ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ (الشوریٰ :30)

تمہیں جو بھی مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے اعمال کا بدلہ ہے اور (اللہ تعالیٰ) تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ( الاعراف: 96)

اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے، تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا يُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ يُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِيْنَ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا

’’اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ اور معافی مانگو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا۔اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے نہریں نکال دے گا۔‘‘(نوح 10۔12)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک شخص رسول اللہ ﷺکے پاس تشریف لایا اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!قیمتیں مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: (نہیں) البتہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے کہا:یا رسول اللہ ﷺقیمتیں مقرر کر دیں ۔تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللہ تعالیٰ ہی قیمتیں گھٹاتا اور بڑھاتا ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں تو میں نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو۔(ابو داؤد: 3450 شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح فرمایا)

امام سلمة بن دينار رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے آپ کیا فرماتے ہیں؟تو آپ نے فرمایا:تم اس سے کیوں پریشان ہوتے ہو؟

جو ذات ہمیں آسائش میں رزق دیتی تھی وہ مہنگائی کی حالت میں بھی رزق دے گی۔(حلية الأولياء لأبي نعيم :3/ 339)

بعض سلف سے کہا گیا:مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔انہوں نے فرمایا:مہنگائی کو استغفار کے ذریعے کم کرو۔

شيخ الاسلام امام اب-ن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مہنگائی کا بڑھ جانا اور قیمتوں کا کم ہو جانا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ان کا پیدا کرنے والا نہیں ہے۔اور ان میں سے جو بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہی ہوتا ہے۔لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بعض حوادث کا سبب بندوں کے اعمال کو بنایا ہے،جیسا کہ قاتل کو مقتول کی موت کا سبب بنایا ہے۔اور مہنگائی کا بڑھ جانا بندوں کے ظلم کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے۔اور بعض لوگوں کے اعمال صالحہ قیمتوں کے کم ہونے کا سبب بھی ہو سکتے ہیں۔(مجموعی الفتاوی 8/ 519)

امام ابن مفلح رحمہ اللہ(763ھ) فرماتے ہیں:عجیب بات ہے اکثر لوگوں کی کہ وہ انہی باتوں پر روتے رہتے ہیں کہ گھرانے تباہ ہوچکے ہیں، بےروزگاری عام ہو چکی ہے، زمانہ خراب ہے اور مہنگائی بہت ہو چکی ہے۔لیکن اس بات پر کبھی نہیں روئے کہ دین اجنبی ہو چکا ہے، کئی سنتیں مردہ ہو چکی ہیں، بدعات پھیل چُکی ہیں، اور نہ ہی کبھی اپنی کوتاہیوں پر آنسو بہائے۔ یہ سب کچھ ایمان کی کمزوری کی وجہ سے اور دنیا کی عظمت ان کی آنکھوں میں سمانے کی وجہ سے ہے۔(الآداب الشَّرعية(240/3)

یونس بن عبید رحمه اللہ فرماتے ہیں:میں حسن بصری رحمه اللہ کی صحبت میں تیس سال رہا ہوں،میں نے ان سے یہ باتیں کبھی بھی نہیں سنیںکہ: حاکم معزول ہو گیا ہے، اور (فلاں )کی حکومت قائم ہو گئی، اور نہ ہی کبھی یہ سنا کہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، اور نہ ہی کہ قیمتیں کم ہو گئی ہیں، اور نہ ہی کہ موسم بہت گرم ہو گیا ہے،وہ تو ہمیشہ موت کا ذکر کیا کرتے تھے جو آپ کے پاس آ کر رہے گی۔(أدب النساء(187)

[كل خيرٍ في اتباع مَن سَلَف، وكل شرٍّ في ابتداع مَن خَلَف]

ہر بھلائی سلف صالحین کے اتباع میں اور ہر گمراہی بعد والے لوگوں کی بدعات میں ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *