{وَلَقَد اٰتَیناٰ لُقمَانَ الحِکمَۃَ} (سورۃ لقمان)

’اور ہم نے لقمان کو حکمت ودانائی سے بہرہ ور فرمایا۔‘‘

قرآن کریم بنی نوع انسان کیلئے رہتی دنیا تک کیلئے سرچشمہ ہدایت ہے ۔اس میں پچھلے لوگوںکے حالات وواقعات اور مستقبل کی خبریں ہیں۔ جو اس سے رہنمائی لے کبھی بھی بھٹک نہیں سکتا۔ گذشتہ تاریخ قرآن مجید میں بیان کرنے کی بڑی حکمت ہی ہے کہ لوگ ان کے عروج وزوال پر غو روفکر کریں کہ کن صفات کی وجہ سے انہیں عروج ملا اور وہ کیا اسباب تھے کہ یہ لوگ قعرِ مذلّت میں جاگرے۔

ان واقعات میں سے ایک قابل قدر واقعہ جناب لقمان علیہ الرحمہ کا بھی ہے۔ جسے تاریخ اور زبان زد عام میں لقمان حکیم کے نام سے یادکیاجاتاہے۔ قرآن کریم نے اس کی عمدہ عمدہ نصائح کا نچوڑ بیان کردیاہے بلکہ اس نام کی ایک مستقل سورت ہے۔

جناب لقمان کے تذکرہ سے قرآن کریم کے مخاطب لوگوں کو باور کرایا گیا ہے کہ تم اپنے تئیس بڑے دانا ، سمجھدار اورزیرک ہونے کادعویٰ کرتے ہو۔ جیسے کہ مکہ کے سردار عمرو بن ہشام کی کنیت ’’ابوالحکم‘‘ تھی۔ مگر تمہاری یہ عجیب دانائی ہے کہ پتھر کے بتوں کو اپنا معبود بنائے پھرتے ہو۔ ان سے امیدیں باندھتے اور ان سے ڈرتے ہو۔ اور جو اس پوری کائنات کا اور تمہارا خالق ہے اسے بھولے ہوئے ہو۔ ذرا لقمان کاتذکرہ پڑھو سنو کہ وہ کوئی نبی نہ تھا، اس پر وحی نہ آتی تھی حبشی قبیلے اور کالے رنگ کا عام سا مزدور قسم کا آدمی تھا، مگر اس نے اپنی ذات اور اس زمین وآسمان میں تدبر کیا تو اسے اس کی عقل اور فہم وفراست نے اپنے خالق ومالک کی معرفت تک پہنچا دیا۔ اور وہ اس کا شکر گزار بنا حقیقی دانائی فہم ،فراست اور دانائی تو یہ ہے کہ جس تک لقمان پہنچا نہ کہ جو اپنے حقیقی خالق ومالک سے روگردانی ہورہے ہو۔ ان ہی اسباب سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ سردار جو اپنے کو ’’ابوالحکم‘‘ (بہت بڑا دانا) کہلاتاہے ، یہ تو ’’ابوجہل ‘‘ہے (یعنی بہت بڑا جاہل)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{وَلَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمَانَ الْحِکْمَۃَ}

(یہ ہمارا فضل تھا کہ لقمان کو حکمت ودانائی دی گئی)

معلوم ہوا کہ ہرطرح کی صلاحتیں ظاہری ہوں یا باطنی ، ان کا تعلق فہم وفراست سے ہو یا دیگر ظاہری نعمتیں صحت وعافیت ،مال واولاد اور معاشرتی وقار وغیرہ یہ سب اللہ عزوجل کی عطا ہوتی ہے۔ ان نعمتوں کو بالخصوص فہم وفراست کو بازار سے خریدا نہیں جاسکتا، اور نہ ہی قسم قسم کی غذائیں یا دوائیں کھا کراسے حاصل کیا جاسکتاہے۔

یہ مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات بڑے بڑے ڈگری ہولڈر اورسند یافتہ لوگ معاشرتی زندگی میں اور عقائد واعمال کے اعتبار سے بڑے بونگے اور موِنّق ثابت ہوتے ہیں اور بھاری بھرکم کتابوں یا ڈگریوں نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا ہوتا اور ان کے بالمقابل بعض ایسے لوگ جو کسی دانشگاہ میں باقاعدہ طلب علم کیلئے نہیں گئے ہوتے سادہ لوح اور مزدور قسم کے ہوتے ہیں مگر ان کے عقائد معاملات انتہائی صاف شفاف اور گفتگو اتنی شیریں ہوتی ہے کہ طبیعت عش عش کراٹھتی ہے اور ان کی صحبت سے سیرابی نہیں ہوتی۔ مثلاً:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ابھی بچے ہی تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور آپ کے شب وروز کا بڑی دِقَّتِ نظر سے مطالعہ کرنے لگے تھے۔ایک بار سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا جو ان کی خالہ تھیں ، کے گھر میں آپ علیہ السلام بیت الخلا کیلئے گئے  تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے باہر پانی کا لوٹا رکھ دیا۔ باہر آکر آپ نے پانی کا برتن دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس نے رکھا ہے؟ بتایا گیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رکھا ہے۔ آپ بہت خوش ہوئے یہ زیرکی اور دانائی کہ آپ علیہ السلام کو ابھی پانی کی ضرورت ہوگی، اللہ عزوجل ہی کی عطاتھی، اس موقعہ پر آپ نے انہیں دعا دی۔

’’اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْحِکْمَۃَ‘‘

(اے اللہ اسے دانائی وزیر کی سے بہرہ ورفرما)

ایک انسان کو اپنی زندگی میں مادی اعتبار سے سوطرح کی اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے ، مگر آپ علیہ السلام نے اس کیلئے علم وحکمت اور فہم وفراست کی دعا ہی فرمائی۔ بلاشبہ جسے یہ نعمت میسرآجائے وہ کسی اور چیز سے محروم نہیں رہ سکتا۔

آنجناب (ابن عباس رضی اللہ عنہما) ابھی چھ سات سال ہی کے تھے کہ ایک رات اپنی خالہ کے ہاں آسوئے اور اس غرض سے کہ رسول اللہﷺ کی رات کی نماز اور آپ کے معمولات کا مشاہدہ کریں ، چنانچہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی پوری تفصیل بیان فرمائی ہے۔

’’الْحِکْمَۃ‘‘ کا معنی امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں نقل فرمایاہے کہ ’’الاِصَابَۃُ مِنْ غَیْرِ نُبُوَّۃٍ‘‘ یعنی معاملات کی درستی، ان کی صحت وحقانیت کا وحی ونبوت کے بغیر حاصل ہونا ’’حکمت‘‘ کہلاتاہے۔

اور یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہوتاہے ۔سورئہ بقرۃ میں فرمایا:

{یُؤْتِی الْحِکْمَة مَنْ یَّشَآءُ}

’’ اللہ جسے چاہتاہے حکمت(دانائی ،فہم وفراست) دے دیتاہے اور جسے حکمت دے دی گئی ، اسے بہت بڑی خیر اور بھلائی سے مالامال کردیاگیا۔

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دانائی کا ایک واقعہ کتب احادیث میں انتہائی حیرت ناک ہے سنن نسائی میں ہے (حدیث :۴۶۵۱) کہ ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے ایک بدوی سے ایک گھوڑے کاسوداکیا اوراس سے فرمایا کہ میرے ساتھ آؤ میں تجھے اس کی قیمت دے دوں۔ آپ قدرے تیز تیز آگے بڑھ گئے اور وہ دھیما دھیما کچھ پیچھے رہا، رستے میں کچھ لوگوں نے اس کو گھوڑا خریدنے کی پیش کش کی اور لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ اس کا سودا ہوچکا ہے اور رسول اللہ ﷺ اسے خرید چکے ہیں۔ بدوی نے بلند آواز سے کہا:اگر آپ نے گھوڑا لینا ہے تو ٹھیک ورنہ میں اسے فروخت کرتاہوں۔ آپ اس کی بات سن کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کیا میں تم سے یہ خرید نہیں چکا ہوں؟ بدوی نے کہا:اللہ کی قسم میں نے یہ نہیں بیچا ہے۔آپ نے فرمایا: میں تجھ سے یہ خرید چکا ہوں اس تکرار کے سبب کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے پاس اور کچھ بدوی کے پاس جمع ہوگئے، جملوں کا تبادلہ ہوا تو اس نے کہا: تو لاؤ گواہ لاؤکہ میں یہ تمہیں بیچ چکاہوں ، اس پر نوجوان انصاری صحابی خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فوراً بول اٹھے کہ میں گواہ ہوں کہ تونے یہ گھوڑابیچ دیاہے۔ اس پر آنحضرت علیہ السلام خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ تم کیونکر یہ گواہی دے رہے ہو۔ اس نے جوجواب دیا ، بڑے بڑے لوگوں کو حیران کردینے کیلئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا :’’بِتَصْدِیْقِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‘‘ (آپ کی تصدیق کی بنا پر اے اللہ کے رسول۔ یعنی ایمانیات کی سب غیبیات کو ہم نے آپ پر ایمان کی بنیاد پر تسلیم کیا ہے ۔تو اس گھوڑے کے معاملے میں آپ کی تصدیق کیوں نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ اس پر آپ ﷺ نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دوآدمیوں کے برابر قرار دے دیا۔رضی اللہ عنہ ورضاہ۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا اسلام لانے کا واقعہ بہت ہی قابل تدبر ہے، اس میں ان کی حکمت ، زیرکی اور فہم وفراست کا بیان ہے ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا حق کی تلاش کیلئے دور دراز کاسفر کرنا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ان کوضیافت پیش کرنا۔ اور پھر مخالفین کے نرغے میں سے نکال کر انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جانا وغیرہ ایسے امور ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔

اور پھر یہ حق ایسی چیز ہے جب انسان اس سے آشنا ہوجاتاہے ، تو اسے اپنے پاس چھپا کرنہیں رکھ سکتا۔ اس کا شوق ہوتاہے کہ جو خیر مجھے ملی ہے اس سے دوسرے بھی بہرہ مندہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے جناب ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اب تم اسلام قبول کرچکے ہو ، اپنے وطن چلے جاؤ، کیونکہ ہم لوگ ابھی کمزور ہیں، جب ہمیں طاقت حاصل ہوجائے گی تو آجانا جناب ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت ! ایسے کس طرح ہوسکتاہے کہ میں خاموشی سے چلا جاؤں۔ میں ان لوگوں کو بتا کر جاؤں گا کہ میں مسلمان ہوچکاہوں۔ انہوں نے حرم میں آکربرملااپنے اسلام کا اظہار کیا تو کفار نے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بپھرے ہوئے تھے ، ان کی خوب دُھنائی کردی، یہ تو اتفاق تھا کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور انہیں چھڑایا کہ ۔ ارے! یہ تو بنوغفار کا آدمی ہے، اگر اسے کچھ ہوگیا تو تمہارا تجارتی راستہ بند ہوجائے گا۔ تب ان کو چھوڑا گیا۔

معاملہ سراسر معیشت کاہے کفر کو اس دور میں اپنی معیشت کا خطرہ تھا جیسے کہ بدر میں انہوں نے اپنی معیشت کے تحفظ کیلئے اپنی پوری قوت سے اسلام اور مسلمانوں کو کچل دینے کا ارادہ کیا تو آج بھی عراق ہو یا افغانستان معیشت کیلئے اور دنیا کے مال کیلئے یہاں کے نہتے مسلمانوں کو وہ مولی گاجر کی طرح کچل رہے ہیں۔ ان کے دیگر فوائد ثانوی اور ضمنی ہیں اصل مقصد اس ثروت کو اپنے قبضے میں لیناہے جو اللہ نے اس سرزمین میں رکھ دی ہے۔

علم وحکمت ربانی اپنی شرشت کے اعتبار سے متعدّی اور اشاعت چاہتی ہے جبکہ جادو یا اس طرح کے علوم جو بنی نوع انسان کیلئے مضر رساں ہیں اپنی طبیعت میں خفا اور پوشیدگی کے حامل ہیں۔ کوئی جادوگر آسانی سے اپنا علم دوسرے کو منتقل کرنے کیلئے راضی نہیں ہوتا، حتی کہ باپ اپنے بیٹے سے بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتاہے ، الاّ یہ کہ اسے اپنے فنا ہونے کا یقین ہو اسی کے ساتھ کسی قدر علم طب کا مزاج بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ طبیب لوگوں کی دکانداری ان کے صدری نسخوں ہی پر چلتی ہے مگر وہ جن پر اللہ کا فضل ہو اور وہ اللہ کی مخلوق کیلئے خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہوں مثلاً ہمارے مرحوم حکیم مولانا محمد عبد اللہ صاحب روڑی والے (آف جہانیاں) انہوں نے اپنی تالیفات سے ایک بڑی مخلوق کو فائدہ دیا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت ہیں۔

وفد عبد القیس کا واقعہ احادیث میں معروف ہے یہ لوگ چند ہی روز آنحضرت کی خدمت میں رہے اور پھر واپس جانے لگے تو عرض کیا کہ حضرت! ہمارے اور آپ کے درمیان یہ مُضر کے قبائل حائل ہیں۔ صرف حُرمت کے مہینوں میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں کوئی ایسی جامع بات ارشاد فرمادیں۔ کہ ہم وہ اپنے پیچھے والوں کو جابتائیں اور خود بھی اپنا کر جنت کے مستحق بنیں۔

غور کیجیے! آنحضرت علیہ السلام کی مختصر صحبت کا اثر اور ان کی فطرت سلیمہ کہ وہ اس ابدی خیر کو اپنے پیچھے کے لوگوں کو بتانے کا عزم رکھتے ہیں اور اپنی اپنی ذات میں عمل کا شوق۔ ان کی فطری سعادت نے ان کیلئے یہ حقیقت واضح کردی تھی کہ محض قول جو عمل سے خالی ہو ، اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ جب تک کہ اس کے ساتھ عمل نہ ہو اور آج جب دنیا نے ترقی کی اور طرح طرح کے فلسفے بگھارے جارہے ہیں تو ان میں ایک یہ بھی ہے کہ صرف لا الہ الا اللہ کا دعویٰ ہی کافی ہے۔ عمل کیلئے شاید کوئی دوسری مخلوق آئے گی یا وہ گزر چکے ہیں۔

اس حکمت ودانائی کی ہمیں اپنی تاریخ اسلام میں عجیب عجیب مثالیں ملتی ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب مقداد رضی اللہ عنہ سے میں نے ایک ایسی بات ملاحظہ کی ہے ، اگر وہ مجھ سے صادر ہوتی تو باقی سب امور سے بڑھ کر میرے لیے اعزاز ہوتی۔ وہ یہ کہ غزوئہ بدر کے موقعہ پر جب آپ علیہ الصلاۃ والسلام مشورہ فرمارہے تھے تو ہربار مہاجرین آپ کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے اور آپ کی تائید فرمارہے تھے ، مگر آپ کی چاہت تھی کہ انصار بھی اس مسئلہ میں اپنی کوئی رائے ظاہر کریں۔ اس کیفیت کو حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے بھانپ لیا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول!

(بخاری ، حدیث نمبر :۳۹۵۲)

یعنی اے اللہ کے رسول ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارا رب قتال کرو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ۔بلکہ ہماری بات تو یہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ (اور آپ کے دفاع میں) آپ کے دائیں ، بائیں ، آگے اور پیچھے ہرطرف سے آپ کا کامل دفاع کریں گے۔‘‘

 اس جواب سے آنحضرت کا چہرہ خوشی سے روشن ہوگیا اور پھر فی الواقع ان لوگوں نے اپنی جرأت وبہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ اسلام اور مسلمان قیامت تک کیلئے ان کے رہین منت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انہیں ان کے اعمال کی بہترین جزادے۔ اور حَیف ہے ان زبانوں اور قلموں پر جو ان کے ایمانوں کو آج اپنے خودساختہ پیمانوں سے ماپنے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں داغدار بناکر پیش کرنے کی سعی نامشکور کرتے ہیں۔

الغرض یہ فہم وفراست اور دانائی سراسر اللہ تعالیٰ کی عطا اور عنایت ہوتی ہے، جس سے افراد اور قومیں دنیا میں سرخرو اور آخرت میں کامیاب ہوں گی۔ مگر جب لوگ اللہ کی بغاوت پر اتر جائیں تو ہرطرح کے ظاہری اسباب کے با وصف حکمت ودانائی اور صراط مستقیم کی راہیں ان کیلئے مسدود کردی جاتی ہیں اور پھر انہیں قعرِ مذلّت میں گرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ رسول اللہ ﷺ سے منقول دعاؤں میں یہی چیز نمایاں ہے کہ اللہ عزوجل سے ایمان وعمل صالح کی توفیق مانگی جائے۔

اللہم انفعنا بما علّمتنا وعلّمنا ما ینفعنا وزدنا علماً۔

سب سے بڑی حکمت اور دانائییہ ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک کو پہچاننے والا بن جائے اور حقیقت ابدی لا الہ الا اللہ کا اقرار واعتراف کرنے والا ہو جس کی دعوت تمام انبیاء کرام اور بالخصوص محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمائی ، ہر طرح کی درنایاں اس کے تحت ہیں۔

اور سب سے بڑی حماقت توحید کے برعکس کفر وشرک ہے، جس سے تمام انبیاء ورسل متنبہ کرتے رہے ہیں، اور جناب لقمان علیہ الرحمہ نے بھی اپنے فرزند دلبند کو سب سے پہلے اسی سے ڈرایا ہے ۔

{یَا بُنَیَّ لاَ تُشْرِکْ بِاللّٰہِ ، اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}

جناب لقمان علیہ الرحمہ کے استاد:

شیخ سعدی رحمہ اللہ نے گلستان میں لکھا ہے کہ لقمان سے پوچھا گیا کہ تمہارے استاد کون لوگ ہیں؟ تو اس نے کہا میرے استاد احمق لوگ ہیں! لوگ اس سے چونکے تو واضح کیا ، وہ یوں کہ میں جب ان لوگوں کو غلط اور برے کام کرتے دیکھتاتھا تو وہ کام چھوڑدیتاتھا ، اس طرح سے وہ میرے استاد ہیں۔

المختصر

سورت لقمان اپنے اندر اخلاق وآداب کے عظیم نکات سموئے ہوئے ہے ۔ اللہ عزوجل ہمیں قرآن کریم سے کما حقہ استفادے کی توفیق دے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *