اسلامی تعلیمات سے واقفیت رکھنے والا ہر مسلم اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ توحید اور رسالت کے عقیدے کے اعتراف کے بعد سب سے اہم فریضہ نماز کی ادائیگی ہے۔اگر نماز کی شرائط ہی پوری طرح ادا نہ کی گئی ہوں تو ایسی نماز قبول نہیں ہوتی۔ نماز بے مقصد اشاروں اورحرکتوں کا نام نہیں بلکہ یہ دل وزبان اوراعضائے جسمانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کے عقیدہ سے بھرپور حرکات کا عملی نمونہ ہے۔

اسلام دین فطرت ہے، اسلام ترک دنیا اور رہبانیت کا درس دیتا ہے نہ صوفیت کے غیرفطری لوازمات کی ترغیب دیتاہے بلکہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مستفید ہونے اور ان کا شکر بجالانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔

اس مضمون میں آپ کی توجہ ایک خاص مسئلہ کی طرف مبذول کروانا چاہتاہوں ، جس کے بارے میں عام نمازی خیال نہیں رکھتے۔ نہ صرف غافل ہیں بلکہ اکثر وبیشتر نماز کے سرور وکیف اوراحکام ومسائل سے ناواقف ہیں۔ وہ ہے زبان سے قرأت وتسبیحات، ذکر وہی معتبر ہے جو زبان سے ادا کیا جائے اور ہونٹ ہلائے جائیں۔ زبان سے ذکرکرنا لائقِ اعتبار ہے نہ کہ دل سے ۔

سیدنا ابو معمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ظہروعصر میں قرأت فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ کو کیسے معلوم ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ کی داڑھی کے ہلنے سے۔ ( ابو داود:801)

سری نمازوں میں قرأت میں ضروری ہے کہ الفاظ زبان سے ادا ہوں ، نہ کہ ہونٹ بند کرکے الفاظ پر تفکر کرنا اور دل میں پڑھنا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ’’میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں، اس وقت تک جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے اورمیری یاد میں اپنے ہونٹ ہلاتاہے۔ (صحیح بخاری: 7223)
قرأت وتسبیحات کا دل میں کرنا کہ نماز میں یکسوئی ہوگی اور شیطان کے وسوسے دل پر اثر نہ کرسکیں گے، اس سوچ اور نیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ طریقہ خلافِ سنت ہے۔

نماز واذکار میں مردوعورت کو قرأت وتسبیحات ادا کرتے وقت ہونٹوں کو حرکت دینا لازمی ہے کہ نماز میں نمازی الفاظ وتلفظ خود سن سکے۔ اگر ایسا نہ کرے تو نماز برباد ہوجائے گی۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’قیامت کے دن انسان کے اعمال میں سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں بازپرس ہوگی۔اگر وہ ٹھیک اوردرست نکلی تو وہ کامیاب،بامراد اورنجات یافتہ ہوگا اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اورنامراد ہوگا۔ (جامع ترمذی:413)

اس حدیث پر غور کیجیے رسول اللہ ﷺ نےیہ نہیں فرمایا کہ اگر نماز موجود ہوگی، بلکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر نماز ٹھیک ہوگی، وہ انسان کامیاب ہوگا، اس لیے نماز صرف پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ ٹھیک اور مسنون طریقے سے پڑھنا ضروری ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہماری نمازیں رسول اللہ ﷺ کی سنت اورفرامین کے مطابق ہوں نہ کہ اپنے اماموں، پیروں، مفتیوں، بزرگوں اور صوفیوں کے طریقے پر ادا کرکے اپنی نمازوں کو برباد کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں حکم ہے : ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی کام کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کچھ اختیار باقی رہ جائے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا وہ یقیناً صریح گمراہی میں جاپڑا۔ ( النساء:65)

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ جاننا چاہیے کہ جو اذکار نماز وغیرہ میں مشروع ہیں خواہ وہ واجب ہیں یا مستحب ان کا اس وقت تک اعتبار نہ ہوگا جب تک ان میں اس انداز کا تلفظ نہ ہو جس میں خود اپنے آپ کو سنا سکے، بشرطیکہ صحیح صحیح سننے پر قادر ہو اور کوئی عارضہ بھی لاحق نہ ہو۔ (کتاب الاذکار، ص:14)

اذکار اورمسنون دعائیں دین میں ایک بلند قدرومنزلت اور مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص مقام ومرتبہ رکھتی ہیں۔ دعا بندگی کی علامت اور اس بات کا احساس ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے حقیر وکمزور ہے۔ ذکر کا معنی غفلت ونسیان سے نکلنا ہے۔ غفلت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار سے کسی چیز کو چھوڑ دے جبکہ نسیان میں انسان کا کسی چیز کو چھوڑنے میں اختیار نہیں ہوتا۔ ذکر جس پر دل اورزبان موافق ہوں یہ سب سے اعلیٰ قسم ذکر میں اپنی آواز پست رکھے نہ بالکل مخفی رکھے اور نہ بہت بلند کرے، ذکر میں خشوع وخضوع اختیار کرے۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی یہی بات کہی ہےبلکہ فرماتے ہیں کہ جو کہے کہ زبان کو حرکت دیئے بغیر نماز جائز ہے، اس سے توبہ کرائی جائے۔ ( مختصر الفتاوی المصریہ، ص:43)

ابو سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی شخص نے نماز پڑھی لیکن اس میں ام القرآن(سورۃ فاتحہ) نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں ہے،(ابوسائب کہتے ہیں: میں نے کہا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بسااوقات میں امام کے پیچھے ہوتاہوں ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو دبایا اور فرمایا: اے فارسی! اپنے دل میں پڑھ لیا کرو۔ (صحیح مسلم: 880)

دل میں پڑھ لو، سے کیا مرادہے؟

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان (اسے دل میں پڑھ لو) سے مراد ہے کہ نماز اسے آواز ہونٹ ہلائے بغیر دل میں خیال کرنے پر محمول کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اہل زبان(عرب) کا اجماع ہے کہ وہ دل میں سوچنے(یعنی محض خیال کرنے) کو قرأت نہیں کہتے اور اہل علم کا اس بات پر اتفاق واجماع ہے کہ تلفظ کی ادائیگی کے بغیر محض دل میں خیال کرلینا مسنون عمل نہیں ہے نہ شرط ہے۔

کسی حدیث کا ایسا مطلب ومفہوم لینا جائز نہیں جو کسی بھی(اہل علم،محدث) نے نہ لیا ہو اور نہ ہی عرب لوگوں کی زبان اس کی تائید کرتی ہو۔ ( قرأۃ خلف الامام، امام بیہقی: 93)

اپنی نمازوں کو صحیح احادیث کی روشنی میں خود بھی ادا کریں اور دوسروں کو بھی درست طریقے سے پڑھنے کی تلقین کریں۔ یہی امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ شریعت کا کوئی بھی عمل برکات سے خالی نہیں، جس کا دل ایمان اورعمل صالح سے معمور ہوگا اسے اس قدر خیروبرکات میں حصہ ملے گا اورجواعمال صالحہ سے محروم ہوگا اتنا ہی فتنوں کی یلغار میں مبتلا ہوگا۔ یہ ان منکرات ہی کا نتیجہ ہے جو ہم جانتے بوجھتے یا غفلت سے کرتے ہیں۔

یہ دعوت اپنے اور اپنے نفس کے محاسبہ کی دعوت ہے۔روز وشب گزر رہے ہیں، لیل ونہار کے صفحات پلٹ رہے ہیں، اور جودن گزر جاتا ہے پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتا ہر شخص اپنا محاسبہ کرسکتاہے۔ قبل اس کے کہ موت آکر اس کا محاسبہ کرے۔ ہرگزرتا دن، ماہ وسال، انسان کے لیے وعظ ونصیحت اورعبرتوں کا سامان لے کر آتاہے۔ کوئی ہے جو عبرت پکڑے اپنے آپ کو راہِ ہدایت پر لانے کی کوشش کرے۔ دیکھ یہ لیل ونہار تیزی سے اور بغیر خبر دیئے گزر رہے ہیں۔ صرف اس وقت پتہ چلتاہے جب کوئی نیال سال شروع ہوجاتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *