الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ ﷺ  أما بعدہ :

آجکل عام طور پر جو سوال اٹھایا جاتاہے کہ آیا یہ جہاد اسی صورت میں ہے جس طرح کہ اسلام کی شروعات میں تھا اور اگر اسلام ہی خالص دین ہے تو کیا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا سے تمام غیر شرعی کاموں کا خاتمہ کریں؟اللہ رب العزت قرآن میں فرماتاہے۔

{إِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْإِسْلاَمُ}(آل عمران:۱۹)

’’بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔‘‘

{إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاۃِ وَالإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ مِنَ اللّہِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَیْعِکُمُ الَّذِی بَایَعْتُم بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ} (التوبۃ:۱۱۱)

’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل (شہید)کئے جاتے ہیں اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے ۔تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایاہے خوشی مناؤ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘

کافروں اور مشرکوں کے علاوہ ایک اور گروہ جسے محاربین کہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مومنوں کو ان سے بھی لڑنا چاہیے ۔جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے۔

{إِنَّمَا جَزَاء الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِی الأَرْضِ فَسَادًا أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ٭إِلاَّ الَّذِینَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیمٌ٭ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَابْتَغُواْ إِلَیہِ الْوَسِیلَۃَ وَجَاہِدُواْ فِی سَبِیلِہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ}(سورۃ المائدۃ:۳۳تا ۳۵)

’’جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کریں ان محاربت کرنے والوں کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کردیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یامخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کردیا جائے یہ تو ہوئی ان کی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کیلئے بڑا بھاری عذاب ہے۔ ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم وکرم والا ہے۔اے لوگو!جوایمان لائے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔‘‘

محاربین حقیقت میں مسلمانوں ہی کا ایک گروہ ہے لیکن اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ان کو قتل کرتے ہیں صرف دنیاوی دولت اور منافع کیلئے جہاد کے حوالے سے نبی اکرم  ﷺ کی حدیث جسے امام بخاری رحمہ اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:’’کہ مجھے پسند ہے کہ میں جہاد کروں اور شہید ہوجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید ہوجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں شہادت کیلئے۔‘‘

مندرجہ بالا آیات اور صحیح حدیث اس بات کا ثبوت ہیںکہ کافروںسے جہاد کیا جائے اور محاربین سے اللہ کے حکم کے مطابق لڑا جائے لیکن جہاد شروع کرنے کے کچھ بنیادی اصول ہیں:

۱۔جب خلیفہ وقت(مومن)جہاد کا حکم دے۔

۲۔سب سے پہلے کافروں او رمشرکوں کو اسلام قبول کرنے کی پیش کش کی جائے۔

۳۔اگر نہ مانے تو جزیہ (ٹیکس) مقرر کیا جائے جو مسلمان حکومت اُن سے اِن شروط پر وصول کرے گی کہ وہ اپنے دین اور اپنے طریقے پر رہتے ہوئے اور مسلم حکومت کے خلاف مداخلت نہ کرنے کا وعدہ کریں۔

۴۔اگر یہ بھی نہ مانیں تو جہاد کرنا ضروری ہے۔

۵۔اگر مسلمانوں پر کافر اور مشرکین حملہ کریں تو جہاد ضروری ہے۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ دنیا سے غیر شرعی کاموں کا خاتمہ کردیاجائے۔

۱۔جہاد کے مندرجہ بالا اصول 2,3 پر غور کریں۔

۲۔قرآن میں سورۃ الکافرون کا مطالعہ کریں۔

دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف بیٹھ کر ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اللہ کی بنائی ہوئی شریعت کا پابند نہیں کرتے جبکہ اللہ تعالیٰ کا قرآن میں ارشاد ہے۔’’تم دین میں پورے کہ پورے داخل ہوجاؤ۔‘‘

اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ ہم نے ہی یہ سوچتے ہوئے اس کومشکل بنایا ہواہے کہ معاشرے میں اپنا مقام بلند کرنا ہے اور اپنے طرز زندگی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے ورنہ لوگ ہمیں طعنے دیں گے۔مثلاً:

۱۔اوہ! تم نے اتنی لمبی داڑھی رکھ لی(بے چارے)

۲۔اوہ! تم اپنی شلوار ٹخنوں سے اوپر رکھتے ہو۔

(تمہیں شرم نہیں آتی)

جبکہ آجکل خواتین کا لباس چھوٹے سے چھوٹا ہوتاجارہاہے۔

۳۔اوہ! تم ٹیلی ویژن نہیں دیکھتے،اف خدایا تم زندہ کیسے ہو۔؟

۴۔اوہ! تم آج کل کی رسومات میں شرکت نہیں کرتے (بڑے دقیانوسی ہو)

۵۔ارے تم تصویریں نہیں کھنچواتے، افسوس تم اپنے یادگار لمحات کو کیسے محفوظ کرتے ہو۔(ہماری زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ محفوظ کررہا ہے اگر ہم یقین کریں)

۶۔ارے تمہارے گھر کی خواتین پردہ کرتی ہیں (کیا جہالت ہے)

اسی طرح کے اور بھی خدشات ہمارے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں کہ سب سے بڑا طعنہ جس کا باشریعت لوگوں کوسامنا ہے وہ یہ کہ یہ تو ’’دہشت گرد ‘‘ہے۔

جب سے ہم نے ہوش سنبھالا یہی دیکھتے آئے ہیں کہ کوئی نہ کوئی گروہ ہماری حکومت سے اس بات پر اختلاف کرتا رہا کہ پاکستان میں اسلامی شریعت نافذ کرو۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی شریعت نافذ کرنا کتناآسان ہے اگر ہم سب فرداًفرداً اس پر عمل کرنا شروع کردیں۔کیا ایسا نہیں ہے۔؟

شیطان جو بنی نوع انسان کا کھلا دشمن ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ تنبیہ کی ہے کہ اس شیطان کے کہنے میں مت آنا۔ مگر وہی شیطان ہم کو ہمارے دین اسلام سے دور لے جارہاہے اور ہم صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ اس شیطان کی پیروی کررہے ہیں۔ہم کو چاہیے کہ ہم اس بارے میں فکر کریں اورایک مسلمان ہونے کے ناطے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق عمل پیرا ہوں۔

ایک اور اہم نکتہ یہاں پر اٹھانا ضروری ہے ہماری معیشت مسلسل گرتی جارہی ہے جبکہ ہماری حکومتوں کو غیر ملکی کافی امداد میسر آتی ہے۔ وجہ کیاہے؟ و ہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی امدادسے ہی ہے ہماری معیشت بہتر ہوسکتی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا قرآن میں ارشاد ہے:

{الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ}(سورۃ الفاتحہ :۱)

’’سب تعریف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے جوتمام جہانوں کا پالنے والاہے۔‘‘

{وَتَرْزُقُ مَن تَشَاء بِغَیْرِ حِسَابٍ}(آل عمران:۲۷)

’’کہہ تو (اللہ تعالیٰ) ہی ہے کہ جسے چاہتاہے بے شمار روزی دیتاہے۔‘‘

{وَإِنَّ اللَّہَ لَہُوَ خَیْرُ الرَّازِقِینَ}(الحج:۵۸)

’’اور بے شک اللہ تعالیٰ روزی دینے والوں میں سب سے بہترین ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر اس بات کو باور کرایا ہے کہ رزق دینا صرف اسی کاکام ہے ہم چاہے جتنے بھی جتن کرلیں کچھ نہیں کرسکتے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم غیر ملکی امداد کے بجائے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھیںکیونکہ حَسْبِیَ اللّٰہُ (اللہ ہمارے لئے کافی ہے)

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *