لذتیں ہیں کہ کبھی انسان نماز میں لذت محسوس کرتا ہے ، کبھی تلاوت قرآن مجید میں ، کبھی نوافل کی ادائیگی میں اور کبھی ذکرمیں ، روحانی غذائوں کی لذتیں الگ الگ ہیں، دراصل یہ لطف و سرور قرب خداوندی کا ہے، ایسے ہی مقربین بارگاہ الٰہی کے ساتھ مل کر رہنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ (الکھف :28)
’’ اوراپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مطمئن رکھیے، جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیںاور وہ جو اس کے مکھڑے کے طالب ہیں‘‘۔
اس سے میرے تمام اشکالات دور ہوگئے، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے انہوںنے میرے تمام مسائل کا سبب اور حل ارشاد فرما دیاہو، پھر مجھے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کے وظیفے کی تاکید کی اورفرمایا، اللہ کے قرب کے لیے اس کاذکر نہایت ضروری ہے اورذکر الٰہی بہت بڑی چیز ہے‘‘۔
مدرسہ ڈھلیانہ سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنے گاوں چک 36 گ ب میں واپس آکر مدرسہ رحمانیہ کے نام سے ایک دینی ادارہ قائم کیا، یہ ادارہ درحقیت اس مدرسہ رحمانیہ کی تجدید اوراحیاء تھا جسے قیام پاکستان سے بہت پہلے بڈھیمال میں وہاں کے ایک بہت بڑے عالم اور بڈھیمال کے اکثر علماء کے استاذ حضرت مولانا عبدالرحمن نے قائم کیا تھا، وہ علم وفضل کے ساتھ ساتھ زہد وتقویٰ میں بھی بہت اونچا مقام رکھتے تھے اور اپنے گائوں کے نمبردار بھی تھے، بہرحال حضرت مولانا عائش محمد صاحب نے وہ کام کر دکھایا جو علماء بڈھیمال میں سے کوئی اور نہ کر سکا، اس ادارے میں انہوں نے حضرت حافظ احمد اللہ کے سوا دیگر اپنے ہی گاوں کے تمام نوخیز علماء کو تدریس کے لیے مقرر کیا، البتہ شعبہ حفظ و تجوید کے استاذ محترم قاری محمد ذاکر صاحب سہارن پوری رحمہ اللہہی ایک ایسے مدرس تھے جن کا اس گاوں سے تعلق نہ تھا، بحمداللہ 1968 ء میں جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعد اس بندہ عاجز کو بھی ایک سال تک اس ادارے میں تدریس کا شرف حاصل ہوا اوریہ بھی ادارہ علوم اثریہ سے انسلاک سے قبل کی بات ہے۔
مولانا عائش محمدرحمہ اللہ میں تعلیم وتدریس کے ساتھ ساتھ جذبہ جہاد بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا، وہ حضرت سیداحمد شہید، حضرت شاہ اسماعیل شہید اوران دیگر شہداء بالاکوٹ کی شجاعتوں ، بسالتوں ، ریاضتوں اور جہادی سرگرمیوں سے بے حد متاثر تھے، جنہوں نے سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831 ء کو بالاکوٹ کی گل پوش وادی کو اپنے خون سے لالہ زار بنا دیا تھا۔ رحمہم اللہ اجمعین!
شہداء بالاکوٹ خصوصاً حضرت شاہ اسماعیل شہید سے تو وہ اس قدر شدید متاثر تھے کہ ان کی یاد میں شاہ شہید یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے، ایک وقت تھا کہ انہیں اس یونیورسٹی کے قیام کا جنون کی حدتک شوق تھا، اس کے لیے انہوں نے کئی مقامات پر زمین بھی حاصل کی، اسباب ووسائل فراہم کرنا بھی شروع کر دیے تھے ، ایک دن ادارہ علوم اثریہ میں میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میرے ساتھ چلیں تاکہ کسی مناسب جگہ شاہ شہید یونیورسٹی کے لیے سٹیل کی ایک سو الماریوں کا آرڈر دے سکیں، میں نے عرض کیا بڑا مبارک ارادہ ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کیا ایک سو الماریوں کے رکھنے کے لیے جگہ موجود ہے؟ میرا سوال سن کر کچھ سوچ میں پڑ گئے اورپھر کہنے لگے کہ سونہ سہی پچاس الماریوں ہی کا آرڈر دے دیں، میں نے عرض کیا : حضر ت پچاس الماریوں کا آرڈر دیں یا پانچ کا ،قابل غور بات یہ ہے کیا فی الوقت ان کی ضرورت ہے اورانہیں رکھنے کے لیے جگہ ہے؟ فرمانے لگے آپ ٹھیک کہتے ہیں لہٰذا فی الحال اس پروگرام کو ملتوی کر دیتے ہیں۔
میں نے محسوس کیا کہ ان میں جوش و جذبہ اورشوق تو بہت تھا لیکن افسوس کہ نظم و ضبط اور ترتیب کاشاید کچھ فقدان تھا،یہ صرف میرا ہی احساس نہ تھا ، حضرت سید ابوبکر غزنوی بھی ان کی اس طرف توجہ مبذول فرماتے رہتے تھے جیسا کہ خود کہتے ہیں کہ سید صاحب میری اصلاح فرماتے اور بے ترتیب طرز زندگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:
1) لمبے لمبے منصوبے بناتے رہنا ، لمبی تان کے سوجانا اور مرکز سے دوررہنا کہا ں کی دانش مندی ہے؟۔
2) اتنے لمبے منصوبے بنانے والا آدمی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
3) لقمہ منہ میں ڈالا نہیں جاتا ، ماسکو سے کم کسی شہر کو فتح کرنا نہیں چاہتا۔
4)اگر آپ مرتب ہوجائیں تو عظیم آدمی بن جائیں، اللہ نے آپ کے دل میں میری محبت ڈال دی ہے تاکہ آپ کو مرتب کر دوں۔
5) اس شخص کا دل کام کرتا ہے ،اگر دماغ بھی کام کرنے لگے تو مجھے پورے پنجاب میں اس جیسا کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آتا۔
