ملک کا ایک طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس کے فضلا گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ لیکن مدارس اسلامیہ کا شاندار ماضی، اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے، اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس اسلامیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان ہند کی آب یاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا۔

خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی، مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا محمد میاں دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نورالدین بہاری وغیرہ آسمان حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنھوں نے محکومی کی شب تاریک کو تار تار کیا اور ملک کے چپے چپے کو انوار حریت کی ضوفشانی سے معمور کردیا۔

مذکورہ مجاہدین وعلماء کرام سب مدارس اسلامیہ ہی کے فضلا و فیض یافتہ تھے ایک دو حضرات ایسے ہیں جو باضابطہ کسی مدرسے کے فارغ نہ تھے لیکن علماء کرام کے باضابطہ صحبت یافتہ ضرور تھے، ان میں وہ علماء کرام بھی ہیں جنھوں نے جدوجہد آزادی کا آغاز کیا اور حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب اور پھر سید احمد شہید کی زیر قیادت کام کرتے رہے اور ان کے بعد بھی جدوجہد جاری رکھی، وہ علماء کرام ہی ہیں جنھوں نے ۱۸۵۷/ کی جنگ آزادی میں بنفس نفیس شرکت فرمائی پھر وہ علماء کرام ہیں جو زعیم حریت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور امام الہند مولانا ابوالکلام کی زیر قیادت جنگ آزادی میں شریک رہے۔ ان حضرات کی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرنے کے لئے ہمیں سلسلہ وار واقعات پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔

سولہویں صدی عیسوی کے ختم ہوتے ہوتے انگلستانی سوداگر ہندوستان پہنچ چکے تھے ۱۶۰۱/ میں ملکہ ایلزبیتھ کی اجازت سے ایک سو تاجروں نے تیس ہزار پونڈ کی خطیر رقم لگاکر ایک تجارتی ادارہ ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) کے نام سے قائم کیا، مغربی بنگال کو کمپنی نے اپنا مرکز بنایا اور ڈیڑھ سو سال تک اپنی تمام تر توجہ صرف تجارت پر مرکوز رکھی لیکن جب حضرت اورنگ زیب عالمگیر، اور معظم شاہ کے بعد مغلیہ حکومت کی بنیادیں کمزور پڑگئیں اور ملک میں انارکی اور طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنا مکھوٹا اتار پھینکا اور نظام حکومت میں مداخلت شروع کردی۔ ۱۷۵۷/ میں پلاسی کی جنگ میں نواب سراج الدولہ کے خلاف انگریزوں کی فوجیں کھلم کھلا میدان میں آگئیں اور ننگ ملت ننگ دین اور ننگ وطن میر جعفر کی غداری کے سبب نواب سراج الدولہ کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا اور پورے بنگال پر ا نگریز قابض ہوگئے، پھر ۱۷۶۴/ میں انگریزوں کے خلاف نواب شجاع الدولہ کو بکسر میں شکست ہوئی اور بہار و بنگال انگریز کی دیوانی میں چلے گئے۱۷۹۹/ میں بطل حریت سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے میسور پر قبضہ کرلیا۔ ۱۸۴۹ میں پنجاب بھی کمپنی کے قبضہ میں آگیا اسی طرح سندھ آسام، برما، اودھ، روہیل کھنڈ، جنوبی دوآبہ، علی گڈھ، شمالی دوآبہ، مدراس وپانڈی چری وغیرہ انگریزوں کے زیر تسلط آگئے اور پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب دہلی پر بھی کمپنی کی حکومت قائم ہوگئی اور مغل بادشاہ کا صرف نام رہ گیا، ان علاقوں پر انگریزوں نے فتح حاصل کرنے کے لیے کیا کیا تدبیریں کیں مسز اینی بیسنٹ کی زبانی سنئے:

”کمپنی والوں کی جنگ سپاہیوں کی جنگ نہ تھی بلکہ تاجروں کی جنگ تھی، ہندوستان کو انگلستان نے اپنی تلوار سے فتح نہ کیا بلکہ خود ہندوستانیوں کی تلوار سے اور رشوت و سازش، نفاق، اور حد درجہ کی دورخی پالیسی پہ عمل کرکے ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑاکر اس نے یہ ملک حاصل کیا۔

ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پھیلتے ہوئے جال اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سب سے پہلے اگر کسی نے محسوس کیا تو وہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی کی عبقری شخصیت تھی آپ نے پوری دوراندیشی کے ساتھ اصلاح کے اصول بیان کئے طریقہٴ کار کی نشاندہی فرمائی اور باشندگان وطن کے بنیادی حقوق پامال کرنے والے نظام حکومت کو درہم برہم کردینے کی تلقین کی اور اس کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی زور دیا، ان کے متعین کردہ نقشہ راہ کے مطابق ان کے فرزنداکبر حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا منظم آغاز کیا، انگریزوں کے خلاف تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا اور ملک کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا جو انگریز کے خلاف اعلان جہاد کے مترادف تھا یہ فتویٰ جنگل کی آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پہنچ گیا، ۱۸۱۸/ میں عوام کی ذہن سازی کے لئے مولانا سید احمد شہید، مولانا اسماعیل دہلوی، اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی کی مشاورت میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے ملک کے اطراف میں پہنچ کر دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی، پھر انگریزوں سے جہاد کے لئے ۱۸۲۰/ میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی کی قیادت میں مجاہدین کو روانہ کیاگیا، انھوں نے جنگی خصوصیات کی بنا پر جہاد کا مرکز صوبہ سرحد کو بنایا، مقصد انگریزوں سے جہاد تھا لیکن پنجاب کے راجہ انگریزوں کے وفادار تھے، اس جہاد کے مخالف تھے اور اس کو ناکام کرنے کی تدبیریں کررہے تھے اس لئے پہلے حضرت سید احمد شہید نے ان کو پیغام بھیجا کہ ”تم ہمارا ساتھ دو، دشمنوں (انگریزوں) کے خلاف جنگ کرکے ہم ملک تمہارے حوالے کردیں گے، ہم ملک ومال کے طالب نہیں“ لیکن راجہ نے انگریز کی وفاداری ترک نہ کی تو اس سے بھی جہاد کیاگیا ۱۸۳۱/ میں بالاکوٹ کے میدان میں حضرت مولانا رائے بریلوی نے جام شہادت نوش کیا، مگر ان کے معتقدین نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ملک کے مختلف اطراف میں انگریز کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھی۔ ۱۸۵۷/ کی جنگ کے لیے سید صاحب کے معتقدین ومجاہدین نے فضا ہموار کرنے اور افراد تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، یہ علماء کرام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت سید احمد شہید رحمہم اللہ کی سلسلة الذہب (طلائی زنجیر) کی سنہری کڑی تھے۔ اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ اس فتویٰ نے جلتے پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، اکابر علماء نے شاملی کے میدان میں جہاد میں خود شرکت کی۔

۱۸۵۷کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہول ناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی مشق ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ ۱۸۵۷ سے چودہ برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے شہادت دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی، پوری دہلی کو مقتل میں تبدیل کردیاگیا تھا

دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنوٴ، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *