‌‌شك الزنادقة في قوله: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}

شبہ رقم (۱۲)

وأما قوله: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} [القيامة: 22، 23] .
وقال في آية أخرى: {لَا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ} [الأنعام: 103] .
فقالوا: كيف يكون هذا؟ يخبر أنهم ينظرون إلى ربهم، وقال في آية أخرى: {لَا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ} .
فشكوا في القرآن، وزعموا أنه ينقض بعضه بعضًا

اور اس کا یہ فر مان کہ: “ اس روز بہت سے چہرے تر و تازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے ہو نگے” (القیامۃ:22۔23)اور ایک دوسری آیت میں فر مایا کہ : “ اس کو تو کسی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے” (الانعام:103)اس پر زنادقة نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی؟کہ پہلے بیان کیا کہ وہ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور پھر دوسری جگہ ارشاد فر مایا کہ: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے” اس پر زنادقة نے شک کیا اور کہا کہ اس کا بعض حصہ بعض سے ٹکراتا ہے۔

جواب: أما قوله: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ} يعني الحسن والبياض {إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ} يعني تعاين ربها في الجنة.

جہاں تک اس کا فر مان ہےکہ: اس دن بہت سے چہرے تر وتازہ ہوں گے” یعنی خوبصورتی اور بارونق۔ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ یعنی جنت میں اپنے رب کو دیکھتے ہو ں گے۔

وأما قوله: {لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ} يعني في الدنيا دون الآخرة، وذلك أن اليهود قالوا لموسى: {أَرِنَا اللهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمْ الصَّاعِقَةُ} [النساء: 153].
فماتوا وعوقبوا لقولهم: {أَرِنَا اللهَ جَهْرَةً} وقد سألت مشركو قريش النبي- صلى الله عليه وسلم- فقالوا: {أَوْ تَأْتِيَ بِاللهِ وَالْمَلائِكَةِ قَبِيلاً} [الإسراء: 93] .فلما سألوا النبي -صلى الله عليه وسلم- هذه المسألة قال الله تعالى: {أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِنْ قَبْلُ} [البقرة: 108].حين قالوا: {أَرِنَا اللهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمْ الصَّاعِقَةُ} الآية. فأنزل الله سبحانه يخبر أنه {لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ} ، أي أنه لا يراه أحد في الدنيا دون الآخرة. فقال: {لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ} يعني في الدنيا، أما في الأخرة فإنهم يرونه. فهذا تفسير ما شكت فيه الزنادقة

اور اس کا یہ فر مان کہ: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی”یعنی دنیا میں یہ کہ آخرت میں اور یہ اس لئے کہ یہود نے موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا تھا: ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کو دکھا دے(النساء:153)پس ان پر کڑا کے کی بجلی آپڑی” تو وہ ہلاک ہو گئے اور سزا دیئے گئے۔ اس بات کے بدلے کہ” ہمیں کھلم کھلا اللہ کو دکھا”اور یہی مطالبہ قریش مکہ کے مشر کوں نے بھی آپﷺ سے کیا تھا۔ جب انہوں نے کہا: یا آپ خود اللہ تعالیٰ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لاکھڑا کر دیں(الاسرء:92) پس جب انہوں نے نبی کریمﷺ سے اس معاملے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فر مایا: کیا تم اپنے رسولوں سے یہی پو چھنا چا ہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے پو چھا گیا تھا(البقرۃ: 108) جب انہوں نے یہ کہاکہ: ہمیں کھلم کھلا اللہ کو دکھا دیں، تو انھیں کڑا کے کی بجلی نے آپکڑا۔ چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے بارے یہ (آیت) نازل فر مائی کہ”اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی”یعنی دنیا میں اور جہاں تک آخرت کا تعلق ہے تو وہ اپنے رب کو دیکھے گے۔پس یہ وضاحت ہے اس آیات کی جس میں زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ}

شبہ رقم (۱۳)

وأما قول موسى:{سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} [الأعراف: 143] .
وقال السحرة: {إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ} [الشعراء: 51] .
وقال النبي صلى الله عليه وسلم: {قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاي وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} إلى قوله: {وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} [الأنعام: 162، 163] .
قالوا: كيف قال موسى: {وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} [الأعراف: 143] .
وقد كان قبله إبراهيم ويعقوب وإسحاق، فكيف جاز لموسى أن يقول: {وأَنا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} وقالت السحرة: {أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ} وكيف جاز للنبي أن يقول: {وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} وقد كان قبله مسلمون كثير، مثل عيسى ومن تبعه؟ فشكُّوا في القرآن وقالوا: إنه متناقض۔
اور موسیٰ علیہ السلام کا فر مان کہ: بے شک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں معذرت کر تا ہوں۔ اور میں سب سے پہلے اس پر ایمان(یقین) لاتا ہوں(الاعراف:143)اور جادوگروں نے کہا کہ “ اس بناء پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان والے بنے ہیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فر مادے گا” (الشعراء:51) اور آپ ﷺ نے فر مایا کہ“ آپ فر ما دیجئے کہ با لیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مر نا یہ سب اللہ ہی کے لئے ہے۔جو سارے جہاں کا ما لک ہے”اس فر مان تک کہ میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں(الانعام:162-163) زنادقة نے اعتراض کیا کہ موسیٰ نے کیسے یہ کہا کہ: میں سب سےپہلے اس پر ایمان( یقین) لاتا ہوں” حالانکہ ان سے پہلے ابراہیمؑ ، اسحٰقؑ اور یعقوبؑ ہی تھے۔تو کیسے یہ موسیٰؑ کے لائق ہے کہ وہ کہیں کہ: میں سب سے پہلے (اس پر ) ایمان (یقین) لاتا ہوں۔ اور اسی طرح جادوگروں نے کہا کہ: “ ہم سب سے ایمان والے بنے ہیں”اور کیسے یہ نبی کریمﷺ کے لئے جائزہ ہوا کہ وہ کہیں کہ “ میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں” حالانکہ ان سے پہلے بھی بہت زیادہ مسلمان تھے، جیسا کہ عیسیٰؑ اور ان کی پیر وی کر نے والے؟ چنانچہ زنادقة نے قرآن میں شک کیا اور گمان کیا اس میں ٹکراؤ ہے۔(نعوذ با للہ)
جواب: أما قول موسى: {وأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} فإنه حين قال: {رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِي} [الأعراف: 143] ، ولا يراني أحد في الدنيا، إلا مات.
{فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ} [الأعراف: 143] .
يعني أول المصدقين، أنه لا يراك أحد في الدنيا إلا مات.
وأما قول السحرة: {أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ} يعني أول المصدقين بموسى من أهل مصر من القبط.
وأما قول النبي صلى الله عليه وسلم: {وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ} يعني من أهل مكة. فهذا تفسير ما شكَّت فيه الزنادقة

جہاں تک موسیٰ علیہ السلام کے فرمان کا تعلق ہے کہ: “ میں سب سے پہلے اس پر ایمان( یقین) لاتا ہوں” تو یہ فر مان اس و قت تھا جب انہوں نے عرض کی تھی کہ: اے میرے پر ور دگار مجھ کو اپنا دیدار کروا دیجئے میں آپکو ایک نظر دیکھ لوں۔ ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے” (الاعراف،143) اور کوئی بھی مجھے اس دنیا کے اندر نہیں دیکھ سکتا۔ (یہاں تک کہ اس کو موت آئے)،پس اس کے رب نے جو پہاڑ پر تجلی فر مائی تو اس کے پر خچے اڑا دیئے اور موسیٰؑ بے ہو ش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہو ش آیا تو عرض کیا کہ بے شک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں معذرت کر تا ہوں اور میں سب سے پہلے اس پر ایمان ( یقین) رکھتا/ لاتا ہوں۔ یعنی سب سے پہلا ہوں جو اس بات کی تصدیق کر نے والا ہے کہ کوئی ہی تجھے اس دنیا میں جیتے جی نہیں دیکھ سکتا۔ اور جادوگروں نے کہا کہ: ہم سب سے پہلے ایمان والے بنے ہیں” یعنی اہل مصر کے قبیلوں میں سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کر نے والےہیں۔ اور جہاں تک آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: ’’میں سب سے پہلا ہوں ماننے والوں میں سے ” یعنی اہل مکہ میں سے۔ پس یہ وضاحت ہے ان آیات کی جس میں زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ}

شبہ رقم (۱۴)

وأما قوله:{أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} [غافر: 46] . وقال في آية أخرى: {فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ} [المائدة: 115]
وقال في آية أخرى: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} [النساء: 145] .
فشكُّوا في القرآن وقالوا: إنه ينقض بعضه بعضًا۔
اور اس کا یہ فر مان کہ: “فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالوں(غافر:46) اور دوسری آیات میں فر مایا کہ: میں تو اس کو ایسی سزا دوں گا۔وہ سزا دنیا جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دو ں گا” (المائدۃ:115) اور پھر دوسری آ یت میں فر مایا کہ : منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے” (النساء:145) اس پر زنادقة نے قرآن کے بارے شک کیا اور کہا کہ اس کی بعض باتیں بعض سے ٹکراتی ہیں۔
جواب: أما قوله: {أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ} .
يعني عذاب ذلك النار الذي هم فيه.
وأما قوله: {فإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ} .
وذلك أن الله مسخهم خنازير. فعذبهم بالمسخ ما لم يعذب من سواهم من الناس، وأما قوله: {إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ} . لأن جهنم لها سبعة أبواب: جهنم، ولظى، الحطمة، وسقر، والسعير، والجحيم، والهاوية، وهم في أسفل درك فيها۔

جہاں تک اس کا یہ فر مان ہے کہ : فر عونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالوں” یعنی یہ اس آگ کا عذاب ہے۔ جس میں وہ ہو نگے اور اس کا یہ فر مان کہ : تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا وہ سزا دنیا جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا” اور یہ تو اللہ نے ان کو خنزیر کی شکلوں میں مسخ کیا تھا۔( پس ان کو شکلوں کے مسخ کا عذاب دیا تھا۔ جو ان لوگوں کے سوا کسی اور کو نہ دیا، اور اس کا یہ فر مان کہ: “ منافق تو جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے۔ یہ اس لئے کہ جہنم کے سات درجے ہیں ان میں لظی ، حطمہ ، سقر ، سعیر ، جحیم ،اور ھاویہ ہیں۔ اور وہ جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہو نگے۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَاّ مِنْ ضَرِيعٍ} .

شبہ رقم (۱۵)

وأما قول الله تعالى: {لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَاّ مِنْ ضَرِيعٍ} [الغاشية: 6] .
ثم قال: {إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ، طَعَامُ الأَثِيمِ} [الدُّخان: 43، 44] .
فقد أخبر أن لهم طعامًا فشكوا في القرآن وزعموا أنه متناقض۔

اور اللہ رب تعالی کا یہ فر مان کہ: ان کے لئے سوائے کانٹے سار درختوں کے اور کچھ کھانا نہ ہو گا(الغاشیۃ:6) پھر فر مایا کہ:“بے شک زقوم (تھوہر ) کا درخت گنہگار کا کھانا ہے،تو ( یہاں) بیان کیا کہ ان کے لئے اور بھی کھانا ہو گا (الدخان:43-44) پس(اس وجہ) سے انہوں نے قرآن میں شک کیا۔ اور گمان کیا کہ اس میں تضاد ہے۔

جواب:

أما قوله: {لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَاّ مِنْ ضَرِيعٍ} يقول: ليس لهم طعام في ذلك الباب إلا من ضريع، ويأكلون الزقوم في غير ذلك الباب، فذلك قوله: {إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ، طَعَامُ الأَثِيمِ} فهذا ما شكَّت فيه الزنادقة۔

جہاں تک اس فر ما ن کا تعلق ہے کہ: ان کے لئے سوائے کا نٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانا نہ ہو گا” تو یہ خبر دی ہے کہ اس درجہ میں ان کے لئے کانٹے دار درخت کے علاوہ کچھ نہ ہو گا۔ اور وہ تھو ہر کا درخت کھا ئیں گے لیکن وہ اس درجہ کے علاوہ دوسرے کسی درجہ میں ہو گا ۔ اسی لئے تو اس کا یہ فر مان ہے کہ: بے شک تھوہر کا درخت گنہگار کا کھانا ہے” تو یہ وضاحت ہے ان آیات کی جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ}

شبہ رقم (۱۶)

وأما قوله: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ} [محمد: 11] .
وقال في آية أخرى: {ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ} [الأنعام: 62] .
فقالوا: كيف يكون هذا من الكلام المحكم؟! يخبر أنه مولى من آمن، ثم قال: {وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لا مَوْلَى لَهُمْ} [محمد: 11] فشكُّوا في القرآن

اور اس کا یہ فر مان کہ: “ یہ اس لئے کہ بے شک اللہ ان لوگوں کا مولیٰ ہے۔ جو ایمان لائے اور بے شک جو کافر ہو ئے ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔” (محمد:11) اور دوسری آیت میں فر مایا کہ: پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ جو ان کا سچا مولیٰ ہے” (الانعام:62) تو زنادقة نے کہا کہ یہ کیسے سچا کلام ہو سکتا ہے؟ارشاد فر ما تا ہے کہ جو ایمان لایا اس کا مولیٰ ہے پھر فر مایا کہ :

اور جو کافر ہو ئے ان کا مو لیٰ نہیں ہے” اور پھر فرمایا کہ وہ سب اپنے حقیقی مولیٰ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں» پس زنادقة نے قرآن میں شک کیا۔

جواب:

أما قوله: {ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا} يقول: ناصر الذين آمنوا، وأن الكافرين لا ناصر لهم.
وأما قوله: {ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ} [الأنعام: 62] لأن في الدنيا أرباب باطل. فهذا ما شكَّت فيه الزنادقة

جہاں تک اس کا یہ فر مان کہ: یہ اس لئے کہ بے شک اللہ ان لوگوں کا مولیٰ (مددگار) ہے جو ایمان لائے۔” تو یہ فر ماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ان کا مدد گار ہے ۔اور جو کافر ہو ئے ان کا وہ مددگار نہیں ہے۔

اور اس کا یہ فر مان کہ: پھر وہ اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں جو ان کا سچا مولیٰ (مالک) ہے۔ یہ اس لئے کیونکہ دنیا میں بہت سارے باطل معبود پائے جاتے ہیں۔ پس یہ ان کی وضاحت ہے جن کے بارے زنادقة نے شک کیا۔

‌‌شك الزنادقة في قوله: {إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ}

شبہ رقم (۱۷)

وأما قوله:{إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [المائدة: 42] .
وقال في آية أخرى: {وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا} [الجن: 15] .
فقالوا: كيف يكون هذا من الكلام المحكم؟

اور اس کا یہ فر مان کہ :“بے شک اللہ “مقسطین” (انصاف کر نے والوں) کو پسند کر تا ہے” (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42)اور دوسری آیت میں فر مایا کہ: اور لیکن جو «قاسطون» ہے تو وہ جہنم کا ایندھن ہے۔(سورۃ الجن ،آیت نمبر 15) تو زنادقة نے کہا کیسے یہ محکم کلام میں سے ہو سکتا ہے؟

جواب:

أما قوله: {وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا} يعني العادلون بالله، الذين يجعلون لله عدلا من خليقته فيعبدونه مع الله.
وأما قوله: {وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الحجرات: 9] .
يقول: اعدلوا فيما بينكم وبين الناس، إن الله يحب الذين يعدلون.
وقال في آية أخرى: {أَئِلَهٌ مَعَ اللهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ} [النمل: 60] يعني: يشركون، فهذا ما شكَّت فيه الزنادقة۔

جہاں تک اس کا یہ فر مان ہے کہ: اور لیکن جو (قاسطون) ظالم ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں” یعنی جو اللہ کی برابری کر نے والے ہیں۔ جنہوں نے اللہ کی مخلوقات میں سے ہی اس کے برابری کر نےوالے بنا دیئے۔ اور اللہ کے ساتھ ان کی بھی عبادت کر تے ہیں۔ اور جہاں تک اس کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ: اور قسط کرو (انصاف کرو) بے شک اللہ “ مقسطین «انصاف کرنے والوں کے ساتھ ہے،(الحجرات:9) تو اس نے یہ حکم دیا ہے کہ تم آپس میں اور لوگوں کے درمیان انصاف کرو۔ بے شک اللہ انصاف کر نے والوں کو پسند کر تا ہے۔ اللہ نے دوسری آیت میں فر مایا کہ: “کیا اللہ کے ساتھ کو ئی معبود ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں( جو غیر اللہ کو اللہ) کے برابر ٹھہراتے ہیں” (النمل:60) یعنی وہ شرک کر تے ہیں پس یہ (وضاحت) ہے جس کے بارے زنادقة نے شک کیا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *